1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کالے جادو اور سفلی عمل پر خصوصی رپورٹ

'سحر و جادو' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏فروری 02، 2013۔

  1. ‏فروری 02، 2013 #1
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    کالے جادو اور سفلی عمل پر خصوصی رپورٹ


    کالی مائی بھینٹ مانگتی ہے

    کالے جادو اور سفلی عمل میں کیا فرق ہے؟ شیطانی عمل کے لئے کتنی پستی میں گرنا پڑتا ہے؟ منتر-تنتر کی پر اسرار دنیا پر خصوصی رپورٹ
    رپورٹ : ندیم محمود


    کوئی دس برس پرانا واقعہ ہے. خانیوا ل کی کھوکھراپار کا لونی نمبر ٣ مولوی خلیل نامی ایک عامل نے اپنے زیر علاج ایک شخص سے یہ کہہ کر آٹھ نو ماہ کا بچہ ذبح کرا دیا تھا کہ تم پر کالی مائی کا جادو کرایا گیا ہے لہٰذا اس کے توڑ کے لئے انسانی بھینٹ ضروری ہے. بعد میں عامل اپنے مریض سمیت گرفتار ہوگیا تھا. یہ واقعہ اس وقت اخبار کی شہ سرخیاں بنا تھا. "سید اعجاز شاہ ہمیں یہ واقعہ سناتے ہوئے مریضوں کو بھی نمٹاتے جا رہے تھے. کسی کو پڑھا ہوا پانی دیتے اور کسی کو تعویز، نارتھ کراچی سیکٹر ٣ کے ایک چھوٹے مکان میں مقیم شاہ جی کے پاس لوگوں کا تانتا بندھا ہوا تھا.کوئی اپنے کاروبار کی بندش کا رونا رو رہا تھا تو کسی کو اپنے عزیز وں سے شکوہ تھا کہ جن کے تعویز گنڈوں نے اسے قبر کے دھانے پہنچا دیا تھا.

    جب وہ سزا دینے کے لئے ہمیں ایک کمرے میں بند کر دیتا تھا تو کوئی نادیدہ قوت ہمیں لاتیں، گھونسے مارتی اس نے کئی بار یہ شعبدہ بھی دکھایا کہ موم بتی خود بخود جل اٹھی. نوجوان روبینہ ماضی کی راکھ کو کریدتے ہوئے آہستہ آہستہ بول رہی تھی. تین برس پہلے وہ میڈیا اور عوام کے لئے اجنبی نہیں تھی جب رینجز نے اسے اورنگی ٹاؤن کے ایک قبرستان کے نزدیک ایک عامل نثار کے ہمراہ پکڑا تھا. اس کے شاپنگ بیگ سے پانچ ماہ کا حمل برآمد ہوا تھا جسے وہ دفنانے جا رہی تھے. پھر دونوں سلاخوں کے پیچھے چلے گئے. کئی روز یہ واقعہ فالواپ کے طور پر اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا میں جگہ پتا رہا. (اس کا تفصیلی ذکر آگے چل کر کیا جائیگا)

    جادو ٹونہ اور تعویز گنڈے ہمارے معاشرے میں کوئی نئی چیز نہیں لیکن آج کل یہ معاملہ کچھ زیادہ ہی زوروں پر ہے.جادو کا ذکر قرآن پاک میں بھی ملتا ہے اور احادیث سے بھی ثابت ہے. اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی شہر میں اس پائے کے جادوگر ، عامل یا سفلی گر موجود ہیں جو اپنے عملیات اور تنتر منتر کے زور پر نفرت کو محبت اور محبت کو نفرت میں بدل دیتے ہیں؟ کاروبار کو باندھ کر انسان کو کوڑی کوڑی کا محتاج بنا دیتا ہیں؟ طلاقیں دلواکر ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیتے ہیں؟ تالوں پر منتر پڑھ کر دماغ مقفل کر دیتے ہیں؟، خواتین کو شیطانی عمل کے ذریعے ہر جائز اور ناجائز کام پر راضی کر لیتے ہیں؟ اور یہ کہ سفلی عمل کے بعض عملیات میں واقعی انسانی بھینٹ دینا ضروری ہوتی ہے؟ جس کے نام پر گزشتہ دو تین ماہ کے عرصہ میں چارالمناک واقعات ہوئے جس میں باپ نے بیٹیوں اور بیٹے نے باپ کو ہلاک کر ڈالا. ذہن میں پیدا ہونے والے یہی سوالات ہمیں جادو ٹونے اور عاملوں کی پراسرار اور حیرت انگیز دنیا میں لے گئے. البتہ رپورٹ کی تیاری کے دوران ادراک ہوا کہ اس گورکھ دھندے کو سمجھنے کے لئے برسوں کا عرصہ چاہئے. سب سے بڑا مسلہ سفلی اور کالے جادو کے حقیقی عاملوں سے رابطے کا رہا کیونکہ کالے جادو کا کوئی بھی ماہر یا سفلی گر خود کو ظاہر نہیں کرتا البتہ شعبدے بازوں سے سارا شہر بھرا پڑا ہے. ہم اپنے دوستوں کے توسط سے کالا اور سفید علم کرنے ، سیکھنے اور اس کی کاٹ کے ماہروں کے علاوہ چند ایسے افراد سے بھی ملاقات جو کسی نہ کسی طور پر جادو ٹونے سے وابستہ رہے لہٰذا پہلے اس بنیادی معلومات کا ذکر کرتے چلیں جو ان افراد سے حاصل ہوئی.

    کتابی چلے اور منتر جنتر
    کالے جادو ،سفلی عمل یا روحانی چلوں کے حوالے سے مارکیٹ میں سینکڑوں کتابیں دستیاب ہے. ان میں سے کئی سو، ڈیڑھ سو سالہ قدیم بھی ہیں جنہیں ری پرنٹنگ کر کے مارکیٹ میں لایا گیا. جادو ٹونے کے عملیات کے مطابق ان کتابوں کی کم سے کم قیمت ٢٥ روپے اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سے دو سو روپے تک ہے تاہم عاملوں اور سفلی گروں کے مطابق کتابوں میں جو چلے اور عمل بیان کئے جاتے ہیں ان میں کوئی ایک آدھ نقطہ چھوڑ دیا جاتا ہے اس لئے یہ بیکار ثابت ہوتے ہیں جس طرح شعر کے لئے ردیف قافیہ اور وزن کی ضرورت ہوتی ہے بالکل ایسے ہی منتر بھی عموما باوزن ہوتا ہے. ایک آدھ لفظ خذف یا آگے پیچھے کر دینے سے منتر جاتا رہتا ہے. ایک عامل کے بقول، اگر ایسا ممکن ہوتا تو پھر ان کاموں کے شوقین افراد کی اکثریت ٢٠،٢٥ روپے کی کتاب کے ذریعے عامل بنی پھر رہی ہوتی، صرف کتاب کی مدد سے کالے جادو کا عمل کامیاب ہونے کی تاریخ نہیں ملتی، عمل یا چلے کے لئے کسی عامل یا استاد کی اجازت اور رہنمائی ضروری ہوتی ہے کیونکہ اگر چلے یا عمل میں کوئی کوتاہی ہو جائے تو استاد سنبھال لیتا ہے. بعض لوگ کتابوں میں پڑھ کر چلہ یا عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس طرح نہ صرف یہ اپنا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں بلکہ ان کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ہوتا ہے.

    ہر کالا علم ، سفلی نہیں
    ہر کالا علم ضروری نہیں کہ سفلی ہو، سفلی عمل کا مقصد انسانیت کو سوائے نقصان پہنچانے کے اور کچھ نہیں ہوتا. کالے علم کے بعض عمل ایسے بھی ہیں جس میں عامل کو پاک صاف رہنا ضروری ہوتا ہے. اور دوران عمل جھوٹ بولنے سے لے کر زنا تک ہر برے فعل سے اجتناب برتنا لازم ہوتا ہے. دوسری جانب سفلی سراسر شیطانی عمل ہے اور اس عمل کے لئے غلیظ اور ناپاک رہنا اولین ہے. کالا علم سیکھنے والے ایک شخص استاد فیضو کا کہنا تھا. " سفلی کے بعض عملیات ایسے بھی ہیں جس میں عامل کو ٤١ دن کے چلے میں روز شراب پینا اور زنا کرنا لازمی ہوتا ہے ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ اسے اپنا فضلہ کھانا اور پیشاب پینا پڑتا ہے. نئی کراچی کا ایک سفلی گر وحید بھی ایسی ہی پستی میں گر چکا ہے . سفلی کے بعض ٢١ روزہ عمل بیت الخلا میں کرنے پڑتے ہیں." علاوہ ازیں سفلی عملیات میں عموما قرآن پاک کی آیات کو الٹا پڑھنا ہوتا ہے (نعوذبالله ) جس سے ان کا مفہوم بھی بالکل الٹ ہو جاتا ہے. لیاقت آباد کے رہائشی پرویز جو اپنے کپڑے کی دکان کی "بندش" کھلوانے اور گھروالوں پر سفلی عمل کے وار کے توڑ کے لئے عاملوں کے پاس جاتا رہتا ہے اور اسی مقصد کے لئے کبھی کراچی میں اپنے وقت کی صف اول کے سفلی گر ر تن سائیں کے پاس بھی گیا تھا. " رتن سائیں مختلف لوگوں کو حیض کے خون سے تعویز لکھ کر دیتا تھا. یہ منظر کئی بار خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس کے علاوہ اس کے پاس ایسی عورتوں کا بھی تانتا بندھا رہتا تھا جو شوہر کو تابع کرنے کی خواہش مند تھیں.ایسی خواتین سے وہ حیض کا کپڑا منگواتا پھر اس پر چند منتر پڑھ کر ہدایت کرتا تھا کہ کسی وقت موقع دیکھ کر اس کپڑے کو پانی میں گھول کر شوہر کو پلا دینا، وہ کتے سے زیادہ تمہارا وفادار ہو جائے گا، جو کرتی پھرو ، کوئی روک ٹوک نہیں کریگا. " ماضی کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے پرویز کا کہنا تھا." یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں کافی پریشان رہتا تھا کیونکہ مخالفین نے کالے جادو کے زریعے نئی کراچی میں واقع میری کپڑے کی دکان "باندھ" رکھی تھی کاروبار ٹھپ ہونے کی وجہ سے جہاں معاشی تنگی تھی وہیں گھر کے بعض افراد بھی جادو کے زیر اثر بیمار رہتے تھے. میں نے کئی بار اپنی دکان اور گھر کے نزدیک دبائے پتلے اور تعویز برآمد کئے تھے، اس کا ذکر میں نے اپنے قریبی عزیز سے کیا تو وہ مجھے رنچھوڑ نارائن پورہ میں رہائش پذیر رتن سائیں کے پاس لے گیا جو اس وقت کالے جادو کا سفلی کا "ٹاپ" کا عامل تھا اور مشہور تھا کہ اس نے کالی دیوی اور ہنومان کو تابع کر رکھا ہے. مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رتن سائیں نے کچھ پڑھ کر چند لونگیں ، سوئیاں اور سیندور میرے حوالے کیا اور کہا کہ گائے کا دل درمیان سے چیر کر اس میں یہ تمام اشیاء رکھنے کے بعد اسے سوئی دھاگے سے دوبارہ سی کر دوپہر بارہ بجے کے قریب کسی ویرانے میں پھینک آنا. اس سے ایسی کاٹ ہوگی کہ تم پر جادو کرانے والا خود شکار ہو جائیں گے. دوسرے دن میں نے رتن سائیں کی ہدایت کے مطابق دل خریدا اور اس میں مذکورہ اشیاء رکھ کر نئی کراچی ٦ نمبر پر صبا سنیما کے نزدیک ندی کے کنارے اس دل کو پھینک دیا، اچانک تین چار خوفناک کتوں نے مجھے گھیر لیا، میں نے اپنی زندگی میں اس قدر ڈراؤنی شکل والے کتے نہیں دیکھے تھے وہ دل پر لپکنے کی بجائے مجھے گھور رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ بھونکتے بھی جا رہے تھے میں بڑی مشکل سے جان بچاکر گھر پہنچا. اگلے دن رتن کو جاکر سارا ماجرا سنایا تو کہنے لگا، بیوقوف میں نے بکری کا دل کہا تھا تم گائے کا لے آئے شکر کرو کہ زندہ بچ کر آگئے. خیر تمہیں سیندور اور لونگیں دوبارہ پڑھ کر دیتا ہوں، انہیں بکری کے دل میں چھپا کر پھینک آنا تاہم میں اس قدر خوفزدہ ہو چکا تھا کہ میں نے ہامی تو بھر لی لیکن رتن کی ہدایت پر عمل نہیں کیا.

    رنچھوڑ لین کے رہائش سفلی گر رتن سائیں کو کئی برس پہلے ایک بلوچ نے قتل کر دیا تھا. اس بلوچ کئی فیملی کے تقریبا تمام افراد کسی نامعلوم بیماری کا شکار ہو کر مرے تھے ، اسے شک تھا کہ رتن سائیں نے اس کے مخالفین سے بھاری رقم لے کر اس کے اہل خانہ پر کالا جادو اور سفلی کرایا تھا لہٰذا ایک روز وہ بہانے سے رتن کو میوہ شاہ قبرستان لے گیا اور گولیاں مار کر ہلاک کر دیا. اس طرح اپنے زمانے کا بدنام ترین سفلی گر اپنے انجام تک پہنچا. کہا جاتا ہے کہ رتن کے نام کے بغیر کراچی میں کالے جادو اور سفلی عمل کئی تاریخ مکمل نہیں ہوتی اور جادو ٹونے سے وابستہ شاید ہی ایسا کوئی فرد ہو جو اس کے نام سے واقف نہ ہو. اس کے ایک شاگرد گوگا کے دعوے کے مطابق جو آج کل سید اعجاز حسین کے پاس روحانی علم بھی سیکھنے آ رہا ہے. "رتن کے پاس ایک ایسا بھی عمل بھی تھا جسے پڑھ کر وہ کافی فاصلے تک اڑ بھی لیتا تھا. واللہ عالم با الصواب

    شعبدے بازوں اور جادو گروں میں فرق
    سفلی اور کالے جادو کے حقیقی عاملوں اور شعبدے بازوں میں واضح فرق ہے. شہر بھر میں اپنی دکانیں سزا کر بیٹھے عاملوں کئی ٩٩ فیصد تعداد جعلی ہے جو مختلف شعبدے دکھاکر سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں مصلاً کیمیکل کے ذریعے بغیر تیلی کے آگ لگا دینا، سرنج کے زریعے لیموں کا رس نکل کر پھر سرنج کی مدد سے ہی اس میں سرخ رنگ بھر کر لیموں میں خون ٹپکتا دکھانا وغیرہ. اس کے برعکس اصل عامل اور حقیقی سفلی گر اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے. اس معاملے میں وہ سخت رازداری برتتے ہیں، اور ہمیشہ اپنے قابل اعتماد کارندوں کے زریعے ہی بھروسے کی پارٹیوں سے سودا کرتے ہیں. وہ کبھی کسی اجنبی کے سامنے اعتراف نہیں کرتے کہ وہ سفلی گر ہیں یا کالے علوم کے ماہر، اکثریت ایسے سفلی گروں کی بھی ہے جو خود کو بظاہر روحانی عامل ظاہر کرتے ہیں لیکن اصل میں وہ کالے جادو اور سفلی کا کام کر رہے ہیں، اس وقت لسبیلہ کا ، کاکا، اورنگی ٹاؤن معمار شاہ، کورنگی سوکوارٹر کے بنگالی پاڑے کا انور، نیو کراچی کا سعید اور میر پر خاص کا بھگت سفلی اور کالے جادو کے ماہر کے تصور کئے جاتے ہیں.یہ بات طے شدہ ہے کہ سفلی گر یا عامل کتنا ہی نامور ہو اپنے ساز و سامان اور حصار کے بغیر بے دست وپا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ رتن جیسا نامی گرامی سفلی گر بھی ایک عام شخص کی گولیوں کا نشانہ بن گیا تھا.

    کالی اور ہنومان کا جان لیوا عمل
    کالے جادو اور سفلی عاملوں میں کالی مائی، کالی دیوی یا کالکا دیوی اور ہنومان سخت ترین تصور کیا جاتا ہے اور جس کے قبضے میں ان میں سے ایک چیز بھی ہو وہ انتہائی طاقتور عامل یا سفلی گر سمجھا جاتا ہے. استاد فیضو اس بارے میں کہتے ہیں: " کالی دیوی یا ہنومان کراچی میں دو چار لوگوں کے پاس ہی ہے. کالی دیوی کو تابع کرنے کے لئے ٤١،٤١ دن کے تین چلے کئے جاتے ہیں، وہ بھی اگر کوئی زندہ بچ جائے. کالے جادو میں یہ سب سے سخت عمل کہلاتا ہے. کیونکہ کالی مائی کو بار بار جانوروں کی بھینٹ دینا پڑتی ہے. تاکہ عامل یا اس کی اولاد پر سختی نہ آئے. بعض شیطانی عملیات کے زریعے کالی تک پہنچنے کیلئے انسانی جان کی بھینٹ بھی دینی پڑتی ہے.جادو ٹونے کی دنیا میں یہ روایت مشہور ہے کہ کالی مائی تک پہنچنے کے لئے عامل کو سات ہزار میروں (پہریداروں) کو کراس کرنا پڑتا ہے لیکن پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا عامل ہو جس نے یہ تمام میر عبور کر رکھے ہوں. یعنی کالی دیوی اس کے مکمل قبضے میں ہو. البتہ شہر میں ایسے متعدد عامل ہیں جن میں سے کسی نے ٨، کسی نے ٢٠ اور بعض نے سوڈیڑھ سو میر کوراس کر کے رکھے ہیں اس طرح وہ چھوٹا موٹا عمل کر لیتے ہیں، یعنی ان کی طاقت صرف اتنی ہوتی ہے کہ وہ شیطانی عمل کے زریعے دو دوستوں میں عداوت پیدا کر دیں. یا کسی ہنستے بستے گھر میں فساد ڈلوا دیں، کسی غیر محرم عورت کو اپنے تابع کر لین، کسی کا کاروبار متاثر کر دیں وغیرہ وغیرہ. ایسے عاملوں نے بھی اپنی دکان خوب چمکا رکھی ہے کیونکہ آجکل زیادہ تر کیس یہی آ رہے ہیں، دراصل ہندوؤں میں کالے جادو کرنے والے عاملوں کے دو فرقے ہیں ایک رام کے ماننے والے اور دوسرے راون کے، رام کے زریعے عمل کرنے والے عموما انسانیت کو نقصان پہنچانے کے کام نہیں کرتے جبکہ راون والے سر تا پا شیطان ہوتے ہیں. "کالی دیوی کو قابو کرنے کے لئے عمل کرنے والے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے استاد فیضو نے بتایا" نئی کراچی، نئی آبادی میں ایک لڈن نامی شخص تھا اس نے بھی ٤١ دن کا صرف ایک عمل ہی پورا کیا تھا کہ برباد ہو گیا. مسلمان ہونے کے باوجود اس گھر کے ایک کمرے کو مندر کا روپ دے رکھا تھا اور وہاں باقاعدہ مورتیاں سجا رکھی تھی. دوسری جانب اس کی اہلیہ نہایت نیک اور پنج وقتہ نمازی تھی لہٰذا شوہر کی یہ حالت دیکھ کر اس نے لڈن میاں کا کھانا،پینا،برتن اور کپڑے لتے سب الگ کر دئیے تھے. لڈن نے جب ٤١ دن کا پہلا عمل مکمل کیا تو پتہ نہیں اس سے کیا غلطی ہوئی کے سارے جسم پر موٹے موٹے پھوڑے ہو گئے جبکہ نحوست اس قدر ہو گئی کہ اس نے پالتو بکری کے بچے پر ایک دن ہاتھ رکھا تو وہیں مر گیا. حتیٰ کہ اپنے چھوٹے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ بھی ہلاک ہو گیا. ان واقعات سے وحشت زدہ ہو کر اس کی پنج وقتہ نمازی بیوی نے ایک دن مندر نما کمرے کا سارا سامان اٹھا کر پھینک دیا لیکن لڈن میاں کی طبعیت نہ سنبھل سکی اور کچھ عرصے میں وہ لقمہ اجل بن گیا."

    کالی دیوی اور ہنومان کے سخت عمل کے بارے میں روحانی علاج کرنے والے سید اعجاز حسین شاہ کا کہنا تھا "ان دونوں عمل سے پہلے اور بعد میں کسی جانور کی بھینٹ لازمی پڑتی ہے اور جب کالی دیوی قابو میں آ جاتی ہے تو بعض اوقات وہ انسانی بھینٹ بھی طلب کر لیتی ہے."

    کالے جادو کے عامل کالی دیوی اور ہنومان کے علاوہ شمشانک دیوی ، کملا دیوی،پدمنی دیوی، لکشمی دیوی، موہنی دیوی، کالا کلوا، گنیش جی ، دیوتا سروپ، ہمادیو وغیرہ کو تابع کرنے کے لئے عمل کرتے ہیں جس کے لئے عمل کیا جا رہا ہو عموما اس کی مورتی سامنے رکھنی پڑتی ہے. اس لئے اس وقت کراچی میں متعدد مسلمان عامل ایسے ہیں جن کے گھروں میں ہر قسم کی مورتیاں سجی ملیں گی. یہ عمل کسی دریا کے کنارے، قبرستان، کسی ویران مکان یا پیپل کے درخت کے نیچے کئے جاتے ہیں عمل یا چلہ عموما ٧،١١،٢١ اور زیادہ سے زیادہ ٤١ روز کا ہوتا ہے.

    دست کی ہڈی اور کور برتن
    گائے،بھینس، بکرے یا بکری کے دست یعنی شانے کی ثابت ہڈی کالے جادو اور سفلی عمل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ قصاب ہمیشہ اس پتلی اور چپٹی ہڈی کو گوشت الگ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں. اس حوالے سے ہم نے متعدد قصابوں سے بھی بات چیت کی انہوں نے اس بات کی تصدیق کی. اس کے علاوہ عموما بکری کے دل پر بھی کٹ لگا دیتے ہیں کیونکہ ثابت دل پر عمل چلتا ہے اسی طرح کمہار کبھی کور یا کچا برتن فروخت نہیں کرتا. ایف سے ایریا کا عامل چاچا رشید کے بقول کمہار، بھٹی سے اتارا گیا تازہ برتن کبھی حوالے نہیں کرے گا اور اسے پکاکر ہی فروخت کرے گا. سفلی اور کالا عمل کرنے والے لوگ جان پہچان کے کمہاروں سے کور برتن لے جاتے ہیں، جبکہ کمہار کے کام میں استعمال ہونے والا دھاگا بھی کالے علم میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے. دست کی ہڈی عموما محبوب کو تابع کرنے یا مختلف کو برباد کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے. بعض اسے عورت کی کوکھ باندھنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں. چند عملیات میں عورت کو کوکھ باندھنے کے لئے تلے پر عمل کر کے اسے کنویں، دریا یا سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے. اس کے علاوہ کالے جادو اور سفلی عمل میں کسرت سے استعمال ہونے والی اشیاء درج ذیل ہیں. گوگل،ماش کی ڈال،انڈے،سپاری،ناریل،زعفران،دھتورا، مور کے پر، کیز کے پھول، شہد،آک کا پودہ، کوے کے سیدھے بازو کا پر، گیدڑ کی آنکھ اور دم، الو کی بیٹ ، انسانی ناخن، جانوروں اور انسانوں کے جسم کی مختلف ہڈیاں، سیندور،لونگ، سوئییاں، ہینگ، کسی خوبصورت عورت کے بال جو تازہ تازہ مری ہو اور انسانی کھوپڑی وغیرہ.

    بنگال کا خطرناک جادو "ڈھائیا "
    بنگال کا ایک جادو " ڈھائیا" انتہائی سریع الاثر اور خطرناک تصور کیا جاتا ہے. اسے ڈھائیا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ڈھائی پل یا سیکنڈ، ڈھائی منٹ، ڈھائی گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ ڈھائی دن میں اپنا اثر دکھاتا ہے اس سے زیادہ وقت نہیں لیتا. اس عمل کا سب سے کارآمد ہتھیار "ہانڈی"ہے جو کسی کی جان لینے کے لئے چڑھائی جاتی ہے. ہانڈی کے اندر عموما چاقو،چھری،قینچی،استرا،سوئیاں اور ایک دیا رکھا جاتا ہے.اس بارے میں مشہور ہے کہ کالے علم کے زور پر جلایا گیا یہ دیا اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ اگر کوئی طوفان بھی ہو تو یہ جلتا رہے گا اور منزل مقصود پر پہنچےگا. اس طرح بھان متی کا جادو بھی انتہائی جان لیوا ہے اور اس کا توڑ بہت مشکل سے کیا جاتا ہے یہ بھی سفلی عمل کی ایک قسم ہے.

    کالے جادو کے زور پر شادی کر لی
    ہم نے ایک شخص سے بھی ملاقات کی جس نے کالے جادو کے زریعے ایک ایسی لڑکی سے شادی کر لی جو اس سے بدترین نفرت کرتی تھی. آج وہ دو بچوں کا باپ ہے. نارتھ ناظم آباد کے رہائشی ٣٠،٣٢ سالہ امجد (مجکوره شخص کی درخواست پر نام تبدیل کر دیا گیا ہے) سے ہماری ملاقات ایک قریبی دوست نے کرائی.پشاور کی زریں جو اپنے گھر سے بھاگ کر کراچی آئ تھی. یہاں اس کی ملاقات تندور پر روٹیاں لگانے والے ایک شخص امین سے ہوئی جس سے اس نے شادی کر لی لیکن کچھ عرصے بعد امین نے طلاق دے دی اس سے آگے کی داستان امجد کی زبانی سنئے. " میری دکان امین کے گھر کے سامنے تھی میں اکثر اس کی خوبصورت بیوی کو حسرت سے دیکھتا تھا. کئی بار اس سے بات کرنے کئی کوشش کئی لیکن اس نے مجھے دھتکار دیا. اسے طلاق ہو گئی اور وہ بے یار و مددگار ہوگئی تو میں نے اس سے راہ و رسم پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن بات نہ بن سکی. ایک روز وہ اپنے کرائے کے مکان میں پریشان بیٹھی تھی. مالک مکان اس سے کرائے کا تقاضا کر رہا تھا لیکن طلاق کے بعد کوڑی کوڑی کی محتاج تھی لہٰذا مکان خالی کرنے کا حکم سن کر اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ رہے تھے. میں نے اس کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے یہ موقع غنیمت جانا اور مالک مکان کو کرایہ ادا کرنے کے کے علاوہ اسے پناہ دینے کی پیشکش کی لیکن وہ نہ مانی. اس دوران علاقے کی ہی ایک پٹھان فیملی نے اسے اپنے گھر رکھ لیا مجھے سن گن ملی کہ اس فیملی کے دو بھائیوں میں سے ایک اس کے ساتھ شادی کی تیاری کر رہا ہے اور لڑکی بھی رضامند ہے. میں نے اپنا اثر و سوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کو تھانے میں بند کروا دیا. اس واقعہ کے بعد لڑکی کے دل میں میرے لئے نفرت مزید بڑھ گئی. قصہ مختصر پولیس نے لڑکی کو عائشہ منزل پر واقع دار الامان میں پہنچا دیا. کسی طرح اس کی ملاقات کا خواہش مند تھا، دار الامان پہنچا تو معلوم ہوا کہ ملاقات کے لئے اول ایس ڈی ایم کا اجازت نامہ اور دوئم لڑکی کی رضامندی ضروری ہے. ایس ڈی ایم کا اجازت نامہ تو حاصل کر لیا لیکن لڑکی مجھ سے ملاقات پر تیار نہ ہوئی. میرے دورکا ایک عزیز اکمل کالا جادو سفلی عمل وغیرہ کرتا تھا، تھک ہار کر میں اس کے پاس پہنچ گیا. اس نے کہا اگر چہ میری فیس بہت زیادہ ہے لیکن رشتہ دار اور دوست ہونے کے خاطر میں تم سے صرف پانچ سو روپے لوں گا وہ بھی عمل کے لئے کچھ سامان وغیرہ لانا ہے اس لئے بس تم مجھے لڑکی اور اس کی ماں کا نام لاکر دے دو. اس کے بعد لڑکی کی شادی تمہارے علاوہ اور کسی کے ساتھ نہیں ہو پائے گئی اور یہ کہ عمل کے زریعے ایسا حصار قائم کر دوں گا کہ شہر سے باہر نہ جا سکے گے. میں نے دوسرے روز اکمل کو پانچ سو روپے لاکر دے دئیے. ایک ہفتے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ جاؤ لڑکی سے ملاقات کا انتظام کرو. میں نے ایک بار پھر کوشش کر کے ایس ڈی ایم کا اجازت نامہ حاصل کیا اور ملاقات کے لئے دار الامان پہنچ گیا لیکن لڑکی نے ملنے سے پھر انکار کر دیا. اکمل نے مجھے کہا کہ جاؤ اب تمہارا کام ہو جائیگا. میں نے پھر ایس ڈی ایم سے اجازت نامہ حاصل کیا اور دار الامان پہنچ گیا. اس بار خلاف توقع لڑکی نے ملاقات پر رضامندی ظاہر کر دی اس کے بعد ہماری دو تین ملاقاتیں اور ہوئیں اور پھر ہم دونوں نے شادی کے بندھن میں بندھ گئے.آج ہمارے دو بچے ہیں اور ہم خوشگوار ازواجی زندگی بسر کر رہے ہیں البتہ آج بھی یہی سوچتا ہوں کہ شادی سے پہلے اہلیہ کے دل میں میرے لئے نرم گوشہ دار الامان کی سختیوں کے سبب پیدا ہوا تھا یا واقعی کالے جادو نے اپنا اثر دکھایا. اہلیہ سے آج جب میں ماضی کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو اس کا کہنا ہوتا ہے. " بس اچانک میرے دل میں تمہاری ہمدردی اور محبت کا جذبہ موجزن ہو گیا تھا." امجد نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد گود میں بیٹھے تین چار سالہ گول مٹول اور خوبصورت بیٹے کو جیب سے پانچ روپے نکال کر دیتے ہوئے کہا جاؤ چیز لے کر آجاؤ لیکن وہ گھر جانے کی ضد کرتا رہا اور جب اس نے رونا شروع کردیا تو امجد نے ہم سے رخصت چاہی.

    سفلی عمل کرنے والوں کی اکثریت بے اولاد ہوتی ہے
    میعادی پتلے کے شکار کا چالیس دن کے اندر علاج ضروری ہے. سید اعجاز شاہ

    نوجوان سید اعجاز شاہ کا تعلق کبیر والا سے ہے. روحانی عمل کے زریعے بلا معاوضہ جنات اور آسیب کا اثر جھاڑنے، کالے اور سفلی عمل کی کاٹ اور مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کا روحانی آپریشن کرتے ہیں. نارتھ کراچی کے سیکٹر ٣ کے ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں انہوں نے اپنا آستانہ بنا رکھا ہے جہاں مریضوں کا تانتا بندھا رہتا ہے. ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے روحانی عمل کے زریعے موکل کا تابع کر رکھا ہے جس کی اجازت انہیں ان کے استاد سید راشد علی شاہ (سابق ایس ایس پی اسپشیل برانچ کوئٹہ) نے دی تھی. شاہ صاحب کا کہنا تھا " میں استخارے کے زریعے معلوم کرتا ہوں کہ کسی پر کالا جادو ہے، آسیب ہے یا پھر وہ محض جسمانی عارضے میں مبتلا ہے. کالے جادو یا سفلی عمل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ عموما سفلی عمل کرنے والوں کے اولاد نہیں ہوتی اگر ہوتی بھی ہے تو لنگڑی ،لولی اور اپاہج، کیونکہ اس نے اپنا حصار تو رکھا ہوتا ہے لیکن " شیطانی چیزیں" اس کی اولاد اور اہل خانہ کے دیگر ارکان پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں کیونکہ جنات،موکل یا کوئی بھی ناری چیز نہیں چاہتی کہ وہ مٹی (انسان) کے تابع ہو. عمل روحانی ہو یا شیطانی، دو باتیں ہوتی ہیں یا تو آپ نے اسے قابو کر لیا یا پھر وہ آپ پر حاوی ہو گئی اگر وہ آپ پر حاوی ہو گئی تو ایسے ایسے کام کرائے گئی جس کا ہوش وحواش آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا. میعادی پتلے کے حوالے سے شاہ جی کا کہنا تھا کہ " میعاد پتلے کا تصور یہ کیا جاتا ہے کہ اگر چالیس دن کے اندر اس فرد کا علاج کرا دیا جائے جس کے نام کا پتلا بنایا گیا ہے تو صحیح ورنہ تقریبا علاج ہو جاتا ہے. کسی کی مستقبل بیماری اسے موت کے منہ میں پہنچانے کے لئے اس کے نام سے کپڑے، موم ، یا آٹے کا پتلا بنایا جاتا ہے. جس سے ابتدائی طور پر ہدف بننے والے شخص کے جوڑوں میں درد رہنے لگتا ہے یا وہ ان مقامات پر درد اور چبھن محسوس کرتا ہے. ڈاکٹر اسے گٹھیا کا مرض قرار دیتے رہے ہیں بالآخر مریض موت کے منہ میں پہنچ جاتا ہے. اس پتلے کو عموما قبرستان میں کسی پرانی قبر کے اندر دفن کیا جاتا ہے. نوری عمل کے زریعے بھی میعاد ی پتلا تیار کیا جاتا ہے البتہ صرف کسی ظالم کو سزا دینے کے لئے. "اعجاز شاہ کے بقول سب سے سخت اور شیطانی جادو ذکری فرقہ تصور کیا جاتا ہے یہ لوگ بیت الخلاء میں بیٹھ کر کئی کئی روز عمل کرتے ہیں اور تربت میں انہوں نے باقاعدہ اپنا (نعو ذ بااللہ ) کعبہ بنا کر رکھا ہے جس کے گروہ برہنہ ہو کر طواف کرتے ہیں.

    اعجاز شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے پاس ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں آتے ہیں جو حددرجہ توہم پرستی اور وہمی ہوتے ہیں. مثلا اگر انہیں کوئی جسمانی عارضہ بھی لاحق ہے تو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو وغیرہ کر دیا ہے. یا پھر آسیب کا اثر ہے. ایسے ہی لوگوں کو شعبدے بعض یا جعلی عامل ذہنی مریض بنا دیتے ہیں. پچھلے دنوں اس قسم کا ایک شخص میرے پاس آیا میں نے استخارہ کر کے دیکھا تو معلوم ہوا اسے کوئی آسیب یا جادو کا اثر نہیں لیکن وہ بضد تھا کہ فلاں نے مجھ پر سفلی عمل کرایا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ میرے دل کی دھڑکن اچانک بڑھ جاتی ہے. سر اور پیٹ جکڑا رہتا ہے. بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ اگر انہیں ٹھوکر بھی لگ جائے تو سمجھتے ہیں کہ کسی نے کچھ کرا دیا ہے بالخصوس خواتین زیادہ وہمی ہوتی ہیں.

    ہمزاد کو قابو کرنا آسان نہیں
    بھان متی کے عامل دیوالی کی رات جادو جگاتے ہیں. ایک دوسرے کے کاروبار کی بندش کے لئے بھی جادو ٹونا زور پکڑ گیا.

    "ڈھائیاں " کی طرح بھان متی بھی سفلی عمل ہے اس کے عامل زیادہ تر بھنگی چمار یا نچلی ذات کے بدکار لوگ ہوتے ہیں. بھان متی پتلے پہ منتروں کا جاپ کر کے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا جاتا ہے. اور عامل کوسوں دور بیٹھ کر پتلے کے ساتھ جو سلوک کرے گا اس کا دشمن پر بھر پور عمل ہوتا ہے. بھان متی کے جادوگروں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ ہر سال دیوالی کی رات اپنا جادو جگاتے ہیں. اگر اس سال انہیں موقع نہ ملے تو سارے سال کے لئے بیکار ہو جاتے ہیں.صدر شاہین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں " قیام پاکستان سے بہت پہلے بھان متی ایک عرصے تک جنوبی ہند با لخصوص حیدرآباد کن میں رائج رہا جو عام طور پر مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائی کے لئے استعمال کیا جاتا تھا. ایک زمانے میں تو حیدرآباد کن میں اس جادو کا اتنا زور تھا کہ اس کے خلاف ریاستی پولیس میں باقاعدہ اینٹی بھان متی اسٹاف مقرر کرنا پڑا. اس کا حکم انگریز ڈائریکٹر جنرل پولیس مسٹر ڈبلیو اے گیر نے دیا تھا اور اینٹی بھان متی اسٹاف کے پہلے سربراہ چھمن راؤ تھے. " ہم نے مختلف ذرایع سے کسی بھان متی کے عامل سے ملاقات کی کوشش کی لیکن تلاش بسیار کے باوجود ایسا عامل نہ مل سکا. بعض کا کہنا تھا کہ اس وقت کراچی میں شاید ہی کوئی بھان متی کا ماہر عامل موجود ہو البتہ نئی کراچی کے نامی گرامی عامل یعقوب عرف انگارے شاہ عرف بھوپ کا بارے میں مشہور تھا کہ وہ بھان متی کا ماہر ہے. اس کی تدفین میں شریک بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بھوپ مرا تو قبر نے اس کی لاش قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا. لاش کو جب قبر میں اتارا جاتا وہ پراسرار طریقے سے باہر آجاتی بالآخر ایک روحانی عامل کو بلایا گیا اس نے قرانی وظائف کے زریعے تدفین کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا .

    کاروبار کی بندش کے لئے جادو ٹونہ
    روحانی عاملوں اور سفلی گروں کے علاوہ کئے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ شہر میں زیادہ تر جادو ٹونہ اور تعویز گنڈے ایک دوسرے کا کاروبار تباہ کرنے یا کسی کی دکان کا دھندہ چوپٹ کرنے کے لئے کرایا جاتا ہے. نئی کراچی سندھی ہوٹل، لیاقت آباد، ملیر، اورنگی ٹاؤن ، کورنگی اور جوڑیا بازار میں ہمیں متعدد ایسے دکاندار ملے جو اپنے دکانوں کی "بندش" کھلوانے کے لئے روحانی اور سفلی دونوں قسم کے عاملوں کے پاس چکر کاٹتے نہیں تھکتے. سندھی ہوٹل نئی کراچی میں ایک نہاری کے ہوٹل والے کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے ایسا زبردست عمل اور تعویز گنڈے کرا رکھے ہیں کہ اس کے قریب و جوار میں ایک میل کے فاصلے تک کوئی دوسرا نہاری کا ہوٹل اپنی دکانداری چمکانے سے قاصر ہے ایک دو نے کوشش بھی کی تو ان کی نہاری میں چند گھنٹوں بعد ہی پر اسرار طریقے سے شدید بو کے بھبھکے اٹھنے شروع ہو جاتے تھے. بعض عاملوں نے تو مختلف دکانداروں سے اس بنیاد پر منتھلی باندھ رکھی ہے کہ ان کے کاروبار کو ہر طرح کے جادو ٹونے سے بچانے کے لئے حفاظتی حصار اور عمل کرتے ہیں. دوسرے نمبر پر جادو ٹونہ مخالفین کو جانی نقصان پہنچانے کے لئے کرایا جارہا ہے. اس میں دشمن کو ذہنی و جسمانی اذجیت سے لیکر جان لیوا عملیات کے لئے مختلف سفلی اور کالے جادو کے ماہرین سے میعاد ی پتلے اور تعویز وغیرہ بنوائے جاتے ہیں. سید اعجاز حسین سمیت روحانی علاج کرنے والے چند دیگر عاملوں کے آستانے میں ہماری ملاقات ایسے متعدد افراد سے ہوئی جو اپنے کاروبار اور اہل خانہ پر کئے گئے جادو کی کاٹ کے لئے وہاں پہنچے تھے. مثلا خمیسہ گوٹھ کے امیر گل نے بتایا " میں نے اپنی والدہ کے علاج پر ڈیڑھ لاکھ خرچ کر ڈالے لیکن نہ مرض کی تشخیص ہو سکی نہ کوئی افاقہ ہوا. والدہ کے کبھی سر میں شدید درد ہوتا تو کبھی وہ پیٹ کے درد سے دہری ہو جاتی تھیں. میں پرانی سبزی منڈی پر واقع ایک نجی اسپتال میں ان کا مسلسل علاج کرتا رہا. پہلا ٹیسٹ کرایا تو پیٹ میں رسولی کی رپورٹ آئی دوسرا ٹیسٹ ٹیسٹ کرایا تو رسولی غائب تھی. ہار کر روحانی علاج کی طرف متوجہ ہوا تو معلوم ہوا کہ والدہ پر کسی نے سفلی عمل کرا رکھا ہے اب دو ماہ سے روحانی علاج کرا رہا ہوں اور خاصا افاقہ ہے. "مخالفین کی لڑکیوں کے رشتوں کی بندش، گھر میں فساد، شوہروں کی فرمانبرداری کے لئے بھی کثرت سے جادو ٹونہ ، تعویز گنڈے اور نقش بنوائے جا رہے ہیں ایک بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی بھی ہے جو من پسند محبوب کا دل جتنے کے لئے روحانی اور سفلی دونوں طرح کے عملیات پر رقم خرچ کر رہے ہیں. استاد فیضو کے پاس ایک ایسا شخص بھی آیا جو اپنے حریف کو تکلیف پہنچانے کے لئے سفلی کے زریعے اس کا پیشاب بند کروانا چاہتا تھا . پہلے تو مذکورہ شخص نے ایک کتابی منتر پر عمل کیا جو اس طرح تھا. " کسی اتوار کے دن ایک چھچھوندر شکار کر کے اس کی کھال اتار لو. پھر دشمن نے جہاں پیشاب کیا ہو وہاں کی مٹی لے کر اس کھال میں بھر کر کسی اونچی جگہ ٹانگ دو تو دشمن کا پیشاب بند ہو جائے اور اس وقت تک نہ کھلے گا جب مٹی کو کھال میں نکال نہ دیا جائے. " لیکن یہ عمل بیکار گیا پھر وہ ایک جعلی عامل کے ہتھے چڑھ گیا جس نے اس سے ہزاروں روپے بٹور لئے بالآخر وہ استاد فیضو کے پاس پہنچا. ایک عامل کے مطابق تعویز گنڈے کرانے والوں میں اکثریت خواتین کی ہے کوئی اپنی ساس پر حاوی ہونا چاہتی ہے تو کسی کو خواہش ہے کہ بیٹا ، بہو سے زیادہ اس کی سنے.

    مؤکل کو قابو کرنے کے لئے چلہ
    مؤکل بھی دراصل جنات ہوت ہیں بعض لوگوں کے نزدیک یہ فرشتے ہیں. مؤکل روحانی عمل کے علاوہ کالے جادو اورسفلی عمل سے بھی تابع کئے جاتے ہیں. انہیں قابو کرنے کے لئے ہر قسم کے عمل میں چلہ کاٹنا ضروری ہے البتہ نوری وظیفے کے دوران پانچوں وقت کی نامز پڑھنا اور پاک و صاف رہنا شرط ہے اس کے برعکس سفلی عمل میں ناپاک رہن لازمی ہوتا ہے. سید اعجاز شاہ جو خود بھی مؤکل کو تابع کرن کے لئے روحانی چلہ کاٹ چکے ہیں ان کا کہنا تھا. " پاک اورصاف رہنے اور پنج وقتہ نماز کے علاوہ نوری چلہ کرنے والے کا دوران عمل کسی نجس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بھی ممنوع ہوتا ہے. جھوٹ نہ بولے حتیٰ کہ کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑے سے بھی گریز کی پابندی بھی کرنا پڑتی ہے جبکہ ٤١ دن تک وہ کسی دوسرے کے ہاتھ کا خانہ نہیں کھانا. اپنے لییسے کھڈ کھانا پکانا ہوتا ہے" اعجاز شاہ نے مزید بتایا " اپنےاستاد کی جانب سے مؤکل کو تابع کرنے کی اجازت کے بعد میں ٤١ دن کے چلے میں روز گیارہ سو مرتبہ قل شریف پڑھتا تھا. چلہ مکمل ہونے پر نیاز کرائی جو بچوں میں تقسیم کرا دی." سفلی عمل کے زریعے مؤکل کو قابو کرنے کے لئے بھی عموما ٤١ دن کا چلہ کاٹنا ضروری ہے. سفلی کیونکہ شیطانی عمل ہے لہٰذا اس کے اکثر عملیات میں ناپاک اور پلید رہنا پڑتا ہے، روز شرب پینا اور زنا لازمی ہوتا ہے. اگر سفلی گر دوران چلہ پاک رہے گا یا شیطانی کام نہیں کرے تو بدی کی قوتیں اسے تنگ کرتی ہیں روحانی یا سفلی دونوں قسم کے عملیات کے لئے عامل اپنے گرد حصار کھینچ کر بیٹھتا ہے تا کہ وہ ماورائی قوتوں سے محفوظ رہے،. کالے جادو یا سفلی عمل کے لئے زیادہ تر سیندور سے حصار کھینچ کر شیطانی قوتوں کے لئے سات قسم کی مٹھائیاں ، شراب اور دیگر چیزیں توشے کے طور پر رکھی جاتی ہیں. اس قسم کے چلے ہزاروں میں ایک دو کامیاب ہوتے ہیں اکثر ناکامی سے دو چار ہوتے ہیں. بعض کے چلے الٹے بھی ہو جاتے ہیں جس سے عامل پاگل ہو جاتا ہے یا خود کو اور اپنے عزیزوں کو نقصان پہنچتا ہے. جادوگر میں یہ تصور عام ہے کہ یہ کام اس سے "گندی چیزیں" کراتی ہیں جو چلہ الٹا ہو جانے کے بعد اس پر حاوی ہو جاتی ہیں.

    ہمزاد کا چلہ بڑا سخت ہوتا ہے
    عاملوں اور جادوگروں میں ہمزاد کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہے . بعض کا خیال ہے کہ ہمزاد ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے، ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ہی مرتا ہے. کچھ کے نزدیک یہ شیطان ہے. اکثریت کا کہنا ہے کہ ہمزاد کا جسم لطیف، انسان کا سایہ ہے اس بارے میں مشہور ہے کہ اگر کوئی عامل کسی متقی، پرہیزگار اور پنج وقتہ نمازی کے خلاف ہمزاد کو استعمال کرے تو اسے الٹا نقصان ہوگا اور ہاتھ سے ہمزاد بھی جاتا رہے گا جب متقی شخص کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا. ہمزاد کی بہت سے قسمیں ہیں مثلا : علوی،عکسی یا غیبی وغیرہ اس میں ہمزاد علوی قسم بہت قوی تصور کی جاتی ہے. یہ تصور عام ہے کہ ہمزاد کو قابو کرنے سب سے مشکل کام ہے اور اس کا چلہ خواہ نوری ہو یا سفلی بڑا سخت ہوتا ہے. اس وقت شہر میں شاید ہی کوئی عامل ہو جس نے ہمزاد کو تابع کر رکھا ہے. اس حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ کسی دوسرے کے ہمزاد کو قابو کرنے سے اپنا ہمزاد پکڑآسان ہوتا ہے.

    ٤٥،٤٦ سالہ طارق نے اپنا لڑکپن اور جوانی حکمت سیکھنے، کیمیا گری کے زریعے سونا بنانے کی بے سود کوششوں اور مؤکل و ہمزاد کو قابو کرنے کے مختلف چلے کاٹنے پر گزار دی.انہوں نے اب تک کل ١٢ چلے کاٹے ، ١٣ واں کر رہے ہیں لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی. طارق بھائی کبھی میرے روم میٹ ہوتے تھے. میں جب ڈیوٹی سے فارغ ہو کر رات دو تین بجے کے قریب گھر پہنچتا تو اکثر مکان کے دو کمروں میں سے ایک میں جائے نماز بچھائے کسی پڑھائی میں مصروف نظر آتے. ایک بار کہنے لگے کہ میں آج کل جو چلہ کاٹ رہا ہوں اکتالیس دن مکمل ہونے پر اس رات کوئی ایک ڈیڑھ بجے مجھے کسی تازہ قبر پر جا کر پڑھائی کرنی ہے اور شرط یہ ہے کہ جاتے ہوئے اور واپسی میں گھر پہنچنے تک کسی سے بات نہیں کرنی تم میرے ساتھ چلو. اگر کوئی راست میں مل جائے تو اس سے نمٹ سکو یعنی مجھے بات نہ کرنا پڑے. می کیونکہ ان چیزوں سے دور بھاگتا تھا اور بھگت ہوں لہٰذا میں نے ڈیوٹی کا بہانہ کر کے جان چھڑا لی. ان دنوں مجھے ان کے چلوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن جب اس حوالے سے میں نے خصوصی رپورٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا تو طارق بھائی یاد آئے چنانچہ ان کی تلاش شروع کی معلوم ہوا آج کل صادق آباد میں اپنا مطب چلا رہے ہیں. بڑی تگ و دو کے بعد ان کے ایک عزیز سے موبائل فون کا نمبر حاصل کیا. طارق بھائی سے رابطہ کر کے ہم نے انہیں کہا کہ آپ نے جو اتنے چلے کئے ہیں ان میں سے کوئی کامیاب ہوا؟ پہلے تو وہ حیران ہوئے کہ مجھے ان معاملات سے کیسے دلچسپی پیدا ہو گئی جب انہیں مقصد بتایا گیا تو ان کا کہا تھا " اب تک مختلف میعاد کے ١٢ چلے کاٹ چکا ہوں جو ناکام رہے لیکن یہ الله کا شکر ہے کہ کوئی الٹا نہیں ہوا نہیں تو اس وقت تم سے بات نہ کر رہا ہوتا اور یہ آج کل ١٣ واں چلہ کر رہا ہوں بڑے کامل استاد نے دیا ہے. اس لئے امید ہے کہ اس بار کامیابی مل جائیگی. طارق بھائی کے مطابق انہوں نے زیادہ تر چلے مؤکل کو تابع کرنے کے لئے کئے جبکہ ہمزاد کو قابو کر نے کے لئے صرف ایک بار چلہ کاٹا تھا. تفصیل سے بتاؤں تو کئی صفحے بھر جائینگے، مختصر بتاتا ہوں کہ اس کے لئے استاد نے ٤١ دن تک مجھے عشاء کے وقت گلاب کے پھلوں پر آیتہ الکرسی پڑھنے کو بتائی تھی. میں روز ایک خالی کمرے میں وضو کرنے کے بعد چھری سے کڑا مار کر (حصار) بیٹھ جاتا پیچھے چراغ جلا کر رکھتا جس سے میرا سایہ سامنے پڑ رہا ہوتا جس پڑ نظر کر یہ منتر پڑھتا.
    نیلی کوڑی سبز پران
    چڑھدا آوے خا کی شا حجاں
    مکے کرداست سلام
    آوے داتا حاضر ہو (منتر نا مکمل ہے)



    رات دو بجے کے قریب یہ عمل کر کے گلاب کے پھولوں کو اٹھاتا سات سرسو کے تیل سے چراغ جلا کر ایک پیپل کے درخت کے نیچے رکھ آتا تھا لیکن یہ عمل کامیاب نا ہوسکا. منتر کے بارے میں طارق بھائی کا کہنا تھا کہ ہر عامل عموما اپنی مادری زبان میں منتر بناتا ہے جو سینہ بہ سینہ چلتے ہیں. مؤکل کو تابع کرنے کے چلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا " اس کے لئے بھی میں نے ٤١ دن کا چلہ کاٹا تھا روزانہ با وضو ہوکر ایک ہزار مرتبہ تین فرشتوں تنقا فیلہ،روماءلہ اور تنقا ءلہ پڑھتا تھا. اس کے علاوہ وہ سوره مزمل بھی پڑھنی ہوتی تھی اس چلے کے دوران کسی نادیدہ طاقت نے مجھے غنودگی بہت دی. دماغ اور زہن ہر وقت بھاری رہتا تھا خیر کسی نا کسی طریقے سے ٤١ دن پورے ہوئے تو اس رات قبرستان میں کسی تازہ قبر پر جاکر آدھا گھنٹے پڑھائی کرنا تھا. یہ آخر مرحلہ تھا جب میں نئی کراچی ٦ نمبر کے قبرستان میں ایک تازہ قبر پربیٹھا پڑھ رہا تھا تو آسمان سے کوئی تیز روشنی سی لپکی، میں کچھ خوفزدہ ہوا لیکن ہمت کر کے پڑھتا رہا واپس اپنے ٹھکانے کے نزدیک پہنچا تو ایک سائیکل والے نے پوچھا کہ قبرستان کو کون سا راستہ جاتا ہے. میں نے غیر ارادی طور پراسے پتہ سمجھانے لگا پھر خیال آیا کہ استاد نے کہا تھا ٹھکانے سے پہلے کسی سے بات نہیں کرنا لیکن میں یہ غلطی کر بیٹھا آج بھی سوچتا ہوں کہ شاید اسی وجہ سے میرا وہ چلہ نا کام ہوا. ایک خیال بھی ستاتا ہے کہ اتنی رات ویرانے میں سائیکل والا کہاں سے آ گیا تھا؟
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 02، 2013 #2
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    جب عامل حضرات پیسے کو اپنا رب مان لیں تو پھر تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔
     
  3. ‏فروری 02، 2013 #3
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

  4. ‏فروری 02، 2013 #4
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    کوئی بھی چیز انسان کو ضرر نہیں پہنچاسکتی۔۔۔
    اس وقت تک جب تک اس کے ایمان میں کمزوری نہ آجائے۔۔۔
    پانچ وقت کی نمازاور نماز کے بعد کے اذکار انسان کو ان خرافات سے محفوظ رکھتے ہیں۔۔۔
    باقی اللہ ہی بہتر علم رکھنے والا ہے۔۔۔
     
  5. ‏فروری 15، 2013 #5
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ
    حرب بن شداد بھائی میں آپکی بات سے متفق نہیں ہوں۔
    وجہ یہ ہے کہ جادو ایک امر ہے،اور اس کے اندر اللہ نے شیطانوں کو کچھ حد تک اختیار بھی دیا ہے۔اور اس کے خاتمہ کے لیے اللہ نے
    دعائیں بھی بتائیں ہیں۔کہ اگر یہ اثر کر جائیں تو فلاں فلاوں دعائیں پڑھی جائیں۔وغیرہ وغیرہ ۔میں اس بحث میں نہیں آوں گا کہ کون کون سی دعائیں ہیں۔،
    لیکن میں یہ کہوں گا کہ آپکا یہ عقیدہ درست نہیں ہے کہ اگر ایمان درست ہو تو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
    کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان بھی بالکل کامل تھا،اذکار،دعائیں حتی کہ سب کچھ کامل تھا۔لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر
    جادو کا اثر ہو گیا تھا۔
    اس لیے ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہوناچاہیے کہ ان کا اثر ہی نہیں۔۔۔۔بلکہ عقیدہ یہ ہونا چاہے کہ ان کا اثر ہے لیکن ان کے علاج کے لیے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مکمل احکام نازل فرما دئے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 4
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 06، 2013 #6
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,817
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    بہت زبردست معلومات شئیر کی ہیں۔بہت بہت شکریہ عامر بھائی
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 06، 2013 #7
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    میرا خیال سے جو شداد بھائی نے بات لکھی ھے جس کی پہلی لائن وہ شداد بھائی کا قول نہیں بلکہ قرآن مجید کی کسی آیت کا ترجمہ سے کچھ حصہ لیا گیا ھے جو شائد سورۃ البقرہ سے ھے۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 11، 2014 #8
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 11، 2017 #9
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    السلام علیکم!سب باتوں کی ایک بات جب یہ اتنا کچھ گھر بیٹھ کر کر سکتے ہیں تو۔۔۔۔
    ٭انکو پیسے کی کیا ضرورت۔گھر کی کیا ضرورت،کھانے پینے کی کیا ضرورت،سب ڈھونگ ہے ،فریب ہے، ۔۔جادو میں کسی بھی قسم کا اثر نہیں ۔۔۔۔کوئی جادگر کچھ بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔جادو کرنا ،جادو کروانا اور جادو میں اثر مان لینا سب کفروشرک ہے۔۔۔شکریہ۔
     
  10. ‏مارچ 11، 2017 #10
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    65



    سورۃ ابراھیم14۔
    اورجب فیصلہ چکادیا جائے گا تو شیطان کہے گا، ’’ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا ۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں ، ایسے ظالموں کے لیے تو درد ناک سزا یقینی ہے۔‘‘ (22)

    جو لوگ جادو میں اثر مانتے ہیں ان پر یہ آیت زبردست لگائی جا سکتی ہے۔۔۔جو اللہ کی شان نہیں پہچانتے ۔۔۔نہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش کو پہچانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔۔میرے لئے صرف اللہ ہی کافی ہے ۔۔۔اور نبی کریم ﷺ کی سنت۔۔۔۔جو اللہ کے مطابق ۔۔۔۔ہم تک پہنچی۔۔۔۔شکریہ۔۔۔
    سورۃ النحل 16۔
    اللہ کی قسم ! اے نبیﷺ ! تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں میں ہم رسول بھیج چکے ہیں (اور پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ) شیطان نے ان کے بُرے کرتوت انہیں خوشنما بنا کر دکھائے (اور رسولوں کی بات انہوں نے مان کر نہ دی)۔ وہی شیطان آج ان لوگوں کا بھی سرپرست بنا ہوا ہے اور یہ درد ناک سزا کے مستحق بن رہے ہیں۔ (63)

    سورۃ النور24۔
    اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہو سکتا۔

    ٭٭٭٭٭اللہ تعالیٰ صرف اور صرف اپنی رحمت اس انسان سے ہٹا لیتا ہے اور شیطان اس کو جہنم میں لے جانے کے لئے بےقرار ہوتا ہے۔۔۔۔

    اور لوگ بڑے آرام سے یہ کہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کچھ حد تک اختیار دیا ہے۔۔۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔۔۔استغفراللہ۔۔۔۔۔۔۔شیطان صرف وسوسہ ڈالتا ہے زبردستی نہیں کر سکتا۔۔۔۔اللہ اپنی رحمت اٹھا لیتا ہے بس۔۔۔۔۔۔۔اے مسلمان ذرا سوچ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں