1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاک و ہند کے دو معمر شیوخ کی وفات

'اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏اگست 15، 2017۔

  1. ‏اگست 15، 2017 #31
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے مجموعہ علماء اہل حدیث میں تقریبا پانچ منٹ کا ایک صوتی پیغام بھیجا ، جس میں شیخ کی وفات پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا ، اسے ہر اہل حدیث کے لیے ایک خسارہ قرار دیا ، اور پھر علماء کی وفات پر سعید بن مسیب ، ابن سیرین ، ایوب سختیانی رحمہم اللہ کے حوالے سے اقوال نقل کیے ۔ کہا کہ اس موقعہ پر بات کرتے ہوئے زبان لڑکھڑا رہی ہے ۔
     
  2. ‏اگست 15، 2017 #32
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی کی کہانی خود مولانا کی زبانی


    مرتب : عبداللہ نادر عمری

    محمد ظہیر الدین میرا نام ھے والد کا نام محمد بہادر عرف عبدالسبحان تھا،صوبہ اترپردیش کاایک مشہورِ زمانہ شہر"مبارکپور"ہے. جس کے شمالی جانب ڈھیڑکلومیٹر کے فاصلےپرایک چھوٹا ساگاؤں ہے مقامی لوگ حسین اباد کہتے ہیں ،اسی حسین آباد میں 1920ءمیں پیدا ہوا، میری والدہ کانام خدیجہ بی بی تھا جو ایک پیرزادی تھی ،ان کے یہاں بیعت و سلوک کا سلسلہ بڑا وسیع تھا وہ قران مجید بہت اچھا پڑھا کرتی تھیں ،نماز، روزہ کی پابند ،بڑی نیک خصلت خاتون تھیں ،میرے والد متوسط درجےکے کسان تھے،بڑےخوددارانسان تھے ،محنت کرکے اپنی آل اولاد کی پرورش کرتے تھے،پختہ اہل حدیث تھے
    میں نے اپنی والدہ محترمہ خدیجہ بیگم بنت پیر حافظ نظام الدین سے قران کے چند پارے ناظرہ پڑھے ،اسکے بعد اپنے نانا کے ایک شاگرد حافظ عبدالعزیز سے ناظرہ قران کی باقی تعلیم پوری کی، پرائمری اور درجہء مولوی تک کی تعلیم علاقہ کے مشہور مدرسہ دارالتعلیم مبارکپورمیں حاصل کی ،اسکے بعد مدرسہ فیض عام مئو ناتھ بھنجن میں داخلہ لیا،جہاں چھٹی جماعت تک تعلیم پائ ،اسی درمیان بعض لوگوں کی ترغیب پر دارالعلوم دیوبند میں داخل ہو گیا ،لیکن وہاں میرا تعلیم حاصل کرنا میرے والد کو پسند نہیں تھا،اس لیے انہوں نے عبیداللہ رحمانی صاحب سے گزارش کی کہ وہ مجھے اپنی شاگردی میں لے لیں،جسے انھوں نےمنظورفرمالیا ،چنانچہ میں عبیداللہ رحمانی کی خدمت میں،مولانا نذیراحمد املوی اور دوسرےمبارکپوری اساتذہ کے ساتھ دہلی روانہ ھوا ،اور مدرسہ رحمانیہ کی چھٹی جماعت میں میرا داخلہ ھوگیا ،تین سال تک وہاں نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کر کے 1940ء میں سندفراغت پائ.
    ⭐میرے رحمانیہ کےساتھیوں میں مشہور واعظ اور قاری مولاناعبدالخالق کھنڈیلوی تھے جومجھ سے قریب تھے،وہ پاکستان بننے کے بعدکراچی چلے گئے ،میرے علم کےمطابق رحمانیہ کےفارغین میں اب میرے سواءکوئ باحیات نھیں ھے.
    ⭐مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ کی سندِفضیلت میرے پاس موجود ھے جسے میں سب سےاھم اورقیمتی سند تصورکرتا ھوں ،اسکے علاوہ میں نے مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ سے صحیح بخاری اور موطاوغیرہ حدیث کی کتابیں پڑھیں ،اور ان سےسند اجازت حاصل کی ،جو میرے پاس موجود ھے نیز صحیح مسلم اوردوسری حدیث کی کتابیں مولانا احمداللہ پڑتاپ گڑھی سے پڑھی اور ان سے بھی سند اجازت حاصل کی.
    ⭐(آپ کی پسندیدہ کتابیں )قران و حدیث اور اس سے متعلق کتابیں مجھےبھت عزیز ھیں البتہ مولانا آزاد رحمہ اللہ کی شاہکار"تذکرہ"مجھے بہت پسند ھے اور میرے استاد عبدالرحمن مبارکپوری کی تحفةالاحوذی شرح ترمذی کو میں دل وجان سے لگاۓرکھنا پسند کرتا ھوں.
    ⭐ ( آپ کے پسندیدہ شعراء ) :ہر اس شاعرکاکلام مجھےپسندھے جوخودبخود دل میں اترجاۓ،البتہ فارسی شعراءمیں حافظ ،اور اردومیں جگرمرادآبادی،عندلیب شادانی اور شمیم کرہانی کو پسندکرتا ھوں ،مقامی شعراءمیں زاھد اعظمی عمری کا کلام میرے دل کو چھوتا ھے.
    ⭐عرب ممالک کے اہل علم کو جب یہ معلوم ھوا کہ ہندوستان میں حدیث کی سند عالی میرےپاس ھے تو انہوں نے مجھے دورہء حدیث اور سندِ حدیث کےلیے دعوت دینا شروع کیا اس سلسے میں نے اب تک کویت، دبئ، سعودی، قطر کا سفر کیا ھے. ہزاروں افراد نے مجھ سے سند لی ھے. اس وقت فون اور انٹرنیٹ کے ذریعہ امریکہ ،اسپین، لبنان، واشنگٹن اور دوسرے یورپی ممالک سے بھی روزانہ اہل علم استفادہ کرتے ھیں.
    میری خواہش اورکوشش بس یہی ھے کہ آخری دم تک انسانیت کوفائدہ پہنچاتا رہوں . میں نے پوری زندگی بحیثیت معلمِ حدیث گزاری ھے ،خواہش ھے کہ حدیثِ نبوی کی خدمت کرتے ھوۓ ھی آخری سانسیں لوں۔۔
     
  3. ‏اگست 15، 2017 #33
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    انا لله وانا اليه راجعون
    اللهم اغفر له وارحمه وادخله فى الجنة
     
  4. ‏اگست 15، 2017 #34
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    انا لله وانا اليه راجعون
    اللهم اغفر له وارحمه وادخله فى الجنة
     
  5. ‏اگست 16، 2017 #35
    ہابیل

    ہابیل سینئر رکن
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏ستمبر 17، 2011
    پیغامات:
    961
    موصول شکریہ جات:
    2,890
    تمغے کے پوائنٹ:
    225

    اللهم اغفر له وارحمه، وعافه ،واعف عنه ،وأكرم نُزُله ، ووسع مُدخلهُ و نور له قبره "
     
  6. ‏اگست 16، 2017 #36
    ہابیل

    ہابیل سینئر رکن
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏ستمبر 17، 2011
    پیغامات:
    961
    موصول شکریہ جات:
    2,890
    تمغے کے پوائنٹ:
    225

    اللهم اغفر له وارحمه، وعافه ،واعف عنه ،وأكرم نُزُله ، ووسع مُدخلهُ و نور له قبره "
     
  7. ‏اگست 16، 2017 #37
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آخرى ستاره ڈوب گیا
    مولانا ظہير الدين رحمانى مبارکپورى (1920 - 2017)
    آپ رحمانى سنہرى سلسلہ کى آخرى كڑى تهے۔
    مولانا مرحوم تقريبا 1920 ميں پیدا ہوئے۔
    دہلى ميں مدرسہ رحمانيہ سے 1940 کو سند فراغت حاصل كى.
    دارالسلام عمر آباد ميں طويل عرصے تک علم كى خدمت كى.
    حديث كى عالى اسانيد ميں آپ كى سند تهى اور تدريس كے لیے سعودى عرب بهى تشريف لاتے.
    آپ کے اساتذه ميں مولانا عبدالرحمن مباركپورى ، مولانا احمدالله پرتاب گڑھى ، مولانا عبيدالله مباركپورى ، مولانا نذير احمد صاحب املوى رحمهم الله شامل ہیں۔
    آپ سے ہزاروں طالب علموں نے استفاده كيا.
    الله آپ کى خدمت كو قبول فرمائے.
    اللهم اغفر له وارحمه
     
  8. ‏اگست 16، 2017 #38
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    علم کے دو سورج ..غروب ہو گئے ۔
    آج ہی ارادہ تھا کہ مرحوم ، دار الحدیث رحمانیہ دلی بارے کچھ لکھوں گا لیکن اس سے پہلے ہندستان سے خبر آ گئی کہ دار الحدیث رحمانیہ کے آخری چراغ " محدث جلیل مولانا ظہیر الدین مبارکپوری " رخصت ہووے ، اور آج صبح دم پاکستان کے شیخ الحدیث مولانا " عبد اللہ امجد چھتوی" اللہ کے پاس چلے گئے
    جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
    کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی
    سرحدوں پر خاک پڑے ، یورپ الگ الگ ہو کے بھی ایک ہو گیا ، لیکن یہ ایسی خونی سرحد رہی کہ اس پار سے کوئی خبر بھی نہیں آتی ... رہے ہمارے نوجوان ان بے چاروں کو تو مرحوم جامعہ رحمانیہ کی بھی کیا خبر ہو گی؟
    خبر ہوتی تو نوحہ گر نہ ہوتے -
    ہندستان والوں کو مولانا عبداللہ سے تعارف نہیں ، ہمارے والوں کو مولانا ظہیر کی کچھ خبر نہیں - سرحد نہ ہوئی فولاد کی دیوار ہوئی جو دلوں میں کھچ گئی -
    خیر ایک ہی دن اور رات میں دو چراغ بجھے اور تاریکی ہے کہ ہاتھ سجای نہیں دیتا ، علم کی کیا بات کرتے ہیں -
    سچی بات ہے میں آج اداس ہی نہیں کچھ مایوس بھی ہوں
    وہ اندھیرا ہے کہ بجھتی ہوئی آنکھیں مجھ سے
    پوچھتی ہیں کہ وہ آئے گا سویرا ہوگا ؟؟؟؟
    ہم خالی دامن ، خالی ہاتھ بس یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان بزرگوں کے بدل بھی دے
    ابوبکر قدوسی​
     
  9. ‏اگست 16، 2017 #39
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    پچھلے چوبیس گھنٹوں میں یکے بعد دیگرے برصغیر پاک وہند کے دو عظیم علماء داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے جنہوں نے ساری زندگی حدیث رسول ص اور دیگر علوم اسلامیہ کی خدمت اورتدریس میں گزاردی اور اپنے پیچھے ہزاروں کی تعداد میں شاگردان رشید چھوڑ گئے جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں.پاکستان میں استاذ العلماء والمشائخ عبداللہ امجد چھتوی اور ہندستان میں شیخ الحدیث ظہیر الدین رحمانی الاثری.
    غفر اللہ لھما وتجاوز عن سیاتھما وتغمدھما برحمتہ واسکنھما فسیح جناتہ
    یقینا یہی وہ زندگیاں ہیں جن پر رشک کرنے والوں کو رشک کرنا چاہیے اور یہی وہ عمریں ہیں جو ٹھکانے لگتی ہیں.
    اول الذکر سے اس گناہگار کو بھی تلمذ حاصل ہے. شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے ایک بار ہمارے سامنے علم و علماء کے فقدان اور قحط الرجال پر اظہار تاسف کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان میں صرف ایک دو ہی ایسے علماء ہوں گے جو تمام اسلامی علوم وفنون پڑھانے کی اہلیت رکھتے ہیں. پھر ہمارے اصرار پر بتایا کہ ان میں سے ایک, شیخ عبداللہ امجد چھتوی ہیں.
    یعنی "اک شمع رہ گئی تھی, سو بھی خموش ہے"
    محمد سرور​
     
  10. ‏اگست 16، 2017 #40
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    حضرت العلام فضيلة الشيخ عبدالله أمجد چھتوی رحمہ اللہ تعالی !

    شیخ محترم کا اسم گرامی پہلی دفعہ اپنے ماموں سسر حافظ عبدالقادر آزاد اٹھتوی رحمہ اللہ سے سنا دل میں بہت اشتیاق تھا کہ شیخ محترم سے ملاقات کی جائے غالبا یہ بات 2005 کی ہے ۔
    میرے دینی علم کے حصول کے ابتدائی سال تھے ۔
    ارادہ کیا کہ پاکستان کے کبار مشایخ سے ملاقات کی جائے اس سفر میں میرے ساتھی امام محدث بدیع شاہ الدین راشدی رحمہ اللہ کے پوتے شیخ نصرت اللہ شاہ راشدی حفظہ اللہ تعالی تھے ۔
    ہم ستیانہ بنگلہ پہنچے وہاں مسجد میں سب سے پہلے ملاقات زھد و تقوی کی مثال شیخ عتیق اللہ سلفی حفظہ اللہ سے ہوئی ان سے شیخ محترم رحمہ اللہ کے گھر کا معلوم کیا پھر دروازہ پر دستک دی ۔ شیخ محترم رحمہ اللہ خود تشریف لائے انکی محبت اور خلوص آج تک یاد ہے ۔ شیخ محترم رحمہ اللہ ہمیں گھر میں لے گئے اور خود ہمارے لئے چائے بسکٹ لائے میں نے انکے ہاتھ سے ٹرے پکڑنے کی کوشش کی مجھے کہنے لگے آپ مہمان ہیں آپکی تکریم لازم ہے ۔ اللہ اکبر
    جب شیخ محترم رحمہ اللہ سے ہمارا تعارف ہوا تو دوبارہ اٹھ کر گلے سے لگا لیا والہانہ اپنی محبت کا اظہار فرمایا ۔ میرے نانا جی مولانا محمد رحمہ اللہ انکے بہت گہرے دوست تھے اور یہ دوستی اس وقت سے ہے جب شیخ محدث روپڑی رحمہ اللہ کے پاس شرف تلمذ حاصل کر رہے تھے ۔ انکا تعلق مزید گہرا اس وقت ہوا جب شیخ محترم رحمہ اللہ عارف والا کے نزدیک گاوں 49 ای بی میں شیخ الحدیث تھے یہ گاوں ہمارے ننھیالی گاوں کے قریب واقع ہے ۔ اس تعلق کی اہم وجہ ایک عظیم ہستی مولانا محمد یوسف راجووالوی رحمہ اللہ بھی ہیں جو کہ میرے منجھلے ماموں کے سسر ہیں ۔ شیخ محترم نے اس ملاقات میں ہمارے بزرگ عبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ اور ہمارے دادا حافظ محمد حسین روپڑی رحمہ اللہ کا خاص ذکر فرمایا اور سلطان المناظرین حافظ عبدالقادر روپڑی رحمہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے آب دیدہ ہوگئے کہنے لگے کہ میں ان کے مناظروں میں انکا معاون ہوتا اور وہ مناظرہ کرتے ۔
    اس کے بعد والد محترم حافظ عبداللہ حسین روپڑی رحمہ اللہ کی خیریت دریافت کی تمام خاندان کے لوگوں کا پوچھا خاص کر اپنے عزیز دوست میرے نانا مولانا محمد رحمہ اللہ کی اولاد کے متعلق ۔ انکی محبت آج بھی دل میں ایک ہلچل مچا دیتی ہے ۔
    ہمیں رخصت کرنے کے لیے باہر گاڑی تک تشریف لائے میں نے انہیں ایک کتاب کا ھدیہ دیا بہت خوشی اور مسرت کا اظہار فرمایا کھانے کے لئے بار بار اسرار فرما تے رہے طویل سفر کی وجہ سے ہم نے معذرت چاہی ۔
    شیخ محترم سے اس کے بعد فون پر باقاعدہ رابطہ رہتا۔ جب بھی انہیں میں فون کرتا ہمیشہ محبت اور پیار کا اظہار فرماتے ۔ مسئلہ پوچھتا تو بہت تفصیل اور مکمل دلائل سے سمجھاتے ۔
    کراچی آمد پر ان سے ملاقات ضرور ہوتی ۔ ایک دفعہ ایک تقریب کے لئے کراچی تشریف لائے میں انہیں لینے کے لئے ائرپورٹ گیا جب باہر تشریف لائے تو اپنے سفید رمال سے چہرہ انور ڈھانپا ہوا تھا میں نے شیخ محترم رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ ماجرا کیا ہے تو شیخ محترم رحمہ اللہ فرمانے لگے بے حیا خواتین ہر جگہ ہیں جہاز میں بھی تھیں انہوں نے پردہ نہیں کیا تو میں نے ان سے کر لیا ہے ۔ سبحان اللہ ۔
    شیخ محترم سے جب بھی کوئی درخواست کرتا آپ کبھی نہ ٹالتے ۔
    میرے برادر گرامی حافظ ضیاء اللہ برنی حفظہ اللہ مجھے فون کیا اور کہا کہ تم شیخ محترم رحمہ اللہ جامعہ ابن تیمیہ کی تقریب بخاری کے لئے وقت لے لو ۔
    میں نے شیخ محترم رحمہ اللہ کو فون کیا اور تقریب کے لئے وقت مانگا شیخ محترم رحمہ اللہ پوچھنے لگے کون سا ادارہ مدرسہ ہے میں نے کہا استاد جی جامعہ ابن تیمیہ لاہور کے لئے وقت چاہئے ۔ آپ فرمائے لگے اچھا" او حبیب الرحمن دے لڑکے دا " مولانا حفیظ الرحمن لکھوی حفظہ اللہ کے والد گرامی مولانا حبیب الرحمن لکھوی رحمہ اللہ ۔ میں نے جی وہی کہنے لگے آجاوں گا مجھے دوبارہ تقریب سے قبل یاد دہانی کروا دینا ۔ میں نے شیخ محترم رحمہ اللہ کو شیخ حفیظ الرحمن لکھوی حفظہ اللہ کا نمبر بھی دیا اور تقریب سے چند دن پہلے دوبارہ رابطہ کیا تو فرمائے لگے مجھے یاد ہے ۔ شیخ محترم نے تقریب میں شرکت فرمائی اور درس بخاری ارشاد فرمایا ۔ شیخ حفیظ الرحمن لکھوی حفظہ اللہ بھی انکے شاگردوں میں سے ہیں ۔
    اسی طرح شیخ محترم رحمہ اللہ کا ایک دفعہ مجھے فون آیا کہنے لگے آپ کراچی میں ہیں میں نے کہا جی استاد جی حکم فرمائیں مجھے کہنے لگے میرا بیٹا ڈاکٹر عتیق حفظہ اللہ کراچی آ رہے ہیں انھوں نے پی ایچ ڈی کا امتحان دینا ہے آپ انہیں اپنے پاس ٹہرائیں میں نے کہا استاد جی آپ کا حکم سر آنکھوں پر ۔
    ڈاکٹر عتیق حفظہ اللہ کی واپسی پر شیخ محترم رحمہ اللہ نے خاص شکریہ ادا کرنے کے لئے فون کیا ۔
    یہ میرے لئے بہت اعزاز تھا کہ شیخ محترم رحمہ اللہ نے مجھے اس قابل سمجھا ۔
    آخری دفعہ شیخ محترم سے جب بات ہوئی مجھے اپنے گاوں کے ادارے کی تقریب کے لئے شیخ محترم سے وقت لینا تھا شیخ محترم نے بخوشی اجازت عنایت فرما دی لیکن اپنی علالت کی وجہ سے شیخ محترم رحمہ اللہ شرکت نہ کر سکے ۔
    اللہ ہمارے شیخ محترم رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے اور ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ آمین
    ابو الحسن حافظ عبد الحفیظ روپڑی​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں