1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"پول پرائس" کی شرعی حیثیت !

'جدید فقہی مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از رفیق طاھر, ‏مارچ 21، 2012۔

  1. ‏مارچ 21، 2012 #1
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    أحمد إلیکم اللہ الذی لا إلہ إلا ھو ، وبعد !
    آج ہمارے جامعہ میں ایک سوال پیش کیا گیا جسکا تعلق اسی زمرہ سے ہے سوچا کہ افادہ عام کی غرض سے یہاں بھی شیئر کر دیا جائے
    ملاحظہ فرمائیں :

    سوال: آجکل مختلف کمپنیوں کی طرف سے انکی مصنوعات کا ریٹ مقرر شدہ ہوتا ہے , اور اس پر حلف لیا جاتا ہے کہ کوئی دوکاندار بھی پول پرائس سے کم قیمت پر انکی مصنوعات فروخت نہ کرے اور نہ ہی وہ گاہک کو اسکے علاوہ انکی مصنوعات کے ساتھ کوئی تحفہ وغیرہ دے ۔ اور اس پر دوکانداروں سے حلف بھی لیا جاتا ہے ۔ کیا ایسا کرنا شریعت اسلامیہ میں جائز ہے ؟

    الجواب بعون الوھاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب​


    اشیاء کی قیمتیں مقرر کرنا شریعت اسلامیہ میں ممنوع ہیں ۔ ایک مرتبہ مدینہ میں مہنگائی ہوگئی تو لوگوں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارے لیے کنٹرول ریٹ متعین فرما دیں تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُطَالِبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ
    [سنن أبی داود کتاب البیوع باب فی التسعیر (3451)]
    یقینا اللہ تعالى ہی بھاؤ متعین کرنے والا , تنگی اور وسعت پیدا کرنیوالا اور رزق عطا فرمانے والا ہے ۔ اور میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میں اللہ تعالى کے حضور پیش ہوں تو کوئی بھی مجھ سے خون یا مال میں ظلم کی وجہ سے مطالبہ کرنیوالا نہ ہو۔
    یعنی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ریٹ کو متعین فرمانے سے احتراز فرمایا اور اسے ظلم قرار دیا ہے ۔ لہذا کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کا ریٹ متعین کر دے ۔
    اور اگر کوئی کمپنی اس طرح کی شرط عائد کرتی ہے تو وہ شرط باطل ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ
    [صحیح بخاری کتاب البیوع باب البیع والشرء مع النساء (2155)]
    لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں (جائز ) نہیں ۔ جو بھی کوئی ایسی شرط لگائے جو کتاب اللہ میں (جائز) نہ ہو تو وہ شرط باطل ہے , خواہ وہ سوشرطیں ہی لگا لے ۔ اللہ تعالى کی شرط زیادہ حقدار ہے اور زیادہ پختہ ہے ۔
    درج بالا ادلہ کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ "پول پرائس" پر دکاندار کو مجبور کرنا شرعا حرام ہے ۔ اور اگر کوئی دکاندار اس بات کا حلف اٹھا چکا ہے تو وہ اسے توڑ سکتا ہے کیوں کہ یہ شرط اللہ کے دین میں ناجائز ہے ۔
    ھذا واللہ تعالى أعلم , وعلمہ أحکم وأبرم , ورد العلم إلیہ أسلم , والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم
    وکتبہ
    أبو عبد الرحمن محمد رفیق الطاھر مدرس جامعہ ھذا​
     
  2. ‏مارچ 21، 2012 #2
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    ویسے یہ بھی عجیب بات ہے کہ پہلے کنٹرول ریٹ مقرر کیا جاتا تھا کہ اس سے زائد قیمت وصول نہ کی جائے اور اب ریٹ متعین کیا جاتا ہے کہ اس سے کم قیمت نہ لی جائے !
     
  3. ‏مارچ 21، 2012 #3
    رانا اویس سلفی

    رانا اویس سلفی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    387
    موصول شکریہ جات:
    1,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    jzk shiek rafiq bahi
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں