1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈبل الفاظ پرگر شد کا اعر باب نہ لگا ہو تو اس کا کیسے پتا چلتا ہے

'گرامر' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏جنوری 11، 2016۔

  1. ‏جنوری 11، 2016 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    کسی لفظ پر موجود شد سے پتا چلتا ہے کہ وہ ڈبل ہے۔اگر شد کا اعر باب نہ
    لگا ہو تو اس کا کیسے پتا چلتا ہے کے فلانہ لفظ ڈبل ہے(یعنی مدغم) اور فلانہ نہیں
    مثال کے طور پر مدّحقیقیت میں مدد سے بنا ہے
    دّ
     
  2. ‏جنوری 11، 2016 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    @جوش
    @عبدہ
    @اسحاق سلفی
     
  3. ‏جنوری 11، 2016 #3
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بھائی جان جو اہل زبان ہوتے ہیں انکو بغیر اعراب کے پہچان ہو جاتی ہے اسی طرح جو غیر زبان والے اسکی گرائمر اور لغت سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں انکو بھی بغیر اعراب کے پتا چل جاتا ہے البتہ عام آدمی اسکو سمجھ نہیں سکتا اسی لئے یہ اعراب کا معاملہ کیا جاتا ہے
    اب عربی میں چونکہ دو جملوں کے ملانے کے نحو کے اصولوں میں بھی اعراب کا سہارا لیا جاتا ہے اس لئے اس میں اعراب کی ضرورت زیادہ پڑتی ہے ورنہ حقیقتا یہ اعراب کا پتا ہونا ہر زبان میں اہم ہوتا ہے
    مثلا انگلش میں but کو "بَٹ" اور put کو "پُٹ" پڑھتے ہیں لیکن عام آدمی کو پہلے بٹ پڑھائیں تو آگے وہ پُٹ کو بھی اسی طرح پَٹ پڑھ دے گا
    اسی طرح اردو میں "موتی چور" اور "جوتی چور" کو دیکھیں بغیر اعراب لگائے دونوں میں صرف شروع کا حرف علیحدہ ہے باقی سب کچھ ایک جیسا ہے یعنی شروع میں میم اور جیم کا فرق ہے باقی سب ایک ہے اب ان دونوں کو ایک جیسا نہیں پڑھتے کہ بلکہ ایک کو مجہول پڑھتے ہیں یعنی مُوتی چور کو مجہول پڑھتے ہیں حالانکہ اعراب کوئی نہیں لگا اور جُوتی چور کو معروف پڑھتے ہیں
    یہاں یہ بھی یاد رہے کہ بعض دفعہ اعراب نہ لگا ہو تو ایک سے زیادہ اعراب کے احتمالات بھی ہو سکتے ہیں جسکو پھر آگے پیچھے سیاق و سباق سے متعین کیا جاتا ہے اور کبھی تو سیاق و سباق سے بھی متعین نہیں کیا جا سکتا تو اس وقت مطلق چھوڑ دیا جاتا ہے
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 11، 2016 #4
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    عبدہ بھائی مثلا کسی جگہ عربی تحریر میں مدّآجائے مجھے یہ بھی نہ معلوم ہو کے یہ مدد سے بنا ہے۔ تو کون سے قواعد سے میں اس کا پتا لگاؤ کے یہ مدد سے بنا ہے عربی مجھے آتی ہے۔
     
  5. ‏جنوری 11، 2016 #5
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بھائی میں نے اوپر مثال دی ہے کہ جسکو اردو آتی ہے وہ موتی چور اور جوتی چور میں فرق کر سکتا ہے پس جسکو عربی جتنی اچھی آتی ہو گی وہ اتنا ہی بہتر فرق کر سکے گا
    مد وغیرہ کا فرق سمجھنے کے لئے آپ کو مختلف چیزوں کا علم ہونا ضروری ہے مثلا ممکنہ مادے کون کونسے ہو سکتے ہیں وہ لفظ فعل اسم حرف میں سے کیا ہو سکتا ہے اسکا ممکنہ صیغہ کیا کیا ہو سکتا ہے پس اگر آپ کو میم اور دال سے بننے والے ممکنہ الفاظ اسنکے صیغے اور سیاق و سباق کے تحت نحو کے استعمال ہونے والے قواعد کا بہتر علم ہے تو آپ کو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہو گا کہ یہاں مد پہ شد کیوں پڑھنی ہے لیکن یاد رکھیں اسکے لئے کوئی ایک سادہ سا اصول نہیں ہے بلکہ اسکے لئے سارے اصولوں کا چوہے وہ صرف کے ہوں نحو کے ہوں یا وکیبولاری (لغت) کا معاملہ ہو اور پریکٹس ہو تو تب ہی یہ ہو سکتا ہے پس میں یا کوئی اور آپ کو ایک اصول نہیں بتا سکتے جو ہر جگہ آپ فٹ کر سکتے ہوں اسکے لئے میں آپکو بہتر (72) اصول بھی بتا دوں تو مکمل عبور حاصل نہیں کر سکتے
    اسکو میں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں اوپر میں نے تین جگہوں کو ہائیلائٹ کیا ہے جس میں بہتر لکھا ہوا ہے اب یہ لفظ بہتر (72) یعنی تا کے اوپر شد سے بھی پڑھا جا سکتا ہے اور بہتر یعنی تا کے اوپر زبر سے بھی پڑھا جا سکتا ہے پہلی دو جگہ یہ تا پہ زبر سے پڑھا جائے گا اور تیسری جگہ تا پہ شد سے پڑھا جائے گا
    اب آپ مجھے کوئی ایک قاعدہ بتا دیں کیونکہ آپ اردو تو جانتے ہی ہیں ذرا مجھے وہ قاعدہ بتا دیں جس سے ایک اردو سیکھنے والا یہ سمجھ جائے کہ تا پہ زبر کب پڑھیں گے اور شد کب پڑھیں گے جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 12، 2016 #6
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    عربی قواعد کا ماہر خود پتہ لگا لیتا ہے کہ اسے کیا پڑھا جائیگا خواہ شد ہو یا نہ ہو ۔ بسا اوقات کتابت کی غلطی بھی ہوجاتی ہے اسے بھی وہ قواعد کی رو سے صحیح کرلیتا ہے ۔لیکن جسے قواعد کا علم نہ ہو وہ صحیح کو بھی غلط پڑھتا ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں