1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاڑھی کا بیان قرآن اور حدیث سے

'لباس و ضروریات' میں موضوعات آغاز کردہ از اسلام ڈیفینڈر, ‏اکتوبر 19، 2012۔

  1. ‏نومبر 16، 2012 #21
    عبداللہ کشمیری

    عبداللہ کشمیری مشہور رکن
    جگہ:
    سرینگر کشمیر
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2012
    پیغامات:
    564
    موصول شکریہ جات:
    1,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    186

    مولانا شاہ اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا :مولانا صاحب انگریز کا کہنا ہے کہ داڑھی خلاف فطرت ہے کیونکہ انسان داڑھی کے بغیر پیدا ہوتا ہے لہذا داڑھی رکھنا فضول بات ہے۔

    مولانا صاحب مسکرائے اور جواب دیا پھر تو دانت رکھنا بھی خلاف فطرت ہے کیونکہ انسان کی پیدائش کے وقت دانت بھی نہیں ہوتے اس لیئے انگریز کو اپنے دانت بھی توڑ دینے چاہیئے۔
     
  2. ‏نومبر 17، 2012 #22
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    محترم السلام علیکم
    عنوان صرف داڑھی کے ثبوت کا ہے سیاق و سباق کا نہیں بس آپ یہ بتا دیں کہ نبینا ہارون علیہ السلام کی داڑھی تھی یا نہیں۔ اور محترم داڑھی سنبھا لئے مقام ادب ہے
    بس اتنا ہی کافی ہے۔ ’’قالوا سلاما‘‘
     
  3. ‏نومبر 17، 2012 #23
    عمران علی

    عمران علی مبتدی
    جگہ:
    لانڈھی ۔ کراچی
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2012
    پیغامات:
    71
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    محترم عابد صاحب،
    آپ نے جس انداز سے میرے جملے کو چمکا کر لکھا ہے اس سے لگتا ہے کہ نعوذ باللہ میں نے ہارون علیہ السّلام کی شان میں کوئی گستاخی کردی ہے۔ محترم میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے سیاق و سباق کے بغیر ہارون علیہ السلام کی ڈاڑھی کا معاملہ قرآن کریم سے بطور ڈاڑھی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ وہاں مقصد ڈاڑھی تھا ہی نہیں بلکہ موسی علیہ السلام،اپنے بھائی ہارون علیہ السلام پر غصہ ہورہے تھے کہ انہوں نے قوم کو شرک سے روکا کیوں نہیں؟
    اس کے باوجود اگرمیرے کسی بھائی کو میرے الفاظ سے رنج ہواہو تو میں اسکے لیے معذرت خواہ ہوں۔


    میرے بھائی چلیے مان لیا ہارون علیہ السلام کی ڈاڑھی تھی، لیکن اس سے یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر تمام انبیاءعلیہم السلام کی بھی ڈاڑھیاں تھیں، یا خود حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ڈاڑھی تھی، یا اس کا کوئی جواز ہی تھا ؟ ہمیں قرآن کریم میں انبیاء علیھم السلام کے کردار کے بارے میں بڑی وضاحت سے دلائل ملتے ہیں، لیکن ظاہری حلیہ یا لباس اور وضع قطع کسی نبی کی بھی نہیں ملتی، کیونکہ قرآن کریم کی نظر میں اسکی چنداں کوئی اہمیت نہیں، تاہم وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ اچھا لباس پہنو، شرم و حیا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو وغیرہ وغیرہ۔
    آپ کا ایک اور متوقع سوال اور اسکا جواب،قرآن کریم سے کہیں نہیں ثابت ہوتا کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ڈاڑھی مبارک تھی یا نہیں، اس لیے میں اس ضمن میں کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ انکی ڈاڑھی تھی یا نہیں۔قرآن کریم جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں، انبیائے کرام اور بالخصوص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار پر بحث کرتا ہے، انکے ظاہری حلیہ پر نہیں۔

    ثم تتفکروا!
    وما علینا الابلاغ
    عمران علی
     
  4. ‏نومبر 17، 2012 #24
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    جزاک اللہ میرے پاس اتنا ہی علم تھا ۔میں یہ تو جانتا ہوں کہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے داڑھی تھی ۔اور بس
     
  5. ‏نومبر 19، 2012 #25
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    محترم، ایک نبی کی داڑھی قرآن سے ثابت ہے اور بقیہ انبیائے کرام کی داڑھیوں کے متعلق قرآن خاموش ہے۔ تو دلیل ہماری مضبوط ہوئی یا آپ کی؟
    ہم قرآن سے کم سے کم ایک نبی کی داڑھی ثابت کر سکتے ہیں۔ آپ قرآن سے کسی ایک نبی کا نعوذباللہ شیو کرنا ثابت کر سکتے ہیں؟

    اور پھر یہ بھی بتا دیجئے کہ جس حکم کے بارے میں قرآن خاموش ہو، تو کیا وہ ناجائز ہو جاتا ہے؟
    اگر کوئی شرعی حکم ایسا ہو جو فقط احادیث سے ثابت ہو اور قرآن کے مخالف بھی نہ ہو، تو آپ ایسے احکام تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟
     
  6. ‏نومبر 19، 2012 #26
    عمران علی

    عمران علی مبتدی
    جگہ:
    لانڈھی ۔ کراچی
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2012
    پیغامات:
    71
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    محترم راجا صاحب،

    برائے کرم میری پچھلے تمام پوسٹس اور جس پوسٹ پر اعتراض کررہے ہیں، اسے بھی دوبارہ غور سے پڑھیں، اگر آپ غور سے پڑھتے تو اتنا فضول تبصرہ نہ کرتے، ثم تتفکروا
     
  7. ‏اپریل 17، 2013 #27
    اللہ دتہ قصوری

    اللہ دتہ قصوری مبتدی
    جگہ:
    kasur
    شمولیت:
    ‏اپریل 16، 2013
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    بھائی کیا میں اپنی داڑھی کو مٹھی کے برابر رکھ سکتا ہوں جیسکہ ابن عمر والی حدیث میں بیان ھے کہ جب عمرہ کرتے تو جتنی مٹھی میں آتی اسے چھور دیتے باقی کاٹ دیتے؟ جزاکم اللہ۔
     
  8. ‏اپریل 18، 2013 #28
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

  9. ‏اپریل 24، 2013 #29
    mabid.bilkhair

    mabid.bilkhair مبتدی
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اپریل 24، 2013
    پیغامات:
    30
    موصول شکریہ جات:
    88
    تمغے کے پوائنٹ:
    19

    اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ

    محترم عمران علی

    تاریخ ابن جریر (ص ٩١،٩٠،ج٣) میں قصہ مزکورہےکہ یمن کے شہزادے نے شاہ ایران کسری کے حکم سے ٢ فوجیوں کو رسول الله صلی الله وسلم کے پاس بھیجا- "وہ ٢ رسول الله صلی الله وسلم کے پاس پہنچے ان کی داڑھیاں مونڈی ھؤی تھیں اور مونچھیں بڑی تھیں-آپ صلی الله وسلم نے ان کی طرف دیکھنا ہی پسند نہیں کیا - پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کس نے تم کو اس کا حکم دیا ہے؟ انھہوں نے کہا ہمارے رب کسرٰی نے - تب آپ صلی الله وسلم نے فرمایا لیکن میرے رب تعالٰی نے تو مجہے اپنی داڑھی چھوڑنے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے"

    یہ روایت حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ موسوم "الہدایہ والنہایہ ص٢٧٠ جلد ٤" میں بھی زکر کی ہے۔

    ظاہر یہ ہوا کہ داڑھی چھوڑنے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم رب العالمین نے دیا ہے-


    جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
    { اوروہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اپنی خواہش سے توبولتے ہی نہیں وہ توایک وحی ہے جوان کی طرف وحی کی جاتی ہے }

    اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے - سورہ الاانعام ٩٠-٢
    یہ انبیا ایسے تھے جن کواللہ نے ہدایت کی تھی سو آپ بھی ان ہی کے طریقے پر چلے۔
     
  10. ‏مارچ 26، 2015 #30
    fareed chohan

    fareed chohan مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 21، 2015
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    جزاك الله خيراً
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں