1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

کاش میں میلاد کو بدعت کہنے سے پہلے یہ پڑھ لیتا؟

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از اقبال ابن اقبال, ‏جنوری 27، 2013۔

  1. ‏جنوری 27، 2013 #1
    اقبال ابن اقبال

    اقبال ابن اقبال مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 12، 2012
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    ایک ہی دن وفات اور وہی دن ولادت کے بارے میں ذرا یہ حق پر مبنی تحقیق بھی پڑھ لیں


    [​IMG]


    (1) دلیل: حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہ متوفی 235ھ سند صحیح کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ عفان سے روایت ہے کہ وہ سعید بن مینا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما نے فرمایا کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عام الفیل میں بروز پیر بارہ ربیع اول کو ہوئی۔

    (بحوالہ: البدایہ والنہایہ جلد دوم صفحہ نمبر 302، بلوغ الامانی شرح الفتح الربانی جلد دوم صفحہ نمبر 189)

    (2) دلیل: محدث علامہ ابن جوزی متوفی 597ھ فرماتے ہیں۔ اس بات پر تمام متفق ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عام الفیل میں پیر کے روز ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی اور اس کے تاریخ میں اختلاف ہے اور اس بارے میں چار اقوال ہیں چوتھا قول یہ ہے کہ بارہ ربیع الاول شریف کو ولادت باسعادت ہوئی۔ (بحوالہ: صفۃ الصفوہ جلد اول صفحہ نمبر 22)

    (3) دلیل: حضرت جابر رضی اﷲ عنہ اور ابن عباس رضی اﷲ عنہ دونوں سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل روز دوشنبہ بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ اسی روز معراج ہوئی اور اسی روز ہجرت کی اور جمہور اہل اسلام کے نزدیک یہی تاریخ بارہ ربیع الاول مشہور ہے۔ (بحوالہ: سیرت ابن کثیر جلد اول صفحہ نمبر 199)

    (4) دلیل: امام ابن جریر طبری علیہ الرحمہ جوکہ مورخ ہیں، اپنی کتاب تاریخ طبری جلد دوم صفحہ نمبر 125 پر فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پیر کے دن ربیع الاول شریف کی بارہویں تاریخ کو عام الفیل میں ہوئی۔

    (5) دلیل: علامہ امام شہاب الدین قسطلانی شافعی شارح بخاری علیہ الرحمہ (متوفی 923ھ) فرماتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ دس ربیع الاول کو ولادت ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بارہ ربیع الاول کو ولادت ہوئی اور اسی پر اہل مکہ ولادت کے وقت اس جگہ کی زیارت کرتے ہیں اور مشہور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ربیع الاول بروز پیر کو پیدا ہوئے اور یہ ابن اسحق کا قول ہے (بحوالہ: المواہب اللدینہ مع زرقانی جلد اول صفحہ نمبر 247)

    (6) دلیل: علامہ امام محمد بن عبدالباقی زرقانی مالکی علیہ الرحمہ (متوفی 1122ھ) فرماتے ہیں (ربیع الاول ولادت) کا قول محمد بن اسحق بن یسار امام الغازی کا ہے اور اس کے علاوہ کا قول بھی ہے کہ ابن کثیر نے کہا۔ یہی جمہور کے نزدیک مشہور ہے۔ امام ابن جوزی اور ابن جزار نے اس پر اجماع نقل کیا ہے، اسی پر عمل ہے۔ (بحوالہ: زرقانی شریف شرح مواہب جلد اول صفحہ نمبر 248)

    (7) دلیل: علامہ امام نور الدین حلبی علیہ الرحمہ (متوفی 624ھ) فرماتے ہیں۔ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت بارہ ربیع الاول شریف کو ہوئی اس پر اجماع ہے اور اب اسی پر عمل ہے شہروں میں خصوصا اہل مکہ اسی دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی جگہ پر زیارت کے لئے آتے ہیں (بحوالہ: سیرت حلبیہ جلد اول صفحہ نمبر 57)

    (8) دلیل: علامہ امام قسطلانی وفاضل زرقانی رحمہم اﷲ فرماتے ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ربیع الاول بروز پیر کو پیدا ہوئے۔ امام المغازی محمد بن اسحق وغیرہ کا یہی قول ہے۔

    (9) دلیل: علامہ ابن خلدون علیہ الرحمہ جو علم تاریخ اور فلسفہ تاریخ میں امام تسلیم کئے جاتے ہیں بلکہ فلسفہ تاریخ کے موجد بھی یہی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت عام الفیل کو ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی۔ نوشیرواں کی حکمرانی کا چالیسواں سال تھا (بحوالہ: تاریخ ابن خلدون صفحہ نمبر 710 جلد دوم)

    (10) دلیل: مشہور سیرت نگار علامہ ابن ہشام (متوفی213ھ) عالم اسلام کے سب سے پہلے سیرت نگار امام محمد بن اسحق سے اپنی السیرۃ النبوۃ میں رقم طراز ہیں۔ حضور اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم سوموار بارہ ربیع الاول کو عام الفیل میں پیدا ہوئے (السیرۃ النبوۃ ابن ہشام جلد اول صفحہ نمبر 171)

    (11) دلیل: علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی فرماتے ہیں۔ واقعہ اصحاب فیل کے پچاس روز بعد اور آپ کے والد کے انتقال کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم بروز سوموار بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے (بحوالہ: اعلام النبوۃ صفحہ نمبر 192)

    (12) دلیل: امام الحافظ ابوالفتح محمد بن محمد بن عبداﷲ بن محمد بن یحییٰ بن سید الناس الشافعی الاندلسی اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔ ہمارے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کے روز بارہ ربیع الاول کو عام الفیل میں پیدا ہوئے (بحوالہ: عیون الاثر جلد اول صفحہ نمبر 26)

    (13) دلیل: گیارہویں صدی کے مجدد شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ خوب جان لو کہ جمہور اہل سیر وتواریخ کی یہ رائے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عام الفیل میں ہوئی اور یہ واقعہ فیل کے چالیس روز یا پچپن روز بعد اور یہ دوسرا قول سب اقوال سے زیادہ صحیح ہے۔ مشہور یہ ہے کہ ربیع الاول کا مہینہ تھا اور بارہ تاریخ تھی۔ بعض علماء نے اس قول پر اتفاق کا دعویٰ کیا ہے۔ یعنی سب علماء اس پر متفق ہیں (بحوالہ: مدارج النبوۃ جلد دوم صفحہ 15)

    (14) دلیل: امام محمد ابوزہرہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ علماء روایت کی ایک عظیم کثرت اس بات پر متفق ہے کہ یوم میلاد عام الفیل ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ ہے (بحوالہ: خاتم النبیین جلد اول صفحہ نمبر 115)

    (15) دلیل: چودھویں صدی کے مجدد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ سائل نے یہاں تاریخ سے سوال نہ کیا۔ اس میں اقوال بہت مختلف ہیں۔ دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس سات قول ہیں مگر اشہر و ماخوذ و معتبر بارہویں ہے۔ مکہ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ مکان مولد اقدس کی زیارت کرتے ہیں۔ کمافی المواہب والمدارج (جیسا کہ مواہب اللدنیہ اور مدارج النبوۃ میں ہے) اور خاص اس مکان جنت نشان میں اس تاریخ مجلس میلاد مقدس ہوتی ہے (فتاویٰ رضویہ)

    غیر مقلدین اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب سید محمد صدیق حسن خان نے اپنی کتاب میں میلاد کی تاریخ بارہ ربیع الاول تحریر کی ہے
    کتاب کا عکس
    [​IMG]


    16) دلیل: دور حاضر کے سیرت نگار محمد الصادق ابراہیم عرجون، جو جامعہ ازہر مصر کے کلیۃ اصول الدین کے عمید رہے ہیں، اپنی کتاب ’’محمد رسول اﷲ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔ کثیر التعداد ذرائع سے یہ بات صیح ثابت ہوچکی ہے کہ حضور اکرمﷺ بروز دوشنبہ بارہ ربیع الاول عام الفیل کسریٰ نوشیروان کے عہد حکومت میں تولد ہوئے اور ان علماء کے نزدیک جو مختلف سمتوں کی آپس میں تطبیق کرتے ہیں۔ انہوں نے عیسوی تاریخ میں 20 اگست 570ھ بیان کی ہے (بحوالہ: محمد رسول اﷲ جلد اول صفحہ نمبر 102)

    دیوبندی فرقے کے پیشوا مفتی محمد شفیع نے اپنی کتاب میں میلاد کی تاریخ بارہ ربیع الاول تحریر کی

    کتاب کا عکس ملاحظہ فرمائیں


    [​IMG]


    شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی جن کو اشرف علی تھانوی صاحب نے اپنا بزرگ لکھا
    اپنی کتاب میں ولادت کی تاریخ بارہ ربیع الاول تحریر کی

    [​IMG]
     
  2. ‏جنوری 27، 2013 #2
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]
     
  3. ‏جنوری 27، 2013 #3
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239


    آئینہ انکو دکھایا تو برا مان گئے ۔۔۔۔۔

    سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بنی اسرائیل کے 72فرقے تھے اور میری امت 73فرقوں میں بٹ جائے گی وہ تمام کے تمام جہنم میں جائیں گے ماسوائے ایک کے ﴿وہ ایک جنت میں جائے گا ﴾آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ فرقہ کونسا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۛۛماانا علیہ واصحابی وہ ایسا گروہ ہے جس کے اعمال اسطرح ہونگے جیسے میرے اور میرے صحابہ کے ہیں ﴿ترمذی الحدیث 2641﴾ عزیز بھائیوۛہم حنفی علماء سے پوچھتے ہیں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے ﴿جو جنتی ہیں ﴾کیا جشن عید میلاد النبی منایا یا نہیں؟ ﴿١﴾ حنفی علماء لکھتے ہیں جشن عید میلاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں؛اس جماعت کے بہت بڑے مفتی احمد یار خان نعیمی گجراتی اپنی کتاب جاء الحق ﴿صفحہ :243﴾میں محفل میلاد کی بحث میں امام سخاوی کا قول نقل کرتے ہیں ۔کہ میلاد تینوں زمانوں ﴿عہد نبوی،عہد صحابہ اور عہد تابعین ﴾ مین سے کسی نے نہیں کیا بعد میں ایجاد ہوا۔ ﴿۳﴾حنفی مولوی لکھتے ہیں جشن میلاد خلفائے راشدین سے ثابت نہیں ؛علامہ صدیق ہزاروی شیخ الحدیث جامعہ ہجویریہ بھاٹی دربار لکھتے ہیں خلفائے راشدین میں سے پہلے دو ﴿ابوبکر و عمر﴾کا زمانہ جہاد اور اسلامی حکومت کے قیام کا دور تھا جب کے تیسرے اور چوتھے خلیفہ ﴿عثمان و علی ﴾کا دور حکومت فتنہ و فساد کا زمانہ تھا اس لیے انکی کامل توجہ ان امور کی طرف رہی اور جشن میلاد کی طرف زیادہ توجہ نہ ہوسکی ۔﴿رسائل میلاد حبیب صفحہ :13﴾ ﴿۳﴾ حنفی مولوی لکھتے ہیں جشن میلاد کسی صحابی اور تابعی سے ثابت نہیں؛ مولوی عالم آسی امرتسری اپنی کتاب الارشاد الی مباحث المیلاد کی ابتداء یوں کرتے ہیں ؛اس میں شک نہیں کہ مجالس میلاد جو موجودہ صورت میں پیش کی جاتی ہیں یا جس طرز پر آج کل جریدہ ایمان پیش کر رہا ہے نہ عہد رسالت میں موجود تھیں اور نہ عہد صحابہ میں اس کا ثبوت ملتا ہے اور نہ ہی بعد میں کئی صدیوں تک اس کا نشان آتا ہے ۔۔﴿رسائل میلاد حبیب صفحہ :112مرتبہ صلاح الدین سعیدی بریلوی﴾

    ﴿۴﴾جشن عید میلاد سلف صالحین سے ثابت نہیں ؛مولوی غلام رسول سعیدی شیخ الحدیث جامعہ نعیمیہ کراچی مفسر قرآن ،جنہوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی شرح بھی لکھی ہے۔اپنی کتاب شرح صحیح مسلم میں رقمطراز ہیں ؛گزارش یہ ہے کہ سلف صالحین یعنی صحابہ و تابعین نے محافل میلاد منعقد نہیں کیں بجا ہے۔لیکن صحابہ و تابعین نے اس فعل سے منع بھی تو نہیں کیا۔﴿شرح صحیح مسلم 2/179طبع فرید بک سٹال لاہور﴾قارءین دیکھیے کہ بریلوی شیخ الحدیث نے اس بات کا اقرار کیا کہ یہ میلاد النبی کسی صحابی و تابعی نے نہیں مناءی پھر آگے کہا کہ اس سے منع بھی نہیں کیا تو وہ منع تو تب کرتے کہ جب یہ کام انکی زندگی میں موجود ہوتا جب یہ کام انکی زندگی میں ہوا ہی نہیں جیسا کہ آپ تسلیم کر بھی رہے ہیں تو وہ منع کیسے کرتے اگر آپ اسی بات کو دلیل بناتے ہیں اس طرح تو شیعوں کی اذان بھی درست ہوئی کیونکہ صحابہ نے تو اس سے بھی منع بھی نہیں کیا۔عید سے پہلے اذان اور اقامت سے بھی منع نہیں کیا گیا تو کیا یہ جائز ہوجائیں گی جبکہ اسے تو کوئی بھی جائز نہیں کہتا

    اب ذرا غور کریں کہ حنفی علماء نے کتنی وضاحت کے ساتھ لکھ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ،تابعین اور اءمہ اربعہ کے دور میں اسکا نہ وجود تھا اور نہ ہی انہوں نے منایا تھا۔تو اگر وہ بغیر منائے جنت میں جاسکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں ؟ِنیز آج کل تو مشہور ہے کہ سوائے ابلیس کے اس جہاں میں سبھی تو خوشیاں منارہے ہیں ذرا غور کریں کہ یہ کتنا خوفناک جملہ ہے کیونکہ بریلوی علماء کے حتمی فیصلہ کے مطابق صحابہ ،تابعین،اءمہ،محدثین اور نبی علیہ السلام نے تو جشن نہیں منایا تو کیا نعوذباللہ ہم ان بزرگ ہستیوں کو بھی ابلیس ہی سمجھیں گے استغفراللہ نعوذباللہ ثم نعوذباللہ اے مسلمان ذرا غور کر کہ تیرا یہ کلمہ کس قدر توہین نبی علیہ السلام اور توہین صحابہ و ائمہ پر مبنی ہے

    ﴿۵﴾جشن میلاد غیر مسلموں کی تقلید ہے؛حنفی عالم لکھتے ہیں کہ غیر اقوام﴿عیسائی،شیعہ﴾کے میل جول نے انہیں اس امر کی طرف مجبور کیا کہ جس طرح وہ لوگ ﴿عیسائی ،شیعہ﴾ اپنے اسلاف کی یاد گاریں قائم کرتے تھے اس طرح مسلمان بھی اسلامی شان و شوکت ظاہر کرنے کے لیے مجبور ہوگئے کہ وہ بھی ایام اللہ منانے میں کوشش کریں ﴿رسائل میلاد حبیب ص113﴾اگر انہی کے طریقے پر چلنا ہے میلادیوں نے تو ہندوؤں ،سکھوں ،مجوسیوں اور باقی تمام کے طریقے بھی اپناؤ۔جبکہ پیارے نبی علیہ السلام نے تو فرمایا ہے کہ جو جس قوم کی مشابہت کرے گا اسی کے ساتھ اسکا حشر ہوگا تو کیا یہ آپ بھی اپنا حشر عیسائی و شیعہ اقوام کے ساتھ کروانا چاہتے ہیں اگر نہیں تو خدارا اس بدعت سے اجتناب کیجیے اور دوسروں کو بھی سمجھاءیں ﴿6﴾جشن عید میلاد بدعت ہے؛فرقہ بریلویہ کے امام احمد رضا بریلوی کے خلیفہ مولوی عبدالسمیع رامپوری لکھتے ہیں یہ سامان فرحت و سرور عینی خوشی اور وہ بھی مخصوص مہینے ربیع الاول کے ساتھ اور اس خاص وہی بارہواں دن میلاد شریف کا معین کرنا بعد میں ہوا یعنی چھٹی صدی کے آخر میں ہوا ﴿انوار ساطعہ ص159﴾الشیخ تاج الدین عمر بن علی الفاکہانی سے سوال ہوا تو جواب دیتے ہیں ؛میں کتاب و سنت میں اس میلاد کا کوئی اصل نہیں جانتا اور علمائے امت جوکہ دین میں نمونہ اور متقمین ﴿صحابہ و تابعین﴾ کے آثار کو تھامنے والے تھے ان میں سے کسی ایک سے بھجی اس کا عمل منقول نہیں بلکہ یہ بدعت ہے باطل پرست،نفسانی خواہشات کے خوگر اور پیٹ پرستوں نے گھڑا ہے۔﴿الحآوی للفتاوی :191.190/1.﴾

    ایک عربی عالم علامہ ڈاکٹر سید محد علوی نےمالکی نے کتابچہ لکھا جسن عید میلاد النبی علیہ السلام کے نام پر اور اس کا ترجمہ کیا علامہ یاسیناختر مصباح اعظمی﴿بھارت﴾نے اس کے پہلے صفحہ پر ہی لکھا ہے؛کسی ایک ہی مخصوص شب میں جلسہ میلاد مذکورہ کو ہم سنت نہیں کہتے بلکہ جو اس کا اعتقاد رکھے اس نے دین میں ایک نئی بات پیدا کی۔﴿رسائل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص212،مکتبہ صلاح الدین سعیدی بریلوی﴾ اسی طرح یہ سب باتیں سننے کے بعد اگر کوئی کم عقل یہ اعتراض کرے کہ آپ بھی تو اسپیکر،لائٹ ،گاڑیاں وغیرہ استعمال کرتے ہو جو کہ نبی علیہ السلام کے زمانے میں نہ تھیں تو اس گروہ کے امام احمد رضا خان صاحب بریلوی کہتے ہیں لبدعت و ضلالت وہی ہے جو بات دین میں نئی پیدا ہو اور دنیوی رسوم و عادات پر حکم بدعت نہیں ہوسکتا مثلاپہننا،پلاؤ کھانا یا دولہا کو جامہ پہنانا،دلہن کو پالکی میں بٹھانا،اسی طرح سہرا کہ اسے بھی کوئی دینی بات سمجھ کر نہیں کیا جاتا نہ ہی بغرض ثواب کیا جاتا ہے بلکہ سب اسے ایک رسم جان کر ہی کرتے ہیں ،ہاں اگر کوئی جاہل اجہل ایسا ہو کہ اسے دینی بات جانے تو اس کی اس بیہودہ سمجھ پر اعتراض صحیح ہے،﴿فتاوی رضویہ 23/320جامعہ نظامیہ لاہور﴾ لہذا آج کل بریلویت کا ضروریات زندگی کے استعمال پر اعتراض کرنا جہالت او ر بیہودہ سمجھ ہے ۔ڈاکٹر طاہر القادری اس بدعت کو عید کہتے ہوئے اس کی حیثیت بتاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ جشن عید میلاد النبی عید مسرت ہے نہ ہم اسے عید شرعی سمجھتے ہیں ﴿میلاد النبی علیہ السلام ۔ص757﴾ تو ہمارا سوال ہے کہ اگر آپ اسے عید شرعی نہیں سمجھتے تو اس کے نہ منانے والوں کو ابلیس کیوں کہتے ہیں کیوں انہیں گستاخ ہونے کے طعنے دیتے ہیں خدارا کچھ تو شرم کیجیے ۔۔۔۔

    (7)کیا حقیقی عید میں اختلاف ممکن ہے ؟;;ان سب باتوں کے بعد یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آخر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ میں مسلمان متفق کیوں نہیں ِ کوئی 9 ربیع الاول بتاتا ہے تو کوئی 12 ربیع الاول بلکہ پیر عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ جن کے نام کی ہر ماہ گیارہویں کھائی جاتی ہے وہ اپنی کتاب غنیة الطالبین ﴿2/55﴾ پر لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیداءش کی تاریخ 10محرم نقل کی ہے احد رضآ خان بریلوی نے سات اقوال نقل کیے ہیں ﴿فتاوی رضویہ :2/411﴾حافظ ابن عبدالبر نے 2 ربیع الاول لکھی ہے اور زبیر بن بکار نے 12رمضان ولادت تسلیم کی ہے ۔﴿الاتیعابلابن البر :1/30﴾ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے 8 ربیع الاول کو رسولا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن قرار دیا ہے۔﴿ما ثبت بالسنہ ص:57از شیخ عبدالحق محدث دہلوی﴾ ابو جعفر محمد بن علی رحمہ اللہ نے پیارے پیغمبر علیہ السلام کی پیدائش 10ربیع الاول بتائی ہے ﴿طبقات ابن سعد :100/1﴾یعنی اس بارے مسلمانوں کا اختلاف کثیر ہے حتی کہ احناف خود بھی اس بارے متفق نہیں لیکن پھر بھی اسے عید کہ رہے ہیں انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے

    (8)بارہ ربیع الاول خوشی کا دن یا۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؛؛؛ اسی طرح ربیع الاول جس دن خوشیاں اور رنگ رلیاں مناءی جاتی ہیں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ دن تاریخ اسلامی میں خوشی کا ہے یا غمی کا بریلویوں کے امام احمد رضا خان بریلوی نے بارہ ربیع الاول کو نبی علیہ السلام کی وفات کا دن تسلیم کیا ہے ۔﴿ملفوظات،ص:252،طبع مشتاق بک کارنر لاہور،فتاوی رضویہ :415/2﴾اور اسی بات کے متعلق ڈاکٹر طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں ؛جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا دن بھی تھا سرکار دو جہاں اپنے خالق حقیقی سے جاملے تو صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر غم و آلام کا ایک کوہ گراں ٹوٹ گیا۔ اس لیے جب بھی انکی زندگی میں بارہ ربیع الاول کا دن آتا تو وصال کے صدمے تلے ولادت کی خوشی دب جاتی اور جدائی کا غم آتا تو خوشی و غم کی کیفیتیں مل جاتیں اور صحابہ اکرام وصال محبوب کو اد کر کے صدمہ زدہ دلوں کے ساتھ خوشی کا اظہار نہ کر سکتے تھے تو وہ ولادت کی خوشی مناتے نہ وصال کے غم میں افسردہ ہوتے ﴿میلاد النبی :454,453﴾

    قارءین غور فرمائیے کہ قادری صاحب اور احمد رضا خان نے اقرار کیا ہے کہ بارہ ربیع الاول کو صحابہ غمگین تھے لیکن افسوس صد افسوس آج بریلویت صحابی کے برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر خوشیاں منا رہی ہے اب سچیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقے پر عمل کرنا ہے یا من گھڑت نظریے پرِہم نے نبی علیہ السلام و صحابہ کے ساتھ جنت میں جانا ہے یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے نبی و صحابہ کرام کا ساتھ دیتے ہوءے فرقہ ناجیہ ﴿جسکے جنتی ہونے کی بشارت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ﴾ میں شامل ہونا ہے یا باقی 72فرقوں میں ۔۔محترم قارئین اگر ہم نے ان دلائل و گھر کی گواہیوں کو پڑھ کر بھی اس عمل سے باز نہ آئے تو یاد رکھنا ہر وہ عمل جو بعد کی پیداوار ہو اور اسے دین کا حصہ بنا دیا جائے بالاتفاق بدعت اور حرام کے زمرے میں آتا ہے نبی علیہ السلام نے فرمایا ﴿من احدث فی امرنا ما لیس منہ فھو رد﴾بخاری؛2697کہ جس نے کوئی ایسا عمل ہمارے دین میں کیا جو اس میں نہیں تھا وہ مردود ہے ۔۔امام بغوی رحمہ اللہ نے اسے یوں روایت کیا ہے ﴿من احدث فی دیننا ما لیس منہ فھو رد﴾باب رد البدعوالھوا:103۔۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالی بدعتی آدمی کی اس وقت تک توبہ قبول نہیں کرتا جب تک وہ بدعت کو چھوڑ نہیں دیتا ۔۔اور اللہ نے فرمایا اور جو ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے گا اور مومنوں کے علاوہ دوسرے رستے کی پیروی کرے گا تو ہم اسے اس طرف پھیر دیں گے جدھر وہ پھرے گا اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے ۔۔اس لیے اے مسلمان بدعت کو چھوڑ دے اور سنت کو اپنا اگر اپنی کامیابی چاہتا ہے اللہ ہمیں صحیح معنوں میں مسلمان بنائے اور بدعات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 13
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 27، 2013 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,866
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    سمجھ نہیں آتی ایک غیر شرعی اور بدعتی عمل کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے، اور اس بدعتی عمل کے لیے علماء کو کیوں دلیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اگر چہ آپ نےمحمد بن عبدالوہاب، امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم جوزی وغیرہ کو ہمارے لیے دلیل بنا کر پیش کیا ہے تو سن لیں کہ:
    ہمارے لیے حجت قرآن و حدیث ہے، قرآن و حدیث پر ہم اسی طرح عمل کرنا چاہتے ہیں جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین نے کیا۔
    اگر آپ ان علماء کے اقوال کو اپنے لیے دلیل بناتے ہیں تو سن لیں کہ:
    یہ علماء کرام موحد تھے اور انہوں نے اپنی زندگی توحید کی دعوت دینے میں گزاری، اگر آپ کو محمد بن عبدالوہاب کے اقوال میلاد کے بارے میں اتنے ہی پسند ہیں تو سنیے کہ دین اسلام کا بنیاد عقیدہ توحید ہے تو پہلے عقیدہ توحید کے بارے میں ان کی پیش کی گئی دعوت کو مانیں۔

    سوچنے کی بات ہے کہ چلو بحث کے طور پر مان لیں کہ 12 ربیع الاول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن ہے، تو یہ دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کتنی بار آیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کی زندگی میں کتنی بار آیا، تابعین، تبع تابعین کی زندگی میں کتنی بار آیا، اگر انہوں نے یہ دن نہیں منایا، اس دن کو عید نہیں مانا، جلوس نہیں نکالے، نعرے نہیں مارے، تو کیا یہ سارے غلط تھے، کیا یہ سارے محروم لوگ تھے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیا جواز رہ جاتا ہے میلاد کا دن منانے کا؟
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کی اہمیت تھی تو قرآن نے واضح کر کے بیان کر دیا ہے، میلاد منانا کوئی اہم نہیں تھا نہ ہی یہ کوئی ثواب کا کام تھا اسی لیے یہ دین اسلام میں نہیں ہے، اللہ تعالیٰ بریلویوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 10
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 28، 2013 #5
    اقبال ابن اقبال

    اقبال ابن اقبال مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 12، 2012
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    غیرمقلدین(اہلحدیث) فرقے سے ہمارے سوالات

    محترم حضرات! غیر مقلدین (اہلحدیث) فرقے کے نزدیک جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا اس لئے بدعت ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان نے نہیں منایا۔ ہمارے سوالات ان سے یہ ہیں کہ جو کام دن رات غیر مقلدین (اہلحدیث) فرقے کے علماء اور عوام کرتے ہیں، وہ کام بھی تو کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے نہیں کئے۔
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے تین دن مقرر کرکے اجتماع کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے توہین رسالت کے خلاف جھنڈوں سمیت جلوس نکالا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے اپنے نام کے ساتھ سلفی، محمدی اور اہلحدیث لکھا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے اہلحدیث کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے عظیم الشان تقریب ختم بخاری کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے کسان کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے جہاد فی سبیل اﷲ کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے حرمتِ رسول کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے حرمتِ رسول کے جلوس نکالے ؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے شہداء کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے تحفظ بیت المقدس کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے تحفظ قبلہ اول کے نام پر جلوس نکالے؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے سالانہ دعوت توحید و تجدید عزم کنونشن کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے فتح مکہ کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے مجاہد کسان کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے علماء سیمینار کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے وارثانِ انبیاء کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے تفسیر دعوت القرآن کی تعارفی تقریب منعقد کی؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے ہرسال قرآن و حدیث کانفرنس کا دن مقرر کرکے انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے ہر سال شانِ رسالت کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے احترام رمضان کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے تربیت حج کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے اپنے مرحومین کی طرف سے قربانی کا اشتہار دیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے مساجد کے افتتاح پر وقت مقرر کرکے تقریب منعقد کی اور پھر کھانا کھلایا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے خواتین کا تبلیغی و اصلاحی اجتماع منعقد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے نئے اسلامی سال کے موقع پر ہر سال مبارکباد پیش کی؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے علماء کانفرنس کا انعقاد کیا؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے اپنے جامعہ میں محرام الحرام کے خطبات کئے؟
    ٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اپنے نام کے ساتھ حافظ، سلفی، محمدی اور اہلحدیث لکھا؟
    اس کے علاوہ بھی کئی ایسے کام ہیں جو کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون نے نہیں کئے مگر پوری اہلحدیث قوم ان کاموں کو شایان شان طریقے سے سرانجام دیتی ہے اور کروڑوں، اربوں روپے اس پر خرچ کرتی ہے۔ اب ان کے مرکزی رہنمائوں کے فتوے کے مطابق یہ تمام کام بدعت نہیں ہوئے؟ … جواب دو…!!!
    اور اپنے کارناموں کو صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون کے عمل سے ثابت کرو…!!!
     
  6. ‏جنوری 28، 2013 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,393
    موصول شکریہ جات:
    25,970
    تمغے کے پوائنٹ:
    981

    محترم جناب امید ہے کامل خیریت کے ساتھ ہونگے۔
    جب آپ یہی سوالات اس تھریڈ ’’ کڑوی تحریر کا مجموعہ ‘‘ میں پہلے ہی پوسٹ کرچکے تھے اور اس پر فورم کے معزز رکن ’’ Muhammad Waqas ‘‘ بھائی نے اس پوسٹ میں کومنٹ بھی دے دیا تھا۔ تو پھر اس تھریڈ میں دوبارہ پوسٹ کرنے کی زحمت کیوں کی ؟ آپ کی اسی حرکت سے تنگ آکر اردو مجلس کے منتظم اعلیٰ نے ان الفاظ میں آپ کو تنبیہ بھی کی تھی
    اورہماری طرف سے بھی یہی تنبیہ قبول فرماتے ہوئے احیتاط کادامن پکڑیں۔ شکریہ
     
  7. ‏جنوری 28، 2013 #7
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,443
    موصول شکریہ جات:
    6,004
    تمغے کے پوائنٹ:
    407

    ﺍﮨﻞ ﺑﺪﻋﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺪﻋﺎﺕ ﮐﮯ
    ﺛﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ
    ﻭﮦ ﺍِﻧﮭﯿﮟ ﺑﮯ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﻮﭨﻠﯽ
    ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
    ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ
    ﻏﯿﺮ ﺷﺮﯾﻌﯽ ﻋﯿﺪ
    ﺍﻭﺭ ﻋﻈﯿﻢ ﺑﺪﻋﺖ ﮐﻮ ﺳﻨﺖ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ
    ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻋﺘﺮﺍﺿﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ
    ﺍﯾﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﮟ ﮔﯿﮟ ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ۔
    ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ
     
  8. ‏جنوری 28، 2013 #8
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,603
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    اقبال ابن اقبال صاحب نے میلاد النبیﷺ منانے کے اثبات پر شیخ عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب کی کتاب کا جو حوالہ دیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
    "فإذا كان هذا أبو لهب الكافر الذي نزل القرآن بذمه جوزي بفرحه ليلة مولد النبي به فما حال المسلم الموحد من أمته يسر بمولده" مختصر سیرۃ الرسول : ص 20
    اس عبارت میں یہ الفاظ قابل غور ہیں:
    ’’فما حال المسلم الموحد من أمته يسر بمولده‘‘
    آپ نے جس کتاب کا حوالہ دیا ہے اس میں اس عبارت کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے:
    اب یہاں پر ’یسر بمولدہ‘ کا ترجمہ ’جو میلاد النبیﷺ کی خوشی منائے‘ کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔
    اس عبارت کا درست ترجمہ یہ ہے :
    آپﷺ کی ولادت پر خوش ہونا اور میلاد النبیﷺ منانا دو الگ چیزیں ہیں۔ آپ مجھے بتائیے کون سا ایسا مسلمان ہے جس کو آپﷺ کی ولادت کی خوشی نہیں ہے۔ ہمارے لیے نبی کریمﷺ کی ولادت پر خوش ہونا ایک فطری چیز ہے۔ لیکن نبی کریمﷺ کا میلاد منانے اور اس سلسلہ میں ہر سال محافل کے انعقاد کے لیے شرعی دلیل کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے پاس اس کی ٹھوس دلیل ہے تو وہ دیجئے۔ ترجمہ میں ہیر پھیر کر کے کوئی چیز ثابت نہیں کیا جا سکتی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 14
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 28، 2013 #9
    مشہودخان

    مشہودخان مبتدی
    جگہ:
    جے پور
    شمولیت:
    ‏جنوری 12، 2013
    پیغامات:
    48
    موصول شکریہ جات:
    95
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    اقبال بھائی اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ کو یہ سب نہیں لکھنا چاہیے تھا
     
  10. ‏جنوری 28، 2013 #10
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,904
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    اب رحم کی دعا مانگنے کا کیا فائدہ اب تو علمی اور مدلل تحریر کا پول کھل چکا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں