1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

چت لیٹےہوئے پاؤں پر پاؤں رکھنے کا حکم

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏مئی 04، 2017۔

  1. ‏مئی 04، 2017 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,218
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    چت لیٹےہوئے پاؤں پر پاؤں رکھنے کا حکم​

    مقبول احمد سلفی

    انسان نیند کے لئے یا یونہی لیٹنے اور قیلولہ کرنے کے لئے چت یعنی پیٹھ کے بل ہو اہواس حالت میں ایک پیر کو اٹھاکر دوسرے پیر پر رکھنے کی ممانعت آئی ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
    أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ نهى عن اشتمالِ الصَّمَّاءِ ، والاحتباءِ في ثوبٍ واحدٍ ، وأن يرفعَ الرجلُ إحدى رجلَيه على الأخرى ، وهو مُستلقٍ على ظهرِه .(صحيح مسلم:2099)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پاؤں وغیرہ کو بندکردینے والا لباس پہننے،ایک کپڑے سےکمر اور گھٹنوں کو باندھنے اور چت لیٹ کر ایک پاؤں کو دوسرے کے اوپر(رکھتے ہوئے اس کو) اٹھانے سے منع فرمایا۔
    ایک دوسری حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ چت لیٹے ہوئے ایک پیر کو اٹھاکر دوسے پیر پر رکھے ہوئے تھے ۔عبادہ بن تمیم سے روایت ہے،ان سے ان کے چچا ( عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا:
    أنه أبصرَ النبيَّ صلى الله عليه وسلم يَضطَجِعُ في المسجدِ، رافعًا إحدى رجليه على الأخرى.(صحيح البخاري:5969)
    ترجمہ: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں ( چت ) لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر اٹھا کر رکھے ہوئے تھے ۔
    یہاں ایک حدیث سے چت کی حالت میں ایک پیر کو دوسرے پر رکھنے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے تو دوسری حدیث سے جواز کا علم ہوتا ہے ،اس لئے بظاہر دونوں میں تعارض ہے ۔ اس سلسلے میں خطابی کا کہنا ہے کہ نہی والی روایت یاتومنسوخ ہے یا نہی والی روایت اس پر محمول کی جائے گی کہ جب ستر کھلنے کا خدشہ ہوتو منع ہے اور ستر کھلنے سے مامون ہویعنی برہنہ ہونے کا خدشہ نہ ہو جائز ہے ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے نسخ سے اولی دوسرا قول ہے یعنی ستر کھلنے کا خطرہ ہوتو پیرپر اٹھاکر پیر رکھنا منع ہے اور اگر ستر کھلنے کا خطرہ نہ ہو تو جائز ہے کیونکہ نسخ احتمال سے ثابت نہیں ہوتا۔ (تحفۃ الاخوذی )
    علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ نے ترمذی کی اس روایت پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے جس میں نبی ﷺ سے چت لیٹے ہوئے پیرپر پیر اٹھاکر رکھنا ثابت ہے کہ یہ حدیث اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی نہی والی حدیث میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ایک پیر کو دوسرے پر رکھنے کی دو صورتیں ہیں ۔
    پہلی صورت : دونوں پیر بچھے ہوئے ہوں اور ایک پیر دوسرے پر رکھا ہو اس صورت میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کیفیت میں ستر نہیں کھلے گا۔
    دوسری صورت : دونوں پیر میں سے ایک پیر پنڈلی کے بل کھڑا کیا ہواور دوسرا پیر اٹھاکر گھٹنے پر رکھا ہو، اس طرح کہ پاجامہ یا لنگی یا کپڑے کا سرا لمبا ہو اور ننگا ہونے کا خطرہ نہ ہو تو یہ کیفیت جائز ہے اور ننگا ہونے کا خطرہ ہو تو جائز نہیں ہے ۔ (تحفۃ الاحوذی )
    ان ساری بحثوں کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کے اس حکم کے پیچھے انسان کے ستر کی حفاظت ہے اس لئے اگر چت لیٹے ہوئے ایک پیر کو دوسرے پر رکھنے سے ستر کھلنے کا امکان ہو تو ایسا نہ کرے اور ستر کھلنے کا مسئلہ نہیں تو ایک پیر کو دوسرے پر رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 05، 2017 #2
    سلفی حنفی حنیف

    سلفی حنفی حنیف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2017
    پیغامات:
    290
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    احادیث کو سمجھنے کے لئے بعض اوقات اس سے متعلقہ دوسری باتوں کا علم ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اکثر اور آج کل کے زمانہ میں عموماً دیہات میں دھوتی چادر وغیرہ باندھنے کا معمول تھا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی شلوار یا پاجامہ نہیں پہنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی دھوتی یا چادر باندھتے اس کے کھلے کنارے آپس میں سلے ہوتے تھے صرف کچھ حصہ ان سلا ہوتا جو باندھنے کے کام آتا۔ جو لوگ دھوتی یا چادر باندھتے ہیں وہ اسے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔
    دھوتی یا چادر باندھے ہونے کی صورت میں جب کوئی ایک ٹانگ کو پنڈلی کے بل کھڑا کرے اور دوسری ٹانگ خواہ لیٹی رہے یا اسے بھی کھڑا کرلے یا اسے اٹھا کر پہلے کھڑی ٹانگ پر رکھ لے ہر صورت میں ستر کھلنے کا مسئلہ درپیش آتا ہے (عملاً کرکے دیکھا جا سکتا ہے)۔
    ایک ٹانگ کھڑی کرکے دوسری اس پر رکھنا متکبرانہ حالت بھی ہے۔
    اس حالت میں ستر اگر نہ بھی کھلے تب بھی اعضائے ستر کے خدو خال نظر آیا کرتے ہیں خواہ شلوار ہی کیوں نہ پہنی ہو (الا ماشاء اللہ)۔
    لیٹے ہوئے ٹانگیں سیدھی بچھائے ہوئے اگر ایک ٹانگ دوسری کے اوپر رکھی جائے تو یہ زیادہ ساتر ہے بنسبت اس کے کہ دونوں ٹانگیں بچھی ہوں۔ اس طرح لیٹنے میں مسکینی ظاہر ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے لیٹتے تو اسی طرح سے لیٹتے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں