1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

پوتی اور پڑپوتے کا حصہ

'فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 15، 2017 at 4:10 PM۔

  1. ‏جولائی 15، 2017 at 4:10 PM #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,341
    موصول شکریہ جات:
    6,439
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی حفظک اللہ
    ایک بھائی نے سوال کیا ہے:

    IMG-20170715-WA0012.jpg

    اس میں سوال یہ ہے کہ:
    پوتی اور پڑپوتے کو بطور عصبہ جو پانچ حصہ ملیں گے وہ برابر تقسیم ہوں گے یا پڑپوتے کو پوتی کا دو گنا حصہ ملے گا؟
     

    منسلک کردہ فائلیں:

  2. ‏جولائی 15، 2017 at 6:46 PM #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,448
    موصول شکریہ جات:
    1,952
    تمغے کے پوائنٹ:
    639

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    فتوی میں ایک آیت کے الفاظ ( يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ۔اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے ))
    (سورۃ النساء ۱۱ ) کا حوالہ دینے کا
    کا مطلب یہاں یہی ہے کہ پڑپوتے کو پوتی کا دوگنا ملے گا ۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ایسے ہی ایک مسئلہ پر ایک اور فتوی ملاحظہ فرمائیں :

    مرحوم کی ایک بیوی، ایک بیٹی، پانچ پوتے اور دو پوتیوں میں تقسیم وراثت
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    کیافرماتے ہیں علماءکرام اس مسئلہ میں کہ جان محمد کابیٹادھنی بخش اپنےوالدکی زندگی میں ہی وفات کرگیا۔بعدمیں خودجان محمد فوت ہوگیاجس نے وارث چھوڑے،ایک بیوی،ایک بیٹی5پوتےدوپوتیاں۔بتائیں کہ جان محمدکی ملکیت میں سےشریعت محمدی کےمطابق وراثت کیسےتقسیم ہوگی؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    معلوم ہوناچاہیےکہ فوت ہونے والے کی ملکیت میں سےسب سے پہلے اس کے کفن دفن کاخرچہ کیاجائے گا،پھراگرقرض ہےتواسےاداکیاجائےپھراگرمرحوم نےوصیت کی ہےتوسارےمال کےتیسرے حصےتک سےپوری کی جائےاس کے بعدباقی مال منقولہ خواہ غیرمنقولہ کوایک روپیہ قراردےکر تقسیم اس طرح ہو گی۔
    مرحوم جان محمد ملکیت 1روپیہ
    وارث پائیاں :آنے
    بیوی 00 :2
    بیٹی 00 :8
    5پوتے(ہرایک کوایک آنہ) 00 : 5
    دوپوتیاں مشترکہ 00 :01
    حدیث مبارکہ میں ہے:((الحقواالفرائض بأهلهافمابقي فلأولى رجل ذكر.)) صحيح البخاري’كتاب الفرائض’باب ميراث ابن الابن اذالم يكن ابن’رقم الحديث:٦٧٣٥-صحيح مسلم’كتاب الفرائض’باب الحقواالفرائض باهلها’رقم:٤١٤١.
    جدیداعشاری فیصدطریقہ تقسیم
    کل ملکیت100
    بیوی8/1/12.5
    بیٹی2/1/50
    5پوتےعصبہ31.25 فی کس6.25
    2پوتیاں عصبہ6.25 فی کس3.125
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    صفحہ نمبر 568

    محدث فتویٰ
     
  3. ‏جولائی 15، 2017 at 9:34 PM #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,341
    موصول شکریہ جات:
    6,439
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    جزاکم اللہ خیرا کثیرا
     
  4. ‏جولائی 15، 2017 at 10:06 PM #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,448
    موصول شکریہ جات:
    1,952
    تمغے کے پوائنٹ:
    639

    آمین یا رب العالمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں