1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاکستان کی مشہور یونیورسٹی نے نوجوان طلبہ و طالبات کو جنسی تعلیم دینا شروع کردی

'مغربی کلچر' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏اکتوبر 12، 2012۔

  1. ‏جون 25، 2013 #41
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    اسلامی جنسی تعلیم کے سلسلہ میں محترم ناصر الدین البانی صاحب نے عربی میں ایک کتاب لکھی ہے "آداب الزّفاف فی السّنۃ المطھّرۃ" اس کتاب کو اردو قالب میں جناب محمد اختر صدیق نےڈھالا ہے جو کہ محدث لائبریری میں اپ لوڈ کی گئی ہے آپ بھی مطالعہ فرمائیں
    http://www.kitabosunnat.com/kutub-l...sunnat-e-mutahira-aur-adaab-e-mubashirat.html

    لیکن یاد رہے کہ اس کتاب کی لکھی ہوئی باتوں سے میرا متفق ہونا ضروری نہیں کیونکہ ایسی کتاب کے صفحہ 76 پر البانی صاحب رقمطراز ہیں کہ
    "خوب جان لو کہ سونے کی انگوٹھی کنگن ہار وغیرہ عورت کے لیے ویسے ہی حرام ہے جسے مرد کے لیے ہے "
    لہذا اس کتاب کا مطالعہ اپنی ذمہ داری پر کریں شکریہ
     
  2. ‏جون 26، 2013 #42
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    مراسلہ نمبر 1 پر موضوع کے حوالہ سے معلومات فراہم کرتا ہوں۔

    جنسی تعلیم پر پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ اس کا طریقہ کار کیا ھے پھر اگر کچھ لکھا جائے تو بہت بہتر ھے۔

    جیسے اخبار میں کوئی خبر آتی ھے کہ فلاں ملک بچوں کو جنسی تعلیم دی جاتی ھے۔ اب ہر کوئی یہ سوچے گا کہ یہ تو بہت بری بات ھے، مگر اس کا علم اسی وقت ہو گا جب اس پر اندر سے معلومات لی جائے یا اس میں آپ کسی طرح انوالو ہوں۔

    مثلاً برطانیہ میں جنسی تعلیم پر ایسا نہیں کہ سکولوں میں ہر کسی کو اس کی تعلیم دی جاتی ھے، بلکہ جب بچہ یا بچی کلاس 7 سے 8 کے دوران ہر والدین کو بلا کر ایک لیٹر دیا جاتا ھے جس پر ایک مضمون لکھا ہوتا ھے اور اس پر آخر میں دو کالم ہوتے ہیں۔

    ہمارے بچہ یا بچی کو جنسی تعلیم دی جائے۔
    ہمارے بچہ یا بچی کو جنسی تعلیم نہیں دی جائے۔

    اس میں جس پر ٹک کر کے والدین دستخط کر دیں اسی پر عمل ہوتا ھے۔ ایسا نہیں کہ ہر کسی کو یا تمام سکول کے بچوں کو جنسی تعلیم دی جاتی ھے۔

    اگر میری بات کی تصدیق کرنی ہو تو کسی دوسرے ساتھی سے جو یہاں مقیم ہو اور اس کے بچے ان کلاسوں سے گزر چکے ہیں، ان سے کی جا سکتی ھے۔

    والسلام
     
  3. ‏ستمبر 30، 2013 #43
    عرفان عالم بن عبدالصبور

    عرفان عالم بن عبدالصبور مبتدی
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 28، 2013
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    آج اس امت کی اصلاح اسی میں پوشیدہ ہے،جس سے ان کے اسلاف کی اصلاح ہوئی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 30، 2013 #44
    عرفان عالم بن عبدالصبور

    عرفان عالم بن عبدالصبور مبتدی
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 28، 2013
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    جائز ہے کیونکہ!
    کتاب و سنت میں جنس کے تعلق جتنی خوبصورت ، اچھی اور مہذبانہ تعلیم ہے شاید کہ کہیں دوسری جگہ یا مغربی مصنفین کی اخلاق سے عاری کتابوں میں ملے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 25، 2015 #45
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    سندھ کے گاؤں میں لڑکیوں کے لیے جنسی تعلیم
    پاکستان میں عوامی سطح پر جنس کے بارے میں بات کرنا ممنوع ہے اور یہاں تک کہ اس پر موت کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ والدین محض شادی پر رقص کرنے یا کھڑکی سے باہر دیکھنے جیسے معصومانہ جرائم پر اپنی بیٹیوں کے گلے کاٹ دیتے ہیں یا ان کے چہرے پر تیزاب پھینک دیتے ہیں۔
    لیکن غربت سے متاثرہ صوبہ سندھ کے ایک شہر جوہی کے گاؤں میں کام کرنے والے اساتذہ کا کہنا ہے کہ ان کی جنسی تعلیم کے منصوبے کو بہت سے گھرانوں کی حمایت حاصل ہے۔
    ولیج شاد آباد تنظیم کی جانب سے چلائے جانے والے آٹھ اسکولوں میں سات سو لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ان کی جنسی تعلیم کے اسباق آٹھ سال کی عمر سے شروع ہوتے ہیں، جب ان کے جسم میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں، اس وقت ان کو بتایا جاتا ہے کہ ان کے کیا حقوق ہیں اور انہیں اپنی حفاظت کس طرح کرنی چاہیٔے۔
    اس تنظیم کے سربراہ اکبر لاشاری کہتے ہیں ’’ہم اپنی آنکھیں بند کرکے نہیں کر سکتے۔ یہ ایسا موضوع ہے، جس پر لوگ بات نہیں کرنا چاہتے، لیکن یہ ہماری زندگی کی حقیقت ہے۔‘‘اکبر لاشاری نے کہا کہ گاؤں کی زیادہ تر لڑکیاں بلوغت کی زندگی میں یہ جانے بغیر داخل ہوجاتی ہیں، کہ ان کے ایّام شروع ہوجائیں گے یا ان کو جنسی عمل کے بارے میں سمجھائے بغیر ان کی شادی کردی جاتی ہے۔ یہ اسباق یہاں تک کہ لڑکیوں کو ازدواجی ریپ کے بارے میں تعلیم دینا، پاکستان میں ایک انقلابی خیال ہے، جہاں پر ایک شریکِ حیات کا جنسی عمل پر مجبور کیا جانا جرم نہیں ہے۔
    اکبر لاشاری نے بتایا ’’ہم ان سے کہتے ہیں کہ اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو اُن کے شوہر انہیں جنسی عمل کے لیے مجبور نہیں کرسکتے۔‘‘انہوں نے کہا یہ اسباق لازمی اسباق کے علاوہ ہیں، اور ان کے بارے میں والدین سے ان کی بیٹیوں کے داخلے سے پہلے بات کرلی جاتی ہے۔ اس پر کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا اور اسکول کو کسی طرح کی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔
    ان آٹھ اسکولوں کو ایک آسٹریلین کمپنی بی ایچ پی بلیٹن کا تعاون حاصل ہے، جو قریبی گیس پلانٹ پر کام کرتی ہے، لیکن اکبر لاشاری کہتے ہیں کہ جنسی تعلیم گاؤں کے لوگوں کا اپنا خیال تھا۔ یہاں کی ایک ٹیچر سارہ بلوچ جن کی پیلی شلوار قمیض اسکول کے گرد آلود احاطے میں چمک رہی تھی، نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ لڑکیوں کی مدد کرنے سے وہ سمجھ جائیں گی کہ بڑے ہونے کا کیا مطلب ہے۔
    انہوں نے کہا ’’جب لڑکیوں کے ایّام شروع ہوتے ہیں تو وہ خیال کرتی ہیں کہ یہ بہت شرمناک ہے اور وہ اپنے والدین سے بھی اس بارے میں بات نہیں کرتیں، اور سوچتی ہیں کہ وہ بیمار ہوگئی ہیں۔‘‘
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں