1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پیپر کرنسی چند اھم سوالات ؟ِ

'کرنسی' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اکتوبر 30، 2013۔

  1. ‏ستمبر 22، 2017 #11
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    150
    موصول شکریہ جات:
    51
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    اگر فلوس کی کی اپنی قیمت تھی تو پھر ہم ان فلوس کو آج کی کرنسی کی طرح نہیں کہیں گے کیوں کہ آج کی کرنسی کی کوئی اپنی قیمت نہیں اور نہ ہی اس کے پیچھے کوئی سونے یا چاندی کا حوالہ ہے.
     
  2. ‏ستمبر 23، 2017 #12
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    فلوس کی اپنی قیمت اس لیے تھی کہ لوگ اس کو قیمت والا سمجھتے تھے۔
    "أما عندنا فالفلوس الرائجة بمنزلة الأثمان؛ لاصطلاح الناس على كونها ثمنا للأشياء۔۔۔."
    (السرخسی: المبسوط، 14/25، ن: دار المعرفۃ)
    ترجمہ: "ہمارے نزدیک رائج فلوس ثمن کے مرتبے میں ہیں کیوں کہ لوگوں کی ان کو اشیاء کا ثمن ماننے پر اصطلاح قائم ہو چکی ہے۔"

    آج ہم کرنسی کو اسی طرح قیمت والا اور چیزوں کا ثمن یا متبادل سمجھتے ہیں۔ اگر میری جیب میں ایک ہزار کا نوٹ ہے تو خود نوٹ کی تو کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن میں اور پاکستان میں موجود ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس نوٹ کی ایک قیمت ہے اور مجھے اس کے بدلے میں ایک ہزار روپے کے بقدر اشیاء مل جاتی ہیں۔ یہ قیمت اس اعتبار سے ہے اور فلوس کی قیمت بھی اسی لحاظ سے تھی ورنہ وہ تو صرف سیسے یا تانبے کے چند ٹکڑے تھے۔
     
  3. ‏ستمبر 24، 2017 #13
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    150
    موصول شکریہ جات:
    51
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    شکریہ اشماریہ بھائی ، دراصل ایک اور تھریڈ بھی زیر مشاہدہ تھا "اسلامی بینکاری کی حقیقت" جس میں کرنسی پر ہی بات ہو رہی تھی. اور اس تھریڈ کے لحاظ سے کرنسی ایک دھوکہ اور فریب ہے. اسی لئے اس پر بات چل نکلی.
    اب میرا دوسرا سوال.۔۔۔۔"اگر کرنسی کا نظام اسلام قبول کرتا ہے تو اس کرنسی کی قیمت کو رائج کیسے اور کس کی ذمہ داری ہے؟ حکومت کی، تاجر کی یا عوام (خریدار) کی. اور قیمت کا تعین کیسے ہو گا؟ یعنی ١٠٠ روپے کی قدر کی طرح رائج کی جائے گی؟"

    وجہ تدوین:
    بہتر ہو گا اگر اس تھریڈ میں شامل لوگوں کو یہاں ٹیگ کر لوں.
    @خضر حیات
    @یوسف ثانی
     
  4. ‏ستمبر 24، 2017 #14
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    بلا شبہ پیپر کرنسی بہت بڑا دھوکہ اور فریب ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا فریب ہے جسے عالمی سطح پر تمام حکومتوں نے "قانونی" قرار دے رکھا ہے ۔ بلکہ انہی عالمی طاقتوں نے یہ پابندی بھی عائد کر رکھی ہے کہ کوئی ملک سونے اور چاندی کے حقیقی سکے جاری نہیں کرسکتا۔ ایسے میں افراد تو درکنار مسلم ریاستیں بھی اس عالمی جبریہ قانون کو ماننے پر مجبور ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ان عالمی طاقتوں نے اپنی مرضی کی سرحدیں بنا کر کئی سو ممالک بنا کر ہر انسان کو ان سرحدوں کے اندر محصور کر دیا ہے۔ اب ہم مسلم ممالک چاہیں یا نہ چاہیں ان سرحدوں کو ماننے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح پیپر کرنسی کو "قبول" کئے بغیر آج کوئی ملک یا انسان اپنے معمولات زندگی برقرار ہی نہیں رکھ سکتا۔
     
  5. ‏ستمبر 24، 2017 #15
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    پیپر کرنسی کی "قیمت" کرنسی چھاپنے والا ادارہ یعنی حکومت یا حکومتی بنک ہی مقرر کرتا ہے اور کرسکتا ہے۔ عوام یا تاجر برادری ایسا کیسے کرسکتی ہے۔ البتہ افراط زر، مہنگائی، بین الاقوامی منڈی میں کسی کرنسی کی مانگ میں کمی بیشی کے سبب ایک کرنسی کی دوسرے کرنسی میں تبادلہ کی شرح کی ویلیو کا تعین اوپن مارکیٹ کے حالات سے ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا
     
  6. ‏ستمبر 24، 2017 #16
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    ہم فلوس کے بارے میں یہ جانتے ہی ہیں کہ انہیں اس لیے کرنسی سمجھا جاتا تھا کہ ان پر لوگوں کا تعامل ہو گیا تھا اور لوگوں نے انہیں قبول کر لیا تھا۔ اسی طرح لوگوں نے ان کی ایک قیمت سمجھنا شروع کر دی تھی۔
    پیپر کرنسی کی قیمت بھی عوام متعین کرتے ہیں۔ یہ بات عجیب لگتی ہے نا؟ میں سمجھاتا ہوں۔
    حکومت ایک نوٹ جاری کرتی ہے۔ اس پر لکھا ہوتا ہے 100 روپے۔ یہ اس سو روپے کی "فیس ویلیو" کہلاتی ہے۔
    آپ کو معلوم ہے کہ کئی دن سے ٹماٹر 100 روپے کلو مل رہے ہیں۔ (مثلاً)
    آپ ٹماٹر والے کے پاس جاتے ہیں اور اسے 100 روپے دے کر ایک کلو ٹماٹر لینا چاہتے ہیں۔ ٹماٹر والا اس پر راضی نہیں ہے۔ وہ اس 100 روپے کے نوٹ کی "فیس ویلیو" تو نہیں بدل سکتا نہ ہی اسے لینے سے انکار کر سکتا ہے لیکن وہ ایک اور کام کر سکتا ہے۔
    وہ کہتا ہے میں ٹماٹر 125 روپے کلو دوں گا۔ آپ دوسرے، تیسرے، چوتھے ٹماٹر والے کے پاس جاتے ہیں۔ سب 125 روپے سے کم پر راضی نہیں ہوتے۔ اب آپ کو دینے ہیں 100 روپے اور ساتھ میں 25 روپے۔
    یعنی حکومت نے جو نوٹ جاری کیا ہے اور اس پر لکھا ہے 100 روپے اس کی حیثیت مارکیٹ میں 75 روپے کی ہے۔ اسے کہتے ہیں "مارکیٹ ویلیو"۔
    عوام "فیس ویلیو" کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ وہ اس کے مقابلے میں "مارکیٹ ویلیو" مقرر کرتی ہے۔ اب کسی نے نوٹ کو پکا کر کھانا تو ہے نہیں۔ اس پر 100 لکھا ہو یا 1000، اسے کیا فرق پڑتا ہے اگر اسے مارکیٹ میں اس کے مقابلے کی چیز نہ ملے؟ اگر 100 روپے میں 75 روپے کی چیز ملے تو اس پر 100 روپے لکھے ہونے کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    اس لیے اصل قیمت "مارکیٹ ویلیو" ہوتی ہے اور یہ "مارکیٹ ویلیو" عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ان کے استعمال سے مقرر ہوتی ہے۔ اسی "مارکیٹ ویلیو" پر معاشیات کا مشہور قانون "طلب و رسد" اثر کرتا ہے۔

    آج کل ایک اور کرنسی رواج پکڑ رہی ہے جسے ورچوئل کرنسی کہتے ہیں جیسے "بٹ کوئین"۔ یہ الیکٹرانک کرنسی ہے جو کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتی ہے۔ اس نے عالمی طاقتوں کی ساری اجارہ داری ختم کر دی ہے۔ یہ پیپر کرنسی نہیں ہے نہ ہی اسے کوئی حکومت جاری کر تی ہے لیکن اسے کوئی حکومت نہیں روک سکتی۔ یہ بہت تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور دنیا بھر میں کئی اسٹور اس میں پیسوں کی ادائیگی کو قبول کر رہے ہیں۔
    ہر چیز کا حل ہوتا ہے، بس طریقہ آنا چاہیے۔
     
  7. ‏ستمبر 24، 2017 #17
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    یہ جو کہا جاتا ہے کہ پیپر کرنسی کو ختم کرکے سونے چاندی کو دوبارہ رواج دیا جائے، یہ ایک بہت عمدہ خیال ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ کیا یہ ممکن بھی ہے؟
    1۔ سونا اور چاندی دونوں نایاب دھاتیں ہیں۔ ان کی قیمت ظاہر ہے زیادہ ہوگی۔ تو کم قیمت کی چیزوں کے لیے کیا چیز استعمال کی جائے گی؟ ماضی میں لوگوں نے فلوس استعمال کیے تھے۔ اگر ہم دوبارہ وہی استعمال کرتے ہیں تو پھر کرنسی نوٹ اچھے نہیں ہیں؟
    2۔ پورے ملک کی کرنسی کو سونے اور چاندی سے بدلنے کے لیے کوئی بھی ملک اتنا سونا کیسے خریدے گا؟ ظاہر ہے مفت میں تو آئے گا نہیں اور اتنا سونا خریدنے کے لیے اسی قدر زر مبادلہ اور چیزیں چاہئیں۔ یہاں خسارہ پورا نہیں ہوتا تو اتنا بڑا اضافی خرچہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
    3۔ اس سونے کو ملک سے باہر جانے سے روکنے کے لیے کیا کیا جائے گا؟ علامہ مقریزیؒ نے لکھا ہے کہ مصر کا سونا فرانسیسی اپنے ملک میں لے گئے تھے۔ یہی یہاں بھی ہوگا۔ اگر لوگوں کو سونا کرنسی کی شکل میں باہر لے جانے سے بالکل روکیں گے تو وہ اس کی شکل تبدیل کر کے لے جائیں گے۔ اگر بالکل باہر لے جانے پر پابندی لگے گی تو دوسرے ملکوں میں جانے کے لیے کیا استعمال کیا جائے گا؟ ان کی کرنسی کیسے خریدیں گے؟
    اور بھی بہت سارے عملی مسائل ہیں سونے کی لین دین میں۔ کرنسی نوٹ انہی مسائل کی وجہ سے آہستہ آہستہ وجود میں آئے تھے۔ ہم واپسی انہی مسائل میں کریں گے تو کیا فائدہ ہوگا؟
     
  8. ‏ستمبر 24، 2017 #18
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    "بٹ کوائن
    " بٹ کوائن" تازہ ترین فراڈ ہے۔ یہ جس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی قیمت جس تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے خریداروں کو ایک دن اچانک ہی اتنا ہی بڑا نقصان ہوگا
    واللہ اعلم
     
  9. ‏ستمبر 24، 2017 #19
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    جی ہاں یہ ممکن ہے۔ لیکن اس سے امریکی اور یہودی سامراج سمیت دنیا کی بڑی بڑی جعلی معیشتوں کا بیڑا غرق ہو جائے گا ۔ ان کے فراڈ کی قلعی کھل جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی قوتوں نے دنیا بھر کے ممالک پر پابندی لگائی ہوئی ہے کہ وہ سونے اور چاندی کے حقیقی سکے جاری نہیں کریں گے۔ شنید ہے کہ لیبیا نے اس جانب خاصی پیشرفت کی تھی۔ اسی لئے وہاں کی حکومت تباہ کی گئی۔
    دھاتیں صرف سونا چاندی نہیں ہیں۔ سستے دھات بھی بہت سے ہیں جن سے حقیقی چھوٹی مالیت کے سکے ڈھا لے جاسکتے ہیں۔ ان حقیقی سکوں کی موجودگی اور چلن سے افراط زر کا مسئلہ کبھی پیدا نہیں ہوگا۔ اور مہنگائی اس تیزی سے نہیں بڑھے گی جیسا کہ پیپر کرنسی کے دور میں بڑھی ہے۔ پیپر کرنسی کا اصل مسئلہ جعلسازی، فراڈ ، افراط زر، مہنگائی ہے۔ جب یہ کنٹرول میں آجائیں گے تو بقیہ چھوٹے موٹے مسائل بھی حل کئے جاسکتے ہیں
     
  10. ‏ستمبر 24، 2017 #20
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    کہنا تو سب کچھ بہت آسان ہے لیکن۔۔۔ کسی جانب کوئی ترجیح کی وجہ موجود نہیں ہے۔
    جو بھی ہے یہ ایک ایسا راستہ تو ہے جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے جنوں کی دسترس سے محفوظ ہے۔


    سستی دھاتوں کی قیمت کون مقرر کرے گا؟ ان میں جعل سازی اور افراط زر کرنسی نوٹوں سے بھی زیادہ ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر ہم تانبے کے سکے بنانے کی بات کرتے ہیں تو جس کو جہاں تانبا ملے گا وہ اس کا سکہ بنا لے گا۔ لوگ سیسے اور لوہے کو بھی رنگ کر کے تانبے کی طرح کے سکے بنانا شروع کر دیں گے۔ اس کا سد باب کیا ہوگا؟ نوٹ کو کم از کم چیک تو کیا جا سکتا ہے لیکن انہیں چیک کیسے کیا جائے گا؟ نوٹ کو تو جعلی بنانا مشکل کام ہے لیکن سکہ تو کوئی بھی لوہار ڈھال سکتا ہے۔ اتنے زیادہ سکوں سے جو افراط زر ہوگا اس کا کیا حل ہوگا؟
    میں کرنسی نوٹوں کا کوئی حامی نہیں ہوں، انہیں فراڈ سے بھی اعلی درجے کی کوئی چیز سمجھتا ہوں جس کے ذریعے پوری دنیا کو اپنا غلام بنا لیا گیا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ اس کا جو حل ہو وہ بھی قابل عمل ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ حل زیادہ نقصان دہ ہو جائے۔
    سونے چاندی کے سکوں سے امریکی اور یہودی سامراجوں کا بیڑہ غرق ہونے کا جذبہ قابل قدر اور خیال دل خوش کن ہے۔ لیکن حقیقت کی دنیا کے جو مسائل ہیں انہیں بھی تو دیکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارا بیڑہ ان سے بھی پہلے غرق ہو جائے اور وہ اپنے نوٹوں پر خوش رہیں۔
     
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں