1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پیپر کرنسی چند اھم سوالات ؟ِ

'کرنسی' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اکتوبر 30، 2013۔

  1. ‏اکتوبر 30، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    پیپر کرنسی چند اھم سوالات ؟ِ
    1381463_651344188256920_350871400_n.jpg
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 30، 2013 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کاغزی نوٹوں کی حقیقت:

    کرنسی نوٹوں پرعموماً یہ تحریر پائی جاتی ھے:

    "حاملِ ھذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا"

    یہاں ھم یہ غلطی کرتے ھیں کہ فقط اس عبارت کو پڑھنا ھی کافی سمجھ لیتے ھیں اور اس سے طرح طرح کے مطالب بھی اخذ کرلیتے ھیں۔ جبکہ حقیقت کچھ اور ھے۔ دراصل اس عبارت "حاملِ ھذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا" کے اوپر بھی کچھ لکھا ھوتا ھے [بینک دولت پاکستان ۔ پانچ سو روپیہ] جو اس عبارت کا لازمی حصہ ھے لیکن ھم غلطی سے اسے الگ تصور کر لیتے ھیں۔ چنانچہ ساری عبارت یوں پڑھی جائے گی:
    "بینک دولت پاکستان پانچ سو روپیہ حاملِ ھذا کو مطالبہ پر اداکرے گا"

    بات در اصل یہ ھے کہ حکومتِ پاکستان صرف ایک، دو اور پانچ روپے کے سکے بنا کر جاری کرتی ھے۔ ان سکوں کے اوپر یہ الفاظ "حکومتِ پاکیستان" یا "اسلامی جمہوریہ پاکیستان" باقاعدہ درج ھوتے ھیں۔ ایک روپے کے سکوں سے پہلے جب ایک روپے کا نوٹ ھوتا تھا تو وہ باقاعدہ وزیرِ خزانہ کے دستخطوں سے حکومت جاری کرتی تھی، جبکہ بڑے نوٹ سٹیٹ بینک اپنی اتھارٹی سے گورنر سٹیٹ بینک کے دستخطوں سے جاری کرتا ھے۔

    یہاں سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ سٹیٹ بینک بھی تو ایک حکومتی ادارہ ھی ھے ، حکومت جاری کرے یا سٹیٹ بینک، بات تو ایک ھی ھے۔ لیکن اس سادہ سی بات کے اندر ایسی پیچیدگیاں پوشیدہ ھیں جن تک عام آدمی کی رسائی ممکن نہیں۔ فری میسنز کے قائم کردہ بینکاری نظام اور اس کے تحت معرضِ وجود میں آنے والی پیپر کرنسی کے اس گورکھ دندے میں ایسے ایسے لفظی دھوکے پائے جاتے ھیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ھے۔ ان پیچیدہ دھوکوں کے فہم تک رسائی کوئی عام آدمی کر ھی نہیں سکتا، نہ ھی انہیں سادہ پیرائے میں سمجھنا اور سمجھانا ممکن ھے۔ سادہ الفاظ میں بس یوں سمجھا جائے کہ سٹیٹ بینک حکومتی ادارہ ھوتے ھوئے بھی براہِ راست ولڈ بینک کے قوانین و ضوابط کے تحت نہ صرف یہ کہ خود فنکشن کرتا ھے بلکہ ملک کے دوسرے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ورلڈ بینک کے رولز ریگولیشنز کے تحت سپروائز بھی کرتا ھے اور یوں ورلڈ بینک اپنے بنائے ھوئے رولز کو سٹیٹ بینک کے ذریعے دنیا کے ھر ملک کے ھر بینک میں مانیٹر کرتا ھے۔ [ہر بینک کی ھر شاخ ھر ماہ، ھر 6 ماہ اور ھر سال کے اختتام پر ورلڈ بینک کے لئے اپنی ایک مالیاتی رپورٹ تیار کرتی ھے جو متعلقہ بینک کے ھیڈ آفس سے گزر کے ورلڈ بینک کو بھیج دی جاتی ھے]

    رھا یہ سوال کہ سٹیٹ بینک مطالبہ پر سونا چاندی یا دیگر اجناس دے گا سراسر دھوکہ اور فریب ھے۔ زیرِ نظر بحث میں نوٹ پر مرقوم عبارت کو دوبارہ ملاحظہ فرمائیے:

    "بینک دولت پاکستان پانچ سو روپیہ حاملِ ھذا کو مطالبہ پر اداکرے گا"

    اس تحریر میں سٹیٹ بینک فقط اس بات کی گارنٹی دے رھا ھے کہ اگر کسی کو ھمارے [سٹیٹ بینک کے] جاری کردہ 10، 20، 50، 100، 500، 1000 اور 5000 کے نوٹوں پر بھروسہ نہیں تو ایسا شخص ھمارے نوٹ ھمیں واپس کر کے حکومت کے جارے کردہ سکے بوریوں میں بھر کر لے جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔بالفاظِ دیگریہ نوٹ لوگوں کو سکوں کا بوجھ اٹھانے سے بچانے کے علاوہ اپنے اندر کسی قسم کی کوئی افادیت نہیں رکھتے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 30، 2013 #3
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    اگر تو یہ تحریر آپ نے لکھی ھے تو پھر اس تحریر کے حوالہ سے معلومات شیئر کی جا سکتی ہیں گر نہیں تو پھر آپ اسلام کا نظریہ زر اور کاغذی کرنسی کی حقیقت کا مطالعہ فرمائیں جو آپ کے لئے یقیناً فائدہ مند ثابت ہو گا۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 30، 2013 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069


    جی بھائی میں اس کو دیکھ چکا ہو
     
  5. ‏ستمبر 15، 2017 #5
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    155
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    کچھ سوالات میرے بھی ہیں اس کرنسی اور پیپر نوٹ کے ضمن میں.
    ١. کیا اسلام میں ٹریڈنگ (تجارت) کے لئے کرنسی، پیپر نوٹ کا کیا حکم ہے؟
    ٢. اگر کرنسی کا کوئی نظام ہے تو اس کرنسی کی قیمت کو رائج کیسے اور کس کی ذمہ داری ہے؟ حکومت کی، تاجر کی یا عوام (خریدار) کی.
    ٣. اسلام میں تجارت کی بنیاد کس چیز پر ہے؟ سونے کی بنیاد پر کرنسی دی جا سکتی ہے؟

    براۓ مہربانی اگر کوئی بھائی اس سلسلے میں کوئی راہنمائی کرسکے. جزاک الله خیر
     
  6. ‏ستمبر 16، 2017 #6
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    یہمطلب بھی کسی زمانے میں تھا۔ بعد میں حکومت نے ایک کے نوٹ یا سکے بڑے نوٹوں کے حساب سے جاری نہیں کیے۔ اس لیے آج کل یہ عبارت فضول اور لغو ہے۔ (تفصیل کے لیے "اسلام اور جدید معیشت و تجارت" دیکھیے۔ نیز "زر کا تحقیقی مطالعہ" از مولانا عصمت اللہ صاحب بھی اس موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے۔)

    بھائی تفصیل سے پوچھئے۔ آپ کے سوالات پوری طرح سمجھ نہیں آئے۔
     
  7. ‏ستمبر 18، 2017 #7
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    155
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    جی اشماریہ بھائی،
    پہلا سوال یہ تھا کہ کیا اسلامی حکم ہمیں کرنسی کے بارے میں ملتا ہے؟ یعنی جیسے کہ کرنسی کسی دھات (زیادہ تر سونا) کے عوض جاری کی جاتی ہے حکومت کی طرف سے. تو کیا یہ اسلامی طور پر جائز اور حلال ہے؟ اگر نہیں تو اسلام خرید و فروخت کا کیا نظام وضح کرتا ہے؟

    میری قابل رحم اردو کے لئے پیشگی معذرت لیکن امید ہے سوال واضح کر دیا ہے؟
    جزاک الله خیرا
     
  8. ‏ستمبر 19، 2017 #8
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    ایک بات تو یہ کہ یہ بات پرانی ہو چکی ہے کہ کرنسی کسی دھات کے عوض جاری ہوتی ہے۔ اب وہ دور گزر گیا۔ البتہ میں اس دور کی اور اب کی، دونوں کی وضاحت شرعی نقطہ نظر سے کر دیتا ہوں۔
    کرنسی جب سونے کے عوض جاری ہوتی تھی تو وہ اس قرض سونے کی دستاویز یا ڈاکومینٹ ہوتا تھا۔ کسی سے قرض لینے کو اسلام نے منع نہیں کیا اور قرض کی لکھائی کا حکم تو قرآن کریم میں سورہ بقرہ کے آخری سے پہلے رکوع میں موجود ہے۔
    اب رہا مسئلہ اس کرنسی کو دوسرے کو دینا تو یہ اس کو فقہ کی اصطلاح میں "حوالہ" کہتے ہیں۔ یعنی میرا حکومت کے اوپر قرض تھا اور میں نے آپ کو کہا کہ آپ وہ قرض وصول کر لیں۔ یہ حوالہ متفقہ طور پر تمام ائمہ کرام کے نزدیک جائز ہے۔

    اب جو کرنسی جاری ہوتی ہے (غالباً 1971 یا 1973 کے بعد سے جب بریٹن وڈ کا عالمی نظام فیل ہوا) اس کی بیک پر کچھ نہیں ہوتا۔ اسے "ثمن عرفی" کہتے ہیں۔ سلف کے زمانے میں ایک طرح کے سکے ہوتے تھے جو سونے چاندی کے نہیں بنے ہوتے تھے اور انہیں فلوس کہا جاتا تھا۔ اس پر بھی علماء کا اتفاق رہا ہے کہ فلوس کے ذریعے خرید و فروخت درست ہے۔ یہ ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے اور کسی نے نکیر بھی نہیں کی۔

    اسلام کا اصل اصول اس حوالے سے یہ ہے کہ کسی چیز کو بھی دے کر دوسری چیز حاصل کی جا سکتی ہے۔ بس سود نہ ہو۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں جہاں سونے چاندی سے خرید و فروخت ہوتی تھی وہیں "بارٹر" (چیز کے بدلے چیز) سسٹم کے ذریعے بھی چیزیں بھی لی اور دی جاتی تھیں تو اسلام تو کسی قسم کی کرنسی کو بھی منع نہیں کرتا۔
     
  9. ‏ستمبر 22، 2017 #9
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    155
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    تو اس کا مطلب ہوا کہ کرنسی (جو کہ آج کل ھم استعمال کرتے ہیں) کے استعمال میں کوئی "حرام" چیز نہیں ہے، (جیسا کے میرے علم میں تھا کہ یہ بھی سود کی ایک قسم ہے، اس چیز (سونا) کو بیچنا جو آپ کے قبضہ میں نہیں) آپ کی تحریر سے کرنسی کا استعمال درست ثابت ہوتا ہے.
    ایک بات کی وضاحت فرما دیجئے کہ جو "فلوس" کا استعمال تھا، تو کیا فلوس کی کوئی اپنی قیمت ہوتی تھی یا وہ بھی سونے یا چاندی کے حوالہ کے طور پر استعمال ہوتے تھے؟
     
  10. ‏ستمبر 22، 2017 #10
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    بعض حضرات کا یہ نظریہ ہے جو آپ نے بیان کیا ہے لیکن یہ نظریہ درست نہیں ہے۔

    فلوس اپنی قیمت رکھتے تھے۔
    علامہ مقریزیؒ نے اغاثۃ الامہ بکشف الغمہ صفحہ 141 پر فلوس کی تفصیل ذکر کی ہے۔ ان کے مطابق سونا یا چاندی چونکہ دینار اور درہموں کی شکل میں ڈھل چکی تھی اور ایک دینار یا درہم کی ایک خاص مقدار تھی جس سے کوئی چھوٹی موٹی چیز لینا ممکن نہیں تھا اس لیے فلوس بنائے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ بادشاہوں نے حقیر چیزوں کی لین دین کے لیے سیسے کے ٹکڑے بنائے جنہیں فلوس کہا جاتا تھا اور یہ فلوس سونے یا چاندی جیسی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
    ان کی اس تفصیل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلوس کو سونے چاندی کے حوالے کے طور پر نہیں بنایا گیا تھا بلکہ ایک الگ کرنسی کے طور پر بنایا گیا تھا جن سے چھوٹی موٹی چیزوں کی لین دین کی جاتی تھی۔ اسے ہم آج کی جدید معاشیات کی اصطلاح میں "باسکٹ آف گڈز" کہتے ہیں جس کے ذریعے کرنسی کی قیمت لگائی جاتی ہے۔

    اسی طرح فقہاء کرام نے مختلف جگہوں پر فلوس کا ذکر کیا ہے تو وہاں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ یہ فلوس لوگوں کے استعمال کی وجہ سے نقدی سمجھے جاتے تھے۔ یعنی سب لوگ انہیں کرنسی سمجھتے تھے تو یہ کرنسی بن گئے تھے۔ اگر یہ کسی زمانے میں سونے چاندی کا حوالہ رہے ہوتے تو فقہاء نہ صرف اس کا ذکر کرتے بلکہ ان کے احکام بھی الگ سے بیان کرتے۔
    مثال کے طور پر ایک فلس کی دو فلس کے بدلے خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں دو مسلک ہیں:

    1. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کا مسلک یہ ہے کہ یہ جائز ہے۔
    2. امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمدؒ اور امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد امام محمدؒ کا مسلک یہ ہے کہ ناجائز ہے۔
    جو لوگ فقہ حنفی سے تعلق رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اگر یہ فلوس سونے یا چاندی کا حوالہ ہوتے تو امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کا فتوی کبھی بھی ایک کی دو کے بدلے خرید و فروخت کے جائز ہونے کا نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ ان کے اصول کے خلاف تھا۔ بلکہ سرے سے فلس کی فلس سے بیع ہی شاید کسی کے نزدیک جائز نہ ہوتی۔
    اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی الگ قیمت تھی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں