1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

" پریشانیاں اور دکھ رفع کرنے کے وسائل و اسباب" خطبہ مسجد نبوی از آل شیخ 26-02-2016

'خطبات حرمین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 27، 2016۔

  1. ‏فروری 27، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    12670937_981603985209160_5485760368427514269_n (1).png


    بسم الله الرحمن الرحيم

    " پریشانیاں اور دکھ رفع کرنے کے وسائل و اسباب"

    خطبہ مسجد نبوی از آل شیخ 26-02-2016

    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ نے 17-جمادی الاولی- 1437کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " پریشانیاں اور دکھ رفع کرنے کے وسائل و اسباب" ارشاد فرمایا ، جس کے اہم نکات یہ تھے:

    ٭دکھ سکھ دنیاوی زندگی کی فطرت
    ٭ دکھ سکھ میں مؤمن کا رد عمل
    ٭ آخر کار کامیابی صرف اہل ایمان کیلیے
    ٭ تنگی کے بعد ہمیشہ آسانی ہے
    ٭ افضل ترین عبادت
    ٭ تنگی و ترشی رفع کروانے کے مختلف انداز:

    بھروسا صرف اللہ تعالی،
    امید صرف اللہ تعالی سے،
    بارگاہِ الہی میں آہ و زاری،
    تعلیماتِ الہی کی پاسداری،
    اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن،
    محاسبۂِ نفس اور اصلاح،
    ذکر الہی،نبی ﷺ پر درود و سلام،"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"کا ورد۔


    پہلا خطبہ

    تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں وہی مصیبتوں اور آفتوں سے بچانے کا واحد سہارا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں اور اسکا کوئی شریک نہیں، اسی کے ہاتھ میں آسمان و زمین کی کنجیاں ہیں، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد -ﷺ-اللہ بندے ، رسول اور افضل ترین شخصیت ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں قیامت تک نازل فرما۔

    حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو!

    میں سامعین اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی تقوی کی وجہ سے تمہارے لیے ہمہ قسم کی تنگی سے نکلنے کا راستہ اور ہر مشکل کی کشائی فرمائے گا۔

    مسلمانو!

    لوگ تکلیفوں اور پریشانیوں سے گزر رہے ہیں، امت پر مصیبتیں اور غم طاری ہیں، اور دنیا کی حقیقت بھی یہی ہے کہ اس میں خوشی غمی، دکھ سکھ مل کر آتے ہیں، تاہم یہ یقینی بات ہے کہ مسلمان ہر حالت میں عظیم خیر و بھلائی اور اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے، ہمارے پروردگار کا فرمان ہے:

    {وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ}

    اور ہم ضرور خوف اور فاقہ ، جان و مال اور پھلوں کے خسارہ میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے اور [اے نبی !] ایسے صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے [155] کہ جب انہیں کوئی مصیبت آئے تو فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ : ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے[156] انہی لوگوں پر ان کے رب کی طرف سے عنایات اور رحمتیں برستی ہیں یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں [البقرة: 155 - 157]

    اور آپ ﷺ نے اپنی امت کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:

    (مؤمن کا معاملہ تعجب خیز ہے وہ ہر حالت میں خیر پاتا ہے ، اور یہ صرف مؤمن کا ہی امتیاز ہے: اگر اسے سکھ ملے تو شکر کر تا ہے تو سکھ اس کیلیے باعث خیر ہوتا ہے اور اگر اسے دکھ ملے تو صبر کرتا ہے اس طرح دکھ اس کیلیے باعث خیر ہوتا ہے) مسلم

    ایمانی اصولوں، قرآنی حقائق اور نبوی بشارتوں میں یہ بات شامل ہے کہ آخر کار اہل ایمان ہی کامیاب ہونگے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    { فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا}

    بیشک مشکل کیساتھ آسانی ہے [5] یقیناً مشکل کیساتھ آسانی ہے۔[الشرح: 5- 6]

    چنانچہ دہری آسانی پر تنہا مشکل غالب نہیں آ سکتی، یہی وجہ ہے کہ کسی بھی موحد شخص کو مصیبت پہنچے تو اللہ تعالی جلد ہی اس کی مشکل کشائی فرماتا ہے، بلکہ انتہائی لطیف انداز سے اس کا تدارک بھی کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    {وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (87) فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ}

    اور مچھلی والے کو بھی ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا جب وہ غصہ سے بھرے ہوئے [بستی چھوڑ کر]چلے گئے انھیں یہ گمان تھا کہ ہم ان پر گرفت نہ کر سکیں گے، پھر انہوں نے اندھیروں میں پکارا کہ: "تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے میں ہی قصور وار تھا"[87] تب ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا اور انھیں اس غم سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان رکھنے والوں کو نجات دیا کرتے ہیں ۔ [الأنبياء: 87- 88]

    اس لیے مؤمن! یہ بات ذہن نشین کر لو کہ تنگی اور ترشی کے بعد آسانی اور کشادگی ہے، ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ جو کہ وحی کے بغیر گویا نہیں ہوتے فرماتے ہیں:

    (یہ بات ذہن نشین کر لو کہ فتح صبر سے ملتی ہے، کشادگی مصیبت کے بعد آتی ہے، اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے)

    اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

    "انسان کو کتنی ہی سخت مصیبت کا سامنا ہو اللہ تعالی اس کی مشکل کشائی ضرور فرماتا ہے، کیونکہ دہری آسانی پر تنہا مشکل غالب نہیں آ سکتی"

    بلکہ یہ تو اللہ تعالی پر توکل اور بھروسا کرنے والوں ، اپنے رب کے سامنے عاجزی و انکساری کرنے والوں کا ٹھوس عقیدہ ہے ، ایک حدیث میں ہے کہ:

    (اللہ تعالی سے فضل الہی مانگو؛ کیونکہ اللہ تعالی سے مانگنا اللہ تعالی کو پسند ہے، افضل ترین عبادت یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے مشکل کشائی کا انتظار کیا جائے) ترمذی

    اسی منہج پر کار بند رہتے ہوئے نبی ﷺ کے شاگردوں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اپنی زندگی گزاری۔

    مشکل کشائی اور آسانی کا عظیم اور مضبوط ترین سبب سچی توبہ اور بارگاہِ الہی میں عاجزی و انکساری ، اطاعت و عبادت گزاری ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    {وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ}

    اور ہم نے جب بھی کسی بستی میں کوئی نبی بھیجا تو وہاں کے رہنے والوں کو سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کی روش اختیار کریں [الأعراف: 94]

    اس لیے اپنے رب کی اطاعت کریں اسی کی طرف رجوع کریں، گناہوں اور نا فرمانیوں سے رک جائیں، رضائے الہی کا موجب بننے والے امور کی طرف بھر پور توجہ دیں، صرف اُسی کی اطاعت کریں، حصولِ رضائے الہی کیلیے کوشش کریں، اللہ تعالی کی ناراضی سے دور رہیں، یہ تمام امور زندگی اور موت ہر حالت میں ہمہ قسم کے بحرانوں سے نکلنے کی مضبوط ترین بنیاد ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    { وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا}

    جو بھی تقوی الہی اختیار کریگا اللہ تعالی اس کیلیے [تنگی سے نکلنے کا]راستہ بنا دے گا[الطلاق: 2]

    اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:

    {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا}

    جو بھی تقوی الہی اختیار کرے تو اللہ تعالی اس کا معاملہ آسان فرما دیتا ہے۔[الطلاق: 4]

    دکھ ہو یا سکھ ہمیں انفرادی اور اجتماعی ہر اعتبار سے پوری امت کو یکساں طور پر اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے؛ مصیبتوں اور مشکلات کے وقت اللہ کی جانب دوڑنے والے کو اللہ تعالی پناہ دیتا ہے، اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑانے والے کو اپنی تحویل میں لے کر اس کی مشکل کشائی فرماتا ہے۔

    کچھ سلف صالحین کا کہنا ہے کہ:

    "کسی بھی مصیبت کے آن پڑنے پر حسن ظن رکھیں کہ اللہ تعالی اسے ختم فرما دے گا؛ کیونکہ اس طرح مشکل کشائی کا امکان جلد ہوتا ہے "

    تنگی و ترشی سے بچاؤ اور خوف و خطر سے نجات کا ذریعہ محض بشری طاقت کے تحت اپنائے جانے والے اسباب نہیں ہیں بلکہ حقیقت میں ذریعۂِ نجات یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اور صحیح عقیدہ کو کتاب و سنت کی روشنی میں مضبوطی سے تھاما جائے؛ کیونکہ یہ قانونِ الہی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو تکلیفیں دیتا ہی اس لیے ہے کہ بندے توبہ کریں اور اللہ تعالی سے ناتا جوڑیں،

    {وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُو}

    اور ان تین آدمیوں پر بھی [مہربانی کی] جن کا معاملہ ملتوی رکھا گیا تھا، حتی کہ زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی اپنی جانیں بھی تنگ ہوگئیں اور انہیں یہ یقین تھا کہ اللہ کے سوا ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ، پھر اللہ نے ان پر مہربانی کی تاکہ وہ توبہ کریں ، اللہ تعالی یقیناً توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے [التوبۃ: 118]

    ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانِ باری تعالی :

    {وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ}

    اور ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے قریبی عذاب بھی ضرور دینگے تا کہ وہ رجوع کریں۔[السجدة: 21]

    کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریبی عذاب سے مراد دنیاوی وبائیں اور آفات سمیت وہ تمام مصیبتیں ہیں جو اللہ تعالی کی جانب سے بندوں کو توبہ پر مجبور کرنے کیلیے نازل ہوتی ہیں۔

    اور اگر ہم اپنے پروردگار کی کتاب کو اسی طرح پڑھیں جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام پڑھا کرتے تھے تو اللہ تعالی ہماری زندگیوں میں بڑی تبدیلیاں فرما دے۔

    اہل اسلام!

    آپ کی امت سنگین حالات اور عظیم بحرانوں سے دوچار ہے، ان تمام مشکلات سے نکلنے اور بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اس سے ہٹ کر لوگ کچھ بھی کہہ لیں اس ایک راستے کے بغیر حالات ساز گار نہیں ہونگے اور وہ ہے صراطِ مستقیم سے رجوع ، لہذا اسلامی تعلیمات و ہدایات کے مطابق حالات استوار کریں، مسلمانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لائیں، اسلامی معاشروں کی ایسے اصلاح کریں جیسے اسلام اور نبی ﷺ کی سنت کا تقاضا ہے۔

    فرمانِ باری تعالی ہے:

    { وَبَلَوْنَاهُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ}

    اور ہم نے انہیں اچھے اور برے حالات سے آزمایا تا کہ وہ رجوع کریں۔[الأعراف: 168]

    چنانچہ اگر آج بھی امت اپنی معیوب حالت کی اصلاح اپنے دستور و قانون کی روشنی میں نہیں کرے گی تو کب اصلاح کرے گی؟

    امت اسلامیہ!

    اپنی زندگی میں ہونے والی تمام نظریاتی غلطیوں کے خاتمے اور اپنے منظر سے دین اسلام سے متصادم ہر چیز کو صاف کرنے کیلیے سچی توبہ اور حقیقی محاسبہ کرو، اپنے پروردگار کی اس پکار پر لبیک کہو:

    {أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ}

    کیا ایمان لانے والوں کیلیے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکرِ الہی اور نازل شدہ حق کیلیے نرم ہو جائیں ؟[الحديد: 16]

    جس وقت ان باتوں کو مسلمان حکمران اور عوام کی سطح پر عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو ان کے زندگی کے تمام پہلو خوشحالی، بہتری اور عمدگی میں بدل جائیں گے۔

    جب قومِ یونس نے اپنے ارد گرد عذاب کی علامات دیکھ لیں تو اسی وقت فوری طور پر اللہ تعالی سے مدد مانگنے کیلیے آہ و زاری اور عاجزی و انکساری کرنے لگے ، تو اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا:

    {فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ}

    پھر کیا یونس کی قوم کے سوا کوئی ایسی مثال ہے کہ کوئی قوم [عذاب دیکھ کر] ایمان لائے تو اس کا ایمان اسے فائدہ دے؟ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوائی کا عذاب دور کر دیا اور ایک مدت تک انھیں سامان زیست سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا [يونس: 98]

    مسلم اقوام!

    یہ بات آپ سب پر عیاں ہے کہ: بہت سے ممالک میں مسلمان اس وقت کسمپرسی اور تنگی و ترشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ان سنگین ترین حالات سے نکلنے کا ذریعہ یہی ہے کہ صرف ایک اللہ تعالی کے سامنے دعائیں کریں ، احکاماتِ الہیہ کی تعمیل کریں، اور سچے دل کیساتھ دینِ الہی کو اپنائیں،

    { وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ}

    اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا پھر بھی وہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی [المؤمنون: 76]

    احادیث میں سورج گرہن کے وقت نبی ﷺ نے دعا، تکبیرات، نماز اور صدقہ دینے کا حکم دیا اس پر ابن دقیق العید رحمہ اللہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

    " یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ خوف و خطر کے وقت متوقع نقصانات سے بچنے کیلیے صدقہ کرنا مستحب ہے"

    یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ کو جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو آپ فوراً نفل نماز ادا کرتے تھے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ}

    صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو۔[البقرة: 45]

    اللہ تعالی کا ناقابل ترمیم قانون اور ایسا وعدہ ہے جو کہ تبدیل نہیں ہو سکتا کہ کشادگی اور فراخی تکلیف شدید اور سنگین ہونے پر مل ہی جاتی ہے بشرطیکہ لوگ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اسی کے سامنے گڑگڑائیں، اس کیلیے شواہد کے طور پر مسلمانوں کے انفرادی، ملی اور ملکی سطح کے بے شمار تاریخی واقعات موجود ہیں،

    {قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُمْ مِنْهَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ}

    آپ کہہ دیں: اللہ تعالی ہی تمہیں اس سے اور ہر غم سے نجات دیتا ہے۔[الأنعام : 64]

    اسلامی بھائیو!

    دلی گہرائی کیساتھ زبان سے ذکر الہی دکھ درد دھو ڈالنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    {وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ (97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (98) وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ}


    اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان کی باتوں سے کڑھتا ہے [97] آپ اپنے رب کی حمد کیساتھ پاکیزگی بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہوں [98] اور یقینی بات [موت] آنے تک آپ اپنے رب کی عبادت کریں۔[الحجر : 97 - 99]

    نیز فرمایا:

    { أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ}

    خبردار! صرف اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔[الرعد : 28]

    قرآن مجید کی تدبر، غور و فکر، اور فہم کے ساتھ تلاوت سب سے بڑا ذکر ہے، نیز زبانِ حال و مقال کیساتھ کثرت سے استغفار ؛خیر و بھلائی اور خوشیاں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ بلاؤں کو ٹالنے کا سبب ہے، اس بارے میں بہت سی آیات اور احادیث موجود ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

    { وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ}

    اور وہ استغفار کرتے ہوں تو اللہ تعالی انہیں عذاب دینے والا نہیں [الأنفال : 33]

    اسی طرح نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کی عادت بنانے والے کیلیے اللہ تعالی تمام مشکلات رفع اور ہر پریشانی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، نیز اس پر اتنی نعمتیں برساتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا، تو اگر کوئی شخص آپ ﷺ کی سیرت و رہنمائی پر عمل پیرا ہو تو اسے کیا کچھ ملے گا؟!

    دکھ درد میں پھنسے ہوئے شخص! پریشانیوں میں گھرے ہوئے شخص ! اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی و انکساری کرو، صرف اسی کی سامنے جھکو، اپنے تمام تر معاملات اسی کے سپرد کر دو، وہی حالات سازگار بنا سکتا ہے، اسی کے ہاتھ میں تمام امور کی باگ ڈور ہے، وہی انتہائی مضبوط، بڑا اور بلند ہے، وہی دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا سکتا ہے، وہی خوشحالی کو دوام اور بدحالی کو رام کر سکتا ہے۔

    صحیح بخاری و مسلم میں ہے: ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    (عبد اللہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتلاؤں؟ تو میں نے کہا: کیوں نہیں اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: تم کہو: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" [ترجمہ: اللہ تعالی کے بغیر نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی ہمت کا کوئی تصور ہی نہیں]یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے) متفق علیہ

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ان کلمات کی وجہ سے بڑے سے بڑا بوجھ، کڑے سے کڑا وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان بلندیوں کو چھوتا ہے"

    ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

    "مشکل امور، سنگین حالات، بادشاہوں کے سامنے پیش ہونے اور کڑے حالات سے نمٹنے کیلیے ان کلمات کی تعجب خیز تاثیر ہے"

    اس ذکر کو قلب و لسان پر جاری رکھو، اور اس کے تقاضوں کو عملی طور پر مکمل کرو، اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کی پریشانیاں ہوا فرمائے، اللہ تعالی سب مسلمانوں کی تکلیفیں رفع فرمائے۔

    اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کیلئے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو وہ بہت ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:

    میں اپنے رب کی حمد بیان کرتا ہوں اور اسی کا شکر بجا لاتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُسکے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل، اور برگزیدہ صحابہ کرام پر رحمتیں ، برکتیں، اور سلامتی نازل فرمائے۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    مسلمانو!

    پریشانیاں اور دکھ درد دھونے کا عظیم ترین ذریعہ یہ ہے کہ: قلب و لسان کیساتھ قبولیت کے یقین سے دعا کریں:

    {وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ[ 83] فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ}

    اور جب ایوب نے اپنے رب کو پکارا کہ : "مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو ہی ارحم الراحمین ہے" [83] تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کی تکلیف رفع کر دی۔[الأنبياء : 84]

    اور ایک حدیث میں ہے کہ:

    (دعا ہی تقدیر کو بدل سکتی ہے) احمد ، ترمذی

    چنانچہ اللہ تعالی بعض فیصلے فرما کر ان کے وقوع پذیر ہونے کے راستے میں کچھ رکاوٹیں کھڑی فرما دیتا ہے ، تو انسان کے دعا گو ہونے پر اللہ تعالی کی طرف سے یہ رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں ، اور دعا پر معلق تقدیر مٹ جاتی ہے۔

    صحیح ثابت شدہ احادیث میں کچھ ایسی دعائیں ہیں جو کہ دکھ درد مٹانے اور معاملات آسان بنانے کیلیے خاص ہیں، اور آج ہم یہی دعائیں اس جگہ پر مانگیں گے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہماری دعائیں قبول و منظور فرمائے۔

    یا اللہ! محمد -ﷺ - اور آپ کی آل پر درود نازل فرما جیسے کہ تو نے ابراہیم اور ان کی آل پر درود نازل فرمایا، یا اللہ! محمد -ﷺ-اور ان کی آل پر برکتیں نازل فرما جیسے کہ تو نے ابراہیم اور ان کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو حمد کا مستحق اور بزرگی والا ہے۔

    تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں تو پاک ہے، ہم ہی ظلم کرنے والے ہیں۔

    یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے دکھوں اور غموں کا خاتمہ فرما دے ، یا اللہ! تو ہی ہمیں کافی ہے اور تو ہی بہترین کار ساز ہے، یا اللہ! تو ہی ہمیں کافی ہے اور تو ہی بہترین کار ساز ہے، یا اللہ! تو ہی ہمیں کافی ہے اور تو ہی بہترین کار ساز ہے، یا اللہ! جن آزمائشوں کو تو نے ہم پر مسلط کیا ہے یا اللہ! ان کے بارے میں تو ہی ہمیں کافی ہے اور تو ہی بہترین کار ساز ہے۔

    "اَللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَمِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَمِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ، اَللَّهُمَّ اكْفِنَا بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَاغْنِنَا بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ"

    [یا اللہ! ہم پریشانی اور غموں سے ، لاغری اور سستی سے، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے قہر سے تیری پناہ چاہتے ہیں ، یا اللہ! ہمیں حلال کے ذریعے حرام سے بچا لے، اور ہمیں اپنے فضل کے ذریعے دوسروں سے مستغنی کر دے]

    (اَللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمُهُمَا)

    یا اللہ! مالک الملک! تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے بادشاہی چھین لے، تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، تو دنیا اور آخرت میں نہایت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے، [ہم مسلمانوں پر ایسی رحمت فرما کہ ہمیں کسی دوسرے کے ترس کی ضرورت ہی نہ رہے، ہم مسلمانوں پر ایسی رحمت فرما کہ ہمیں کسی دوسرے کے ترس کی ضرورت ہی نہ رہے ، یا ذو الجلال و الاکرام!]

    اسی طرح:

    (اَللَّهُمَّ إِنَّا عَبِيْدُكَ، بَنُوْ عَبِيْدِكَ،بَنُوَ إِمَائِكَ، نَوَاصِيْنَا بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيْنَا حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيْنَا قَضَاؤُكَ، نَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِيْ كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَداً مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ؛ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ الْعَظِيْمَ رَبِيْعَ قُلُوْبِنَا، وَنُوْرَ صُدُوْرِنَا وَجَلَاءَ أَحْزَانِنَا، وَذَهَابَ هُمُوْمِنَا وَغُمُوْمِنَا)

    یا اللہ! ہم سب تیرے بندے، تیرے بندوں اور باندیوں کی اولاد ہیں، ہماری پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، ہم پر تیرا ہی حکم چلتا ہے، ہمارے بارے میں تیرا فیصلہ مبنی بر عدل ہے، یا اللہ! ہم تجھ سے تیرے ہر نام کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں جو نام تو اپنے رکھے ہیں ، یا اپنی کتاب میں نازل کیے ہیں یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھائے ہیں یا علم غیب میں اپنے پاس محفوظ رکھے ہیں؛ کہ تو قرآن کریم کو ہمارے دلوں کی بہار ، سینوں کا نور، ہمارے غموں دکھوں اور پریشانیوں کے خاتمے کا سبب بنا دے[اور تمام مسلمانوں کے دکھوں اور پریشانیوں کو بھی ڈھو ڈال ، یا ذو الجلال والاکرام!]

    (اَللَّهُمَّ إِنَّا رَحْمَتَكَ نَرْجُوْ فَلَا تَكِلْنَا إِلَى أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ)

    [ یا اللہ! ہم تیری رحمت کے امید وار ہیں ہمیں ایک لمحہ کیلیے بھی تنہا مت چھوڑنا، ہمارے تمام معاملات درست فرما دے ، تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ]

    اللہ ہی میرا پروردگار ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا، اللہ ہی میرا پروردگار ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے حالات خوشحالی اور بہتری کا جانب گامزن فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے حالت تنگی سے فراخی میں بدل دے، یا اللہ! ان کی مشکل کشائی فرما، یا اللہ! ان کے معاملات آسان فرما، یا اللہ! ان پر امن و امان نازل فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

    یا اللہ! مسلمانوں کو متحد فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو پوری دنیا میں حق بات پر متحد فرما، یا اللہ! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما، یا اللہ! ان پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ان پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا قوی! یا کبیر! یا متعال! یا اللہ! مسلمانوں کے تمام دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! مسلمانوں کے خلاف گھات لگائے ہوئے دشمنوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

    یا اللہ! سب مسلم ممالک کی حفاظت فرما، یا اللہ! تمام مسلم ممالک کی ہمہ قسم کے شر اور ناگوار چیزوں سے حفاظت فرما۔

    یا اللہ! خادم حرمین شریفین کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کیلیے تمام مشکلات اور پریشانیوں سے نکلنے کا راستہ بنا، ان کے ذریعے مسلمانوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے مسلمانوں میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے مسلمانوں کے حالات درست فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے مسلمانوں کے حالات درست فرما۔

    یا اللہ! ہر جگہ پر ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہر جگہ پر ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں اپنی خصوصی حفاظت عنایت فرما، اور انہیں اپنے حفاظتی حصار میں محفوظ فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

    یا اللہ! مسلمان مرد و خواتین اور مؤمن مرد و خواتین کی بخشش فرما، زندہ اور فوت شدہ سب کی بخشش فرما۔

    یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

    یا اللہ! ہمارے نبی اور رسول محمد -ﷺ- پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔

    پی ڈی ایف فائل ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

    https://goo.gl/PKyDFy
     
  2. ‏فروری 27، 2016 #2
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,356
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏مارچ 01، 2016 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مدنی خطبہ - خطیب:ڈاکٹر حسين آل شيخ حفظہ اللہ تعالی

    موضوع:پریشانیاں اور دکھ رفع کرنے کے وسائل واسباب

    ترجمہ:شفقت الرحمن حفظہ اللہ تعالی

    آواز:حافظ جنید حفظہ اللہ تعالی


    ویڈیو


    لنک







     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں