1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا تصوّرِ بدعت:’بدعتِ حسنہ‘ کے جواز پر دیئے گئے دلائل کاجائزہ

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اپریل 21، 2012۔

  1. ‏اپریل 21، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ڈاکٹر طاہر القادری کا تصوّرِ بدعت

    [’بدعتِ حسنہ‘ کے جواز پر دیئے گئے دلائل کاجائزہ]​

    محمدآصف ہارون​

    پہلی دلیل
    ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں:
    ’’تقسیم بدعت پر استدلال کے لئے حضورﷺ کا درج ذیل فرمان نہایت اہم ہے …
    اَب ہم مذکورہ حدیث کے ضمن میں کی گئی ڈاکٹر صاحب کی تشریح و توضیح میں سے چند اِقتباسات نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں تاکہ حقائق کو سمجھنے میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
    ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:
    گویا ڈاکٹر صاحب کے نزدیک ’سنت لغوی‘ اور ’بدعت لغوی‘ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔
    چنانچہ ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
    پھر ایک اور حدیث " مَنْ سَنَّ سُنَّة خَیْرٍ … وَمَنْ سَنَّ سُنة شَرٍّ…"کے تحت لکھتے ہیں:
    ایک اور مقام پر اوّل الذکر حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
    جائزہ
    مذکورہ اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک …
    اب ہم ان تمام اُمور پر تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں:
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 21، 2012 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    1۔کیا سنتِ لغوی اور بدعتِ لغوی میں کوئی فرق نہیں؟
    لغت سے تھوڑی سی جان پہچان رکھنے والا سنت ِلغوی اور بدعتِ لغوی میں ضرور فرق کرے گا، کیونکہ سنت اور چیز ہے اور بدعت لغوی اور چیز۔ سنت لغوی کو بدعت لغوی کہہ کر اس کے ساتھ’نئے پن‘ کا اِضافہ کرنے کو ڈاکٹر صاحب کا تجاہل عارفانہ تو کہہ سکتے ہیں مگر علمی کارنامہ ہرگز نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ لغت کے مشہور و معروف امام ابن منظور لغوی سنت کے بارے میں لکھتے ہیں:
    ٭ امام جرجانی لکھتے ہیں:
    کویت سے ۴۵ ضخیم جلدوں میں شائع ہونے والے فقہی انسائیکلو پیڈیا میں مرقوم ہے:
    اردو دائرہ معارف اِسلامیہ میں مرقوم ہے:
    مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ سنت لغوی سے مراد اچھا یا برا طریقہ، سیرت، راستہ، نہج اورعادت ہے جب کہ ڈاکٹر صاحب کی سنت لغوی کی تعریف یہ ہے’’نیا کام، نیا عمل، کوئی نیا طریقہ اور نیا راستہ‘‘ اَرباب فکرودانش اور اَصحاب علم و فضل اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے سنت لغوی کی تعریف میں اپنی طرف سے لفظ ’نیا‘ لگا کر ’نئے پن‘ کا اضافہ کیا ہے اور اسی اضافہ کی بنیاد پر انہوں نے سنت لغوی کو بدعت لغوی قرا ردے کر ’سنت حسنہ‘ کو ’بدعت حسنہ‘ سے موسوم کیا ہے جبکہ ائمہ لغت وغیرہم نے اس ’نئے پن‘ کا سنت لغوی کے ساتھ اضافہ نہیں کیا۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب کی سنت لغوی کی تعریف اَئمہ لغت کی سنت لغوی کی تعریف کے مخالف ہونے کی وجہ سے مرجوح ہے۔ اگر ڈاکٹر صاحب کی سنت لغوی کی تعریف کودرست تسلیم کیا جائے تو پھر لازم آتا ہے کہ ائمہ لغت وغیرہم سنت لغوی کی تعریف کچھ یوں کرتے’’الطریقة الجدیدة،السیرة الجدیدة،العادة الجدیدة، الطریق الجدید،اور النہج الجدید‘‘ چونکہ اَئمہ لغت وغیرہم نے ایسا نہیں کیا۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب کی تعریف غلط ثابت ہوئی جب ڈاکٹر صاحب کی سنت لغوی کی تعریف ہی ائمہ لغت کی سنت لغوی کی تعریف کے مخالف ہے تو پھر ڈاکٹر صاحب کی بدعت لغوی کی تعریف اَئمہ لغت کی سنت لغوی کی تعریف کے کیوں کر مخالف نہ ہوگی؟
    بدعت لغوی کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب راقم ہیں:
    دوسری جگہ رقمطراز ہیں:
    موصوف حافظ ابن حجر عسقلانی رح کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بدعت کی لغوی تعریف یہ کی ہے:
    امام ابن حجر مکی رح کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:
    چنانچہ آخر میں فیصلہ کن بات لکھتے ہیں:
    ڈاکٹر صاحب کی بدعت لغوی کے بارے میں مذکورہ بالا تصریحات سے ہی یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ سنت لغوی اور بدعت لغوی میں ویسے ہی فرق ہے جیسے دن اور رات میں ہے، زمین اور آسمان میں ہے اور مشرق اور مغرب میں ہے۔
    چنانچہ سنت لغوی اور بدعت لغوی میں دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا کہ سنت لغوی کو آپ بدعت لغوی بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان کی اپنی من مانی تعبیر اور مبنی بر جہالت موقف ہے جس کی اہل لغت اور اہل علم کے ہاں کوئی وقعت نہیں ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 3
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 21، 2012 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    2-سنت لغوی اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی۔اس کے ہم قائل ہیں اور سنت لغوی کا اچھا یا برا ہونا حدیث سے ثابت ہے جیسا کہ فرمان نبویﷺہے:
    3-جب ’سنت ‘ شرعی نہ ہوگی تو اسے بدعت کہیں گے۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ موقف بالکل غلط ہے کیونکہ جو سنت شرعی نہ ہوگی اس کو سنت لغوی پر محمول کیا جائے گا۔ جیسا کہ یہ حدیث مبارکہ اس بات پر شاہد ہے: " مَنْ سَنَّ فِیْ الإِسْلَامِ سُنَّة حَسَنَة… وَمَنْ سَنَّ فِیْ الإِسْلَامِ سُنَّة سَیِّئَة…" یہاں ’سنت‘سے سنت شرعی مراد نہیں ہے لیکن ہم اس کو بدعت نہیںکہہ سکتے بلکہ سنت لغوی کہیں گے، کیونکہ بدعت اور سنت لغوی میں زمین آسمان کا سا فرق ہے، جیسا کہ پیچھے ذکر ہوچکاہے۔
    ڈاکٹر صاحب نے جس بنیاد پر سنت لغوی کو بدعت لغوی کہا ہے جب وہ بنیا دہی کھوکھلی ہے تو پھر ڈاکٹر صاحب کا اس قدر اصرار کیوں ہے کہ جو سنت شرعی نہ ہوگی وہ بدعت ہوگی۔ وجہ صرف ایک ہے کہ وہ بدعت حسنہ کا سہارا لے کر اپنی تمام مروجہ بدعات (ضلالہ وسیئۃ) کو سند جواز دینا چاہتے ہیں تاکہ ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل ہوسکے۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مذکورہ حدیث میں ’’سنت حسنہ‘‘ اور ’’سنت سیئہ‘‘ سے مراد سنت لغوی ہے، لکھتے ہیں:
    جیسے سنت ِرسول ہمیشہ حسنہ ہوتی ہے اس کے سیئہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بالکل ایسے ہی بدعت بھی ہمیشہ سیئہ ہوتی ہے اس کے حسنہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے ’’نعمة البدعة ھذہ‘‘کے قول کو ہم بدعت لغوی پر ہی محمول کریں گے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ سنت لغو ی کو بدعت لغوی یا بدعت حسنہ پر محمول کرنا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے۔
    4-بدعت حسنہ کی اصل سنت حسنہ ہے۔
    5-بدعت حسنہ اصلاً سنت ہے۔
    پہلی بات تو یہ ہے کہ سنت حسنہ کسی لحاظ سے بھی بدعت حسنہ کی اصل نہیں بنتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بدعت حسنہ کی اصل سنت حسنہ ہے اور بدعت حسنہ کو اصلاً سنت بھی کہہ سکتے ہیں توپھر آپ براہ راست ’’سنہ حسنہ‘‘ کو بدعت حسنہ کہہ کر سنت حسنہ کا ترجمہ بدعت حسنہ میں کرنے سے کیوں گریزاں ہیں؟ اور بدعت حسنہ کو سنت رسول قرار دینے سے کیوں ہچکچاتے ہیں؟ لہٰذا ڈاکٹر صاحب کوچاہئے تھا کہ مذکورہ حدیث " مَنْ سَنَّ فِیْ الِاسْلَامِ سُنَّة حَسَنَة… وَمَنْ سَنَّ فِیْ الإِسْلَامِ سُنَّة سَیِّئَة "کا ترجمہ اس طرح کرتے: ’’جس نے اسلام میں بدعت حسنہ ایجاد کی اور جس نے اسلام میں بدعت سیئہ ایجاد کی… وغیرہ لیکن ڈاکٹر صاحب نے یہ ترجمہ کہیں بھی نہیں کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب بھی تردد و احتمالات کا شکار ہیں۔لہٰذا ڈاکٹر صاحب کو ہچکچاہٹ سے نکل کر اپنی مروجہ بدعات جو کہ ضلالہ و سیئہ ہیں ان کو بدعات حسنہ کہنے کے بجائے سنن رسول کہنا چاہئے اس لئے کہ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بدعت حسنہ اپنی اصل میں سنت ہے، لیکن پھرنہ جانے کون سی چیز ہے جو ڈاکٹر صاحب کو ایسا کرنے سے مانع ہے؟ تیسری بات یہ ہے کہ جب بدعت حسنہ اصلاً سنت ہے پھر آپ اُس کو بدعت حسنہ کیوں کہتے ہیں۔ براہ راست اس کو سنت سے موسوم کیوںنہیںکرتے کیونکہ سنت بہرحال بدعت حسنہ سے اچھا اور جامع لفظ ہے اس کے علاوہ اگر آپ بدعت حسنہ کہیں گے تو عین ممکن ہے کہ بعض لوگ بدعت حسنہ کے جواز کے قائل نہیں ہوں گے لیکن جب آپ بدعت حسنہ کو سنت کہیں گے تو بھلا سنت کا کون انکاری ہوگا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 21، 2012 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    قارئین کرام!
    ہماری مذکورہ بالا گذارشات سے یہ بات کافی حد تک واضح ہوگئی ہو گی کہ مذکورہ حدیث " مَنْ سَنَّ فِیْ الِاسْلَامِ سُنَّة حَسَنَة…" سے کسی لحاظ سے بھی بدعت حسنہ کے جواز پر دلیل و اصل نہیں پکڑی جاسکتی۔اس کی مزید تفصیل حسب ذیل ہے:
    1-قرآن حکیم کی کسی آیت یا رسول کریمﷺ کی کسی حدیث کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کے لئے سیاق وسباق کابہت حد تک عمل دخل ہوتا ہے۔مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ}کہ نمازیوں کے لئے ہلاکت و بربادی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے کا خود حکم دیا ہو پھر خود ہی اس پر ہلاکت و بربادی کی وعید شدید سنائی ہو؟ لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں وہ یہ کہ جب ہم اس آیت کریمہ کے سیاق و سباق پرنظر ڈالتے ہیں تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ یہ وعید شدید ان کیلئے ہے جن میں حسب ذیل خامیاں ہوں گی۔
    لہٰذا جب ہم مذکورہ حدیث کے سیاق و سباق کو دیکھتے ہیں تو یہ بات بالکل عیاں ہوجاتی ہے کہ اس حدیث میں بدعت حسنہ کا جواز پکڑنے والوں کی تعبیر و تفسیر دُھنی ہوئی روئی کی مانند رہ جاتی ہے متن حدیث پیش خدمت ہے:
    اگر مذکورہ حدیث کے سیاق و سباق اور سبب میں تھوڑا سا تعمق اور تفکر کیا جائے تو بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اس واقعہ میں انصاری صحابی نے صدقہ کو جاری کیا تھا اور صدقہ تو بذات خود مشروع امر ہے کیا اس صحابی کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ اس نے بدعت حسنہ کو ایجادکیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب کو غوروفکر کرنا چاہئے کہ رسول اللہﷺ نے "مَنْ سَنَّ فِیْ الإِسْلَامِ سُنَّة حَسَنَة "کس موقع پر ارشاد فرمایا ہے اور آپ کے اس فرمان کا سبب اور سیاق و سباق کیا تھا؟
    بات واضح ہے کہ نبی کریمﷺ نے پہلے صدقہ پر ترغیب دی پھر اس انصاری صحابی نے کھجوروں کی بوری صدقہ کردی گویا کہ صدقہ جو مشروع امر تھا اس کو اس صحابی نے اپنے عمل وفعل کے ساتھ جاری کیا پھر لوگوں نے اس صحابی کی اتباع کی۔ لہٰذا یہ واقعی ’سنت حسنہ‘ اچھا طریقہ تھا لیکن اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ اس صحابی نے اپنے طر ف سے طریقہ اختراع کیا اور وہ بدعت حسنہ بن گئی بلکہ اس صحابی نے تو ایک مشروع امر کو عملی شکل دے کر جاری کیا تھا۔
    امام شاطبی رح فرماتے ہیں:
    لہٰذا ہماری مذکورہ بالا گذارشات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں ’’سنت حسنہ‘‘ سے مراد کسی مشروع عمل کو جاری کردینا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے اگر کوئی مسلمان عصر حاضر میں نبی کریمﷺ کی کوئی متروکہ سنت کو جاری کرتا ہے یا مہجورہ سنت کو زندہ کرتا ہے تو اس کے اس فعل کو ’سنت حسنہ‘ کہیں گے نہ کہ ’بدعت حسنہ‘ مثال کے طور پر بعض ممالک مثلاً شام اور پاکستان وغیرہ میں کچھ لوگ مساجد میں’نماز عیدین‘ ادا کرتے ہیں اور یہ گمان رکھتے ہیں کہ یہ سنت رسولﷺ ہے پھر کچھ متبعین سنت ، لواء سنت تھام کر عیدگاہوں، میدانوں، گراؤنڈوں اور پارکوں میں ’عیدین کی نماز ‘ ادا کرتے ہیں اور نبی کریمﷺ کی اس متروکہ و مہجورہ سنت کو جاری و زندہ کرتے ہیں تو ان کے بارے میں یہ کہا جائے گا ’’سنوا في الإسلام سنة حسنة‘‘ کہ انہوں نے اسلام میں سنت حسنہ کو جاری کیا ہے یعنی سنت سے ثابت شدہ عمل کو جاری کیا ہے ان کے اس عمل کو ’بدعت حسنہ‘ موسوم نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ سنت حسنہ وہ ہوتی ہے جس کی اصل نص صحیح سے مشروع ہو اور لوگوں نے اس پر عمل کرنا ترک کردیا ہو پھر کوئی لوگوں کے درمیان اس کی تجدید کرتا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ سیدنا عمر﷜ بن خطاب نے جماعت کے ساتھ گیارہ رکعت نماز تراویح کی سنت کو جاری اور زندہ کیا تھا۔
    اس کے باوجود ڈاکٹر صاحب اگر اس بات پر مصر ہیں کہ’سنت حسنہ‘ سے ’بدعت حسنہ‘ ہی مراد ہے تو ہم نہایت ہی ادب سے مندرجہ ذیل جوابات دیں گے:
    ’’من سن فی الإسلام سنة حسنة ‘‘ کا قائل بھی وہی ہے جو ’’کل بدعة ضلالة‘‘ کا قائل ہے۔ لہٰذا صادق و مصدوق نبیﷺسے ایسے قول کا صدور ناممکن ہے جو آپ کے دوسرے قول کی تکذیب کرے اور کلام رسول اللہﷺمیں تناقص ابداً ناممکن ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے یہ لائق نہیں کہ ہم نبی کریم1 کی ایک حدیث پرتو عمل پیرا ہوں اور دوسری حدیث سے اعراض کریں۔ اس صورت میں ہم { أفَتُؤمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ } کے مصداق ٹھہریں گے۔
    2۔نبی کریمﷺ نے "مَنْ سَنَّ" فرمایا ہے’’من ابتدع‘‘ نہیں فرمایا۔ سن اور ابتداع میں زمین آسمان کا فرق ہے اور پھر آپؐ نے " فِیْ الإِسْلَامِ" فرمایا ہے جبکہ بدعات خواہ حسنہ ہی کیوں نہ ہوں ان کا اسلام سے کیا واسطہ؟ پھر آپﷺ نے حسنۃ فرمایا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں کہیں بدعت حسنہ نہیں ہوتی۔
    3- سلف صالحین سے کسی سے منقول نہیں کہ انہوں نے ’سنت حسنہ‘ کی تعبیر و تفسیر ’بدعت حسنہ‘ سے کی ہو جس کو بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایجاد کرلیا ہے ۔لہٰذا ڈاکٹر صاحب کا ’سنت حسنہ‘ سے ’بدعت حسنہ‘ پر استدلال باطل و ناحق ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 21، 2012 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ڈاکٹر صاحب کی کم علمی
    اَرباب فکر و دانش اور اصحاب علم و فضل ڈاکٹر صاحب کی کم علمی کا اندازہ حسب ذیل عبارت سے لگا سکتے ہیں:
    علم حدیث سے ذوق و شوق رکھنے والا ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ صحیح مسلم کے تراجم ابواب امام مسلم نے قائم نہیں کئے، بلکہ بعد میں مختلف ائمہ نے قائم کئے ہیں ہمارے ہاں جو نسخہ معروف ہے وہ امام نووی رح کی شرح والا ہے جس کاڈاکٹر صاحب نے حوالہ بھی دیا ہے اور اس نسخہ کے تراجم الابواب امام نووی رح نے قائم کئے ہیں چنانچہ امام نووی رح فرماتے ہیں:
    ٭امام نووی رح فرماتے ہیں:
    ٭ امام سیوطی رح فرماتے ہیں:
    مذکورہ بالا تصریحات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صحیح مسلم کے تراجم الابواب امام مسلم رح نے قائم نہیں کئے، اس کے باوجود ڈاکٹر صاحب نے اپنی کم علمی کا ثبوت دیتے ہوئے ’’من سن سنة حسنة أوسیئة‘‘ کو امام مسلم رح کی طرف منسوب کردیا ہے جو درحقیقت امام نووی رح نے قائم کیا ہے، پھر اس کو بنیاد بناتے ہوئے امام مسلم رح پر جھوٹ باندھنے کی ناکام جسارت بھی کرڈالی کہ ان کا یہ مذہب ہے کہ یہاں سنت سے مراد سنت رسول نہیں بلکہ بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ ہے‘‘ العیاذ باﷲ
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 21، 2012 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ڈاکٹر صاحب کی کم فہمی
    ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں:
    ڈاکٹر صاحب شاید یہ بھول گئے ہیں کہ مذکورہ بحث سنت لغوی کے متعلق ہورہی ہے سنت شرعی کے متعلق نہیں اوریہ حقیقت ہے کہ سنت لغوی حسنہ اور غیر حسنہ و سیئہ بھی ہوسکتی ہے جیسا کہ حدیث مذکور سے اس کا ثبوت ملتا ہے لیکن یہ ڈاکٹر صاحب کی عادت بن چکی ہے کہ وہ لغوی میدان سے اچانک چھلانگ لگا کر شرعی و اصطلاحی میدان میں پہنچ جاتے ہیں پھر معترضین کے بے تکے جوابات دیتے ہیں۔
    جب یہاں سنت لغوی مراد ہے پھر آپ کو من سن پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے گویا آپ حدیث رسول پر معترض ہیں، (معاذ اللہ)۔ یہاں سنت سے مراد حضورﷺ کی سنت نہیں لہٰذا آپ کے بقول ’’عام آدمی اس سے کیا راہ نکالے گا‘‘ غلط تاویل ہے۔ کیونکہ ’سن‘ کا معنی ہے اجراء کرنا یا جاری کرنا۔ اور آپ نے بھی ’سن‘ کا یہی ترجمہ کیا ہے اور یہ اجراء قول و عمل دونوں کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا آپ کا قول ’’کہ سن سے مراد نیا عمل اور بدعت ہے‘‘ مبنی بر جہالت قول ہے جو لغت سے ناواقفیت کا منہ بولتا ثبوت ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ’’سن‘ کو ’ابتداع‘ اور’سنت‘کو ’بدعت‘ سے تعبیر کرنا ایسے ہی ہے جیسے دن کو رات اور رات کو دن کے ساتھ تعبیر کیا جائے۔
     
  7. ‏اپریل 21، 2012 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    دوسری دلیل
    ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں:
    ’’اس حوالے سے ایک بہت اہم دلیل یہ ہے کہ وہ نیا کام جسے اُمت کی اکثریت اچھا سمجھ کرکررہی ہو اور ان کرنے والوں میں صرف اَن پڑھ دیہاتی لوگ اور عوام الناس ہی نہ ہوں بلکہ امت کے اکابر علماء فقہائ، محققین اور مجتہدین بھی شامل ہوں تووہ کام کبھی بُرا یعنی بدعت ضلالۃ نہیں ہوسکتا… اس کی دلیل مسند احمد بن حنبل کی درج ذیل روایت ہے جس میں حضرت عبداللہ بن مسعود﷜ نے فرمایا:
    پھر اس حدیث کے ضمن میں لکھتے ہیں:
    آگے لکھتے ہیں:
    جائزہ
    ڈاکٹر صاحب کو اس روایت کے مفہوم و مطلب کے سمجھنے میں بڑی غلطی لگی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری جاری کردہ بدعات میں چونکہ بہت سے مسلمان شامل ہوجاتے ہیں اور ان کو اچھا سمجھتے ہیں اسی لئے یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی ہوں گی۔ حالانکہ مذکورہ روایت کا مطلب ہرگز یہ نہیںکہ جسے مسلمان بالعموم اچھا سمجھ لیں وہ اچھی بن کر دین بن جائے۔
    حسب ذیل وجوہات کی بنا پر مذکورہ روایت سے ’بدعت حسنہ‘ کے جواز پر استدلال نہیں کیا جاسکتا:
    1-مذکورہ روایت’’فما رأی المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن وما رأوا سیئا فھو عند اﷲ سیئ‘‘ مرفوع ثابت نہیں بلکہ عبداللہ بن مسعودؓ پر موقوف ہے جیسا کہ اس حدیث کے سیاق و سباق سے معلوم ہورہا ہے۔ چنانچہ علامہ ابن قیم الجوزیۃ رح فرماتے ہیں:
    ٭ امام علائی رح فرماتے ہیں:
    ٭ امام العصر امام البانی رح فرماتے ہیں:
    لہٰذا جب یہ ہدایت مرفوعاً ثابت نہیں ہے تو اس سے ’’کل بدعة ضلالة‘‘ جیسی قطعی اَحادیث کی معارضت میں احتجاج پکڑنا بالکل جائز نہیں ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 21، 2012 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ڈاکٹر صاحب نے عبداللہ بن مسعود﷜ کے قول سے بدعت حسنہ کا جواز تو پیدا کردیا ہے، لیکن عبداللہ بن عمر﷜ کے اس قول فیصل ’’کل بدعة ضلالة وإن رأھا الناس حسنة‘‘ کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب کو چاہئے کہ وہ عبداللہ بن عمرؓ کے قول پر عمل پیرا ہوکر بدعات حسنہ سے اجتناب کریں۔
    2-مذکورہ روایت اجماع صحابہ کی قبیل سے ہے جو اس روایت کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے اور امام حاکم رح نے اپنی ’مستدرک‘ میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں۔
    مورخ اسلام حافظ ابن کثیررح نے اپنی تصنیف البدایہ والنہایۃ [۱؍۳۲۸] میں، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح نے اپنی تصنیف منہاج السنۃ[۱؍۱۶۶] میں اور علامہ ابن قیم الجوزیہ رحنے اپنی تصنیف لطیف اعلام الموقعین[۴؍۱۳۸] میں خلافت ابوبکر صدیق﷜ کے لئے اِجماع صحابہ پر استدلال اسی روایت سے کیا ہے۔
    ٭ مزید برآں حافظ ابن کثیررح فرماتے ہیں:

    بہرحال اس روایت میں واضح دلالت ہے کہ یہاں المسلمون سے مراد صحابہ کرام رض ہیں۔ اس لئے بعض ائمہ نے اس روایت کو ’کتاب الصحابہ‘ میں نقل فرمایا ہے جیسا کہ امام حاکم رح نے اس اثر کو اپنی مشہور زمانہ تصنیف المستدرک میں ’کتاب معرفۃ الصحابہ‘ میں نقل کیا ہے لہٰذا یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام حاکم رح نے المسلمون سے صحابہ کرام رض کی جماعت کو مراد لیا ہے۔
    احناف کی مشہور کتاب ’شامی‘ میں مرقوم ہے: ’’لا شک ان فعل الصحابة حجة وما رأہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن‘‘ [جلد :۱؍۲۰۷ بحوالہ بدعت اور اہل بدعت ، ص۱۲۸] گویا صاحب شامی نے بھی المسلمون سے صحابہ کرام کی جماعت مراد لی ہے۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب کاالمسلمون کو اُمت کی کثرت پر محمول کرنے کو ہم ان کے تجاھل عارفانہ پر محمول کرتے ہیں۔
    3۔المسلمون میں الف لام (أ ل) اگر استغراق کے لئے ہے تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ جس کو تمام مسلمان اچھا جانیں وہ اچھی ہوگی اور یہ بذات خود اِجماع ہے اور اجماع حجت ہوتا ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اُصولی طور پر جس کو اِجماع کہتے ہیں وہ ’’اجماع أھل العلم فی عصر‘‘ کسی زمانہ میں اہل علم کا جمع ہونا ہوتا ہے اور ا س میں کوئی شک نہیں کہ مقلدین اہل علم نہیں ہوتے بلکہ مقلد تو جاہل ہوتا ہے۔
    ٭ چنانچہ امام عزالدین بن عبدالسلام رح فرماتے ہیں:
    لہٰذا ہم ڈاکٹر صاحب سے درخواست گزار ہیں کہ اگر دین میں بدعت حسنہ کا تصور ہے تو کیا آپ کوئی ایک ایسی بدعت منظر عام پر لائیں گے کہ جس کی تحسین پر تمام مسلمانوں کااجماع ہو؟
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 21، 2012 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بات ناممکنات میں سے ہے کہ کسی بدعت کی تحسین پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہو۔ البتہ قرونِ اولیٰ میں اس بات پر ضرور اجماع تھا کہ وہ ہر قسم کی بدعات کو قبیح و ضلالہ سمجھتے تھے اور پھر ان کی تردید کرتے تھے۔ اور اگرالمسلمون میں الف لام جنس کے لئے ہے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ بعض مسلمان کسی چیز کو اچھا جانیں اور باقی دوسرے مسلمان اس کو بُرا جانیں۔ جس طرح اکثر بدعات میں ہوتا ہے اس لئے کہ عقول و اَذھان اور اہواء و آراء میں تفاوت ہوتا ہے لہٰذا اس بنا پر بھی مذکورہ روایت سے تحسین بدعات پر استدلال واحتجاج ساقط ہوجائے گا۔ پھریہ کہنا کہ اُمت مسلمہ کی اکثریت اس کو اچھا جانتی ہے تو یہ بھی حسنہ ہے‘‘مبنی برجہالت بات ہے۔
    حقیقت میں یہاں ’الف لام‘ عہد کے لئے ہے اور المسلمون سے مراد صحابہ کرام رض کی جماعت ہے اور مذکورہ روایت سے مراد صحابہ کا اجماع اور اتفاق ہے جیسا کہ مذکورہ روایت کے سیاق و سباق سے معلوم ہورہا ہے۔
    علاوہ ازیں محدثین کی جماعت نے مذکورہ روایت کو باب الإجماع کے تحت نقل کیا ہے۔ جیسا کہ کشف الأستار عن زوائد البزار[۱؍۸۱]‘‘ اور مجمع الزوائد[۱؍۱۷۷] وغیرھما میں ہے۔
    اس لئے ابن قیم الجوزیہ رح فرماتے ہیں:
    ٭ ابن قدامہ رح فرماتے ہیں:
    ٭امام شاطبی رح فرماتے ہیں:
    مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے مذکورہ روایت سے کسی لحاظ سے بھی بدعت حسنہ پر استدلال نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ مذکورہ روایت عبداللہ بن مسعود﷜ پر موقوف ہے پھر مذکورہ روایت اِجماع صحابہ کے متعلقات میں سے ہے چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے مذکورہ روایت سے جو مفہوم اَخذ کیاہے وہ بالکل غلط ہے۔ مزید برآں عبداللہ بن مسعود﷜ صحابہ میں سب سے بڑھ کر بدعات کے انکار ی تھے اور اہل بدعات سے اِظہار نفرت کرنے والے تھے۔ پھر اس عظیم المرتبت اور جلیل القدر صحابی کی کلام سے بدعات کی تحسین پر کیسے استدلال کیا جاسکتا ہے جبکہ آپ﷜ تمام صحابہ سے بڑھ کر بدعات سے منع کرنے والے اور ڈرانے والے تھے۔ اسی طرح صاحب مجالس الأبرار لکھتے ہیں:
    تو کیا ان کا یہ استدلال صحیح ہے؟ جواب یہ ہے کہ ، ان کا یہ استدلال جیسا کہ بعض فضلاء نے کہا ہے ٹھیک نہیں ہے اور یہ روایت ان کو مفید نہیں بلکہ مضر ہے کیونکہ یہ اس حدیث کا ٹکڑا ہے جو عبداللہ بن مسعود پر موقوف ہے اور اس کو احمد اور بزار، طبرانی، طیالسی، ابونعیم نے اسی طرح روایت کیا ہے۔

    اب ڈاکٹر صاحب کو سوچنا چاہئے کہ مذکورہ روایت سے استدلال کرتے ہوئے آپ جن مروجہ بدعات کو سند تحسین دینا چاہتے ہیں کیا ان پراِجماع صحابہ ہے یا اجماع اُمت ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ کو اس طرح کے باطل استدلالات سے گریز کرنا چاہئے اور اپنی من مانی تعبیر کو علم و تحقیق کے نام سے منسوب کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏اپریل 22، 2012 #10
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    تیسری دلیل
    ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:
    حضرت عبدالرحمن بن عبدالقاری بیان کرتے ہیں:
    مذکورہ روایت سے حسب ذیل وجوہات کی بنا پر ’’بدعت حسنہ‘‘ کا جواز نہیں پکڑ جاسکتا۔
    1۔نماز تراویح حدیث رسولﷺسے ثابت و مشروع ہے جیساکہ جابر بن عبداللہ﷜ فرماتے ہیں:
    نماز تراویح کو جماعت سے ادا کرنا بھی مشروع و مسنون ہے،کیونکہ رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ کو تین رات نماز تراویح پڑھائی بعدازاں فرض ہونے کے خوف سے آپؐ نے اس کو ترک کردیا جب کہ سیدہ عائشہ رض کی حدیث میں مرقوم ہے۔
    لہٰذا جب رسول اللہﷺ فوت ہوگئے اور وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو نماز تراویح کا جماعت کے ساتھ فرضیت کا عارضہ اور مانع ختم ہوگیا پس اس کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا سنت رسولﷺ ٹھہرا۔ پھر عمر بن خطاب﷜ کا زمانہ آیا تو آپ﷜ نے سنت کے مطابق گیارہ رکعت نماز تراویح ادا کرنے کا حکم دیا اور اس سنت کو جاری کیا اور زندہ کیا۔
    جب یہ بالکل واضح ہے کہ عمر بن خطابؓ کا فعل سنت کے مطابق تھا بدعت نہیں تھا پھر آپ نے جو’’نعم البدعة ھذہ‘‘ کہا اس کا کیامعنی ہوگا، اس کا جواب اَئمہ کرام اور سلف صالحین نے یہ دیا ہے کہ عمر بن خطاب ﷜کے اس قول کو لغوی معنی پر محمول کیا جائے گا اس لئے کہ نماز تراویح باجماعت نہ تو ابوبکر صدیق﷜ کے دور حکومت میں ادا کی گئی اور نہ ہی عمربن خطاب﷜ کے دورِ حکومت کے اوائل میں ادا کی گئی اس لحاظ سے یہ لغوی بدعت ہوگی یعنی جس کی سابقہ مثال نہ تھی لیکن اس کو شرعی بدعت اس لئے نہیں کہیں گے کہ یہ عمل سنت رسولﷺ سے قولاً و فعلاً ثابت ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں