1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پیارے بھائیوں!!! داڑھی میں فیشن نہیں سنت کی پیروی کریں!

'لباس و ضروریات' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏نومبر 13، 2013۔

  1. ‏نومبر 13، 2013 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    14498_341217369319720_1139924826_n.jpg
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 13، 2013 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    داڑھى كى حد اور گردن كے بال مونڈنے كا حكم
    كيا مرد كان كى لو كے نيچے گردن پر اگنے والے بال مونڈ سكتا ہے، تا كہ داڑھى زيادہ ظاہر نہ ہو ؟
    الحمد للہ:

    اللحيۃ: يا داڑھى دونوں رخساروں اور تھوڑى پر اگنے والے بالوں كا كہتے ہيں.

    ابن منظور رحمہ اللہ ـ ابن سيد سے نقل كرتے ہوئے كہتے ہيں:


    كانوں كے سوراخ كے برابر اونچى ہڈى پر اگے ہوئے بال داڑھى ميں شامل ہيں، اسے اہل لغت اسے العذار يعنى رخسارہ كا نام ديتے ہيں جو كہ جبڑے كا كنارہ ہے اور ان بالوں كو بھى مونڈنا اور اكھاڑنا جائز نہيں ہے، كيونكہ يہ بھى داڑھى ميں شامل ہوتے ہيں.

    شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:
    داڑھى اور اللحيۃ سے كيا مراد ہے ؟
    شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:
    كانوں كے سوراخ برابر ابھرى ہوئى ہڈى سے ليكر چہرے كے آخر تك دارھى كى حد ہے، اور رخساروں پر اگے ہوئے بال بھى داڑھى ميں شامل ہيں.

    القاموس المحيط ميں ہے:

    اس بنا پر جو شخص يہ كہتا ہے كہ: رخساروں پر موجود بال داڑھى ميں شامل نہيں ہيں تو اسے اس كى كوئى دليل پيش كر كے يہ ثابت كرنا ہو گا كہ يہ بال داڑھى ميں شامل نہيں.
    ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 11 ) سوال نمبر ( 49 ).

    شيخ رحمہ اللہ سے يہ سوال بھى كيا گيا:
    كيا رخسار بھى داڑھى ميں شامل ہيں ؟
    شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:
    جى ہاں دونوں رخسار بھى داڑى ميں شامل ہيں؛ كيونكہ جس لغت ميں شريعت آئى ہے اس لغت كا تقاضا بھى يہى ہے.
    اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
    اور ايك مقام پر كچھ اسطرح فرمايا:

    اس سے يہ پتہ چلا كہ قرآن و سنت ميں جو كچھ بھى آيا ہے اس سے وہى مراد ہے جو عربى لغت متقاضى ہے، ليكن اگر اس كا كوئى شرعى مدلول ہو تو پھر اسے اس شرعى مدلول پر ہى محمول كيا جائيگا مثلا: الصلاۃ عربى زبان ميں دعاء كو كہا جاتا ہے، ليكن شريعت اسلاميہ ميں اس سے مراد وہ عبادت مراد ہے جو نماز كے نام سے معروف ہے، اس ليے جب قرآن و سنت ميں اس كا ذكر آئے تو اسے شرعى مدلول پر ہى محمول كيا جائيگا الا يہ كہ اگر اس ميں كوئى مانع آ جائے.

    اس بنا پر داڑھى كے بارہ ميں شريعت اسلاميہ نے كوئى خاص شرعى مدلول نہيں بنايا تو اس ليے اسے لغوى مدلول پر محمول كيا جائيگا، اور اللحيہ يا داڑھى لغت عرب ميں ان بالوں كو كہا جاتا ہے جو جبڑوں اور رخساروں پر كانوں كے سوراخ كے برابر دوسرى طرف كى ہڈى پر اگے ہوتے ہيں.

    القاموس ميں ہے:
    رخساروں اور تھوڑى پر اگے ہوئے بال داڑھى ہيں.
    اور اسى طرح فتح البارى ميں لكھا ہے كہ:
    دونوں رخساروں اور تھوڑى پر اگے ہوئے بالوں كا نام داڑھى ہے.
    ديكھيں: فتح البارى ( 10 / 35 ) طبع مكتبہ سلفيہ.

    اس سے يہ علم ہوا كہ دونوں رخسار داڑھى ميں شامل ہيں، اس ليے مؤمن شخص كو چاہيے كہ وہ صبر سے كام لے، اور اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و فرمانبردارى كركے صبر كا مظاہرہ كرتے ہوئے اجروثواب حاصل كرے، اور اگر وہ كسى اجنبى علاقے ميں اجنبى ہو تو اس كے ليے ( دين پر عمل كرنے والے كے ليے ) خوشبختى ہے.

    اسے يہ معلوم ہونا چاہيے كہ حق كى پہچان كے ليے ميزان تو كتاب و سنت ہے، اس كا وزن اس كے ساتھ معلوم نہيں ہوتا جس پر لوگ ہوں اور وہ كتاب و سنت كے بھى مخالف ہو.

    اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں اور ہمارے مسلمان بھائيوں كو حق پر ثابت قدم ركھے.
    ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 11 ) سوال نمبر ( 50 ).

    اور گردن پراگے ہوئے بال داڑھى كى حد ميں شامل نہيں، امام احمد رحمہ اللہ تعالى نے بيان كيا ہے كہ حلق كے نيچے والے بال اتارنے ميں كوئى حرج نہيں.

    ديكھيں: الانصاف ( 1 / 250 ).

    يہ اس ليے كہ يہ بال داڑھى ميں شامل نہيں ہيں.

    شيخ محمد السفارينى كہتے ہيں:
    الاقناع ميں ہے كہ: معتمد مذہب يہ ہے كہ حلق كے نيچے والے بال اتارنے ميں كوئى حرج نہيں.
    ديكھيں: غذاء الالباب شرح منظومۃ الآداب ( 1 / 433 ).

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال و جواب
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 13، 2013 #3
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    بھائی جب بھی کسی دوسری سائٹ وغیرہ سے کاپی پیسٹ کریں تو لنک سے حوالہ ضرور دیں،
    http://islamqa.info/ur/ref/69749
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 13، 2013 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    كيا داڑھى كى كوئى مستحب لمبائى پائى جاتى ہے ؟

    كيا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے داڑھى كى كوئى مستحب لمبائى وارد ہے ؟

    الحمد للہ:

    داڑھى كے ليے مستحب لمبائى يا داڑھى كى كوئى حد نہيں پائى جاتى، كيونكہ اس كے متعلق نبى كريم صلى اللہ وسلم سے وارد نہيں، بلكہ صرف اسے اپنى حالت ميں باقى ركھنا ہى ثابت ہے.

    امام مسلم رحمہ اللہ نے جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ:
    اور نسائى شريف ميں براء رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ:

    اور ايك روايت ميں ہے:
    " كثيف اللحيۃ "

    اور ايك روايت ميں " عظيم اللحيۃ " كے الفاظ ہيں.
    سنن نسائى حديث نمبر ( 5232 ).

    بعض اہل علم نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كے فعل كى بنا پر ايك مٹھى سے زيادہ كے بعد كاٹنے كى اجازت دى ہے، اور اكثر علماء كرام اسے مكروہ سمجھتے ہيں، اور يہى زيادہ بہتر بھى ہے كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ايسا ثابت نہيں، جيسا كہ اوپر بيان بھى ہو چكا ہے.

    امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    اور مختار يہى ہے كہ داڑھى كو اپنى حالت پر چھوڑ ديا جائے، اور اسے كچھ نہ كہا جائے، اور ا سكا بالكل كوئى بال نہ كاٹا جائے. اھـ
    ديكھيں: تحفۃ الاحوذى ( 8 / 39 ).

    اور جس حديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ:
    اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
    اور ايك مقام پر اللہ رب العزت كا فرمان كچھ اس طرح ہے:
    اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    داڑھى كى حد جيسا كہ اہل لغت نے بيان كيا ہے: وہ چہرے اور دونوں جبڑوں اور رخساروں پر اگے ہوئے بال ہيں.
    يعنى دوسرے معنوں ميں يہ كہ جو بال بھى رخساروں، اور جبڑے كى ہڈي اور تھوڑى پر ہيں وہ داڑھى ميں شامل ہں، اور ان بالوں ميں سے كوئى بال بھى كاٹنا معصيت و نافرمانى ميں شامل ہوتا ہے.

    يہ سب اس كى دليل ہے كہ داڑھى ميں سے كچھ بھى كاٹنا جائز نہيں، ليكن معصيت و نافرمانى كے درجات ہيں، لہذا داڑھى منڈوانا داڑھى كٹوانے سے بڑى معصيت و نافرمانى ہے، كيونكہ يہ كاٹنے سے واضح اور بڑى مخالفت ہے. اھـ.

    واللہ اعلم .
    الشيخ محمد صالح المنجد
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. مقبول احمد سلفی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    973
  2. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مناظر:
    607
  3. محمد عامر یونس
    جوابات:
    1
    مناظر:
    1,002
  4. محمد عامر یونس
    جوابات:
    84
    مناظر:
    6,959
  5. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مناظر:
    882

اس صفحے کو مشتہر کریں