1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا تصوّرِ بدعت:’بدعتِ حسنہ‘ کے جواز پر دیئے گئے دلائل کاجائزہ

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اپریل 21، 2012۔

  1. ‏اپریل 22، 2012 #11
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ٭ اِمام ابن تیمیہ رح فرماتے ہیں:
    ٭ دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
    چنانچہ معلوم ہوا کہ’’نعمت البدعة ھذہ‘‘ باجماعت نماز تراویح کے ساتھ خاص ہے جیساکہ ’’ھذہ‘‘ ضمیر سے پتہ چل رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ باجماعت نماز تراویح ایک اچھی چیز ہے کیونکہ وہ مشروع ہے لہٰذا اس قول سے مروجہ بدعات کو حسنہ ہونے کاسرٹیفیکیٹ نہیں دیا جاسکتا کیونکہ مروجہ بدعات غیر مشروع اور بے اصل ہیں۔
    ٭ اسی طرح امام ابن رجب رح فرماتے ہیں:
    ٭ مزید براں امام ابن کثیر رح فرماتے ہیں:
    ٭ چنانچہ امام شاطبی رح فرماتے ہیں:
    اس بات کا اعتراف ڈاکٹر صاحب بھی کرتے ہیں،
    ٭ سی طرح شیخ موصلی حنفی (۶۸۳ھ) امام ابویوسف سے نقل کرتے ہیں:
    ٭ شارح مشکوٰۃ مولانا نواب قطب الدین لکھتے ہیں:
    ٭ سید ابوالاعلی مودودی لکھتے ہیں:
    مذکورہ بالا تصریحات سے یہ واضح ہے کہ حقیقت ڈاکٹر صاحب کے تصورِ بدعت کے برعکس ہے۔ عمر بن خطا ب﷜ کے اس قول کو ایسے محل پر محمول کیا جائے گا جس سے ’’کل بدعة ضلالة‘‘ سے معارضت و مخالفت لازم نہ آئے اور وہ عمل یہ ہے کہ یہاں ’’بدعت‘‘ لغوی معنی میں مراد لی جائے گی اور یہی کبار آئمہ کا موقف ہے اور جو لوگ سیدنا عمرؓ کے اس ارشاد کو سامنے رکھ کر اپنی مروجہ بدعات کو ’حسنہ‘ کا لیبل دے کر ان کی ترویج و تشہیر چاہتے ہیں وہ درحقیقت ان حضرات گرامی پر بہت بڑا بہتان باندھتے ہیں اور یہ کہتے نہیں ڈرتے کہ معاذ اللہ صحابہ کرام رض بھی بدعتی تھے۔ العیاذ باﷲ
     
  2. ‏اپریل 22، 2012 #12
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    2۔اگر ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ﷜ کے قول’’نعمت البدعة ھذہ‘‘ سے بدعت حسنہ کا جواز ملتا ہے تو تب بھی یہ بات ناقابل تسلیم ہے اس لئے کہ پھر نبی کریمﷺ کی حدیث " کل بدعة ضلالة "سے اس قول کی معارضت لازم آئے گی اور یہ کسی لحاظ سے بھی جائز نہیں کہ کلام رسول اللہﷺ سے کسی دوسرے کی کلام کا معارضہ کیا جائے۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس رض فرماتے ہیں:
    ٭ اسی طرح امام شافعی رح فرماتے ہیں:
    لہٰذا ڈاکٹر صاحب کو چاہیے کہ وہ سنت رسولﷺ کے سامنے سرجھکا دیں اور خلیفہ راشد﷜ کے قول سے اپنی من مانی تعبیر کرکے حدیث رسولﷺ کی تردید مت کریں۔
    ٭ چنانچہ امام اہل السنہ والجماعۃ امام احمد بن حنبل رح فرماتے ہیں:
    بہرحال ہم تو اس بات کے متمنی ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اپنے آپ کو ہلاکت و بربادی سے بچائیں اور قول عمر بن خطاب ؓ سے بدعت حسنہ کا جواز پیدا کرنے کے بجائے حدیث رسولؐ کے سامنے گردن جھکا دیں۔ اس میں ہی ہم سب کی کامیابی مضمر ہے۔
     
  3. ‏اپریل 22، 2012 #13
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995


    3۔اگر اس کے باوجود ڈاکٹر صاحب عمر﷜ بن خطاب کے قول:’’نعمت البدعة ھذہ‘‘سے بدعت حسنہ کا جواز پیدا کرنے پر مصر ہیں تو پھر ڈاکٹر صاحب سے صرف اتنا پوچھنا چاہیں گے کہ آپ جلیل القدر صحابی عمر﷜ بن خطاب کے قول سے تو بدعت حسنہ کے جواز پر استدلال کررہے ہیں، لیکن ان کے جلیل القدر بیٹے عبداللہ بن عمر﷜ کے قول فیصل ’’کل بدعة ضلالة وإن رآھا الناس حسنۃ‘‘ کو کیوں پس پشت ڈال رہے ہیں حالانکہ یہاں ’حسنۃ‘ کے الفاظ بالکل صریح ہیں۔ أفتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 22، 2012 #14
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    4۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عمر﷜ بن خطاب کا باجماعت نمازِ تراویح کا اجراء کوئی نیا عمل نہیں تھا بلکہ وہ قولاً و فعلاً سنت رسولﷺ سے ثابت تھا، اس کے باوجود اگر ڈاکٹر صاحب بدعت حسنہ کے جواز کا فتویٰ صادر کریں گے تو ان کو اپنی تمام بدعات جن کو وہ حسنہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ حسنہ ہیں نہیں ان کو قولاً و فعلاً سنت رسولؐ سے ثابت کرنا پڑے گا بصورت دیگر بدعت حسنہ کے تصور کو ترک کرنا پڑے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 22، 2012 #15
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    قارئین کرام !

    جن دلائل کا جائزہ ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے یہ وہ دلائل تھے جو ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بدعت حسنہ کے جواز پر بنیادی و اَساسی حیثیت کے حامل تھے باقی دلائل کی حیثیت ثانوی سی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مذکورہ دلائل پر ہی باریک بینی سے تفکر و تدبر کرلیا جائے تو باقی دلائل کی حقیقت خود بخود واضح ہوجائے گی۔
    آخر میں ہم ڈاکٹر صاحب اور ان کے رفقاء و معتقدین سے یہی کہیں گے کہ ہوسکتا ہے ہماری تحقیق وجائزہ ڈاکٹر صاحب اور ان کے معتقدین کے لئے گراں باری خاطر کا باعث ہو، لیکن حق بہرحال حق ہے اور اس کی قیمت کا تقاضا یہی ہے کہ اسے ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ کئے بغیربرملا ظاہر کردیا جائے ہم میں سے ہر شخص کو ایک دن اس عدالت میں پیش ہونا ہے جہاں ہمارے وجود کا باطن ہمارے ظاہر سے زیادہ برہنہ ہوگا اور خود ہمارا وجود بھی صاف انکا رکردے گا کہ وہ اسے چھپائے۔ ہماری زبان اس روز بھی معنی و مفہوم کو لفظوں کا جامہ پہنا سکے گی، لیکن اس دن یہ جامہ کسی معنی کو چھپانے کی صلاحیت سے محروم ہوجائے گا ہمارے ہاتھ اور پاؤں اس روز بھی ہمارے وجود کا حصہ ہوں گے، لیکن ہمارے ہر حکم کی تعمیل سے قاصر ہوجائیں گے۔ حقیقت اپنی آخری حد تک بے نقاب ہوجائے گی اور ہم میں سے کوئی شخص اس روز اسے کسی تاویل اور توجیہہ کے پردوں میں چھپا نہ سکے گا اس سے پہلے کہ انتہائی عجز اور انتہائی بے بسی کا یہ عالم ہمارے لئے پیدا ہوجائے، بہتر یہی ہے کہ ہم حق اور صرف حق کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 30، 2013 #16
    مشوانی

    مشوانی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2012
    پیغامات:
    68
    موصول شکریہ جات:
    302
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    اللہ آپکو اور آپکے دوست احباب کو اپنے پسندیدہ لوگوں میں شامل کریں اور آپکو اونچا مقام عطا فرمائیں- آمین-
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 31، 2013 #17
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین
    آمین ثم آمین
     
  8. ‏اگست 25، 2013 #18
    افضال احمد

    افضال احمد مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    اسلام کوئی جامداور غیر متحرک دین نہیں بلکہ اسی دین کو تا قیام قیامت ہر زمانے کی پوری انسانی ضروریا ت سے ہم آہنگ ہونا ہے ۔اسی لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے جبکہ دین اپنی اصل میں مکمل ہو چکا ہے ، بنیادی عقائد ، حلال و حرام واضح ہو چکے ہے اور پھر دین و دنیا کی یکجائی کا اسلامی نظریہ ایک منفرد تصور ہےتو ایسے میں بدعت کاصحیح تصورکیا ہے ؟ ایک مثال سے اپنی بات کو واضح کروں گا۔ جان بچانا ظاہر ہے ایک بہت ہی مستحسن عمل ہے اور اسے ایک نیکی سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے تو اس کے لیے خون کا عطیہ دینابھی بدعت کہلائے گی؟؟ اگر یہ بدعت ہے تو آپ کے بقول ہر بدعت گمراہی اور اس کا انجما جہنم ہے تو اس صورت میںآپ کی رائے کیا ہو گی؟
     
  9. ‏اگست 25، 2013 #19
    ریحان احمد

    ریحان احمد مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2011
    پیغامات:
    267
    موصول شکریہ جات:
    709
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    کلیم بھائی اللہ آپ کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے۔ آمین ۔۔ جزاک اللہ خیرا
     
  10. ‏دسمبر 26، 2013 #20
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    جزاکم اللہ خیرا۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں