1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

ڈیجیٹل علماء

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از فیاض ثاقب, ‏نومبر 25، 2016۔

  1. ‏نومبر 25، 2016 #1
    فیاض ثاقب

    فیاض ثاقب مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 30، 2016
    پیغامات:
    62
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    ڈیجیٹل علماء

    موبائل اور انٹرنیٹ کے کثرتِ استعمال نے علماء اور طلبہ کو کام چور اور کاہل بنا دیا ہے.
    اب نہ وہ ذوق مطالعہ رہا نہ کتب بینی کی پہلے جیسی طلب اور چاہت. وہ ہمارے اسلاف تھے کہ ایک ایک کتاب کےحصول کے لیے میلوں خاک چھانتے، شہر گاؤں سب ایک کر دیتے اور تب تک انہیں چین نہ ملتا جب تک اپنی مطلوبہ کتاب حاصل نہ کر لیتے اور اس کے مطالعہ سے اپنی علمی پیاس بجھا نہ لیتے.
    علم وعمل کا پہاڑ ہونے کے باوجود ان مخلص ہستیوں میں نہ تو کسی قسم کا غرور تھا نہ خودنمائی کا کوئی جذبہ تھا،
    تواضع کا یہ عالم کہ کبھی اپنے علم کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا.
    بڑے بڑے محدثین کو دیکھا گیا کہ اپنے اساتذہ کی جوتیاں سیدھی کر رہے ہیں، ان کے سامنے ادب و احترام کی مورت بنے ہوئے ہیں.
    یہ وہ اساطین علم وادب تھے کہ جنہوں نے پڑھنے لکھنے کو ہی زندگی کا مقصد بنا لیا.
    تاریخ میں جتنے بھی نامور محدثین ، مفسرین، فقہاء، صاحبان زبان وادب کے تذکرے ملتے ہیں ذرا ان کی زندگیوں کا جائزہ لیجیے مطالعہ ان کی زندگی کا لازمی عنصر اور کتابیں ان کا اوڑھنا بچھونا تھیں.

    اب ہر چیز ڈیجیٹل ہو چکی ہے.
    کتابیں بھی اور انہیں پڑھنے والے بھی،
    انسان بھی اور اس کا علم و استحضار بھی.
    اب ساری لگن، تڑپ، تشنگی ان الکٹرانک ڈیواسز کے لیے وقف ہو کر رہ گئیں.
    اب چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی متون کے حافظ نہیں ملتے.
    البتہ "مکتبہ شاملہ" سے سرچ کر کے مطلوبہ حدیث نکال کر فخر سے اپنے علم کی ڈفلی بجانے والے ہر گلی چوراہے پر تھوک کے بھاؤ مل جائیں گے.
    اب جلدی کوئی یہ کہنے والا نہیں ملتا کہ میں نے فلاں کتاب پڑھی ہے. البتہ فخر سے یہ کہنے والے ضرور مل جاتے ہیں کہ میرے موبائل میں فلاں کتاب بھی ہے.
    میرے لیپ ٹاپ میں فلاں سافٹویئر بھی ہے.
    شب بیداریاں اب بھی ہو رہی ہیں لیکن کتب بینی کے لیے نہیں بلکہ لا یعنی بے مقصد اور لاحاصل مناظرہ بازیوں کے لیے ہو رہی ہیں.

    ایک طرف ہمارے وہ اسلاف تھے کہ جو بیچارے اپنے علمی کاموں کے لیے وقت کی قلت کا رونا رویا کرتے تھے، اس کے بعد بھی امت کو ڈھیر سارا علمی ورثہ دے کر گئے،
    دوسری طرف ہم ہیں کہ ہمارے پاس وقت کی اتنی افراط اور بہتات ہے کہ ہم دن رات لا یعنی چیزوں میں "ٹائم پاس" کرتے رہتے ہیں.
    تکبروتعلی کا عالم یہ ہے کہ کوئی شخص خود کو علامہ دوراں اور مفتی زماں سے کم کہلانے پر راضی نہیں ہے.
    علم کی ایسی بے سروسامانی، مطالعے سے ایسا تنفر، علماء خیر کا ایسا قحط، کاغذی شیروں کی ایسی غراہٹ صدیوں سے نہیں دیکھی گئی.
    اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے.
    اور عوام کی کیا بات کی جائے وہ تو رسمی طور پر بھی اسلام کو اپنانے کے لئے تیار نہیں۔
    میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ،
    بلکہ اعتراف حقیقت اور احساس ذمہ داری بیدار کرنا ہے۔
    اللہ رب العزت ہمیں باعمل اور باکردار زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
    و اللہ الموفق والمعین ۔۔۔۔۔۔۔ !
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 25، 2016 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,551
    موصول شکریہ جات:
    5,193
    تمغے کے پوائنٹ:
    530

    چھاپہ خانہ کی ایجاد سے قبل ۔۔۔ کتابیں ”قلمی نسخوں“ کی شکل میں ہوا کرتیں تھیں۔ تب طالب علم حسول علم کے لئے ان قلمی نسخوں کے مصنفین یا وارثین کے پاس جا کر ان کتابوں کو خود نقل کیا کرتے تھے اور ”اپنے نسخے“ بقلم خود تیار کیا کرتے تھے۔ وہ بھی اس وقت جب ان کتب کے مصنفین اور وارثین اس کی اجازت دے دیں۔ پھر چھاپہ خانہ کی ایجاد کے بعد یہ سارے طالب علم اور علمائے کرام ’کام چور اور کاہل“ بن گئے۔ انہوں نے بازار سے کتب خرید خرید کر اپنے اپنے گھروں میں جمع کرلیں۔ اور جب چاہا بیٹھ کر اور لیٹ کر ان کتب کا مطالعہ فرمانے لگے
    پھر فوٹو اسٹیٹ مشین ایجاد ہوئی۔ اس نے بھی طلباء، علماء اور محققین کو مزید ”کام چور اور کاہل“ بنا دیا ۔ اب ان لوگوں نے کتب خریدنے کی بجائے ایک دوسرے سے کتب مانگ کر، کتب خانوں سے لے کر ان کے مطلوبہ اور مخصوص حصوں کی فوٹو کاپیاں بنوالیں۔ یوں اب انہیں پوری کی پوری کتاب پڑھنے کی بجائے مطلوبہ صفحات کے فوٹو اسٹیٹ کے مطالعہ سے ہی ضروری علم حاصل ہونے لگا۔
    پھر آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی سہولیات منظر عام پر آئیں تو طلباء بڑے بڑے علماء کے خطبات سننے کے لئے دور دراز کا سفر کرنے کی بجائے ان کی ریکارڈنگز منگوا کر سننے اور دیکھنے لگے۔ یوں مزید کاہل بنتے گئے۔
    اور اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے تو انہیں مزید کاہل بنادیا، اب طلباء اور علماء کے پاس کم سے کم وسائل میں اور کم سے کم جگہ پر زیادہ سے زیاد علمی مواد یکجا ہونے لگا۔ مطوبہ مواد جو پہلے مہینوں اور دنوں میں ”تلاش کیا جاتا تھا، اب منٹوں اور سیکنڈز میں تلاش کیا جانے لگا۔
    آنے والا دور مزید ٹیکنالوجی لائے گا۔ اور ٹیکنالوجی کو نہ سمجھنے والے، اس کا درست استعمال نہ جاننے والے، اسے برا بھلا کہتے رہیں گے۔ دنیا ترقی کرتی رہے گی۔ علم دین سمجھنا اور سمجھانا، ان ٹیکنالوجیز کی مدد سے آسان تر ہوتا جائے گا۔ جو نہیں سمجھین گے وہ معدوم ہوجائیں گے۔ اور اور جو ان پر عبور حاصل کرلیں گے، وہ ان شاء اللہ کامیاب ہوں گے
    واللہ اعلم بالصواب
     
    Last edited: ‏نومبر 25، 2016
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں