1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا تصوّرِ بدعت: اَز روئے تحسین و تقبیح تقسیم بدعت کاجائزہ

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اپریل 21، 2012۔

  1. ‏اپریل 21، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ڈاکٹر طاہر القادری کا تصوّرِ بدعت

    [اَز روئے تحسین و تقبیح تقسیم بدعت کاجائزہ]
    محمدآصف ہارون​

    ان صوفی منش شخصیات میں ایک شخصیت ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی ہے جنہوں نے از روئے حسن و قبح بدعت کی تقسیم پر عجیب و غریب موشگافیاں کی ہیں۔ تحسین و تقبیح کے لحاظ سے بدعت کی تقسیم کی ناگزیریت کے نہ صرف قائل ہیں بلکہ وہ تمام بدعات جن کوبدعات ضلالہ کہنا چاہئے تھا ان پر ’بدعات حسنہ‘ کا لیبل لگاکر ان کو سند جواز دینے میں کافی سبک خرامی سے کام لے رہے ہیں۔ اس بات کی شاہد ان کی کتب ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • مفید مفید x 3
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 21، 2012 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    بدعت حسنہ و سیئہ
    بدعت حسنہ کے بارے میں ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں:
    بدعت سیّئہ کے بارے میں ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں:
    قطع نظر اس سے کہ ڈاکٹر صاحب کی مذکورہ تعریفات بھی محل نظر ہیں، اصطلاحِ شریعت میں بدعت کس کو کہتے ہیں، سادہ الفاظ میں اس کو یہ کہا جاتا ہے۔
    اصطلاح شریعت میں جس کو بدعت سے موسوم کیا گیا ہے وہ ہمیشہ مبنی پر ضلالت ہی ہوتی ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ کا فرمان گرامی ہے:
    دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت موجود ہے۔ ارشاد گرامی ہے:
    ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں:
    متذکرہ بالا تعریف اور اَحادیث سے یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ ہر وہ نیا کام جس کو نیکی، ثواب، خیر، عبادت وطاعت اورتقرب إلی اللہ سمجھ کر اور دین کے نام پر کیا جائے اور اسباب و ذرائع ہونے کے باوجود اور کوئی مانع نہ ہونے کے باوجود، رسول اللہﷺ نے نہ خود کیا ، نہ کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی آپﷺ کے سامنے کیا گیا، بدعت اور اِحداث فی الدین شمار ہوگا جو بہرصورت گمراہی اور آتش جہنم کا منبع ہوگا۔اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اہل بدعت جن مروجہ بدعات کو ’حسنہ‘ یا ’صالحہ‘ سے موسوم کرتے ہیں ان کو بھی نیکی، کارِ ثواب، تقرب الی اللہ اور دین سمجھ کر کیا جاتا ہے بلکہ کبھی کبھار تو انہیں سنت کا درجہ بھی دے دیا جاتاہے۔ حالانکہ یہ ساری بدعات و خرافات نہ صرف مبنی برضلالت ہیں بلکہ اِفساد فی الدین کی ناکام جسارتیں بھی ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 3
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 21، 2012 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    امام شافعی رح اور امام عزالدین رح کی تقسیم بدعت
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امام شافعی رح نے ازروئے مدح و ذم بدعت کی تقسیم کی ہے اسی طرح امام عزبن سلام رح نے بھی ازروئے اَحکام خمسہ بدعت کی تقسیم کی ہے اور ان سے دیگر آئمہ نے اخذ ونقل کیا ہے۔اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر صاحب سلف کے اقوال سے غلط تعبیر اور فاسد استدلال کرتے ہیں۔ اس بات کی شاہد ان کی بے شمار کتب ہیں۔ آئمہ نے جو بدعت کی تقسیم کی وہ کس تناظر میں کی اور ڈاکٹر صاحب نے اس تقسیم سے جو غلط تعبیرکرکے مروجہ بدعات کو سند جواز بخشی، یہ سب قابل غور باتیں ہیں۔
    حافظ ابن رجب فرماتے ہیں:
    ثابت ہوا کہ سلف نے جو بدعات کی تحسین کی ہے اس کو بدعاتِ لغویہ پر محمول کیا جائے گا، لیکن ڈاکٹر صاحب نے ان کے اَقوال سے غلط تعبیر لے کر ان کو مستقل بدعات حسنہ کا درجہ دے کر اپنی ساری مروجہ بدعات جو کہ سیّئہ ہیں ان کو اس درجہ میں داخل کر کے اہل سنت کی آنکھوں میں دھول ڈال دینے کا کام بخوبی سرانجام دیا ہے۔اب ہم ایک دوسرے ناحیے سے بات کو سمجھتے ہیں۔

    مثال کے طور پرالشیخان ایک اصطلاح ہے جب اصحابِ تاریخ اس کو استعمال کریں تو اس سے مراد، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما ہوں گے جب محدثین اس کو استعمال کریں تو اس سے مراد امام بخاری رح اور امام مسلم رح ہوں گے اور جب شوافع اس کو استعمال کریں تو اس سے مراد امام رافعی رح اور امام نووی رح ہوں گے۔بہرحال یہ طریقہ ہر علوم میں مشہور ومعروف ہے۔

    1۔اب جو شخص امام شافعی رح کی کلام (بدعت محمودہ) پر غورو غوض کرتاہے تو اس کا سارا شک دورہو جاتا ہے کہ امام شافعیؒ نے بدعت محمودہ سے لغوی بدعت مراد لی ہے نہ کہ شرعی بدعت مراد لی ہے کیونکہ اصطلاح شرع میں ہربدعت کتاب وسنت کی مخالفت میں ہوتی ہے جب کہ امام شافعی رح نے بدعت محمودہ کو مخالفت کتاب و سنت سے مقید نہیں کیا۔ جیساکہ ابن رجب فرماتے ہیں:
    2-امام شافعیؒ کے بارے میں معروف ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کی متابعت پر شدید حریص تھے اور جو نبی کریمﷺ کی حدیث کو ردّ کرتا اس پر شدید غضب کا اِظہار کرتے۔ ایک دفعہ آپ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس مسئلہ میں نبی کریمﷺ سے یہ بات مروی ہے توسائل نے کہا اے ابوعبداللہ کیا یہ آپ کا قول ہے ؟ تو امام شافعیؒ گھبراہٹ سے کانپ اٹھے اور کپکپاتے ہوئے جواب دیا۔
    بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جب امام شافعیؒ کی یہ حالت ہے تو پھر ان کے بارے میں یہ گمان کیسے رکھا جاسکتا ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے اس فرمان ’’کل بدعة ضلالة‘‘ کی مخالفت کریں گے۔‘‘
    3-امام شافعیؒ ’بدعت حسنہ‘ کے قائل کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ وہ حسب ذیل عبارات کے قائل ہیں:
    لہٰذا امام شافعیؒ کی ’بدعت محمودہ‘ والی کلام کو ایسے محمل پرمحمول کیا جائے گا جس سے رسول اللہﷺ کی کلام ’’کل بدعة ضلالة‘‘سے معارضت نہ آئے اور وہ یہ ہے کہ امام شافعیؒ کی بدعت محمودہ سے مراد لغوی بدعت ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 21، 2012 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    بدعت کی اَحکام خمسہ میں تقسیم سب سے پہلے امام عزالدین عبدالعزیز بن عبدالسلام رح نے کی تھی جس سے امام قرافی، نووی و دیگر ائمہ کرام نے اَخذ کیاہے۔ چنانچہ امام عز فرماتے ہیں:
    امام عزالدین کی یہ تقسیم حسب ذیل وجوہات کی بنا پر محل نظر ہے۔
    = اَحکام خمسہ: (واجب، مندوب، مباح، حرام و مکروہ) اور بدعت کو آپس میں جمع کرنا ایسے ہی ہے جیسے دو چیزوں کو جو ایک دوسرے کے منافی و متناقض ہیں ان کو جمع کردیا جائے، کیونکہ اَحکام خمسہ تواَدلہ شرعیہ پرقائم ہوتے ہیں اور جو چیز مبنی بردلیل ہو وہ بدعت کیسے ہوسکتی ہے۔ بدعت تو وہ ہوتی ہے جو کسی دلیل پرقائم نہ ہو۔
    = اَحکام خمسہ کے ضمن میں جو اَمثلہ دی جاتی ہیں یا تو وہ بدعات کے دائرہ میں داخل ہی نہیں ہوتی یا پھر ان کا تعلق مصالح مرسلہ سے ہوتا ہے جس کی بنیاد علماء کے نزدیک اس قاعدہ پر قائم ہے۔ ’’ما لایتم الواجب إلا بہ فھو واجب‘‘ یعنی اس کا حاصل یہ ہے کہ امر ضروری کی حفاظت کی جائے یا دین میں لازم آنے والے حرج کو رفع کیا جائے۔ لہٰذا اس لحاظ سے بدعات اور مصالح مرسلہ میں زمین وآسمان جیسا فرق ہے جن کا متساوی ہونا ناممکن ہے دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بدعات کا تعلق مقاصد و عبادات سے ہوتا ہے جب کہ مصالح مرسلہ کا تعلق وسائل ومعاملات سے ہوتاہے۔
    = امام عزالدین نے اپنے فتاویٰ جات میں بہت سارے اُمور تعبدیہ کو بدعات سیّئہ ومحدثات منکرۃ سے موسوم کیا ہے اور بدعات سے اجتناب اور سنن کی اتباع کی ترغیب دی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
    محدث العصر علامہ البانی رح فرماتے ہیں:
    علاوہ ازیں امام عزالدینؒ دوسرے مقام پر زینتِ رسولﷺ کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں:
    پھر ’’مسألة الصلاة علی السجاد‘‘ میں ان کا یہ قول مرقوم ہے:
    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
    ایک اور قول پیش خدمت ہے جب امام عزالدین رح سے صبح اور عصر کی نماز کے بعد مصافحہ کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب دیتے ہیں۔
    پس یہ بالکل ظاہر ہے کہ امام عزالدین رح نے نماز صبح و عصر کے بعد مصافحہ کو شرعی اعتبار سے بدعت کہا ہے حالانکہ انھوں نے قواعد الأحکام میں اس کو بدعت مباحہ کہا ہے۔ لہٰذا ان کے اس قول کی تعبیر یہ کی جائے گی کہ جب وہ بدعت مباحہ کہتے ہیں تواس میں لفظ بدعت کو لغوی اعتبار سے مراد لیتے ہیں اورجب وہ بدعت کو غیر مشروع سے تعبیر کرتے ہیں تواس میں بدعت کو شرعی اعتبار پر محمول کرتے ہیں۔
    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
    اب یہ بات روزِ روشن کی مانند عیاں ہے کہ امام عزالدین، بدعت واجبہ، بدعت مندوبہ اور بدعت مباحہ سے لغوی معنی مراد لیتے ہیں ناکہ شرعی معنی مراد لیتے ہیں، کیونکہ اصطلاح شرع میں ہر بدعت مبنی بر ضلالت ہی ہوتی ہے اور یہاں سے ایک اور بات واضح ہورہی ہے کہ آثار اور بعض اہل علم کی کلا م میں وارد بدعت کے معنی میں لغوی معنی اور شرعی اصطلاح کو باہم خلط ملط کرنایہ بدعت حسنہ کے اَسباب و محرکات میں سے ایک اہم سبب ہے۔ پس جس کو توفیق الٰہی ملتی ہے وہ ضروراس اشتباہ کو زائل کرتا ہے اور حقیقت کی تہہ تک پہنچ جاتاہے۔
    بہرحال مذکورہ بالا تصریحات سے یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ بعض سلف نے جو بدعت کی احکام خمسہ یا محمودہ ، صالح حسنہ ہونے کے لحاظ سے تقسیم کی ہے تو اس کو لغوی معنی پر محمول کیا جائے گا جیسا کہ پیچھے ابن رجب حنبلیؒ کا قول گزر چکا ہے۔ بدعت حسنہ سے استدلال کرتے ہوئے مروجہ بدعات و محدثات کو سند جواز نہیں دی جاسکتی۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب کو چاہیے کہ سلف کے اقوال کی وہی تعبیر کریں جو نہ صرف ان کے قواعد و اُصول کے موافق ہو بلکہ ’’کل بدعة ضلالة‘‘ سے معارضت بھی لازم نہ آئے۔ اس کے باوجود ڈاکٹر صاحب اگر تقسیم بدعت از روئے تحسین وتقبیح کو ناگزیر سمجھتے ہیں تو ان کو آنے والی سطور کا بنظر غائر مطالعہ کرنا چاہیے۔
     
  5. ‏اپریل 21، 2012 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    بدعت حسنہ کی تردید پرنقلی و عقلی دلائل

    اصطلاح شرع میں جس کو بدعت کہتے ہیں اس کو ’بدعت حسنہ‘ اور ’بدعت سیئہ‘ میں تقسیم کرنا غلط کار ہے اور یہ تقسیم مبنی برخطا اور تقسیم ضیزیٰ ہے جس پر نقلی و عقلی دلائل آئندہ سطور میں آرہے ہیں اور بعض علماء نے جو بدعت کو ’حسنہ‘ سے موسوم کیا ہے تو وہ بدعت دو حالتوں سے خالی نہیں ہوتی۔
    جب ہم ان دو حالتوں کو مدنظر رکھیں گے تو بات روزروشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ بعض اَوقات ایک چیز بدعت ہی نہیں ہوتی مگر اس کو بدعت تصور کرکے حسنہ کہہ دیا جاتا ہے اور بعض اوقات وہ بدعت تو ہوتی ہے مگر اس کی قباحت و شناعت کو معلوم نہیں کیا جاتا اس طرح اسے بھی حسنہ کہہ دیا جاتاہے۔
     
  6. ‏اپریل 21، 2012 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    نقلی دلائل

    1۔رسول اکرمﷺ کا فرمان گرامی ہے:
    جب کہ ڈاکٹر صاحب کا نقطہ نظر کچھ اور ہے رقم طراز ہیں:
    گویا ڈاکٹر صاحب کے نزدیک دین میں ہر نیا کام مبنی برضلالت نہیں ہوتا بلکہ بعض نئے اُمور مبنی بر ہدایت بھی ہوتے ہیں یعنی جو نیا کام مبنی برضلالت نہیں گویا وہ مردود نہیں ہوگا جب کہ حدیث کا فیصلہ ڈاکٹر صاحب کے نقطۂ نظر کے خلاف ہے۔ اِرشادگرامیﷺ ہے۔
    ڈاکٹر صاحب کے اقتباس سے یہ حقیقت بھی واضح ہورہی ہے کہ وہ دین کے اندر تقسیم بدعت از روئے تحسین و تقبیح کے قائل ہیں جب کہ فرمان نبویؐ ’’کل بدعة ضلالة‘‘ ڈاکٹر صاحب کے تصور بدعت کے مخالف ہے یعنی ڈاکٹر صاحب کا تصورِ بدعت، حدیث رسولؐ کی مخالفت میں ہے۔
    امام شاطبی رح فرماتے ہیں:
    دوسری جگہ فرماتے ہیں:
    حافظ ابن رجب رح فرماتے ہیں:
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح فرماتے ہیں:

    اب اَرباب فکر ودانش خود فیصلہ کریں کہ مذکورہ بالا تصریحات دین میں ہربدعت کے مبنی بر ضلالت ہونے پر صادق آتی ہیں اگر اصطلاح شریعت میں’بدعت حسنہ‘ نام کی کوئی چیز ہوتی تو رسول امینﷺ ضرور اس کی نشاندہی کردیتے اور اس کی تخصیص کردیتے کہ کل بدعة ضلالة إلا کذا و کذا،لیکن آپؐ نے تخصیص نہیں فرمائی۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دین میں ’’بدعت حسنہ‘‘ کا کوئی تصور نہیں ہے بلکہ رسالت مآبﷺ نے کل بدعة ضلالة کی صارم مسلول کے ساتھ دین میں ہر قسم کی بدعات کا قلع قمع کیا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 21، 2012 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    2۔سیدنا عبداللہ بن عمر﷜ فرماتے ہیں:
    جس طرح ڈاکٹر صاحب نے سیدنا عمربن خطاب ﷜ کے قول ’’نعمة البدعة ھذہ‘‘ سے اپنی من مانی تعبیر کی ہے بالکل اسی طرح ان کو سیدنا عبداللہ بن عمر﷜کے اس قول کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے تھا۔
    3۔امام دارالھجرۃ امام مالک بن انس رح فرماتے ہیں:
    بات واضح ہے، مبتدع جب بھی کوئی بدعت ایجاد کرتا ہے تو اس کو حسنہ کا نام دے کر دین کی طرف منسوب کرتا ہے،کیونکہ اگر وہ اس بدعت کو سیّئہ سمجھے گا تو بدعت ایجاد کرنے کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔بعداَزاں دین سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ گویا وہ دین کے مکمل ہونے کے بعد اس میں اضافہ کرنا چاہتا ہے جو دین میں طعن سمجھا جائے گا یعنی وہ اس بات سے انکار کررہا ہے کہ رسول اللہﷺ نے حق رسالت ادانھیں کیا اس وجہ سے امام مالک رح نے کہا ہے کہ وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ محمد رسول اللہﷺ نے رسالت میں خیانت کی ہے۔ نعوذ باللہ
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر صاحب اگرچہ قادری ہیں لیکن ان کے مشرب میں وسعت ہے اور ان کی قادریت میں نقشبندیت بھی موجزن ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ خود بھی صوفی ہیں اور صوفیاء کے قدردان بھی ہیں لہٰذا ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ صوفیاء کے امام شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کے مکتوبات سے ’بدعت حسنہ‘ کے بارے میں چند ایک اقتباسات نقل کریں۔ ہم اُمید واثق رکھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ان اقتباسات پر ضرور نظرثانی کریں گے۔سلسلے اگرچہ مختلف ہیں لیکن حنفی المذہب ہونے کے ناطے ایک ہی شاخ کے دو پتے ہیں۔
    شیخ احمد سرہندی فرماتے ہیں:
    ایک اور مکتوب میں فرماتے ہیں:
    ایک اور مکتوب میں فرماتے ہیں:
    آپ کی دعا بھی یہی ہے کہ:
    چمن میں تھیں ڈالیاں ہزاروں مگر مقدر کا کھیل دیکھو
    گری اسی شاخ پر ہے بجلی بنایا تھا جس پر آشیانہ​


    لہٰذا نقلی دلائل کی رو سے دین میں’بدعت حسنہ‘کے تصور کی نفی ہوتی ہے اس کے باوجود اگر ڈاکٹر صاحب ’بدعت حسنہ‘ اور ’بدعت سیئہ‘ کی تقسیم پر مصر ہیں اوراس کو ناگزیر سمجھتے ہیں جب کہ حدیث اور آثار اس کے منافی ہیں تو ڈاکٹر صاحب یہ فرمان الٰہی بھی مدنظر رکھیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 21، 2012 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عقلی دلائل ​

    حسب ذیل وجوہات کی بنا پر بدعت حسنہ کے تصور کو عقل سلیم بھی تسلیم نہیں کرتی۔
    بسا اوقات ایک چیز بظاہر اطاعت معلوم ہوتی ہے مگر درحقیقت وہ معصیت ہوتی ہے اوربسا اَوقات معاملہ اس کے برعکس بھی ہوا کرتا ہے۔کتنی ہی عقلیں یہ سمجھ بیٹھیں گی کہ نشاط و رغبت کے موقع پر نماز ظہر کی پانچ رکعات پڑھنا اور تکان و اضمحلال اور کثرت اشتغال کے وقت دو رکعت پڑھنا،بدعت حسنہ ہے۔ دریں صورت وہ حد فاصل بتلانی بہت ضروری ہے جس کے ذریعے سے حسنہ و قبیحہ بدعات میں تمیز ہوسکے اور اس حدفاصل کے لیے شرعی دلیل کا ہونالازم ہے۔
    امام شافعی رح، حسن بن علی رح، سید احمد بدوی، دسوقی، روفاعی، شیخ عبدالقادر جیلانی ، زیلعی، عبدروس، علی ہجویری وغیرہم کے بلند و بالا مزارات پرجوکچھ ہوتا ہے۔ وہ مخفی نہیں، عیدمیلادالنبیﷺ کی بدعت کی آڑ میں کیا کچھ نہیں ہوتا۔؟ روضہ رسولﷺ کی شبیہ بنانا شرکیہ نعتیں پڑھنا، مجلس کے آخر میں قیام اس عقیدت کے تحت کرنا کہ نبی کریمﷺ مجلس میں خود حاضر ہوتے ہیں۔ دروازے اور پہاڑیاں بنانا، عمارتوں پر چراغاں کرنا، جھنڈیاں لگانا، ان پر آپﷺکے نعلین شریفین کی تصویر بنانا، مخصوص لباس پہننا، تصویریں اتارنا،رقص و وجد کا اہتمام کرنا، شب بیداری کرنا، اجتماعی نوافل ، اجتماعی روزے، اجتماعی قرآن خوانی کرنا، مردو زَن کا اختلاط، ایک دوسرے کی عورت کو دیکھنا، آتش بازی، مشعل بردار جلوس جو کہ عیسائیوں کا وطیرہ ہے، گانے بجانے، فحاشی و عریانی، فسق و فجور، ریاکاری و ملمع سازی، من گھڑت ، قصے کہانیوں اور جھوٹی روایات کا بیان، انبیاء ، ملائکہ، صحابہ کرام کے بارے میں شرکیہ عقائد کا اظہار قوالی، لہوولعب، مال و دولت اور وقت کا ضیاع سب کچھ ہوتا ہے بلکہ اب تو ان پروگراموں میں بدامنی، لڑائی جھگڑا، قتل و غارت تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور یہ سارے کام جذبات و جہالت کے ساتھ ساتھ دین، نیکی، ثواب، تقرب اِلی اللہ اور اعمال صالحہ سمجھ کر سرانجام دیئے جاتے ہیں۔ بہرحال یہ سب بدعات حسنہ کے مضمرات و عواقب ہیں۔
    کیا یہ تعریف مروجہ بدعات سیّئۃ وضلالۃ (جیسے عیدمیلادالنبیؐ وغیرہ) پر صادق آتی ہے؟ اگر صادق آتی ہے تو ہم طالب علموں کی معلومات میں بھی اس بات کا اضافہ ہونا چاہئے کہ اس خود ساختہ عید اور بدعت شنیعہ کی وہ کون سی اصل ہے یا شریعت کے کون سے مستحسنات کے تحت داخل ہے؟ جس کو وجہ جواز بنا کرڈاکٹر صاحب نے اس بدعت کو’بدعت حسنہ ‘ کا سر ٹیفکیٹ دیا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 21، 2012 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995


    خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ’تحسین بدعات‘کے دعوی کو نہ نقل حکیم قبول کرتی ہے اور نہ ہی عقل سلیم قبول کرتی ہے اور یہی صحیح موقف ہے۔ لہٰذا ’بدعت حسنہ‘ کا تصور نہ صرف مختلف عواقب و مضمرات کو جنم دیتا ہے بلکہ ایک ایسا تصور ہے جو قلوب و اَذہان کو سنت رسول اللہﷺ کی اہمیت سے محروم کرنے اور اطاعت رسولﷺ کے جذبات کو مجروح کرنے کا بہت بڑا محرک بھی بنتا ہے۔
    چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کتاب و سنت کی متابعت کا حکم جاری فرمایا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏اپریل 21، 2012 #10
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    دعوتِ فکر!

    اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ڈاکٹر صاحب امام ابوحنیفہ رح کے اصول و فروع میں مقلدہیں اور اس کا وہ برملا اظہار بھی کرچکے ہیں۔اور مقلد کے لیے اس کے مجتہد کا قول ہی دلیل ہوتا ہے۔
    مذکورہ تصریحات سے یہ حقیقت مترشح ہوئی ہے کہ مقلد ادلہ اربعہ سے استدلال نہیں کرسکتا بلکہ اس کے لیے اس کے مجتہد کا قول ہی مستند دلیل ہوتا ہے لہٰذا چاہیے تو یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے امام ٓومجتہد امام ابوحنیفہؒ سے تقسیم بدعت ثابت کرتے یا اس تقسیم کے بارے میں امام ابوحنیفہؒ کی رائے نقل کرتے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے ایسا نہیں کہا بلکہ اپنے اکابرین کے قدیم اصولوں کو توڑتے ہوئے امام شافعیؒ اور امام عزالدین بن عبدالسلامؒ کی تقسیم کو نقل کرتے ہوئے ’بدعت حسنہ‘ کو سند جواز بخشی ہے۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ احناف کے نزدیک مقلد جب اَدلہ اَربعہ سے استدلال نہیں کرسکتا تو کیا وہ شوافع کے اقوال و تقسیماتِ بدعت سے استدلال کرسکتا ہے؟ اصول حنفیہ کے تحت مقلد ہرگز ایسا نہیں کرسکتا، اب ڈاکٹر صاحب کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو حنفیت چھوڑ کر شافعیت کا دعویٰ کرلیں یا حقیقی و اصلی مقلد اور حنفی رہتے ہوئے شافعیوں کے اقوال و تقسیمات بدعت سے استدلال کرنے سے گریز کریں اس لیے کہ ڈاکٹر صاحب کے اعلیٰ حضرت احمد رضا خان قادری کا فرمان ہے۔
    دوسری وجہ یہ ہے کہ صدیوں سے احناف اور شوافع کے مابین ایک خون ریز جنگ جاری رہی ہے ایک دوسرے پر کفر و ارتداد کے فتوے لگائے گئے، ایک دوسرے کو قتل کیا گیا۔دوکانیں اور محلے جلائے گئے اور یہ سلسلہ ماضی قریب تک جاری رہا، یہ سب تقلید شخصی کے تباہ کن نقصانات تھے۔ اس بات کا اندازہ آپ حسب ذیل عبارت سے لگا سکتے ہیں:
    میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر
    بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

    بات بالکل واضح ہے اہل تقلید حق و انصاف سے کوسوں دور ہیں انتہائی افسو س کا مقام تو یہ ہے حق و انصاف کا اعتراف کرنے کے باوجود اہل تقلید اس کو قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہی صورت حال بدعات کے بارے میں ہے۔ جیسا کہ احمد یار خان نعیمی بریلوی لکھتے ہیں:
    جناب غلام رسول سعیدی بریلوی لکھتے ہیں:
    ہم اَرباب منہاج القرآن اور خصوصاً ڈاکٹر صاحب سے نہایت ہی ادب و احترام سے کہنا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کے گھر کی گواہیاں ہیں۔

    اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے​


    یہ واقعی مقام تفکر و تدبر ہے بدعات کا اعتراف کرنے کے باوجود ان پر تعمیل کرنا سوائے خواہشات پرستی کے کچھ اور نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب مانیں یا نہ مانیں یہ اُن کی اپنی صوابدید ہے لیکن یہ ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ حق ،سچ اور مبنی برانصاف بات یہ ہے کہ دین میں بدعت کی از روئے تحسین و تقبیح اور ازروئے احکام خمسہ کے کوئی تقسیم نہیں،بلکہ ہر بدعت مبنی برضلالت اور آتش جہنم کا موجب ہے۔
    لہٰذا ہم ڈاکٹر صاحب اور ارباب منہاج القرآن کو یہ دعوت فکر دیتے ہیں کہ آپ حضرات مذکورہ بالا گزارشات کا بغور مطالعہ فرمائیں اور آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ، آثار صحابہ اور اقوال آئمہ و سلف صالحین کی صحیح تعبیر و توضیح اور حقیقی معنی و مفہوم کو اپنے قلوب و اذھان کی تختیوں پر راسخ کریں، اپنے دامن کو بدعات سے بچا کر، کتاب و سنت کا صاف اور شفاف لباس زیب تن کرکے اپنی حیات مستعار کے باقی ایام بسر کریں۔ دنیا و آخرت کی حقیقی فوز و فلاح صرف قرآن و سنت کی متابعت میں ہی ہے۔
    ٭…٭…٭​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں