1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کی نماز پڑھو

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏اگست 27، 2013۔

  1. ‏اگست 27، 2013 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کی نماز پڑھو
    السلام علیکم​
    یہاں کچھ صاحب علم حضرات کی طرف سے معلومات فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہوں مطالعہ کے لئے نہ کہ مقابلہ کے لئے، جس طرح بنی و انسان کی اشکال ایسی جیسی نہیں اسی طرح سوچ کا عمل بھی سب کے مختلف ھے جس لئے کسی بھی مسئلہ پر اگر کچھ اتفاق کرتے ہیں کچھ اعتراض بھی کرتے ہیں اس لئے اگر جواب دینے پر معلومات نہیں یا کسی بھی وجہ سے طول پکڑنے کا خدشہ ہو تو خاموش رہنا ہی بہتر ھے نہ کہ بےجا کی بحث میں الجھ کر ایک دوسرے کی عزت کا تماشا بنانا، اگر کچھ جانتے ہیں تو مثبت طریقہ سے اپنی رائے پیش کرنی چاہئے اس لئے اس معلوماتی دھاگہ اور مراسلہ کے بعد اگر کسی کے پاس مزید مفید معلومات ہوں تو اسے بھی شیئر کیا جا سکتا ھے۔​
    ======​
    چاند
    شائع کنندہ مکتبہ حجاز سہارن پور

    خطبہ مسنونہ کے بعد:

    (یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْأَہِلَّةِ قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ، وَلَیْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِہَا وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی، وَأْتُوْا الْبُیُوْتَ مِنْ أَبْوَابِہَا، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ ُتفْلِحُوْنَ)
    (اے حبیب!) لوگ آپ سے نئے چاندوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرما دیں: یہ لوگوں کے لئے اور ماہِ حج (کے تعیّن) کے لئے وقت کی علامتیں ہیں، اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم (حالتِ احرام میں) گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آؤ بلکہ نیکی تو (ایسی الٹی رسموں کی بجائے) پرہیزگاری اختیار کرنا ہے، اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو، اور ﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ

    بزرگو اور بھائیو: ابھی ہمارے قاری صاحب نے جو تلاوت کی ہے اس میں یہ آیت بھی پڑھی ہے اس آیت میں چاند کا مسئلہ ہے اور مغربی دنیا میں یہ مسئلہ جھگڑے کا باعث بنا ہوا ہے، پس کیوں نہ آج اسی آیت پاک کی تفسیر سمجھ لی جائے

    شا ن نزول
    آیت کریم کا شان نزول یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سورج ہمیشہ ایک حال پر رہتا ہے مگر چاند ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتا، ایسا کیوں ہے؟ مہینہ کی تین راتوں میں یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ میں تو ماہ کامل ہوتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے ، اور گھٹتے گھٹتے برائے نام رہ جاتا ہے، پھر بالکل غائب ہو جاتا ہے ، پھر کھجور کی ٹہنی کی طرح دوبارہ نمودار ہوتا ہے، جو مہینہ کی پہلی تاریخ کہلاتی ہے ، پہلی تاریخ کے چاند کو عربی میں 'ہلال ' کہتے ہیں، اردو میں بھی یہی لفظ مستعمل ہے، پھر پہلا چاند بڑھتا ہے اور بڑھتے بڑھتے ماہ کامل بن جاتا ہے، ایسا کیوں ہے؟ سورج کی طرح چاند ہمیشہ ایک حالت پر کیوں نہیں رہتا؟

    اس سوال کا ایک پس منظر ہے، صحابہ رضی اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات اس لئے پوچھی تھی کہ عرب کا ملک گرم ملک ہے، جیسے یہاں (یورپ و امریکہ میں ) آٹھ مہینے سردی رہتی ہے عرب میں آٹھ مہینے گرمی رہتی ہے اور عرب میں پہاڑ بہت ہیں، وہاں کچھ پیدا نہیں ہوتا ، مدینہ اور طائف میں تو تھوڑا بہت پیدا ہو جاتا ہے مگر ملک کی ضرورت کو پورا نہیں کرتا، اس لئے عربوں کی معیشیت کا مدار اسفار پر تھا ، سال میں ایک مرتبہ شام جاتے تھے اور ایک مرتبہ اونٹوں پر سفر ہوا کرتا تھا اور اونٹ پورے دن نہیں چل سکتے ، زمین گرم ہو جاتی ہے، زیادہ سے زیادہ نو بجے تک چل سکتے ہیں ، پھر سفر روک دینا پڑتا ہے ، پھر شام کو عصر کے بعد جب سمندر کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور موسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو سفر شروع کرتے ہیں ، دن میں سفر نہیں کر سکتے، اس لئے دن کی تلافی رات میں کرتے تھے اور چاند جیسا تیرہ چودہ اور پندرہ میں کامل ہوتا ہے اگر ایسا ہی پورا مہینہ رہے تو سفر پر لطف ہو جائے ، یہ پس منظر تھا جس کی وجہ سے سوال کیا تھا کہ جس طرح سورج ایک حال پر رہتا ہے چاند ایک حال پر کیوں نہیں رہتا ؟ پس آیت پاک نازل ہوئی کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں ہلالوں کے بارے میں؟ ہلال نہیں فرمایا بلکہ ہلالوں فرمایا ، جمع لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ سا ری دنیا کا ہلال ایک نہیں ہوتا، اگر ساری دنیا کا ہلا ل ایک ہوتا تو مفرد ہلال لایا جاتا، أہلہ جمع لانے کی ضرورت نہیں تھی، بہرحال لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مہینہ کے شروع کے چاندوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ، آپ ان کو جواب دیں : مہینہ کے شروع کے چاند لوگوں کے لئے اوقات مقررکرتے ہیں اور حج کے لئے وقت مقرر کرتے ہیں ، یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ حج کو الگ کیوں کیا؟ موا قیت للناس کافی تھا، حج کو الگ کرنے کی ضرورت کیا پیش آئی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مہینہ کے نئے چاند ساری دنیا کے لئے الگ الگ تاریخیں مقرر کرتے ہیں۔

    بعض احکام سورج سے متعلق ہیں اور بعض چاند سے

    کیلنڈر دو بنتے ہیں ، ایک سورج کا اور ایک چاند کا،

    سورج کا کیلنڈر ہر آدمی نہیں بنا سکتا جو فلکیات کا ماہر ہے و ہ ہی بنا سکتا ہے، اور چاند کا کیلنڈر ہر شخص بنا سکتا ہے، چاند نظر آئے تو اگلا مہینہ شروع کر دو، ورنہ تیس دن مکمل کر لو، اس کے لئے کسی حساب کی ضرورت نہیں اور سورج کا کیلنڈر بنانے کے لئے حساب کا جاننا شرط ہے۔

    پھر شریعت نے کچھ احکام سورج سے متعلق کئے ہیں اور کچھ چاند سے، وہ احکام جن کو سال میں دائر نہیں کرنا ان کو سورج سے متعلق کیا ہے،

    اور جن احکام کو سال میں دائر کرنا ہے ان کو چاند سے متعلق کیا ہے،

    جیسے رمضان شریف کو سال میں دائر کرنا ہے، اگر ہمیشہ رمضان گرمی میں آئے گا تو لوگ پریشان ہونگے اور ہمیشہ سردی میں آئے گا تو کچھ مشقت نہ ہو گی ، پھر زمین کا کرہ گول ہے، شمال کی سردی گرمی کا اعتبار ہو گا یا جنوب کی؟ ایک جانب والا ہمیشہ مزہ میں رہے گا دوسری جانب والا پریشان! پس رمضان پورے سال میں گھومے اس لئے اس کو چاند سے متعلق کیا تاکہ کبھی اور کہیں رمضان سردیوں میں آئے اور کبھی اور کہیں گرمیوں میں، اور نمازیں سال بھر پڑھنی ہے، گر می اور سردی کا اس پر اثر نہیں پڑتا اس لئے ان کو سورج سے متعلق کیا۔

    پھر جو احکام سورج سے متعلق ہیں ان میں بھی حساب نہیں ہے، آنکھ سے دیکھو اور عمل کرو اور جو احکام چاند سے متعلق ہیں ان میں بھی حساب نہیں ہے آنکھ سے دیکھو اور عمل کرو کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اتنی بڑی ہے کہ اگر درختوں کے پتے گنے جا سکتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت گنی جا سکتی ہے، اگر ریت کے ذرے گنے جا سکتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت گنی جا سکتی ہے، اگر آسمان کے تارے گنے جا سکتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت گنی جا سکتی ہے، اور سب لوگ شہروں اور دیہاتوں میں نہیں رہتے ، کچھ لوگ پہاڑوں میں رہتے ہیں، کچھ جنگلوں میں، پس اگر ان کو سورج اور چاند کا حساب سیکھنے کے لئے کہا جائے گا تو یہ بات امت کے لئے نا قابل عمل ہو گی، اس لئے حکم دیا کہ آنکھ سے دیکھو اور عمل کرو چاہے وہ حکم سورج سے تعلق رکھتا ہو یا چاند سے۔

    ہندی مہینے یکساں کیوں ہوتے ہیں؟
    ہندؤوں کا کیلنڈر بھی قمری ہے مگر وہ موسم فکس کرنے کے لئے ہر تین سال میں ایک مہینہ بڑھا دیتے ہیں، ہر تیسرے سال: سال کے تیرہ مہینے کر دیتے ہیں اور اس طرح ان کے قمری مہینے ایک سیزن میں آتے ہیں ، جیٹھ ہمیشہ گرمیوں میں آتا ہے، اسلام سے پہلے عرب بھی مہینوں کے ساتھ یہی عمل کرتے تھے، وہ بھی ہر تیسرے سال کبیسہ کے نام سے ایک مہینہ بڑھاتے تھے، چنانچہ رمضان کا جو رمضان نام پڑا ہے وہ اس وجہ سے پڑا ہے کہ رمضان کے معنی ہیں : وہ زمانہ جس میں پتھر نہایت گرم ہو جاتے ہیں، چونکہ رمضان ہمیشہ نہایت گرمی میں آتا تھا اس لئے اس مہینہ کو رمضان کہنے لگے، قرآن کی آیت ( اِنَّماَ النَّسِیْئُ زِیَادَة فِیْ الْکُفْرِ) میں اسی کا بیان ہے، اسلام نے اس سسٹم کو ختم کر دیا تو مہینے سال میں گھومنے لگے۔

    نمازوں کے اوقات میں جنتری اور گھڑی کا اعتبار نہیں
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نمازوں کے اوقات کیلئے جنتریاں بنائی جاتی ہیں اور ان کے حساب سے اذانیں دی جاتی ہیں اور نمازیں پڑھی جاتی ہیں، پس جب نمازوں میں حساب کا اعتبار کیا جاتا ہے تو رمضان کے چاند میں حساب کا اعتبار کیوں نہیں کیا جا تا ؟

    اس کا جواب یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات میں جنتریوں کا اعتبار نہیں،

    مشرق میں دیکھو! پو پھٹے اور لال دھاری نمودار ہو تو صبح صادق ہو گئی، سحری بند کرو اور فجر کی نماز پڑھو، گھڑی میں چاہے کچھ بھی بجا ہو اس کا اعتبار نہیں،

    اسی طرح سورج نکلا اس کا اوپر کا کنارہ نمودار ہوا تو سورج نکل آیا اب فجر کی نماز کا وقت ختم ہوگیا،

    پھر جب سورج بلند ہوا اور ہر چیز کا سایہ گھٹتا ہوا درجہ صفت پر آ گیا یعنی سورج سر پر آ گیا تو ہر نماز ممنوع ہو گئی،

    پھر جب سورج ڈھلا اور سایہ مشرق کی طرف بڑھنا شروع ہوا تو زوال ہو گیا اب ظہر پڑھو،

    پھر اصلی سایہ چھوڑ کر جب ہر چیز کا سایہ اس کے مانند ہو گیا تو ائمہ ثلاثہ اور صاحبین کے نزدیک ظہر کا وقت ختم ہو گیا اور امام اعظم کے نزدیک ابھی ظہر کا وقت باقی ہے،

    ان کے نزدیک اصلی سایہ چھوڑ کر ہر چیز کا سایہ دوگنا ہو جائے تب ظہر کا وقت ختم ہوتا ہے، اور جب بھی ظہر کا وقت ختم ہو عصر کا وقت شروع ہوجا ئے گا،

    اور جب سورج کا اوپر کا کنارہ چھپ گیا تو مغرب کا وقت ہو گیا، پھر سو رج ڈوبنے کے بعد جب تک مطلع پر روشنی رہے مغرب کا وقت ہے،

    اور جب بالکل اند ھیرا چھا جائے تو عشاء کا وقت شروع ہو گیا صبح صادق تک عشاء پڑھ سکتے ہیں،

    غرض کسی حساب کی ضرورت نہیں اور کوئی گھڑی نہیں چاہئے، آنکھوں سے دیکھو اور پانچوں نمازیں پڑھو، نمازوں میں جنتریوں کا حساب ضروری نہیں، جنتریاں لوگوں نے سہولت کے لئے بنائی ہیں،

    لیکن فرض کرو : جنتری کہتی ہے ابھی پانچ منٹ کے بعد سورج طلوع ہو گا اور ہم اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں کہ سورج نکل آیا ہے، تو اعتبار دیکھنے کا ہو گا، جنتری اور گھڑی کا نہیں ہو گا،

    چاند کا بھی یہی معاملہ ہے، اعتبار آنکھ سے دیکھنے کا ہے،

    اگرچہ قمری کیلنڈر بنتے ہیں، اور سال میں دس مہینے اس کے حساب سے چند نظر آتا ہے، مگر سال میں دو ماہ اس کیلنڈر کے مطابق چاند نظر نہیں آتا، اس لئے اعتبار حساب کا نہیں، بلکہ آنکھ سے دیکھنے کا ہے ۔

    ترقی یافتہ دور میں حساب پر مدار رکھنے میں حرج کیا ہے؟

    برطانیہ میں اور اس ملک (امریکہ) میں کچھ مسلمان جو ماہرین حساب ہیں کہتے کہ چاند کو آنکھ سے دیکھنے کا زمانہ چودہ سو سال پہلے تھا جبکہ اونٹوں اور پتھروں کا زمانہ تھا ،اب ہم تر قی یافتہ ہیں ، لکھنا پڑھنا جانتے ہیں ، حساب کتاب جانتے ہیں ، ہم حساب سے بتا سکتے ہیں کہ چاند کب نکلے گا اور کب ڈوبے گا ؟ اسی طرح ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ نیا چاند کب پیدا ہو گا اور کب آنکھ سے دیکھنے کے قابل ہو گا، میں ان بھائیوں سے پوچھتا ہوں : بتاؤ حساب کتاب جاننے والے کتنے مسلمان ہیں؟ پوری دنیا میں ایک فیصد بھی نہیں ہیں ، پس شریعت احکام کا مدار ایسی چیز پر کیسے رکھے گی جس کے جاننے والے ایک فیصد بھی نہیں ،

    چنانچہ حدیث میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

    نحن أمة أمیة لا نکتب ولا نحسب :
    ہم ناخواندہ امت ہیں یعنی امت کی اکثریت ناخواندہ ہے ، اور ناخوا ندہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اردو فارسی انگریزی نہیں پڑھ سکتے، بلکہ ناخواندہ کا مطلب ہے :

    لا نکتب ولانحسب: ہم لکھتے اور گنتے نہیں،

    چنانچہ آج بھی امت کی اکثریت حساب کتاب نہیں جانتی ایسی صورت میں شریعت اکثریت کا لحاظ کر کے احکام مقرر کرتی ہے کچھ خاص بندوں کا لحاظ کر کے احکام مقرر نہیں کرتی ، پالیمنٹ جو قوانین بناتی ہے ان میں بھی اکثریت کا لحاظ کرتی ہے بعض کا لحاظ نہیں کرتی ، پس ماہرین حساب کا یہ کہنا کہ دنیا اب بہت ترقی یافتہ ہو گئی ہے ، اب ہم حساب کے ماہر ہو گئے ہیں ان کا یہ کہنا صحیح ہے ، بے شک وہ ماہر ہو گئے ہیں ، ہم ان کی مہارت کا انکار نہیں کرتے لیکن
    شریعت نے اکثریت کا لحاظ کر کے چاند کا مدار حساب پر نہیں رکھا ، بلکہ آنکھوں کی رویت پر مدار رکھا ہے۔

    بہرحال کوئی ماہر ہے یا نہیں؟ اس قصہ کو چھوڑو، اگر ماہر ہے بھی تو احکام کا مدار حساب پر نہیں، سورج سے متعلق احکام کا بھی اور چاند سے متعلق احکام کا بھی، دونوں کا مدار آنکھ سے دیکھنے پر ہے کیونکہ امت کی اکثریت حساب کتاب نہیں جانتی اور شریعت احکام کے نازل کرنے میں اکثریت کا لحاظ کرتی ہے ۔

    آیت کریمہ پر ایک نظر پھر ڈالو اللہ پاک فرماتے ہیں :

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیں : چاند گھٹتا بڑھتا اس لئے ہے کہ لوگوں کے لئے اوقات مقرر کرے اور حج کے لئے وقت مقرر کرے، اس میں صاف اشارہ ہے کہ مدار آنکھ سے دیکھنے پر ہے اور آنکھ سے دیکھنے کے اعتبار سے مہینہ کا پہلا چاند پوری دنیا میں ایک نہیں ہو سکتا پس لا محالہ چاند کا مہینہ پوری دنیا میں الگ الگ شروع ہو گا ، جہاں چاند نظر آئے گا وہاں مہینہ شروع ہو گا،

    صرف حج ایک ایسی عبا دت ہے جس میں ساری دنیا کے مسلمان اپنی تاریخیں چھوڑ کر مکہ کی قمری تاریخ کے اعتبار کریں گے اور ایک معین دن میں حج کریں گے۔

    آج سے تقریبا چالیس سال پہلے جبکہ میں راندیر میں مدرس تھا ، مکہ کے حکومتی ادارے رابطہ عالم اسلامی نے اجلاس بلایا ، دنیا کے بڑے بڑے علماء اس کے رکن ہیں ، ہندوستان سے اس وقت رکن حضرت مولانا محمد منظور نعمانی صاحب رحمہ اللہ اور حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں صاحب ندوی رحمہ اللہ تھے، دونوں حضرات اجلاس میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے، اس کانفرنس کے ایجنڈے میں توحید اہلہ کا مسئلہ بھی تھا، توحید کے معنی ہیں : ایک ہونا ، اور اہلہ : ہلال کی جمع ہے، یعنی دنیا میں چاند کی الگ الگ تاریخیں شروع ہوتی ہیں، یہ نظام ختم کیا جائے اور پوری دنیا میں چاند کی تاریخیں ایک ساتھ شروع ہوں ایسا نظام بنایا جائے۔ توحید اہلہ کا مطلب یہی ہے، تمام ممبران نے حتی کہ سعودیہ کے ممبران نے بھی اس کو نامنظور کیا کہ یہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے،

    قرآن کی تو یہی آیت ہے اور حدیث میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

    صوموا لرؤیتہ وأفطروا لرؤیتہ :
    جب چا ند نظر آئے رمضان کے روزے شروع کرو اور چاند نظر آئے تو رمضان کے روزے ختم کرو،

    غرض تمام ممبران نے اس تجویز کو رد کر دیا کہ پو ری دنیا کا چاند ایک نہیں ہو سکتا۔
    پوری دنیا کے لئے ایک چاند مقرر کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ چاند کو آنکھ سے دیکھنے کا مسئلہ ختم کر دیا جا ئے اور قمر جدید یعنی نیو مون کا اعتبار کر لیا جائے، اس صورت میں ساری دنیا کا چاند ایک ہو جا ئے گا ۔

    قمر جدید (نیا چاند) کیا ہے؟

    سورج مشرق سے نکل کر مغرب میں ڈوبتا ہے، چاند بھی اسی طرح مشرق سے نکل کر مغرب میں ڈوبتا ہے، یہ چاند کی روز مرہ کی چال ہے

    البتہ چاند کی ایک دوسری چال بھی ہے، وہ مغرب سے مشرق کی طرف بھی چلتا ہے، دو متضاد چالیں ایک ساتھ چلتا ہے
    اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، جیسے ہم فٹ بال کو لات مارتے ہیں تو گیند سامنے کی طرف بھی جاتی ہے اور گول بھی گھومتی ہے،
    اسی طرح چاند چوبیس گھنٹے میں ایک راؤنڈ لیتا ہے ،
    اور دوسری چال مغرب سے مشرق کی طرف چوبیس گھنٹوں میں٢٣ ڈگری چلتا ہے اور انتیس دن میں ایک راؤنڈ پورا کرتا ہے۔
    اور جیسے آدھی زمین روشن رہتی ہے اور آدھی پر اندھیرا چھایا رہتا ہے ، یہاں رات ہے اور چین میں سورج نکلا ہوا ہے،

    یہی حال چاند کا بھی ہے، اس کا آدھا حصہ جو سورج کی طرف ہے وہ روشن ہوتا ہے اور دوسرا آدھا جو سورج کے مقابل نہیں وہ تاریک ہوتا ہے، پس آدھا روشن اور آدھا غیر روشن ہونے میں چاند اور زمین یکساں ہیں، اور جب ہم چاند کو زمین سے دیکھیں اور اس کا روشن حصہ نظر نہ آئے تو اس کا نام مُحاق ہے،

    پھر جب ہمارے دیکھنے کا زاویہ بدلتا ہے تو چاند کے روشن حصہ کا ایک کنارہ ہمیں نظر آتا ہے، یہ ہلال ہے،

    پھر جوں جوں زاویہ بدلتا رہتا ہے ہر دن کا چاند بڑا ہوتا رہتا ہے ، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ چاند زمین اور سورج کے بیچ میں آ جاتا ہے ، پس چاند کا آدھا روشن حصہ دوسری طرف ہو جاتا ہے اور ہماری طرف تاریک والا حصہ ہو جاتا ہے ، یہ زمانہ محاق کہلاتا ہے،

    پھر جب چاند مشرق کی طرف ہٹتا ہے اور سورج کے تقابل سے نکل جاتا ہے تو قمر جدید کہلاتا ہے ، لیکن ابھی اس کا زاویہ اتنا باریک ہوتا ہے کہ زمین سے اس کے دیکھنے کا امکان نہیں ہوتا ،جب چاند سورج سے کم از کم سولہ ڈگری پیچھے ہو جائے تب زمین سے دیکھنے کے قابل ہو تا ہے اور کھجور کی ٹہنی کی طرح نظر آتا ہے۔

    غرض قمر جدید کا اعتبار کر لیں تو پوری دنیا کی تاریخ ایک ہو جائے گی، توحید اہلہ کی یہی صورت ہے، یہ تجویز رابطہ کے اجلاس میں پیش ہوئی مگر دنیا کے تمام علماء نے اس کو نامنظور کر دیا۔

    اسلام سے پہلے جب عرب حج کا احرام باندھتے تھے تو دروازہ سے گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے اور گھر میں آنا ضروری ہے، پس وہ پچھلے دروازے سے گھر میں آتے تھے اور وہیں سے نکلتے بھی تھے ، جیسے یہود کے یہاں سنیچر کو کوئی کام نہیں کر سکتے، لائٹ اگر کھلی ہے اور سنیچر شروع ہو گیا تو اب اس کو بند نہیں کر سکتے، بند ہے اور سنیچر شروع ہو گیا تو اب اس کو کھول نہیں سکتے ، لیکن کرتے سب کام ہے ، کرتے کیا ہیں ؟ سڑک سے کسی مسلمان کو پکڑ لاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: ذرا بٹن آن کر دو، یہ کیا دین پر عمل ہوا ؟ یہ تو اللہ کو دھوکہ دینا ہوا، ایسا ہی حیلہ انہوں نے پرانے زمانہ میں مچھلیوں کے تعلق سے کیا تھا ، بہرحال جیسا یہ یہودی کرتے ہیں ایسا ہی عرب بھی کرتے تھے کہ حج کا احرام باندھنے کے بعد سامنے کے دروازے سے گھر میں نہیں آتے تھے، پیچھے سیڑھی لگا کر گھر میں آتے تھے،

    قرآن نے کہا:

    (وَلَیْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوْا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِہَا)
    یہ کونسا نیکی کا کام ہے کہ تم گھروں میں پچھواڑے سے آؤ
    (وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی) بلکہ نیکی کا کام یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر عمل کرو اس کے حکم کی خلاف ورزی مت کرو۔

    اللہ سے ڈر نے کا مطلب

    اور اللہ سے ڈرنا ایسا ڈرنا نہیں جیسے سانپ سے، شیر سے اور دشمن سے ڈرتے ہیں، اللہ تو وہ ذات ہے جس سے محبت کرنی ہے، بلکہ اللہ سے ڈرنے مطلب یہ ہے کہ جیسے اطاعت شعار بیٹا باپ سے ڈرتا ہے ، مخلص طالب علم استاذ سے ڈرتا ہے۔ اللہ سے ڈرنا ایسے ہے کہ مومن بندے کو کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ جس سے اللہ ناراض ہو جائیں، قرآن و حدیث میں جہاں جہاں آتا ہے کہ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، اس کا یہی مطلب ہے ۔

    غرض قرآن نے مشرکین سے کہا : ( وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی) نیکی کا کام یہ ہے کہ تم اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے ڈرو، اگر اللہ نے یہ حکم دیا ہو کہ احرام باندھنے کے بعد گھر میں مت جاؤ تویہ کیا بات ہو ئی کہ دروازے سے نہیں گئے، پیچھے سے گھس گئے

    (وَأْتُوْا الْبُیُوْتَ مِنْ أَبْوَابِہَا)
    گھروں میں ان کے دروا زوں سے آؤ ،

    یعنی شریعت کا یہ حکم نہیں ہے کہ احرام باندھنے کے بعد گھر میں نہیں آ سکتے ، یہ تو تم نے خود گھڑ لیا ہے ،

    (وَاتَّقُوْا اللّٰہَ)
    اور اللہ سے ڈرو ،

    یعنی اللہ نے جو احکام دیئے ہیں ان کی خلاف ورزی مت کرو ، اللہ نے کہا ہے : احرام میں ٹوپی مت پہنو، مت پہنو ، اللہ نے کہا ہے : احرام میں پگڑی مت باند ھو، مت با ندھو ، اللہ نے جو احکام دیئے ہیں اس پر عمل کرو اپنی طرف سے کچھ مت بڑھاؤ،

    (لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ)
    تاکہ تم کامیاب ہوؤ،

    مومن کی کامیابی اللہ کے احکام کی اطاعت میں ہے اپنی طرف سے احکام تجویز کرنے میں نہیں ہے۔

    ربط مضامین
    اور آیت میں مذکور دونوں مضمون میں نے آپ حضرات کو سمجھا دئیے، میرے بھائیو! آپ اس پر غور کریں کہ ان دونوں مضمونوں میں جوڑ کیا ہے؟

    پہلا مضمون یہ ہے کہ مہینہ کے نئے چاند تمام لوگوں کے لئے الگ الگ اوقات مقرر کریں گے اور حج کے لئے ایک وقت مقرر کریں گے، اور دوسرا مضمون یہ ہے کہ اللہ نے جو احکام دئے ہیں ان کی خلاف ورزی مت کرو ، نہ اپنی طرف سے کسی حکم کا اضافہ کرو ، یہی برو تقویٰ ہے ، کامیابی کا راز اسی میں ہے ، اپنی طرف سے نئے نئے شوشے چھوڑنا کہ اب تو ہم بڑے ماہر ہو گئے ہیں، حساب کتاب جاننے لگے ہیں ، اب آنکھ سے چاند دیکھنے کی ضرورت نہیں، اب ہم ہیلی کاپٹر میں اڑکر جائیں گے اور اوپر جا کر چاند دیکھیں گے ، دور بینوں سے چاند دیکھیں گے ، یہ کریں گے وہ کریں گے ، ارے بھائی یہ سب باتیں چھوڑو اور جو اللہ کا حکم ہے اس پر عمل کرو، کامیابی اسی میں ہے۔
    وآخردعوانا أن الحمد ﷲ رب العالمین

    (اصل مضمون سے وہی حصہ لیا گیا ھے جس کی یہاں ضرورت تھی)
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 27، 2013 #2
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    جزاک اللہ خیر بھائی۔۔
     
  3. ‏اگست 29، 2013 #3
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    یعنی روزے اور عید میں اختلاف مطالع مگر حج میں توحید الرویہ؟ یہ کیسا عجیب منطق ہے بھائی ذرا ہمیں بھی سمجھا دیں؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 30، 2013 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521


    السلام علیکم

    میں نے اسی لئے لکھا تھا اپنا تعارف کروا دیں۔

    چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کی نماز پڑھو۔

    حج، کعبۃ اللہ میں ہی ہوتا ھے جس پر اس کی ادائیگی کے لئے وہیں جانا پڑتا ھے، ہر ملک اور ان کے شہروں میں نہیں ہوتا۔ عید الاضہٰی چاند دیکھ کر ہی کی جاتی ھے۔

    والسلام
     
  5. ‏اگست 30، 2013 #5
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    محترم اس فورم پر یہ میری کوئی پہلی بحث تو ہے نہیں جو میں اپنا تعارف کرواوں اور ویسے بھی ہمارے اس بحث سے میرے تعارف کا کوئی تعلق نہیں اسلئے آپ سے گزارش ہے کہ خارجی بحث اور شخصی تنقید سے پرہیز کریں ورنہ جو تعارف آپ نے اپنا کروایا ہے اس پر میری رائے جان کر آپ کو خوشی نہیں ہوگی۔۔۔

    حج بالکل کعبۃ اللہ میں ہوتا ہے اور کعبۃ اللہ مکہ مکرمہ میں ہے اور وقوف عرفات بھی میدان عرفات میں ہوتا ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے اور یوم عرفہ بھی اسی دن ہوتا ہے جب حجاج کرام میدان عرفات میں وقوف کرتے ہیں پھر بھی بعض حضرات اس سے ایک یا دو روز بعد یوم عرفہ تصور کرتے ہیں اور اگر اللہ توفیق دے تو سنت سمجھ کر روزہ بھی رکھ لیتے ہیں حالانکہ یوم عرفہ تو گزر چکا ہوتا ہے۔۔۔

    عن عطاء قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم : ( أضحاكم يوم تضحون ) وأراه قال : ( وعرفة يوم تعرفون ) ، أخرجه البيهقي في " السنن الكبرى " ( 5 / 176 ) والشافعي في " الأم " ( 1 / 264 ) عن عطاء مرسلاً ، وصححه الألباني في " صحيح الجامع " ( 4224 ).

    عن ابن المنكدر ، عن عائشة رضى الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( عرفة يوم يعرف الإمام ) ، أخرجه البيهقي في " السنن الكبرى " ( 5 / 175 )

    نبی علیہ السلام کی حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یومہ عرفہ اسی دن ہوگا جس دن حجاج کرام میدان عرفات میں قیام کریں گے اور اسی دن پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے یوم عرفہ کا روزہ رکھنا مشروع ہوگا۔۔۔

    جن حضرات کیلئے نبی علیہ السلام کی واضح حدیث کافی نہیں وہ یا تو کسی صحابی، تابعی یا امام کے ذاتی قول یا اجتہاد سے نبی علیہ السلام کی حدیث کی تأویل کر دیتے ہیں یا پھر اپنی طرف سے کوئی عقلی اعتراض پیش کرکے حدیث کی تأویل کردیتے ہیں۔۔۔

    مگر جن کیلئے نبی علیہ السلام کی حدیث کافی ہے ان سے سوال ہے کہ اگر یوم عرفہ کے سلسلے میں اختلاف مطالع کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا تو پھر روزے اور عید میں اختلاف مطالع کہاں سے آجاتا ہے؟۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 30، 2013 #6
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    کیا ہر مسلمان کیلئے چاند روزہ اور عید کرنے کیلئے چاند دیکھنا ضروری ہے؟ ذرا اس کی بھی وضاحت فرما دیجئے کیونکہ درج بالا عبارت سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے اور اس کے علاوہ آپ کی پوری تحریر میں کسی اور چیز کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا۔۔۔​

    جب اللہ عز وجل ہم پر آخری اپنا آخری نبی و رسول بھیج دیا اور ساتھ اس نبی پر کبھی نا منسوخ ہونے والی اور کبھی نہ بدلنے والی شریعت مطہرہ بھی نازل فرما دی تو پھر کسی آدمی کو کیا حق ہے کہ وہ اس شریعت میں اپنی طرف سے کوئی مداخلت کرے؟؟؟ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے ہماری نمازوں کا وقت واضح فرما دیا ہے تو پھر کسی بھی امام کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کی مخالفت میں اپنی رائے دے؟؟؟

    وہ کون ہوتے ہیں سنت کی مخالفت کرنے والے؟؟؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 31، 2013 #7
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521


    السلام علیکم

    میرے تعارف پر آپ جو چاہے رائے دیں آپ کو پورا حق ھے، اپنا تعارف اب نہ بھی کروائیں تو کافی ھے پہلے درخواست پر تعارف نہ کروانے سے ہی اندازہ ہو گیا تھا باقی آپکے مراسلوں سے وہ کمی بھی پوری ہو گئی۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 31، 2013 #8
    ضدی

    ضدی رکن
    جگہ:
    برطانیہ
    شمولیت:
    ‏اگست 23، 2013
    پیغامات:
    291
    موصول شکریہ جات:
    234
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    میں ایک طالبعلم ہوں اور اپنی ناقص رائے کی بنیاد پر آپ کے ہی بیان سے استدلال لے رہا ہوں جب نبی پاکﷺ نے واضح طور پر فرمایا کہ یوم عرفہ اُسی دن کا ہوگا جس دن حجاج کرام میدان عرفات میں قیام کریں گے تو اختلاف کہاں ہے میں تو مانتا ہوں کیونکہ نبیﷺ کا حکم ہے لیکن رمضان کے روزے یا عید کے سلسلے میں کیا ایسا کوئی واضح حکم ارشاد فرمایا ہے شاید نہیں سوائے اس کے، کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید مناؤ۔ یہاں پر یہ نہیں فرمایا کہ جس دن مدینہ المنورہ میں رمضان کا چاند ہوگا تو سب لوگ اسی کو اپنا چاند تسلیم کریں گے کیا کہتے ہیں اس بارے میں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 31، 2013 #9
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    بھائی عبدالرحمن لاہوری صاحب ایک بات دریافت کرنا چاہوں گا ،اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ جس دن سعودیہ عربیہ میں چاند کی بابت جو اعلان ہو اسی کے مطابق پوری دنیا عمل کرے مثلاًجس دن یوم عرفہ سعودیہ میں ہو وہی دن پورے عالم میں تسلیم کیا جائے ،اسی طرح سے رمضان و عیدین کے چاند کا حکم ہے جس دن سعودیہ میں چاند نظر آجائے پورے عالم کو اس کو تسلیم کرنا چاہئے اور یہی اتحاد ملی کا تقاضا بھی ہے ۔لہٰذ اسی فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے نماز یں بھی سعودیہ کے وقت کے مطابق ادا کرنی چاہئے اللہ کرے ایسا ہی کوئی فیصلہ ہوجائے اور ملت میں اتحاد قائم ہوجائے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 31، 2013 #10
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    محترم بھائی پہلی بات تو یہ کہ ہمارا دعوی یہ نہیں ہے کہ جس وقت مکہ مکرمہ میں چاند کا اعلان کیا جائے بالکل اسی وقت پوری دنیا روزہ یا عید کرلے۔ دعوی یہ ہے کہ "جب دنیا کے کسی بھی علاقے میں رمضان یا شوال کی رویت شرعی طریقے سے ثابت ہو جائے تو جس جس کو اس رویت کی خبر پہنچ جائے وہ اس کا اعتبار کر لے اور رمضان شروع کرلے یا شوال شروع کرلے" غور کیجئے محترم میں نے لفظ "اعتبار" استعمال کیا ہے، "اسی وقت" یا "اسی دن" کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ اوقات کا فرق تو ثابت ہے تو پھر لازم ہے کہ جس شہر میں رویت ثابت ہوئی ہے بہت سے دوسرے شہر اس شہر سے وقت میں کئی گھنٹے پیچھے ہونگے اور بہت سے آگے ہونگے۔ لحاظہ جو شہر وقت میں پیچھے ہے اور اس کو غروب آفتاب سے قبل ہی رویت کی خبر مل گئی ہے (کسی دوسرے شہر سے) تو وہ اس کا اعتبار کرے گا اور غروب آفتاب کے بعد اس کے ہاں یکم رمضان یا پھر یکم شوال شروع ہوجائے گی۔ جو شہر اس شہر سے وقت میں آگے ہیں اور ان کے ہاں غروب آفتاب کے وقت رویت ثابت نہیں مگر اس کے بعد کسی اور شہر سے جو اس سے وقت میں پیچھے ہے رویت ثابت ہو گئی اور اس شہر والوں کو اس کی خبر مل گئی ہے تو ان کو بھی اس رویت کا اعتبار کرنا ہوگا۔ اگر صورت حال یہ ہو کہ جس شہر میں غروب آفتاب کے وقت رمضان کی رویت کا اعلان کیا گیا ہے اس وقت کسی دوسرے شہر میں جو وقت میں کئی گھنٹے آگے ہے اور جہاں رویت بھی نہیں ثابت ہوئی وہاں فجر صادق ہونے کو ہے تو یہاں کے رہنے والے کسی دوسرے شہر سے رویت کی خبر پہنچنے پر اس کا اعتبار کریں گے اور فجر صادق سے پہلے پہلے سحری کر لیں گے۔ لیکن اگر وقت کا فرق اتنا ہے یا رویت کی خبر اتنی تاخیر سے ملتی ہے کہ کسی شہر میں اس وقت سحری کا وقت ہی گزر چکا ہے تو اس سلسلے میں بھی اس شہر والے رویت کا اعتبار کرتے ہوئے ایک روزے کی قضائی دیں گے۔۔۔۔

    دراصل آپ نمازوں کے اوقات کو مہینوں کی تاریخوں پر قیاس کر کے بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ نمازوں کے اوقات سورج کے ذریعے معلوم کئے جاتے ہیں جبکہ مہیونوں کی شروعات اور اختتام چاند کے ذریعے معلوم کی جاتی ہیں لحاظہ ان میں سے ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا "قیاس مع الفارق" ہو گا۔ اسلئے آپ کا اعتراض باطل ٹھہرا۔۔۔

    یوم عرفہ سے متعلق جو صریح اور واضح حدیث ذکر ہوئی ہے ذرا اس پر اپنے خیالات کا اظہار فرما دیجئے۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں