1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پکڑا گیا تو جعلی پیر(ایک نصیحت آموز تحریر)

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از عمران احمد سلفی, ‏نومبر 09، 2017۔

  1. ‏نومبر 09، 2017 #1
    عمران احمد سلفی

    عمران احمد سلفی مبتدی
    جگہ:
    طائف سعودی عربیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2017
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    دین اسلام اللہ تعالی کا پسندیدہ دین ہے،اور یہ دین فطرت ہے اور اسی فطرت پر اللہ تعالی نے انسانوں کو پیدا کیا،اس دین کو اللہ تعالی نے کائنات کی سب سے عظیم شخصیت کے قلب اطہر پرنازل فرمایا،اور اسی طرح اللہ تعالی نے ہمیں اس دین کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا،دین اسلام اللہ تعالی کی وحدانیت اور نبی اکرم ﷺ کی نبوت و رسالت کے اقرار کانام ہے،اللہ تعالی نے اس دین حنیف کی تبلیغ و اشاعت کے لئےاپنے محبوب کا انتخاب کیااور اللہ تعالی نے اپنی کتاب مبین میں فرمایا :" هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا "۔ترجمہ : وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کےساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے،اور اللہ تعالی کافی ہے گواہی دینے والا ۔(الفتح/28)
    آپ ﷺ نے اللہ کے دیئے ہوئے اس امانت کو کما حقہ امت تک پہونچا دیا،اور نبوت و رسالت کے فریضہ کو اللہ کی توفیق سے ادا کرتے ہوئے اللہ تعالی کے حکم سے اس دین فطرت کی تکمیل کا اعلان کیاجیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: " الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا " ۔ ترجمہ :آج میں نے تمہارے لئےدین کو کامل کردیا،اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا۔(المائدہ/3)۔
    آپ ﷺ نے اس جہاں فانی سے اس حال میں کوچ کیا کے آپ ﷺ نے امت کے سامنے تما م خیر و شر کو دن کے اجالے کی طرح واضح کردیا،آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے خلفاءراشدین اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس دین کی دعوت اشاعت کا بیڑا اٹھا یا،جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا دین میں اختلافات بڑھتے گئے،آئے دن نت نئے فتنے سراٹھانے لگے،جن سے اسلام کو بڑا نقصان ہوتا رہا اور اسلام کا شیرازہ بکھر تا چلا گیا،دین اسلام کو سب زیادہ رافضیت(شیعیت)اور صوفیت سے نقصان پہونچاکیونکہ رافضیت نے اہل بیت کی محبت کا آڑ لے کر سادہ لوح مسلمان کو صراط مستقیم سے بھٹکایاتو دوسری طرف صوفیت نے لوگوں کو اللہ کے در سے اٹھا کر اللہ کی مخلوقات کے در پر لگا دیا،اور لوگوں کو یہ باور کرایا کہ یہ اہل قبر اللہ تعالی کے بڑے خواص ہیں، اگرانہیں راضی کرلیا تو اللہ تعالی کی رضا حاصل ہوگئی۔
    اسی صوفیت کی ایک کڑی مسلم معاشرے میں آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کے دین اور اللہ کے نیک و صالح بندوں کے نام پر اپنا کاروبار اور تجارت چلا رہا ہوتا ہے،اچانک ہم یہ سنتے ہیں کہ اس کا ڈھونگ اور جھوٹ پکڑا جاتا ہے،اور معاشرے میں میڈیا کے ذریعہ یا انٹرنیٹ کے ذریعہ ہمیں یہ خبر ملتی ہیکہ فلاں پیر،یا فلاں حضرت جی پکڑے گئے،اور یہ خبر نشر کر دی جاتی ہے کہ وہ صاحب جعلی پیر تھے۔۔۔اللہ المستعان
    قارئین کرام : ذرا غور کریں بالفرض مان لیں کہ وہ نہ پکڑا جاتا، اللہ تعالی اور اللہ کے نیک و صالح بندوں کے نام پر چلنے والی تجارت زور و شور پر ہوتت،ہماری ماں اور بہنوں کی عزتیں خوب پامال ہوتیں ،غریب بےکس اور ڈرے ہوئے نادار مسلمانوں کا مال باطل طریقے سے خوب ہڑپاجاتا،اور رفتہ رفتہ پیر صاحب کی عمر بڑھتی رہتی اور ایک دن یہ خبر ملتی کے پیر صاحب پردہ کر گئے ۔۔۔۔ تو پھر کیا ہوتا؟،اللہ و رسول کی مخالفت کرتے ہوئے ایک اونچی قبربنائی جاتی،عرس ہوتا،میلے لگتے،اور شرک و بدعت کی تمام حدیں پار ہو جاتیں۔

    مگر وہ پکڑا گیا،اور ان تما م مولویوں نے اس کے اس جرم سے اپنے دامن کو بچاتے ہوئے اعلان کردیا کہ فلاں جعلی پیر ہے۔
    حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر مسلمان خواہ وہ جس مسلک و مشرب سے تعلق رکھتا ہو ذرا ایک بار اپنے دل سے پوچھے کے کیا محمد عربی ﷺ نے یہ اسلام ہمارے سامنے پیش کیا تھا؟،کیا آپ ﷺ کی سب سے محبوب جگہ مکہ المکرمہ کو اسی دین کو وجہ سے چھوڑنا پڑا؟،کیا آپ کا چہرہ مبارک اسی اسلام کے لئے لہو لہان ہوا تھا؟،کیا ابو بکر،عمر،عثمان،علی،عشرہ مبشرہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے اسی دین کے خاطر اپنی جان،مال اور آل و اولاد قربان کئے تھے؟۔۔۔۔جواب آئے گا نہیں نہیں۔۔۔آپ نے جس دین کو پیش کیا اس دین میں رب العالمین باتوں کو سننے کے لئے،اوربندوں کے حوائج کو پوری کرنے کے لئے کسی نبی مرسل،ملک مقرب ،یا کسی نیک و صالح بندے کا محتاج نہیں ہے۔۔۔۔یہ پیری فقیری اور یہ صوفیت کا راستہ صرف اور صرف لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانے کا ایک ذریعہ ہے،جسے بعد کے لوگوں نے ایجاد کیا کیونکہ صحابہ رضی اللہ عنہم ،تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ کے ادوار میں آپ پوری تاریخ پڑھ جائیں کہیں بھی جعلی پیر نہیں پکڑا گیا،تما م صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ کے پکے سچے اولیاء میں سے ہیں،اور انہوں نے ولایت اللہ کے دین پر عمل کر کے حاصل کیا۔۔۔اور یہی وجہ ہیکہ ان میں کوئی جعلی پیر یا ولی نہیں تھا،اور ہم سب یہ جانتے ہیں کے آج ہمارے معاشرے میں جو لوگ پیراور ولی اللہ بنے بیٹھے ہیں ان کی صورت و سیرت اور ان کا کردار کیسا ہے؟۔۔۔یہی وجہ ہیکہ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ فلاں جعلی پیر نکلا۔۔۔۔اللہ ہم سب کو کتاب و سنت پر عمل کی توفیق دے آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں