1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پیسہ میرا ایمان

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد تاج, ‏جنوری 23، 2019۔

  1. ‏جنوری 23، 2019 #1
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    پیسہ میرا ایمان

    جس دولت کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کہا آج ہم دن رات اسی دولت کے پیچھے بھاگ رہے ہیںاور اس قدردولت کی حوس کو اپنے اوپر حاوی کیئے ہوئے ہیں کہ ہمیں اس کے علاوہ کچھ اور دکھائی ہی نہیں دیتا۔اسی دولت سے بڑے بڑے گھر بنائے ، بنک بیلنس بنایا، گاڑیاں بنائی ، بڑی بڑی انڈسٹریل ایریا بنائے ، بڑی بڑی عمارتیں بنائی لیکن ان سب کے پیچھے لگ کر خود کو انسان نہ بنا سکے۔ اپنی ضروریات پوری کرنے کےلیے دولت کمانا ، بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ، سر چھپانے کے لیے گھر خریدنا یہ سب کچھ غلط نہ ہے لیکن اس دولت کو کمانے کے چکر میں اتنے آگے نکل جانا کہ آپ انسان کو انسان ہی نہ سمجھیں یہ غلط ہے۔
    ایک انسان بہت دولت مندتھا ۔ ضروریات زندگی کی ہر چیز اس نے اپنے لیے خرید رکھی تھی اور جو چیز اس کے پاس نہ ہوتی تھی وہ اسے باآسانی خرید لیا کرتا تھا۔گھر میں ہر کام کے لیے نوکر تھے ۔ کھانے بنانے والا، کپڑے دھونے اور استری کرنے والا، گھر کی صفائیاں کرنے والا، بچوں کو سنبھالنے والا، گھر کی رکھوالی کے لیے چوکیدار ، گاڑیوں کے لیے ڈرائیور ، گارڈن کے لیے مالی وغیرہ یوں کہہ لیں کہ زندگی گزارنے کی ہر آسائش اس کے پاس موجود تھی۔
    ایک دن گھر کا چوکیدار اس کے پاس آیا کہ سر مجھے پچیس ہزار روپے کی سخت ضرورتہے مجھے کسی کا قرض چُکانا ہے جو کہ مجھے کافی عرصے سے پریشان کر رہا ہے۔یہ سن کر اس کا مالک بولا کہ میں کہاں سے لائوں میں تو خود پریشان ہوں خرچوں کی وجہ سے، جب میرے پاس ہوں گے تو دے دوں گا۔ وہ دن اور آج کا دن اس چوکیدار کو آج تک اس نے نہ پیسے دیئے اور نہ کبھی پوچھا ۔
    ایک دن اس کے گھر میں کام کرنے والی بوڑھی عورت اس کے پاس آئی اور بولی صاحب جی میری بیٹی کی شادی ہے مجھے کچھ پیسے ادھار دے دیں میں آہستہ آہستہ اپنی تنخواہ میں کٹاواتی رہوں گی۔ صاحب جی نے پوچھا کہ اچھا کتنے پیسے چاہیے اس عورت نے جواب دیا کہ ایک لاکھ چاہیے کچھ زیور بنا لوں گی اور کچھ بیٹی کا جہیز بنا لوں گی۔ صاحب جی تھوڑا غصے والے انداز میں بولے کہ میں کہاں سے دوں اتنے پیسے تمہیں میری کون سی لاٹری لگی جو اتنی رقم تمہیں دے دوں جائو اپنا کام کرواور میں دیکھ رہا ہوں کہ آج کل تمہارا کام میں بلکل دھیان نہیں۔ یہ سننا ہی تھا کہ وہ بوڑھی عورت آنکھوں میں آنسو لیئے وہاں سے چلی گئی۔
    ایک مالدار شخص کا ہمسایہ اپنے مالی حالات کی وجہ سے بہت پریشان رہتا تھا ، نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا ، فیس نہ دینے کی وجہ سے بچوں کو اسکول سے نکال دیا گیا، ماں باپ بوڑھے اور بیمارے تھے ان کی دوائیاں لانا مشکل ہو گئی تھیں،آئے دن گھر میں میاں بیوی کے جھگڑے ہوتے تھے جس کا شور اس کا مالدار ہمسایہ ہر روز سن کر ہنستاتھا۔
    ایک فیکٹری کا مالک ہر روز اپنے ورکرز کو ڈانٹتا تھا انہیں گالیاں نکالتا تھا کوئی کسی مجبوری کے تحت چھٹی لینے یا کسی مدد کے لیے آتا تھا تو وہ اسے کام چور،غریب ، چھوٹی ذات والے کمی کمین کہہ کر بھیج دیتا تھا۔ کسی کی چھوٹی سی غلطی پر اسے نوکری سے نکال دیتا تھا۔
    یہاںیہ قصے بتانے کا مقصد کسی انسان کی غیبت یا دل ازاری کرنا نہیں ہے لیکن حقیقت میں ہونے والے ان واقعات سے سبق حاصل کرنا ہے۔دولت شہرت اور عزت یہ سب تو اللہ کی دی ہوئی ہےکب کس کے پاس چلی جائے یہ بس اللہ کی ذات جانتی ہے۔اللہ نے اگر کسی کو عطا کیا ہے تو وہ بھی اس کی آزمائش ہے کہ وہ اپنے سے کمتر کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے،اس کے پاس کوئی بھوکا ، پیاسا اور بے گھر آتا ہےتو اس کے ساتھ کیا برتائو کرتا ہے۔ کوئی ضرورت مند یا قرض خواں اس کے پاس آئے تو اس کے لیے کیا کرتا ہے۔
    ایسی دولت کا کیا فائدہ جو آپ کے بھائی کی ضرورت پوری نہ کر سکے ، ایسی دولت کا کیافائدہ جس سے آپ کا ہمسایہ بھوکا پیاسا سو جائے،ایسی دولت کا کیا کرناجس سے کسی کی ضرورت پوری نہ کی جا سکے، ایسی دولت کا کیا کرنا جس سے آپ کے اپنے ہی آپ سے دور ہو جائیں، ایسی دولت کا کیا کرنا جس سے آپ کے ملازم آپ سے خوش نہ ہوں،ایسی دولت کا کیا کرنا جو انسان کو انسانیت ہی بُھلا دے ۔دولت کے نشے میں اتنے اندھے مت بنو کہ روزِ قیامت یہی تمہارے لیے وبالِ جان بن جائے۔
    افسوس اور ڈر کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ لوگوں نے پیسے کو نعوذباللہ اپنا ایمان بنا لیا ہے، ہر وقت پیسہ پیسہ کرتے ہیں ، پیسے کا روب جھاڑتے ہیں، پیسے کی وجہ سے تکبر کرتے ہیںاورجگہ جگہ پیسے کی نمائش کرتے ہیں ۔ یاد رکھ موت کے وقت تیرے انہی پیسوں سے تیرے لیے قبر کُھدوا کر تجھے دفن کر دیا جائے گا اور تُو اپنے ساتھ کچھ نہ لے جا سکے گا۔

    قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتا ہے !
    أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ﴿١﴾ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ﴿٢﴾ سورة التكاثر
    (مال کی) زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا ،یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔

    زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ ﴿١٤﴾ قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ﴿١٥﴾ سورة آل عمرا ن ۔
    مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزین کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اورسونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے (14) آپ کہہ دیجئے! کیا میں تمہیں اس سے بہت ہی بہتر چیز بتاؤں؟ تقویٰ والوں کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزه بیویاں اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے، سب بندے اللہ تعالیٰ کی نگاه میں ہیں (15)

    حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ،‏عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ بِمَكَّةَ فِي خُطْبَتِهِ يَقُولُ:‏يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: "لَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ أُعْطِيَ وَادِيًا مَلْئًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ ثَانِيًا،‏وَلَوْ أُعْطِيَ ثَانِيًا أَحَبَّ إِلَيْهِ ثَالِثًا،‏وَلَا يَسُدُّ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ،‏إِلَّا التُّرَابُ،‏وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ". صحیح بخاری:حدیث نمبر: 6438
    ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سلیمان بن غسیل نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مکہ مکرمہ میں منبر پر یہ کہتے سنا۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اے لوگو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر انسان کو ایک وادی سونا بھر کے سونا بھر کے دے دیا جائے تو وہ دوسری کا خواہشمند رہے گا اگر دوسری دے دی جائے تو تیسری کا خواہشمند رہے گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ پاک اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں