1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک : مولانا عبدالمجید تونسوی (کیا اس تحریر میں حق بات لکھی گئی ہیں ؟؟)

'تقابل مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 29، 2016۔

  1. ‏جنوری 29، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ڈاکٹر ذاکر نائیک

    مولانا عبدالمجیدتونسوی
    دین متین میں خدا و رسول کی اطاعت فرض ہے اور عدم اطاعت نافرمانی و گناہ۔ مگر نافرمانی کے مراتب متعدد ہیں۔ جس طرح ایمان لانے کے بعد خداورسول کے احکام کی تعمیل نہ کرنا اور گناہوں سے نہ بچنا معصیت ہے اسی طرح خداو رسول کی باتوں کو اپنی اغراض کے مطابق بنا لینا،ان کے اصل کلام کو اصل مفہوم اور مقصد سے پھیر کر اپنے مقصد پر منطبق کرنا بھی نافرمانی اورمعصیت ہے، اسی کو الحاد کہتے ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ:

    ﴿ان الذین یلحدون فی اٰ یٰتنا﴾
    کہ” جو لوگ ہماری آیات کو الٹے معنی پہناتے ہیں۔“



    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

    ”الالحاد وضع الکلام علی غیر مواضعہ“․
    اس الحاد کوتحریف فی الدین ،تفسیر بالرائے اور زندقہ بھی کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ کتاب و سنت کی تفسیر ،تشریح اور تحقیق صرف وہی معتبر ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرات صحابہ کرام اور سلف صالحین نے فرمائی ہے ۔اس کے علاوہ کوئی تحقیق معتبر نہیں ۔عصر حاضر میں ایک طرف تو دین سے جہالت و غفلت انتہا کو پہنچ گئی ہے اور دوسری طرف جدید ذہنیت اور مستشرقین کے گم راہ کن پرو پیگنڈے سے متاثر ہو کر بعض لوگوں نے اسلام کے مسلم اصولوں پر بحث و گفتگو شروع کردی ہے ․ایسے افراد علوم دینیہ سے بے بہرہ ہیں اور انہوں نے اسلام کے متعلق اگر کچھ معلومات حاصل بھی کیں تو اہل یورپ اور دشمنان اسلام سے حاصل کیں ․انہوں نے نصوص قطعیہ میں طرح طرح کی باطل تاویلیں کرکے شریعت کے متفق علیہ احکام کی تغییر وتحریف کو اسلام کی خدمت سمجھ لیا۔
    ہمارے دور میں اس کی واضح مثال ،زمانہ حال کا متجدد ڈاکٹر ذاکر نائیک ہے، جس نے میڈیا کے ذریعے عوام الناس کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ تنہا وہ ہی دین کا فہم رکھنے والا اور بلا شرکت غیر ے پیش آمدہ جدید مسائل کا حل پیش کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تفہیم دین کے خوب صورت عنوان کے ذریعے ڈاکٹرصاحب نے یہ منفردخدمت بھی سرانجام دی کہ اسلاف کی تشریحات پر عدم اعتماد کا اظہار کر کے الحاد کا دروازہ کھولا ۔اور مادیت و جدیدیت سے متاثر ہو کر قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کی خود ساختہ تشریح کرکے لوگوں کو علمائے راسخین سے متنفر کرنے کی سعی لاحاصل کی ۔
    اس میں شک نہیں کہ اجتہاد کا دروازہ بند نہیں، مگر محض اپنی محدود سوچ اور عقل نارسا کو معیار ٹھہرا کر اسلا ف امت وائمہ مجتہدین کے بیان کردہ مسلم اصولوں سے رو گردانی کرنا گم راہی کے راستے کی پہلی سیڑھی ہے #
    گو فکر خداداد سے روشن ہے زمانہ
    آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد
    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ابتدا میں تو اپنی دعوت کا آغاز یوں کیا کہ اسلام پر غیروں کے اعتراضات کے جوابات دینا شروع کیے اور تقابل ادیان کے نام پر اپنے آپ کو سب سے بڑا اسلام کا دفاع کرنے والا ثابت کرنے کی کوشش کی ۔لوگوں کے ذہن میں یہ دفاع اسلام کی خدمت بسانے کے بعد انہوں نے بڑی منصوبہ بندی سے اپنی اصل تحریک کا آغازکیا کہ اسلاف امت کی تشریحات سے ہٹ کر اسلام کے مسلم اصولوں کی نئی تعبیریں کرنا شروع کر دیں اور دلفریب انداز گفتگو سے فکری آزادی کا درس دینا شروع کیا، جس سے سادہ لوح مسلمان اس کے دام تزویر میں جکڑے گئے اور اس کی تعریف کرنے لگے ۔لوگوں کو ائمہ اربعہ کی تقلید کے خلاف ابھار ا جن پر پوری امت کا اعتماد چلاآرہا ہے ۔مگر اہل بصیرت اس کی تقریر و تحریر سے بھانپ گئے کہ فرقہ لادینیہ یعنی غیر مقلدین کے پرانے شکاری نیا جال لے کر آئے ہیں ان اور یوں رفتہ رفتہ اس کی اصلیت ظاہر ہوگئی۔

    ﴿افرأیت من اتخد الھہ ھواہ واضلہ اللہ علی علم ﴾
    اس وقت ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اجماع امت سے ہٹ کر دین کی جونئی تعبیریں پیش کی ہیں اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

    ٭... ڈاکٹر ذاکر نائیک کا خیال یہ ہے کہ سلف کے طریق سے ہٹ کر دین کی جدید تشریح کی ضرورت ہے ۔

    ٭... ائمہ اربعہ کی تقلید (جس پر پوری امت متفق چلی آرہی ہے)امت کی گم راہی کی اصل بنیاد ہے۔

    ٭... مرد اور عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں(حالاں کہ متعدد ہدایات میں فرق بیان کیا گیا ہے)۔

    ٭... دین کے بارے میں ہر شخص فتویٰ دے سکتا ہے فتویٰ کا مطلب اپنی رائے دینا ہے (یہ دین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے)۔

    ٭... مردعورت سے ذمہ داری میں اونچا ہے نہ کہ فضیلت میں (یہ آیات قرآنیہ میں تحریف معنوی ہے۔

    ٭... ننگے سر نمازپڑھنا جائز ہے(یہ بے ادبی کا انداز ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ پگڑی پہنتے تھے)۔

    ٭... بغیر وضو کے قرآن مجید کو ہاتھ لگانا جائز ہے (یہ بات قرآن وحدیث کے مفہوم کے خلاف ہے)۔

    ٭... آیت ﴿ویعلم مافی الارحام﴾کے معنٰی سمجھنے میں مفسرین کو غلطی ہوئی ہے، اس میں جنین کی جنس نہیں، بلکہ اس کی فطرت مراد ہے۔(یہ تفسیر بالرائے ہے)

    ٭... آیت﴿اذا جاء ک المومنات یبایعنک﴾الایة میں بیعت کے لفظ میں آج کل کے الیکشن کا مفہوم بھی داخل ہے ۔(یہ بھی تفسیر بالرائے ہے)

    ٭... خون بہہ جانے کی صورت میں وضو نہیں ٹوٹتا ،اس بارے میں فقہ حنفی کا فتویٰ غلط ہے (جب کہ حدیث میں خون بہہ جانے سے وضو ٹوٹنے کا حکم ہے)۔

    ٭... حالت حیض میں عورت قرآن پڑھ سکتی ہے(جمہور علماء اس کی اجازت نہیں دیتے)۔

    ٭... خطبہ جمعہ عربی کے بجائے مقامی زبان میں ہونا چاہیے (یہ بات آنخضرت صلى الله عليه وسلم کے دائمی عمل کے خلاف ہے وعظ و نصیحت اور چیز ہے اور خطبہ دوسری چیز ۔خطبہ جو کہ دورکعت کے قائم مقام ہے عربی میں ہی ضروری ہے)۔

    ٭... گاؤں میں جمعہ جائز ہے(نماز جمعہ صرف شہر میں ہونے کا حکم حدیث میں ہے)۔

    ٭... تین طلاق سے صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے(جب کہ تین پراجماع منعقد ہوچکا ہے)۔

    ٭... پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک ہی دن عید کرنا چاہیے(حالاں کہ ایسا ممکن نہیں)۔

    ٭... ڈاکٹر صاحب کے نزدیک مدت اقامت صرف پانچ ،چھے دن ہے(جب کہ حدیث میں پندرہ دن کا ذکر ہے)۔

    ٭... ان کے ہاں تراویح آٹھ رکعت ہے(جب کہ بیس رکعت پر پوری امت کاا جماع ہے)۔

    ٭... عورت کے چہرے کا پردہ ضروری نہیں(حالاں کہ سیدہ عائشہ  اور دیگر ازواج مطہرات کا مردوں کے سامنے سے گزر تے ہوئے چہرے کا پردہ کرنا حدیث سے ثابت ہے)۔

    ٭... چند مواقع کے علاوہ ہر جگہ ایک عورت کی گواہی معتبر ہے (یہ قرآن حکیم کے حکم کی صاف مخالفت ہے )۔

    ٭... آنخضرت صلى الله عليه وسلم نے متعدد شادیاں سیاسی مفادات کی خاطر کیں (جب کہ پیغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم کے تمام نکاح اللہ کے حکم سے ہوئے، ان میں بہت سی دینی حکمتیں تھیں، نہ کہ سیاسی مفادات)۔

    ٭... ڈاکٹر ذاکر نائیک کے نزدیک مچھلی کے علاوہ دریا کے کیڑے مکوڑے بھی حلال ہیں (جب کہ حدیث میں صرف مچھلی کی حلت کا ذکرہے اور مچھلی کی تمام قسمیں حلال ہیں ۔مچھلی وہ ہے جس میں ریڑھ کی ہڈی ہو، سانس لینے کے گل پھڑے ہوں اور تیرنے کے لیے پر ہوں، جب کہ کیکڑے میں یہ تینوں چیزیں نہیں ہوتیں)۔

    ٭... ڈاکٹر ذاکر کے ہاں مشینی ذبیحہ بھی حلا ل ہے (جب کہ ان کا نظریہ قرآن و سنت کے سراسر خلاف ہے )۔

    ٭... ڈاکٹر ذاکر نائیک آنخضرت صلى الله عليه وسلم کی حیات کے منکر ہیں (جب کہ عقیدہ حیات صلى الله عليه وسلم پر امت کا اجماع ہے، صرف معتنر لہ اورروافض اس کے منکر ہیں)۔

    ٭... قرآن وصحیح حدیث میں وسیلہ کرنے کا ذکر نہیں (حالاں کہ صحیح احادیث سے وسیلہ ثابت ہے)۔


    فائدہ:
    ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مذکورہ نظریات کے لیے دیکھیے ان کی کتب : خطبات ذاکر نائیک ،اسلام پر چالیس اعتراضات، اسلام اور عالمی اخوت، اسلام میں خواتین کے حقوق ،ٹی وی پروگرام ”گفتگو“وغیرہ
    ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
    دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

    لنک
     
    Last edited: ‏جنوری 29، 2016
  2. ‏جنوری 29، 2016 #2
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,387
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    عالم مولانا عبد المجید کا تعارف؟
     
  3. ‏جنوری 29، 2016 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں