1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

چالیس دن سے بال وناخن نہ کاٹنے والا اگر قربانی دے تو کیاکرے؟

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏ستمبر 09، 2016۔

  1. ‏ستمبر 09، 2016 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,246
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    ڈاکٹرعبدالخالق صاحب کا سوال عشرہ ذی الحجہ میں ان لوگوں کا بال کاٹنا جن کے چالیس دن پورے ہوگئے ہیں کیا حکم ہے ؟
    قربانی کرنے والوں کے لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد اپنا بال وناخن نہ کاٹے جیساکہ آپ ﷺ نے فرمایا: من كان لهُ ذبحٌ يذبحُهُ ، فإذا أَهَلَّ هلالُ ذي الحجةِ ، فلا يأخذَنَّ من شعرِهِ ولا من أظفارِهِ شيئًا ، حتى يُضحِّي(صحيح مسلم:1977)
    ترجمہ: جس شخص کے پاس ذبح کرنے کے لیے جانور موجود ہواور وہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے سے لے کر قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹے۔
    لہذا قربانی کرنے والا عشرہ ذی الحجہ میں قربانی ہونے سے پہلے اپنا بال اور ناخن نہ کاٹے ۔ جس نے چالیس دن سے غیرضروری بال اور ناخن نہ کاٹے تھے وہ ایک قسم کا لاپرواہ آدمی ہے، اسے چاہئے تھا کہ وہ مناسب وقت پہ بال وناخن تراش لے اب اگر عشرہ آگیا ہے تو اسے پابندی کرنا ہے ۔ اگر بال و ناخن تکلیف کی حد تک بڑے ہوگئے ہیں تو کاٹ لے اور اللہ تعالی سے معافی طلب کرے ۔


    واللہ اعلم

    کتبہ
    مقبول احمد سلفی

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں