1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پردہ سے متعلق دو سوالوں کے جواب مطلوب ہیں ؛

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏مارچ 21، 2018۔

  1. ‏مارچ 21، 2018 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,318
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ایک بھائی ذاتی پیغام (ان باکس ) میں دو سوال پیش کیئے ہیں ؛
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جس بھائی نے یہ سوالات بھیجے ہیں (انہی کے الفاظ میں پیش ہیں )
    "1- musalman khawateen Rasool ULLAH S.W sy prda krti thein ya
    ؟nahi
    2- Or ye bhi k ap saw pr aurton k hawaly se sarey asool ALLAH ny ap k lye bhi rkhy hain ya phr apko ALLAH ny iss sb se azad rkha ha?"
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اردو الفاظ میں میری طرف سے :
    (1) پہلے سوال : مسلمان خواتین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پردہ کرتی تھیں یا نہیں ؟
    (2) دوسرا سوال :
    عورتوں سے متعلق شرعی احکام و قوانین کی پابندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے بھی تھی ،یا کوئی آپ

    صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی استثناء حاصل تھا ۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اگر کوئی محترم بھائی جواب دینا چاہے ،ضرور دے ؛
    شیخ محترم جناب @خضر حیات صاحب حفظک اللہ تعالی
     
    Last edited: ‏مارچ 21، 2018
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 21، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,318
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محترم شیخ @خضر حیات صاحب سے درخواست ہے کہ ان دو سوالوں کے جواب دے کر رہنمائی فرمائیں ،
     
  3. ‏مارچ 23، 2018 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    شریعت میں اصل یہی ہے کہ وہ سب کے لیے ہے، نبی و غیر نبی سب اس میں شامل ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی قول یا عمل فرمایا، وہ سب کے لیے ہے ، الا کہ خصوصیت کی دلیل ہو۔
    عورت کا مرد سے پردہ کرنا، اس حوالے سے دو آیتیں بالکل واضح ہیں:
    وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِ‌هِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُ‌وجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ‌ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِ‌بْنَ بِخُمُرِ‌هِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ‌ أُولِي الْإِرْ‌بَةِ مِنَ الرِّ‌جَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُ‌وا عَلَىٰ عَوْرَ‌اتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِ‌بْنَ بِأَرْ‌جُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣١﴾
    مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں سے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے، اے مسلمانوں! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ نجات پاؤ۔
    لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ وَلَا أَبْنَائِهِنَّ وَلَا إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ وَلَا نِسَائِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ ۗ وَاتَّقِينَ اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا ﴿٥٥﴾
    ان عورتوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (میل جول کی) عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں (لونڈی غلام) کے سامنے ہوں (عورتو!) اللہ سے ڈرتی رہو۔ اللہ تعالٰی یقیناً ہرچیز پر شاہد ہے
    جن سے پردے کرنا ضروری نہیں، وہ رشتے ان آیات میں بیان کردیے گئے ہیں۔
    یہاں نبی اور امتی کی کوئی تفریق ذکر نہیں ہے۔
    سعودیہ کی فتوی کمیٹی کا بھی یہی فتوی ہے کہ پردے کا حکم عام ہے، اس سلسلے میں خواتین کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پردہ نہ کرنے کے جواز پر کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔
    بعض علماء نے عہد نبوی کے کچھ واقعات ذکر کیے ہیں جن میں پتہ چلتا ہے کہ بعض صحابیات آپ سے بات کرتے وقت حجاب کے بغیر تھیں ، اس بنا پر کئی ایک علما نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان خواتین کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پردہ نہ کرنا ، یہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔(فتح الباري لابن حجر (9/ 203)
    جبکہ پہلا موقف رکھنے والے جو علما ہیں، انہوں نے ان واقعات کی مختلف توجیہات کی ہیں، مثلا یہ واقعات نزول حجاب سے پہلے کے ہیں، یا وہ خواتین ازواج مطہرات میں سے تھیں ۔ وغیرہ ۔
    جو بھی موقف اپنایا جائے، اس میں عورت کا اجنبی کے سامنے پردہ نہ کرنے یا اجنبی مرد کا عورت کو دیکھنے کے جواز کی دلیل نہیں ملتی۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ خصوصیات تھیں، خواتین سے متعلق مثلا آپ کو چار سے زائد شادیوں کی اجازت دی گئی۔
    قرآن کریم میں ہے۔
    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَ‌هُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْ‌نَ مَعَكَ وَامْرَ‌أَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَ‌ادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَ‌ضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَ‌جٌ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿٥٠﴾
    اے نبی! ہم نے تیرے لئے وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے (۱) اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ تعالٰی نے غنیمت میں تجھے دی ہیں (۲) اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے (۳) اور وہ با ایمان عورتیں جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے (٤) یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں (۵) ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں ( ٦ ) یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو (۷) اللہ تعالٰی بہت بخشنے والا اور بڑے رحم والا ہے۔
    ٥٠۔١بعض احکام شرعیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امتیاز حاصل تھا جنہیں آپ کی خصوصیات کہا جاتا ہے مثلا اہل علم کی ایک جماعت کے بقول قیام اللیل (تہجد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھا صدقہ آپ پر حرام تھا، اسی طرح کی بعض خصوصیات کا ذکر قرآن کریم کے اس مقام پر کیا گیا ہے جن کا تعلق نکاح سے ہے جن عورتوں کو آپ نے مہر دیا ہے وہ حلال ہیں چاہے تعداد میں وہ کتنی ہی ہوں اور آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا اور جویریہ رضی اللہ عنھا کا مہر ان کی آزادی کو قرار دیا تھا ان کے علاوہ بصورت نقد سب کو مہر ادا کیا تھا صرف ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کا مہر نجاشی نے اپنے طرف سے دیا تھا۔
    ۵۰۔۲چنانچہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنھا اور جویریہ ملکیت میں آئیں جنہیں آپ نے آزاد کر کے نکاح کرلیا اور رحانہ اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا یہ بطور لونڈی آپ کے پاس رہیں۔
    ۵۰۔۳ اس کامطلب ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اسی طرح انہوں نے بھی مکے سے مدینہ ہجرت کی۔ کیونکہ آپ کے ساتھ تو کسی عورت نے بھی ہجرت نہیں کی تھی۔
    ۵۰۔٤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آپ ہبہ کرنے والی عورت، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرنا پسند فرمائیں تو بغیر مہر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس اپنے نکاح میں رکھنا جائز ہے۔
    ٥٠۔۵ یہ اجازت صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے (دیگر مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حق مہر ادا کریں، تب نکاح جائز ہوگا۔
    ٥٠۔ ٦ یعنی عقد کے جو شرائط اور حقوق ہیں جو ہم نے فرض کئے ہیں کہ مثلا چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت کوئی شخص اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا، نکاح کے لئے ولی، گواہ اور حق مہر ضروری ہے۔ البتہ لونڈیاں جتنی کوئی چاہے، رکھ سکتا ہے، تاہم آجکل لونڈیوں کا مسئلہ تو ختم ہے۔
    ٥٠۔۷ اس کا تعلق اِ نَّا اَ حْلَلْنَا سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اجازت اس لئے ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی تنگی محسوس نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کے نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 23، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,318
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بہت شکریہ ۔۔۔۔ جزاکم اللہ تعالی خیراً
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں