1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

کالے پیلے عاملوں کی وارداتیں اوران کا خوفناک انجام قاضی کاشف نیاز

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏دسمبر 03، 2016۔

  1. ‏دسمبر 03، 2016 #1
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,884
    موصول شکریہ جات:
    1,163
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    قارئین کرام!نبی کریمﷺکی ایک حدیث مبارکہ ہے جس میں آپﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں چار جاہلیت کی باتیں ایسی ہیں کہ انہیں نہ چھوڑیں گے۔(مسلم)
    ان چار چیزوں میں ستاروں پر اعتقاد رکھنا بھی شامل ہے۔ یعنی یہ امت تمام تر جدید ترقیوں کے باوجود توہم پرستی کے امور کو کبھی نہ چھوڑے گی… توہم پرستی کاسب سے بڑا ذریعہ ہمارے ہاں آج کل یہ نجومی اورعامل پیر فقیر ہی ہیں… کہیں ستاروں کے حساب کے نام پر لوگوں کو ان کی قسمت کی خبردی جاتی ہے‘ ہر ایک شخص کو اس کے نام اور تاریخ پیدائش کے لحاظ سے اس کے مخصوص ستارے کانام بتایا جاتاہے اورپھر ہماری نئی نسل کے ماڈرن لوگ بڑے شوق سے ایک دوسرے کو اپنا تعارف کراتے ہوئے جہاں دیگر باتیں بتاتے ہیں ‘وہاں یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کا ستارہ کون ساہے؟ کوئی اپناستارہ عقرب یعنی بچھو (Scorpion)بتاتاہے تو کوئی سرطان(Cancer) کوئی خود کو حمل یعنی مینڈھا(Aries) کہلاتاہے توکوئی جدی یعنی بکری (Capricorn or goat)اورکوئی ثور یا بیل(Taurus) کہلاتاہے توکوئی قوس (Archer) یعنی ایساانسان جس کا دھڑ گھوڑے کا ہواور سرانسان کاہو وغیر وغیرہ۔ ان ستاروں کے نام پر دکانوں سے بڑے خوبصورت اور چمکدار سٹکرز وغیرہ بھی ملتے ہیں جنہیں یہ ماڈرن لوگ اپنی گاڑیوں‘ گھروں اور فائلوں‘کتابوں وغیرہ پربڑے فخرسے لگاتے ہیں۔ باہمی شادیوں کے لئے بھی کوشش کرتے ہیں کہ لڑکے لڑکی کا سٹار ایک جیسا ہو تاکہ وہ یہ گمراہ کن فقرہ کہہ سکیں کہ دونوں کے ستارے بھی آپس میں ملتے ہیں۔ انہی ستاروں کے نام پر یہ لوگ اخباروں رسالوں میں وہ مشہور کالم پڑھتے ہیں جن پرلکھاہوتاہے کہ ’’آپ کا یہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟‘‘ فطری بات ہے کہ اگر کسی کو پتہ لگ جائے کہ اس کا یہ ہفتہ اچھا نہیں گزرے گا اور وہ جو بھی کام کرے گا‘ اس میں اسے ناکامی ہوگی تو سوچئے کہ انسان کیا عضو معطل ہوکر نہیں بیٹھ جائے گا ۔اسی طرح اگرکسی کو یقین ہوجائے کہ اس کا یہ ہفتہ ہر صورت اچھا ہی گزرنا ہے اور حالات اس کے حق میں رہیں گے توپھر وہ لوگوں کے ساتھ جو چاہے زیادتی اور جائز وناجائز کرتا پھرے گا کیونکہ اسے یقین ہوگا کہ نتیجہ تو اس کے حق میں ہی رہنا ہے۔ غرض توہم پرستی کے انہی خطرناک نتائج سے انسانیت کو بچانے کے لئے رحمت اللعالمین ﷺ نے فرمایا کہ جوشخص کسی کاہن(غیب کی خبردینے والے نجومی‘ دست شناس‘عامل وغیرہ)کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کرے تواس نے محمدﷺ کی شریعت کاانکار کیا (مسلم)
    توھم پرستی کا دوسرا بڑا اورزیادہ خطرناک ذریعہ کالے پیلے عملیات کرنے والے عامل اور پیر‘فقیر حضرات ہیں۔ یہ زیادہ خطرناک ذریعہ ہم نے اس لئے کہاہے کہ دیندار لوگوں کی اکثریت انہی کے چنگل میں زیادہ پھنستی ہے۔ کچھ تو ایسے عمل اور وظائف کراتے ہیں جن میں واضح طورپر شرک کی آمیزش ہوتی ہے اسے کالا علم‘ شیطانی علم یا کالا جادو کہا جاتا ہے اور کچھ لوگ قرآنی آیات کی آڑ میں جن نکالنے کے نام پر بدعیہ اعمال ووظائف کراتے ہیں جنہیں عام آدمی سمجھ نہیں سکتا اسے نوری علم مشہور کیا گیاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپﷺ نے غیر شرکیہ دم کرنے کی اجازت دی ہے لیکن ایک معمولی اجازت سے اس قدر فائدہ اٹھانا کہ انسان کے شب وروز اسی کام میں صرف ہونے لگیں ‘کالے اور نوری علم کے نام پر وہ باقی حقوق اللہ اور حقوق العباد سے کٹ کررہ جائے اور اس کام کی باقاعدہ دکان بنا کر بیٹھ جائے تواس کی اجازت کم ازکم شریعت محمدیہﷺ اور سیرت نبویﷺ میںکہیں نہیں ملتی۔ یہ دم جھاڑ کاکام آپﷺ کے ہاں اس قدر پسندیدہ ہوتا توآپﷺ اس صحابیہ خاتون کے لئے ضرور ایسا کچھ عمل کرتے جسے شدید دورے پڑتے تھے۔ یہاں تک کہ سربازار ان کا کپڑا بھی اٹھ جاتا تھا۔ وہ آپﷺ کی بارگاہ میں اپنایہ مسئلہ لے کر آئی توآپ ﷺ نے اسے صرف صبر کی تلقین کی اور فرمایا کہ تیرے اس صبر کے عوض تجھے جنت میں جگہ ملے گی… پھر وہ صبر و رضا کی پیکر عظیم صحابیہ خاتون صرف اس بات پرراضی ہوگئی کہ اس کے لئے اتنی دعا کردی جائے کہ دورے کے دوران کم ازکم اس کا کپڑا نہ اٹھے چنانچہ آپﷺ نے یہ دعا کردی۔(بخاری)
    اب دیکھئے آج کا کوئی کالے پیلے عمل کرنے والا عامل‘ پیر‘ فقیر ہوتا تو وہ لازماً اس صحابیہ ؓ خاتون میں کسی جن اورآسیب کا سایہ ثابت کردیتا۔ لیکن آپﷺ نے کسی بھی بیمار اوررپریشان شخص کو اس چکر میں نہیں ڈالا۔آپﷺنے مسائل کے حل کے لئے شرعی اورغیرشرعی تمام طریقوں کی کھلی چھٹی نہیں دی۔آپ ﷺ نے جنوں کے وجود کو برحق ضرور قرار دیااور شیطان اور شریر جنوں کی شرارتوں سے بچنے کے لئے تمام ضروری اور مسنون اذکار بھی بتادئیے لیکن نبی ﷺ نے اس آڑ میں ان لمبے چوڑے تصوراتی اور توہماتی اعمال کی بنیاد نہیں رکھی جن کے ذریعے لوگ غیب کی سچی جھوٹی خبریں معلوم کریں‘ پھر انہی پر اعتقادکرکے اپنی زندگی کے امور چلائیں ‘اپنے مسائل اور بیماریوں کے حل کے لئے لمبے لمبے وظیفے اور چلّے کریں جس سے انسان اپنے روز مرہ معاشرتی فرائض ہی ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ اگر لوگوں کے مسائل حل کرنے کا یہ طریقہ درست ہوتا توآپﷺ سب سے پہلے انہیں ہی اختیار کرتے۔ انسانوں کی بڑی تعداد ہر دور میں بیماریوں اور مالی و دیگر پریشانیوں میں مبتلا رہی ہے… آپﷺ چاہتے تولوگوں کو ایسے عملیات بتادیتے ‘چاہے وہ قرآنی اور نوری ہی ہوتے جن کے ذریعے ہر ایک کا مسئلہ حل ہوجاتا توپھرآپﷺ کو دعوت وتبلیغ اور جہاد کی اتنی مشقتوں سے نہ گزرنا پڑتا اور لوگ اپنے مسائل حل کرا کر خود بخود آپﷺ کے مرید اورحلقہ بگوش اسلام ہوتے جاتے لیکن آپﷺ نے ایساکام نہ کیا۔ نہ کالے علم کے نام پر نہ نوری علم کے نام پر۔بلکہ آپ ﷺ تو کافروں کے زبردست اصرار کے باوجود معجزہ بھی بمشکل ہی کبھی دکھاتے تھے۔ اس کانتیجہ تھا کہ آپﷺ کے پاس مافوق الاسباب طریقوں سے اپنے مسائل کے حل کرانے والوں کا کبھی کوئی ہجوم نظر نہ آیا لیکن آج کالے اور نوری علم کے نام پرعملیات کرنے والوں کے پاس لوگوں کا تانتا بندھا ہوتاہے۔
     
  2. ‏دسمبر 03، 2016 #2
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,884
    موصول شکریہ جات:
    1,163
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    شر طیہ عیسائی عامل اور مسلمان:
    آج لوگوں کی جہالت کاعالم تویہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کا ہرصورت حل چاہتے ہیں ۔چاہے اس کے لئے انہیں کتنا ہی غیر شرعی اورشرکیہ طریقہ اختیار کرنا پڑے‘ اس کااندازہ اس سے لگائیں کہ آج کل اخبارات میں ایک ایسے عامل کااشتہار بھی آنے لگاہے جو خود کو شرطیہ عیسائی عامل لکھتاہے…اور عیسائی عامل ثابت نہ ہونے پر انعام کا بھی اعلان کرتاہے۔
    ہمارے معاشرے میں عیسائی حضرات خود کو عیسائی کم ہی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ عموماً ہر اقلیت پر ایک نفسیاتی اثر ہوتاہے۔ لیکن اس عیسائی عامل کو یقین ہے کہ لوگ اس کے پاس ہی آئیں گے کیونکہ لوگوں کو توہرصورت اپنے مسائل کا حل چاہئے۔ اس کے لئے انہیں چاہے شرک کرنا پڑے ‘چاہے کالے علم اورکالے جادو یا نوری علم سمیت کسی بھی ذریعے کو اختیار کرنا پڑے‘ ان کی بلاسے۔ انہیں اپنے عقیدہ‘ مذہب اور ایمان کی کوئی پروانہیں۔ لوگوں کو چونکہ کالے علم اور کالے جادو کی کاٹ پر زیادہ یقین ہے‘ شیطان صفت لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے شیطانی کاموںکے لئے شیطان ہی ان کی مکمل مد دکرسکتا ہے‘ اس لئے وہ کھل کرشیطانی علم کے حامل عامل سے ہی اپنے مسئلے کا حل چاہتے ہیں اور ایک غیر مسلم عامل پر انہیں پورا یقین ہوتاہے کہ اسی کے کے پاس یہ شیطانی اورکالا علم ہوگا کیونکہ مسلمان عامل کوئی شرکیہ کام کرتے ہوئے پھربھی تھوڑا بہت جھجھک سکتاہے لیکن ایک غیر مسلم کوکیا پروا۔ چنانچہ لوگ ایسے عیسائی عامل کے پاس جارہے ہیں اور وہ بھی انہیں ڈنکے کی چوٹ پرشرک کی طرف بلارہاہے ۔یہ آج مسلمانوں میں جہالت‘ حرص و ہوس اور توہم پرستی کی انتہاہے۔
     
  3. ‏دسمبر 03، 2016 #3
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,884
    موصول شکریہ جات:
    1,163
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    ایسے ہی کالے پیلے عملیات کرنے والوںکے نت نئے طریق واردات اور پھر ان عاملوں اوران کے مریدوں کا عبرتناک انجام سردست ہمارا موضوع ہے تاکہ عوام مال و ایمان کے ان لٹیروں سے خبردار رہیں اور ان کے انجام سے عبرت پکڑیں ۔ آئیے مختلف ذرائع سے جمع شدہ یہ چشم کشا اور عبرتناک رپورٹیں ملاحظہ کریں۔
    آیات لکھے تعویزوں پر جوتے مار کرعلاج کرنے والا عامل پیر:
    کچھ عرصہ قبل پولیس نے ایک ایسے پیر کوپکڑا جو قرآنی آیات پر نعوذباللہ جوتے مار کر علاج کرتا تھا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میںنشاط کالونی میلاد چوک میں بیوٹی ہیئرڈریسر کے مالک محمد ارشد کی بیوی نائلہ ارشد کے پیٹ میں درد رہتا تھا جس کاعلاج کرنے کے لئے نائلہ کے سسربشیر احمد نے اسے کسی پیر سے علاج کروانے کا مشورہ دیا۔ نائلہ کا خاوند محمد ارشد اسے نشاط کالونی کے آخری بس سٹاپ کے قریب کوارٹروںمیں رہائش پذیر باریش امیر علی کے گھر لے گیا اور بیوی کی تکلیف کے بارے میں بتایا۔
    امیرعلی نے محمدارشد کے گھرآکرپانی کی بوتل دم کرکے دی اور کہا ‘گھر میں اس پانی کا چھڑکاؤ کرو‘ کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ پیر نے محمد ارشد سے کہا کہ بکرے کا پانچ کلو گوشت قبرستان میں رکھ آؤ‘ اسے بلائیں کھاجائیں گی۔ تمہیں ایک لفظ بتاؤں گا‘ وہ پڑھتے ہوئے قبرستان میں داخل ہونا۔ اس کی وجہ سے تمہیں خوف نہیں آئے گا۔ ارشد کے والد بشیر احمد نے پیر کو بتایا کہ ارشد کو اندھیرے سے خوف آتاہے ۔وہ قبرستان کیسے جائے گا۔ امیر علی نے کہا کہ مجھے200روپے دے دو۔ میں خود ہی گھر میں میٹھی چیز پکا کر کسی میدان میں رکھ دوں گا۔ارشد نے اسے پیسے دے دئیے۔ امیر علی نے نائلہ کو چند تعویز دئیے اور کہا کہ ان کو پکڑ کر مٹھی میں بند کرلینا … آدھ آدھ گھنٹے بعد ان تعویزوں کو دونوں ہاتھوں میں بدلتی رہنا۔ جب 12بج جائیں توان تعویزوں کو زمین پر رکھ کر 21جوتے مارنا ۔ اس طرح تمہارے پیٹ کی تمام تکلیفیں ختم ہوجائیں گی ۔ اسی رات اچانک نائلہ کے پیٹ میں شدید درد اٹھا۔ شوہر نے اس سے تعویزلے کرجیب میں ڈال لئے اور بیوی کو قریبی عائشہ کلینک لے گیا جہاں نائلہ کو داخل کرلیا گیا ۔اس کے میڈیکل ٹیسٹ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کے معدے میں سوزش کی وجہ سے درد ہوتا ہے۔نائلہ کوڈرپ لگا دی گئی۔ ارشد بھی بیوی کے پاس ہسپتال میں ٹھہر گیا ۔ اس کا چچا زاد بھائی مسعود حسین بھی ہسپتال آگیا۔ ارشد نے تعویز دکھائے‘ مسعود نے تعویزوں کو دیکھا توان پر قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ ارشد اسی وقت اپنے کزن کو لے کراپنی دکان کے قریب ایک دکان کے مالک ریاض علی کے پاس آیا‘ریاض ان تعویزوں کو محلے کی مسجد حیات اسلام کے خطیب حافظ قاری عنایت اللہ کے پاس لے کر چلا گیا اور قاری کو تمام حالات سے آگاہ کیا۔ قاری عنایت اللہ نے جوتیاں مارنے کی تصدیق کرنے کے لئے ارشد اور ریاض کو جعلی پیر کے پاس بھیجا۔انہوں نے امیر علی کو بتایا کہ آپ کے تعویزوں سے میری بیوی کو آرام آگیاہے جس پر امیر علی نے کہا کہ آپ تعویزوں کو جتنی زیادہ جوتیاں مارو گے‘ اتنی جلدی تمہاری بیوی تندرست ہوجائے گی۔ ریا ض اور ارشد دوبارہ خطیب کے پاس گئے جس نے رات گئے محلے داروں کو اکٹھاکیا اور پیر کو اس کے گھر سے اٹھاکر گاڑی میں ڈال کر تھانہ جنوبی چھاؤنی کی پولیس کے حوالے کردیا۔ یہ واقعہ یکم ستمبر 2000 ء کو پیش آیا۔
    لاہورمیں جنسی بھیڑئیے عامل پولیس کو باقاعدہ منتھلی دیتے ہیں …
    شوہروں کو راہ راست پرلانے کی خواہش مند عورتیں زیادہ شکار بنتی ہیں
    لاہورمیں جنسی بھیڑئیے نوسر باز عاملوں کو پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کھلے عام لوگوں کو لوٹنے اور شریف گھرانوں کی لڑکیوں کی عزتیں پامال کرنے کا مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہرعامل اپنے علاقہ کے ایس ایچ او کو باقاعدہ منتھلی دیتاہے اور اگر ان کے ہاتھوں لٹنے والا شخص تھانے میں شکایت کرے تو اسے پولیس اہلکار ڈرا دھمکا کر باہر نکال دیتے ہیں۔ نو سربازعاملوں کی بڑی تعداد پریشان حال مردو خواتین کو کچھ دیر بعد جھوٹا حساب لگا کر یہ کہتے ہیں کہ تمہارے جسم میں زہر پھیل چکاہے اور تمہارے دشمنوں نے تم پراتنے زبردست تعویز کروائے ہیں کہ تم دو دن بعد مرجاؤ گے۔یہ سن کر ہرشخص پریشان ہوجاتاہے اور اس کا حل پوچھتا ہے تونوسرباز عامل بھاری رقم کا مطالبہ کردیتے ہیںاور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے عمل کے بعد تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔نوسر باز عاملوں کا شکار زیادہ تر امیرگھرانوں کی خواتین بنتی ہیںجو اپنے عیاش شوہروں کو راہ راست پرلانے کے لئے ان نوسرباز عاملوں سے رابطہ کرتی ہیں۔بعدازاں انہیں نہ صرف اپنی عزت گنوانا پڑتی ہے بلکہ ہزاروں روپے بھی ان کی چکنی چیڑی باتوں میں آکر لٹابیٹھتی ہیں۔ نوسر باز عامل ان خواتین کو مستقل بلیک میل کرنا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ خواتین ان کی ہرجائز وناجائز خواہشات پوری کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔
    ایک ایک عامل کی کئی برانچیں…
    الوؤں کے خون سے سے تعویز:
    عاملوںنے لوگوں کو لوٹنے کے لئے کیا کیاحربے اختیار کر رکھے ہیں‘اس کااندازہ اس سے لگائیں کہ ان عاملوں نے صوبائی دارالحکومت لاہورمیں لوگوں کو لوٹنے کے لئے علیحدہ علیحدہ شاخیں قائم کررکھی ہیں جبکہ ہرشاخ کانام بھی مختلف ہے۔
    تفصیلات کے مطابق شہر بھر میں پھیلے ہوئے نوسرباز عاملوں اور نجومیوں نے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے لالچ اوراپنی ہوس مٹانے کے لئے مختلف شاخیں قائم کررکھی ہیں اور ہر شاخ میں اپنا کوئی عزیز بٹھایاہوتاہے یا پھر کوئی چیلا وہاں موجودہوتاہے جو پریشان حال لوگوں کو گھیرنے کاکام سرانجام دیتاہے۔ ہرنوسر باز عامل اورنجومی کا یہ دعویٰ ہے کہ دنیا کاسب سے بڑا طلسم کدہ اس کے پاس ہے اور صرف وہی الوؤں کے خون سے تعویز بناتا ہے جبکہ ان ’’نوسرباز‘‘ عاملوں نے یہ بھی دعویٰ کررکھاہے کہ وہ ایشیا میں تہلکہ مچا چکے ہیں۔ جبکہ کچھ اپنے آپ کو فخر بنگال قرار دیتے ہیں۔ ان نوسرباز عاملوں کے مطابق کالا علم صرف وہی جانتے ہیں اور ان کے آباؤ اجداد بھی یہی کام کرتے تھے۔انہیں جو علم آتاہے ‘وہ انہیں اپنے بزرگوں سے ملاہے۔
    متعدد عامل حکمت میں ناکامی کے بعد اس پیشے میں آئے:
    عاملوں کے بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جو دراصل پہلے حکیم تھے لیکن جب انہیں حکمت کے کام میں ناکامی ہوئی تو پھر انہوں نے کالے پیلے عملیات ‘تعویزات اور جن نکالنے کا دھندا شروع کردیا۔ کئی ایسے عامل ہیں جنہوں نے حکمت اور عملیات دونوں پیشوں کو بیک وقت اختیار کیاہواہے۔ یہ لوگ پہلے کسی مریض کا دیسی طریقوں سے علاج کرتے ہیں اور پھر جب اس میں ناکامی ہونے لگتی ہے تو اس کا اعتراف کرنے کی بجائے وہ مریض کو یہ بتاتے ہیں کہ دراصل آپ پر کسی جن ‘آسیب یا جادو وغیرہ کا اثرہے اور یوں وہ دونوں طریقوں سے لوگوں کو لوٹ لوٹ کر ان کا براحال کردیتے ہیں اور جب دونوں طریقوں سے بھی کچھ نہیں بنتا توپھر کہہ دیتے ہیں کہ شفاء تو اللہ کی جانب سے ہوتی ہے… اللہ چاہے گا تو آپ کو شفاء ملے گی ‘ہم کیا کرسکتے ہیں۔ حالانکہ شروع میں وہ ایسی بات نہیں کرتے بلکہ بڑے بڑے دعوے کرکے مریض کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے مسئلے کا حل ہے ہی ان کے پاس…آئیے اب ایسے ہی کراچی کے ایک نوسر باز عامل وحکیم کے بارے میں روزنامہ امت (11-12-2002)کی ایک رپورٹ ملاحظہ کریں۔
    عیسائی عامل وحکیم اور پیر سوہنا مسیح:
    کراچی کے عامل حکیم مقدم شاہ عرف سوہنا مسیح عرف یونس مسیح نے عیسیٰ نگر ی کے آستانے میںمطب بھی بنایا ہوا ہے جہاں مختلف امراض میں مبتلا لوگوں سے علاج کے نام پر بھاری رقوم بٹوری جاتی ہیں۔اس عامل و حکیم کو گلشن اقبال ٹاؤن کے ایک پولیس افسر کی سرپرستی حاصل ہے۔
    ذرائع کے مطابق یونس مسیح گزشتہ 8سال سے حکیم وعامل بن کر لوگوں کو لوٹ رہاہے۔ عیسیٰ نگری سے قبل لیاقت آباد میںعامل سوہنا مسیح کے نام سے آستانہ چلاتاتھا تاہم 8سال قبل عیسیٰ نگری کے علاقے میں اس نے ماہانہ 3ہزار روپے کرائے پر دکان حاصل کرکے عامل سوہنامسیح کے نام سے آستانہ اور پیر مقدم شاہ کے نام سے مطب چلانا شروع کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس مسیح عملیات وتعویزات کے علاوہ مختلف امراض میں مبتلا لوگوں سے علاج کے نام پربھاری رقوم وصول کرتاہے جبکہ اس نے اپنے آستانے کے باہر چند جرائم پیشہ افراد کو بھی بٹھا رکھاہے جورقم کی واپسی کا تقاضہ کرنے والے گاہکوں کو تشدد کانشانہ بناتے ہیں۔ یونس مسیح کے آستانے پرعلاج کے لئے آئے ہوئے ایک شخص اسلم کے مطابق اسے گردوں میں پتھری کی شکایت ہے جس کے لئے وہ پیر مقدم شاہ کے پاس آیا تھا۔ اسلم کے مطابق پیر مقدم شاہ عرف یونس مسیح نے اس سے ڈھائی سوروپے معائنہ فیس وصول کی اور اسے دم کیا ہواپانی‘ شکر اور چند دوائیں دے کر دوبارہ معائنے کے لئے ایک ہفتے بعد بلایا حالانکہ اسے کوئی فرق نہیں پڑا۔
    تحقیقات کے مطابق جعلی عامل سوہنا مسیح عرف پیر مقدم شاہ عرف یونس مسیح فیصل آباد کا رہنے والا ہے اور اس کے خاندان کے دیگر افراد بھی پنجاب اورکراچی کے مختلف علاقوںمیں یہی کاروبار کررہے ہیں۔یونس مسیح پسند کی شادی‘ محبت میں ناکامی‘ بے روز گاری سے نجات اور دیگر گھریلو و کاروباری مسائل سے نجات کے لئے مختلف تعویزات وعملیات کے نام پرلوگوں کو بیوقوف بناتاہے جبکہ پیر مقدم شاہ کے نام سے حکیم بن کر کینسر‘ گردوں ومثانہ میں پتھری‘ بلڈ پریشرہرقسم کے جنسی امراض سمیت دیگر بیماریوں کے علاج کے نام پر لوگوں سے بھاری رقوم بٹوررہاہے۔
    ذرائع کا کہناہے کہ جعلی عامل وحکیم کوگلشن اقبال ٹاؤن انوسٹی گیشن پولیس کے ایک ڈی ایس پی کی سرپرستی حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی کا بیٹرانور عامل سے ہرہفتہ3ہزارروپے بھتہ وصول کرتاہے۔ جعلی عامل یونس مسیح کے آستانے سے شراب اور منشیات بھی فروخت کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کاکاروبار تیزی سے فروغ پذیر:
    ان دیکھے موکل قابوکرنے کیلئے عاملوں کی مضحکہ خیز حرکات ‘کالی دیوی اور ہنومان کے جادو سیہہ کاکانٹا‘الو‘ سور‘ انسانی لاش کی ٹانگ اور چیل کے انڈہ کی ہزاروں روپے میں فروخت
     
  4. ‏دسمبر 03، 2016 #4
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,884
    موصول شکریہ جات:
    1,163
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    بی بی سی کی رپورٹ:
    پاکستان میں کالا جادو کرنے کاڈھونگ کرنے والے نام نہادجادوگراورعامل‘ جادوپریقین رکھنے والے معصوم لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کررہے ہیں۔ اپنے دل میں اچھی بری ممکن ناممکن خواہشات لئے جادوگروں کے پاس جانے والے افراد ان شعبدہ باز جادوگروں کی انگلیوں پرکٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے ہیں۔17جولائی 2002ء کو بی بی سی نے اس بارے میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ برائی کے دیوی دیوتاؤں کوخوش کرنے کے لئے اوران دیکھے موکلوں کو قابو کرنے کے لئے جادوگروں کے ساتھ مل کر الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں۔ بعض عمل ایسے ہوتے ہیں جنہیں سن کر ہنسی آتی ہے توبعض ایسے کہ کرنے والے کی عقل پرماتم کرنے کو دل کرتاہے۔ بسا اوقات انتہائی گھناؤنے کام کئے جاتے ہیں۔ چند جادو مقدس آسمانی کتابوںکے اوراق پر بیٹھ کر کئے جاتے ہیں۔بعض کے لئے چالیس روز تک نجس رہنے کی شرط عائد کی جاتی ہے ۔کسی جادو کروانے والے کو سور کاگوشت کھانے پرمجبور کیاجاتاہے توکسی کو بغیر بتائے اسی جانور کی ہڈیوں کا سفوف چٹایا جاتاہے ‘ کبھی کسی عورت کو قبرستان میں کسی تازہ مرے بچے کی نعش پر نہانے کا مشورہ دیا جاتاہے تو کبھی کوئی عورت اندھیری رات میں دریا کے ویران کنارے نہلائی جاتی ہے۔ ایسی خبریں بھی ملیں کہ اولاد کے لئے کسی معصوم بچے کو قتل کراکے اس کی نعش کے ذریعے جادو کیاگیا۔
    ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں چور اسی قسم کے نام نہاد جادوئی عملیات مشہور ہیں۔جبکہ انفرادی ذہنی اختراعات اس کے علاوہ ہیں۔یہ عمل کالی دیوی‘ سارس وتی‘ہنومان‘بھیرو اورکمچھیا دیوی کے نام پر کئے جاتے ہیں۔ کمچھیا اور کالی دیوی کا جادو صرف گندکھا کر ہوتاہے۔ ایک عمل کے لئے مردو عورت کا آپس میں گناہ کرناضروری ہے جبکہ بعض جادوئی تحریریں خون سے اور بعض انسانی غلاظت سے لکھی جاتی ہیں۔ جادوکرنے والوں کے مطابق ایک بکرے کی سری لے کر اس کی زبان کے نیچے تعویز رکھ کر پھر منہ کو سوئیوں سے بند کرکے کسی تندوریاچولہے کے نیچے دبادیا جاتاہے۔ جاودگرجھانسہ دیتاہے کہ جس شخص پر یہ عمل کیاگیا‘وہ آہستہ آہستہ موت کی طرف جاناشروع ہوگیاہے۔ اسی طرح ایک جادوئی ہنڈیا ہوا میں اڑکرمخالف کے گھر گرائے جانے کا دعویٰ کیاجاتاہے اور جھانسہ دیاجاتاہے کہ اب اس گھر میں موت نے ڈیرے ڈال لئے۔ ایک اور جادو کے تحت کپڑے کاگڈا بنانے کے بعد اس کے سینے میںسوئیاں گھونپ کر چولہے یاتندور کے نیچے یا گندے نالے کے کنارے دبا دیا جاتاہے تاہم اگرگڈے کوسوئیاں چبھوئے بغیرپنکھے سے لٹکا دیا جائے یا درخت سے باندھ دیاجائے تو پھر جادو کروانے والا‘ جادو گر کے دکھائے سبز باغ کے مطابق من پسند لڑکی کے اپنے قدموں میں گر جانے کا انتظار کرناشروع کردیتاہے۔
    بھیرو کے عمل کے مطابق بکرے کاایک عدد ایسا دل ڈھونڈا جا تاہے جس کو چرکانہ لگاہو۔ اس دل کی دو نسوں میں تعویز لکھ کر ڈال دئیے جاتے ہیں ‘جس کے بعد اس میں تین ‘پانچ یا سات سوئیاں گھونپی جاتی ہیں۔ہر ایک کاالگ الگ نتیجہ ہے جیسے کہ تین سوئیاں محبوب کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے‘پانچ دلوں میں دوریاں ڈالنے کے لئے اور سات شدید نفرت پیدا کرنے کے لئے گاڑی جاتی ہیں۔ہندوؤں کے دیوتا ہنومان(بندر) کاعمل صرف معلومات کے حصول کے لئے کئے جانے کا دعویٰ کیاجاتاہے۔ ایک اورعمل میں جادوگرروٹیوں پر تحریریں لکھ لکھ کر دریا میں ڈالتے ہیں اور ان کے بقول یا توکسی کارزق بند ہو جاتاہے یاکھل جاتاہے۔ اس کے علاوہ یہ جادوگر کسی ایسے ہندو مردے کی چتا کی چٹکی بھر راکھ بھی بھارت سے سمگل کراکے پیش کردیں گے جس ہندو نے زندگی بھر گوشت نہیں کھایاتھا‘ان کادعویٰ ہے کہ یہ راکھ جس کو بھی کھلائی جائے‘ وہ مرجاتاہے۔
    لاہورکے نام نہاد جادوگروں نے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے بے شمارشعبدے ڈھونڈ رکھے ہیں۔ لاہور کا ایک عامل انڈہ توڑ کر اس میں سے سوئیاں نکالتاہے تو دوسرا دہکتاکوئلہ ہتھیلی پررکھ لیتا ہے۔ ایک عامل شوہر کو قابوکرنے کاتعویز سنکھیا سے لکھ کر دیتاہے ۔ بیوی ناسمجھی میں تعویز پانی میں گھول کر پلاتی رہتی ہے۔ نتیجہ میں شوہر بیمار پڑجاتاہے اور بیوی کے قابومیں آجاتاہے۔ بیوی اسے عامل بابا کی کرامت سمجھتی رہتی ہے۔ یہ جادوگر دنیا کا ہرکام کراسکنے کا دعویٰ کرتے ہیں اورشرط بھاری فیس کی ادائیگی ہے۔
    لاہور کے جادوگر سیہہ کاکانٹا پانچ سوروپے‘الوتین ہزار روپے تک‘سور پانچ ہزار روپے تک‘ کستوری ڈیڑھ سے ڈھائی ہزار روپے تک‘مکمل کالا بکرا ایک سے تین ہزار روپے تک‘ اونٹ کا دل پانچ ہزار روپے ‘انسانی مردے کی ٹانگ دس ہزار روپے اور بازو پانچ ہزار روپے‘ الو‘چیل‘عقاب وغیرہ کاانڈہ پانچ روپے اورغیر مسلم کنواری لڑکی کا پندرہ ہزار روپے تک (فی رات)میں خود ہی انتظام کر لیتے ہیں۔
    لاہورکے ایک سابق پرائز بانڈ ڈیلر سعید کھوکھر نے انعامی نمبر لینے کے لئے کالا عمل کرنے والے ایک جادوگر بلے شاہ کو پچاس ہزار روپے کی ادائیگی کی۔ اس کی ہدایت پر چار بکرے‘ ایک کنواری غیر مسلم لڑکی اوردومن کوئلے لے کر امأدس کی رات جادوگر بلے شاہ کے ہمراہ دریائے راوی کے کنارے پہنچے۔ کشتی میں بیٹھ کر دریاکے درمیان گئے اور ایک قدرتی خشک حصہ میں پڑاؤ کیا۔ جادوگر نے کوئلے دھکائے‘ حصار بنایا‘لڑکی سے زیادتی کی۔ پھر تلوار سے زندہ بکروں کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کوئلوں پر ڈالنا شروع کردئیے۔ صبح اس نے ایک نمبر لکھ دیا جس کے مطابق سعید نے بازار سے دولاکھ روپے کی پرچیاں خریدی لیکن نمبر نہ نکلا جس کے بعد انہوں نے جادو سے توبہ کرلی۔
    ضعیف الاعتقاد بے اولاد خواتین کو اکثر اکیلے بلایا جاتا ہے۔بے شمار خواتین نے صرف اس چکرمیں اپنی عزتیں گنوائیں۔ بد کردارعامل‘جادوگروں کے ہتھے چڑھ جانے والی بے شمار لڑکیاں جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تو ہم پرستی میں اضافہ ہوتا چلا جارہاہے۔گذشتہ پانچ چھ سال سے تو ہم پرستی بے حد بڑھ گئی ہے۔
    نام نہاد جادوگروں کے ستم کا انسانوں کے بعد سب سے بڑا نشانہ الوہے۔ ویر انوں میں رہنے والے اس پرندے کے بارے میں جادوگروں نے یہ بات پھیلا دی ہے کہ الو کے خون میں لکھی گئی جادوئی تحریر کاکوئی توڑ نہیں ہے۔ جادوگرکے ہاتھوں الو کی ہلاکت بھی بڑی اذیت ناک ہے۔
    محکمہ انسداد بے رحمی ٔ حیوانات نے کبھی اس جانب توجہ نہیں دی۔ایک قسم کے جادو کے لئے الو کے بازو کے پر‘ پاؤں اور چونچ کالے دھاگے سے باندھ کر تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے چھوڑدیا جاتاہے جبکہ مختلف اوقات میں تعویز لکھنے کے لئے اس کی ٹانگ میں بار بار زخم لگایا جاتاہے۔ چھ سات بار خون نچڑ جانے کے بعد الو مرجاتا ہے۔ مرنے سے پہلے زندہ الوکی آنکھیں نکال کر کپڑے میں ڈال کر لٹکا دی جاتی ہیں اور خشک ہونے پر شراب میں پیس کرسرمہ بنا کر دیا جاتا ہے اور یہ جھانسہ دیاجاتاہے کہ اسے روزانہ آنکھوں میں لگانے والا سات روز کے بعد جنس مخالف کوزیر کرکے اپنے مقاصد پورے کر لے گا۔ الو کی ہڈیوں کو جلا کر راکھ کا سفوف بنایاجاتاہے جو مبینہ جادوئی تحریریں لکھنے کے کام آتاہے۔(تاہم اتنا کچھ کرنے کے بعد لوگوں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا اور وہ اپنامال و ایمان سب کچھ لٹا بیٹھتے ہیں)
     
  5. ‏دسمبر 03، 2016 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,884
    موصول شکریہ جات:
    1,163
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    عامل ایجنسیوں کا مخبر نکلا:
    ہمارے خلاف مہم چلانے والوں پر جادو کر دیں گے۔ جادوگر
    بے شمار اداکار‘سیاستدان اور اہم شخصیات ہمارے پاس آتی ہیں۔

    پولیس کو سالانہ 5کروڑ’’منافع‘‘ لاہورمیں لوٹ مار کے 5ہزار اڈے
    گورنرپنجاب لیفٹیننٹ جنرل(ر) خالد مقبول کے احکامات پر 17جولائی 2002ء کونوسرباز عاملوں اور نجومیوں کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو لاہور کے 80فیصد سے زائد عامل‘نجومی اور جادوگر اپنے طلسم کدوں پر اپنے چیلے بٹھاکر زیر زمین چلے گئے۔ ان کے دفاتر پر آویزاں بورڈ اتار دئیے گئے۔
    پولیس کی بھاری نفری نے فیصل ٹاؤن میں مقیم نجومی کے دفتر پر چھاپہ مارا تومذکورہ نجومی نے کہا کہ میں آپ کا اپنا ہی بندہ ہوں۔ یہ نجومی ایجنسیوں کے انفارمر کے طورپر بھی کام کررہا تھا۔ اگلے مرحلے میں حکومت نے ایک خصوصی سکواڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جو لاہور کے قبرستانوں میں رات کی تاریکی میں عملیات کرنے والے افراد کا سراغ لگائے گی۔ نوسرباز نجومی‘عامل اور جادوگربھاری نذرانے کے عوض اپنے پاس آنے والوں کو ’’زہریلے کیمیکل‘‘ سے لکھے ہوئے تعویز بھی دیتے ہیں‘ تعویز حاصل کرنے والے انہیں اپنے مخالف پر استعمال کراتے ہیں۔
    جادوگروں‘عاملوں اور نجومیوں کے خلاف آپریشن کے آغاز پر یہ افراد بوکھلا کر عجیب وغریب دعوے کرنے لگے۔ این این آئی نے جب مذکورہ مختلف افراد سے بات چیت کی توانہوں نے کہا کہ جادو برحق ہے اور اب ہم حکومت پر جادو کریں گے۔کرامت علی قادری المعروف کامل قادری باوا گڑھی شاہو نے بتایا کہ میں عرصہ 20سال سے لاہور میں کام کررہاہوں۔ ایک برانچ اقبال ٹاؤن مین روڈ پر کھول رکھی ہے جسے میرا بھتیجا خالد محمود چلاتاہے جبکہ میرا بیٹا ندیم سہیل‘ فیصل آباد برانچ چلا رہاہے۔ اس نے کہا کہ جس کے اپنے تھانے میں معاملات طے ہیں ‘انہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ‘ چاہے احکامات صدر پاکستان کے ہی کیوں نہ ہوں۔
    مغلپورہ نہرپر محمد سرور شیرازی نامی جادوگر کے دفتر جب این این آئی ٹیم پہنچی تو اس وقت وہ اپنے دفتر کے پیچھے خفیہ خانے سے سیڑھیوں کے ذریعے اوپر کمرے میں موجود تھا۔ نیچے دفتر میں سانپ‘ نیولے اور آبی جانور شیشوں میں بند کررکھے تھے۔ سرور شیرازی جو ننکانہ صاحب شیخوپورہ کا رہائشی ہے‘ نے بتایا کہ ایسی کئی مہمیں شروع ہوئیں اور ختم ہوگئیں۔
    کامل عمران نے کہا کہ میرے پاس دوجن ہیں۔ ایک عیسائی اور ایک مسلمان۔میرے پاس تمام بڑے اداکار‘بشمول ریما‘میرا‘ صاحبہ‘ وسیم‘سعود‘بابرعلی آتے ہیں۔ عامل گیلانی باواشاہ نے کہا کہ ہمارے خلاف مہم چلا کر ٹھیک نہیں کیا۔ عامل ‘نجومیوں کی یونین کے پنجاب کے صدر عامل باقر نے کہا کہ اب ہم صدر مشرف اور گورنر خالد مقبول پر بھی جادوکریں گے۔
    این این آئی کے بیورو چیف میاں اظہر امین کو مہم چلانے پر ایک جن پیچھے لگانے کی دھمکی دے دی۔ عامل نجومی فضل کریم نے کہا کہ میں اصلی عامل ہوں۔ اعجاز الحق دومرتبہ میرے پاس وزیر اعظم بننے کے لئے آیا۔ مینار پاکستان کے پاس ایک بندریا کو مادھوری بنا کر 10منٹ نچایا۔ میں ایجنسیوں کا انفارمرہوں۔ ایم اے کوکب نے بتایا کہ انہیںنوری علم آتاہے۔ داتا صاحب (المعروف)کے قریب بیٹھے عامل ایس اے جیلانی کے دفتر جب بیورو چیف این این آئی اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچے تووہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور گلیوں میں غائب ہوگیا۔ بیشترنجومی جن میں عامل شیرازی بنگالی‘پروفیسر ایم آر بنگالی‘ عامل نجومی ایس آرجعفری‘ پروفیسر ایم کے صابری‘ عامل سوداگر مسیح بنگالی‘ فخر بنگالی‘ عامل ساگر‘ آغا عظیم شاہ عامل پیر‘عامل قادری باوا‘ تصدیق رفیع‘ عامل گوگیہ پاشا‘ عامل چشتی‘ عامل ذاکر‘ عامل نجومی رضا شامل ہیں‘دفاتر بند کرکے غائب ہوگئے۔
    بتایا گیاہے کہ صرف لاہور میں موجود عامل ‘جادوگر‘ پیر‘نجومی عطائیے‘ جعلی حکیم اور قحبہ خانے اور منشیات کے اڈے پانچ ہزار سے زائد کی تعداد میں موجود ہیں۔ ہر تھانہ اپنے علاقے میں مذکورہ دو نمبریوں سے باقاعدہ منتھلیاں اکٹھی کرتا ہے اوراپنا حصہ رکھ کر اعلیٰ افسران کو پہنچایا جاتاہے۔ مذکورہ افراد سے لاہور پولیس5کروڑ روپے ماہانہ سے زائد بھتہ اکٹھا کرتی ہے جوبڑے منظم طریقہ سے افسران و انتظامیہ میں تقسیم ہوجاتا ہے۔
    پیسہ بٹورنے کے لئے عاملوں کے نت نئے ہتھکنڈے:
    بکرے کے صدقے کیلئے8سے10ہزار اور الو کے خون کیلئے 20ہزار تک ٹھگ لیتے ہیں
    بانچھ خواتین کو ناقابل علاج بتایاجاتاہے‘ نعم البدل کے طور پر بھاری رقم لی جاتی ہے۔
    ہر’’نوسرباز‘‘ عامل اورنجومی نے اپنے علیحدہ علیحدہ کام کرنے والے اورلوٹنے کے طریقے اختیار کررکھے ہیں۔ عاملوں کی بڑی تعداد اپنے پاس پھنسے سادہ لوگوں کو یہ کہتی ہے کہ چونکہ آپ کے کام کے لئے دریا پر جاکرچلہ کاٹناہے اور’’ہوائی چیزوں‘‘کواس مقصد کے لئے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے‘ اس لئے آپ ایک بکرے کی قیمت جتنے پیسے ادا کردیں تاکہ آپ کاکام ہوسکے۔ یوں وہ ایک گاہک سے8سے10ہزار روپے تک بٹورلیتے ہیں۔ جبکہ اکثر عامل اور نجومی یہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کے کام کے حل کے لئے ’’الوؤں‘‘ کا خون ضروری ہے‘ اس لئے آپ الو خریدنے کے لئے رقم ادا کریں ۔اس طرح 15سے20ہزار روپے ٹھگ لیتے ہیں۔ اپنے تیار کردہ پمفلٹ میں بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ الوؤں کے خون سے عمل کرتے ہیں۔ بے اولاد عورتوں کو ایسے عمل بتاتے ہیں جو ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ انہیں کہاجاتاہے کہ رات کوجاکر قبرستان میں اکیلی نہاؤ۔ پھر تمہارے گھراولاد پیدا ہوگی۔ کبھی کسی قبرکی مٹی کا کھانے کا کہہ دیتے ہیں۔ اگرکوئی ان کاموں سے انکار کرے تواسے ان عملیات کے بغیر کام مکمل کرنے کے لئے بھاری معاوضہ وصول کرتے ہیں۔
    کنگلے عامل کام نہ ہونے پر12لاکھ تک انعام کا دعویٰ کرتے ہیں:
    نوسربا زعاملوں اور نجومیوں نے لوگوں کو اپنے جھانسے میں لانے کے لئے یہ دعوے کررکھے ہیں کہ میرے علم کو جھوٹاثابت کرنے والے کو 12لاکھ روپے انعام دیاجائے گا اس طرح کچھ عاملوں نے انعام کی رقم10لاکھ‘8لاکھ‘7لاکھ اور3لاکھ روپے مقرر کررکھی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ جونجومی اس قسم کے دعوے کرتے ہیں‘ وہ حقیقت میں بالکل کنگلے ہیں۔خود فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر دھواں‘ مٹی اورلدّکھاتے ہیں اور لوگوں کو ان کا ہر مسئلہ حل ہونے کے خواب دکھاتے ہیں۔
    میچ اور پرچی جوا کے چکر میں بھی نوجوانوں کو بے وقوف بنایاجاتاہے:
    نوسربازجعلی عامل اور نجومی جوئے میں کامیابی دلوانے کا جھانسہ دے کر بھی نوجوانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔
    تفصیلات کے مطابق غربت‘ بے روزگاری اور معاشی مسائل نے نوجوان نسل کو جوئے کی طرف راغب کردیا ہے۔ جعلی عامل اور نجومی میچوں پر جواء ‘پرچی جوئے‘تاش پر جوئے اور گھڑ ریس پررقم لگانے کے بعدبھاری منافع دلانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نوجوان لڑکے ان نجومیوں کو بڑی مشکل سے رقم دیتے ہیں تو نوسرباز نجومی انہیں پرچی جواء لگانے کے لئے نمبر دے دیتے ہیں جبکہ میچوں پر جواء لگانے کے لئے کسی ایک ٹیم کی جیت کی نشاندہی کرتے ہوئے اس پر شرط لگانے کا کہہ دیتے ہیں ۔نوجوان لڑکے اندھا دھند نجومیوں پر اعتماد کرتے ہوئے ان کو پہلے سے ہی رقم دے دیتے ہیں لیکن انہیں کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔
    جن نکالنے کے جھانسے میں سینکڑوں خواتین کی عصمتیں پامال
    نوسرباز عاملوں کے دفاتر میں خصوصی کیبن جہاں صرف عورتوں کو جانے کی اجازت ہے:
    ملک بھر میں جگہ جگہ عاملوں اور نجومی ڈیرے لگا کر پریشان حال لوگوں کو لوٹتے رہتے ہیں۔
    اپنے کاروبار کو چمکانے کے لئے لاکھوں روپے تشہیر پرخرچ کرکے لوگوں کو جھانسہ دیاجاتاہے کہ ان کے تمام مسائل کاحل ان کے پاس ہے اور ہرقسم کی پریشانی کاخاتمہ جھٹ پٹ میں ہوجاتا ہے ۔ ہر عامل اور نجومی کا دعویٰ ہوتاہے کہ وہ تمام علوم کی کاٹ کا ماہر ہے۔ غربت ‘بے روزگاری کے خاتمے‘ سنگدل محبوب کو قدموں تلے لانا‘ شوہر کو راہ راست پر لانا‘ کاروبار میں منافع‘شادی میں رکاوٹ دور کرنا اور جن بھوتوں کے سائے کو دور کرنا سمیت دیگر مسائل کو ختم کرنے کا جھانسہ دے کر سادہ لوح لوگوں سے روزانہ ہزاروں روپے بٹورنا ان کا معمول بن چکاہے۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان عاملوں اور نجومیوں کو اپنا ’’نوسر بازی کا کاروبار‘‘ شروع کرنے کے لئے کسی قسم کی اجازت نہیں لیناپڑتی اور یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کراپنے مکروہ دھندے کو دیدہ دلیری سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان عاملوں اور نجومیوں کی بڑی تعداد’’جنسی بھیڑئیے‘‘ کاکردار ادا کرتی ہے۔ جو خواتین نافرمان شوہروں کو راہ راست پر لانے کے لئے ان سے رجوع کرتی ہیں ‘یہ جھوٹے عامل اور نجومی انہیں اپنے مکرو فریب میں پھنسا کر ان کی عزتیں لوٹ لیتے ہیں۔ اسی طرح جن لڑکیوں کے اچھے رشتے نہیں مل رہے ہوتے‘ وہ انہی نوسر باز عاملوں اورنجومیوں کو اپنی امیدوں کا مرکز سمجھ کر سارادکھ بیان کردیتی ہیں۔ جھوٹے عامل انہیں اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ جو عمل کریں گے‘ اس سے نہ صرف ان کے اچھی جگہ رشتے ہوجائیں گے بلکہ وہ ساری زندگی عیش کریں گی۔ معصوم نوجوان لڑکیاں اپنے اچھے دنوں کی آس میں ان ’’جنسی بھیڑئیے‘‘ عامل اورنجومیوںکے ہتھے چڑھ کر اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتی ہیں۔ اب تک سینکڑوں شریف گھرانوں کی لڑکیاں ان ’’جنسی بھیڑیوں‘‘ عاملوں اور نجومیوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوچکی ہیں اور بدنامی کے خوف سے اپنی زبانوں پر خاموشی کے تالے لگاکر ذہنی مریض بن چکی ہیں۔ توہمات کے شکار لوگ اکثرو بیشتراوقات اپنی بیٹیوں کو ان جھوٹے عاملوں اور نجومیوں کے پاس یہ کہہ کر لاتے ہیں کہ اسے دورے پڑتے ہیں تویہ عامل اور نجومی اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اس لڑکی کو’’جن‘‘ چمٹ گئے ہیں اور اسے نکالنے کے لئے لڑکی کو 2گھنٹے کے لئے ہمارے پاس تنہا چھوڑ دو۔ بعدازاں بند کمرے میں لے جاکر جن نکالنے کے بہانے کمال مہارت سے لڑکی کو اپنے جال میں پھنسالیتے ہیں اورانہیں ہوس کا نشانہ بناڈالتے ہیں ۔ جن لڑکیوں کو جنسی بھیڑئیے عامل اور نجومی اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں‘ انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ اکثر نوسر باز عامل ان لڑکیوں کی برہنہ تصاویر اتار کر انہیں بلیک میل کرتے اور ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ ان نوسرباز عاملوں اور نجومیوں کی بڑی تعداد’’ شراب کی رسیا‘‘ ہے اور اپنے دفتر میں بیٹھ کر دوستوں کے ہمراہ شراب پینا ان کا معمول ہے۔ اپنی عیاشیوں اورمعصوم لڑکیوں کی زندگی کو برباد کرنے کے لئے ان جھوٹے عاملوں اور نجومیوں نے اپنے دفاتر میں خصوصی طورپر کیبن بنوارکھے ہیں۔ جہاں صرف خواتین کو جانے کی اجازت ہوتی ہے۔
    عاملوں کے ٹولے نے خاتون کی عزت لوٹ کر ایک لاکھ روپے اور زیورات بھی ہتھیالئے:
    گزشتہ سال کراچی میں طارق روڈ کہکشاں شاپنگ ہال میں ڈیرے لگائے نام نہاد عامل پروفیسر شہروز اور پروفیسر حارث نے ایک دوشیزہ شگفتہ یاسمین کو پسند کی شادی کرانے کاجھانسہ دے کر ایک لاکھ15ہزار روپے اورزیورات ہتھیانے کے بعد اس کی عزت لوٹ لی تھی۔
    خبریں سروے کے مطابق نام نہاد عامل اور جعلی پروفیسر شہروز کا اصل نام شبیر احمد ہے۔ وہ چند سال قبل ناگن چورنگی پر ایک چھوٹی سی دکان میں تعویز گنڈے اورعمل کیا کرتا تھا جہاں پر خود کو اس نے منگل داس کے نام سے مشہور کررکھاتھا۔واضح رہے کہ مذکورہ پروفیسر شہروز جو منگل داس بنا ہوا تھا‘ کے خلاف ایک دوشیزہ نے بفرزون تھانے میں لاکھوں روپے کے فراڈ کی درخواست بھی دی تھی جس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر بشیر اور مذکور ہ فراڈ کیس پر اس وقت کے ایس ڈی ایم مشتاق کی عدالت میں کیس بھی چلتارہاہے۔
    سروے کے موقع پر ناگن چورنگی کے اظہر ‘ عطاء اللہ ‘ طارق اور دیگر افراد نے بتایاکہ مذکورہ پروفیسر منگل داس اس سے پہلے پروفیسر رفیق منجم اور پروفیسر تیمور علی بھی رہ چکاہے اور علاقے کے درجنوں خاندانوں کو تباہ کرچکاہے۔ مذکورہ شخص کی تعلیم صرف میٹرک ہے۔ اس نے مخفیات اسلامی نامی لاہورکے ایک ادارے کے پرنسپل عطا محمدسے جوکہ پیشہ ورجعلی ڈگری میکر ہے ‘دوہزار روپے میں روحانی میتھڈآن پر یکٹیشنز (RMP) کی ڈگری خریدی ہے اور اس کی بناء پر اپنے آپ کو روحانی عامل اورپروفیسر کہلاتاہے۔ طارق روڈ پی ای سی ایچ سوسائٹی کے کامران‘ اسلم ارسلان اور عامر عزیز نے بتایا کہ پروفیسرشہروز کے والد پروفیسر اغظم کا اصل نام عبدالمجید ہے۔بیس سال قبل نیپئر روڈ کے فٹ پاتھ پر بیٹھا کرتا تھا۔ آج کل اس نے مذکورہ جگہ پر ایک عالیشان ائیرکنڈیشنڈ آفس بنایاہواہے اور اپنے بیٹوں کی کمائی کی بدولت کروڑ پتی بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر شہروز کا ایک عامل بھائی پروفیسر ساحل ہے جس نے طارق روڈ پر سٹار سینٹر میں ائیرکنڈیشنڈ آفس بنایا ہواہے۔وہ پہلے کراچی کے مختلف علاقوں میں فٹ پاتھ پر تعویز کیا کرتا تھا۔ مذکورہ پروفیسر کا اصل نام منیر احمد ہے۔ وہ بھی متعدد افراد کے ساتھ فراڈ کرچکا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ مذکورہ پروفیسر ہرمہینے گاڑی تبدیل کرتاہے۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر ساحل کا والد اور اس کے بھائی تین سال قبل کوچ میں سفرکیا کرتے تھے۔ آج لاکھوں روپے مالیت کی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں۔ گلشن اقبال کے رہائشی سید سلیمان شاہ ‘سید صابر شاہ‘نعمانی اور دیگر نے بتایا کہ پروفیسر حارث نے گلشن اقبال یونیورسٹی روڑ پر روحانی اور نفسیاتی کلینک کھول رکھاہے۔ مذکورہ پروفیسر نے بھی لاہور سے جعلی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔ اس کا اصل نام احمدہے اور آج کل پروفیسر حارث کے نام سے کاروبار میں مصروف ہے ۔اس کے پاس لاکھوں روپے کی کارہے۔ مذکورہ ’’ پروفیسر‘‘ کے آفس اور کلینک میں درجنوں ملازم رکھے گئے ہیں۔ مذکورہ پروفیسر نے بھی لوگوں کولوٹنے کا بازار گرم کیا ہواہے۔ اس کے باوجود حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔(خبریں25-12-2002)
    ’’منترالٹے پڑگئے‘‘ گڑھی شاہو میں چیلے نے جادوگر کو پھانسی دے دی‘‘
    ریلوے سٹیڈیم گڑھی شاہو میں 5سال قبل جادو الٹاہوجانے پر ایک چیلے رمضان عرف جانی نے اپنے گرو جادوگرکوبابا کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھرپھندا ڈال کر شیشم کے درخت سے لٹکادیا۔ گڑھی شاہو پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
    60سالہ جادوگربابا مغلپورہ روڈ کے فٹ پاتھ پر دوسال سے ڈیرا لگائے ہوئے تھا۔ چند ماہ قبل رمضان عرف جانی نے بابا کے کالے جادو کے منتر کی شہرت سن کر اس کی شاگردی اختیار کرلی اور حسب توفیق اس کی ’’خدمت‘‘ بھی کرتارہا۔ بابا نے اسے کالے جادو کے چند منتر بھی بتائے۔ ان منتروں کو یاد کرنے کے بعد رمضان کا دماغ الٹ گیا۔ اسے دورے پڑنے شروع ہوگئے۔رات کوملزم نے پہلے بابا کو تشدد کا نشانہ بنایا ‘اس کی گردن میں کپڑے کا پھندا ڈال کر گھسیٹا۔ پھر اسے شیشم کے درخت کے ساتھ لٹکادیا اور اسے اینٹیں مارنا شروع کردیں۔ اس دوران گڑھی شاہو پولیس گشت گرتی ہوئی علاقہ سے گزری اور کچھ شور سن کر سٹیڈیم میں داخل ہوئے جہاں بابا کی لاش لٹکی پائی۔
    جادوالٹاپڑگیا‘تین بہنوں سمیت چار ہلاک:
    میکسیکو میں جادو4خواتین کی ہلاکت کا باعث بن گیا۔ ویلازکپور کے شوہرنے بتایاکہ اس کی بیوی نے کچھ رسومات کے لئے دوبہنوں کی خدمات حاصل کی تھیں لیکن جادوناکام ہونا ان کی موت کا باعث بن گیا اور جب وہ کمرے میں داخل ہوا توفرش پرچارلاشیں پڑی ہوئی تھیں اور کمرہ زہریلے دھوئیں سے بھرا ہوا تھا۔
    جن نکالنے والے عامل نے خاتون کی جان نکال دی:
    مولانا انور کی بیوہ بلڈ پریشر کی مریضہ تھی‘ ضعیف الاعتقاد لوگوں نے عامل کو بلالیا۔ عامل نے لوہے سے زبان داغی‘ تشدد کیا اور 2100 روپے لے کر چلاگیا۔ نواحی منڈی کالیکی میں سکھیکی کے مولانا محمد انور کی بیوہ ثریا بی بی جو کہ بلڈ پریشر کی مریضہ تھی‘ کوضعیف الاعتقا لوگوں نے بتایا کہ اس پر جن کا سایہ ہے جس پر حافظ آباد سے جن نکالنے والے عامل کو بلایا گیا جس نے ثریا بی بی پر تشدد شروع کردیا۔ مبینہ طورپر ثریا بی بی کی زبان کو لوہے کی گرم سلاخ سے داغا گیا ۔ثریا بی بی تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے بے سدھ ہوگئی توعامل 2100روپے فیس وصول کرکے چلاگیا کہ ثریا بی بی کا جن نکل گیا ہے۔ جب ثریا بی بی کو ہوش نہ آیا تومقامی ڈاکٹر سے رجوع کیا گیا توپتہ چلا کہ ثریا بی بی فوت ہوچکی ہے۔یہ واقعہ 19جون2000ء کو پیش آیا۔
    عامل نے دھکتے کوئلوں سے دماغی مریض لڑکی کو جلادیا:
    میاں چنوں کے محلہ رحمانیہ میں ایک نام نہاد پیر نے 13 سالہ لڑکی کے جن نکالنے کی خاطر اس کے جسم کے کئی حصوں کو جلا ڈالا۔عامل صابرعلی نے اپنے محلہ کی ایک13سالہ لڑکی کبیر دین جو کہ عرصہ دراز سے دماغی عارضہ میں مبتلا تھی ‘گھروالوں کی فرمائش پر اس کے جن نکالنے کے لئے دہکتے کوئلوں سے اس کا چہرہ‘ سینہ ‘بال اور ٹانگیں جلاڈالیں۔ لڑکی کی چیخ و پکار پر گھروالوں کو تسلی دیتارہا کہ یہ تکلیف جنوں کو ہورہی ہے ۔جب لڑکی بے ہوش ہوگئی تو چھوڑ کر چلا گیا۔گھروالے لڑکی کو ہسپتال لے گئے جہاں لڑکی کی تشویشناک صورت حال کے پیش نظر نشترہسپتال ملتان بھیج دیا گیامعلوم ہوا کہ لڑکی کی آنکھوں کی بینائی ختم ہوچکی ہے۔یہ واقعہ 8اگست 2002ء کو پیش آیا۔
    کالاعلم کرنے والے60سالہ نجومی کاقتل:
    لاہور میں بھاٹی گیٹ کے مین روڈ پر واقع گورا قبرستان کے نزدیک کالا علم کرنے والے60سالہ نجومی بشیر احمد کو نامعلوم افراد نے سر میں آہنی راڈ کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا۔ مقتول غیر شادی شدہ تھا اور عرصہ دراز سے علم نجوم کا کام کررہاتھا۔ کوٹ عبدالمالک کا رہائشی تھالیکن علم نجوم کے بنائے گئے دفتر میں ہی سویا کرتاتھا۔اس اندھے قتل کا سراغ نہ لگ سکا اور نہ ہی غیب کا دعوے دار نجومی خود کو اس واقعہ سے بچا سکا۔ یہ واقعہ27جولائی 2000ء کو پیش آیا۔
    ’’یہ منحوس ہے‘‘
    نجومی کے کہنے پر باپ نے بیٹے کو مارڈالا:
    بھارتی ریاست تامل ناڈو میں نجومی نے شیر خوار بچے کو خاندان کے لئے منحوس قرار دیا۔جس پر 30سالہ باپ نے اپنے بیٹے کو کنوئیں میں پھینک دیا۔پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
    مصر میں عامل عورت اور اس کے پیروکار خود کوسزا سے نہ بچاسکے:
    بدبخت عامل نے پیروکاروں کو نماز اور حج سے بھی چھٹی دے رکھی تھی۔
    مصر میں عدالت نے ایک بدبخت عامل عورت اور اس کے 14ساتھیوں کو توہین رسالتؑ اور مذہبی انتشار کے جرم میں جیل بھیج دیا۔ تفصیلات کے مطابق پولیٹیکل سائنس کی گریجویٹ 41 سالہ شیخامنل واحد ہر ہفتے قاہرہ میں اپنے فلیٹ پر رات بھر نام نہاد روحانی محفل منعقد کرتی۔ نعوذباللہ اس کادعویٰ تھا کہ وہ نبی کریم محمدﷺ سمیت کئی مذہبی شخصیات کو عمل سے محفل میں حاضر کرسکتی ہے اور نبی کریمﷺ خود اسے ہدایت دیتے ہیں۔ عورت نے بعض پیرو کاروں سے کہہ رکھا تھا کہ انہیں 5وقت نماز پڑھنے اور حج کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اسے نومبر 2000ء میں اپنے50پیروکاروں کے ہمراہ گرفتار کیاگیاتھا۔
    آندھرا پردیش میں جادو ٹونہ کرنے والے 5 افرادکو زندہ جلادیا گیا:
    بھارت کے صوبہ آندھرا پردیش میں دیہاتیوں نے5 افراد کودرختوں سے باندھ کر زندہ جلادیا‘ گاؤں والوں کو شبہ تھا کہ یہ لوگ جادو ٹونہ کرتے ہیں اور گاؤں میں حالیہ ہلاکتیں ان کے جادو کا نتیجہ ہیں ۔ان افراد کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہلاک کیاگیا۔تفیصلات کے مطابق دیہاتیوں نے رات کو انہیں گھروں سے پکڑ کر ان پرتشدد کیا‘ پھر درختوں سے باندھ دیا اور تیل چھڑک کر آگ لگادی ۔ہلاک ہونے والوں میں 4خواتین اور ایک مرد شامل ہے جبکہ ان میں سے ایک خاتون فرار ہوگئی۔یہ واقعہ 3 ستمبر 2000ء کو پیش آیا۔یہ ایک فطری بات ہے کہ کسی کو اگر پتہ چلے کہ فلاں بندے نے اس پر جادو ٹونہ کیا ہوا ہے تو وہ سخت ردّ عمل کاشکارہوجاتاہے اور پھر اسے اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے ۔ (پاکستان4-8-2000)
    انڈونیشیا میں صرف ایک ماہ میں 200جادوگر عاملوں کوقتل کیاگیا:
    انڈونیشیا کے مسلمانوں میں جادوٹونہ اور عملیات کے خلاف کتنی نفرت پائی جاتی ہے ‘اس کااندازہ اس سے لگائیں کہ اکتوبر98ء میں صرف ایک ماہ میں مشرقی صوبے جاوا میں 200کے قریب جادوگروں ‘عاملوں اور نام نہاد سکالروں کو قتل کرکے انہیں نمونۂ عبرت بنادیاگیا۔ یہ عامل لوگوںکواپنے قتل سے نہ بچاسکے۔ انڈونیشیا میں یہ واقعات عموماً ہوتے رہتے ہیں۔ فاعتبروایا اولی الابصار
     
  6. ‏دسمبر 03، 2016 #6
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,884
    موصول شکریہ جات:
    1,163
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    بی بی سی کی رپورٹ:
    پاکستان میں کالا جادو کرنے کاڈھونگ کرنے والے نام نہادجادوگراورعامل‘ جادوپریقین رکھنے والے معصوم لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کررہے ہیں۔ اپنے دل میں اچھی بری ممکن ناممکن خواہشات لئے جادوگروں کے پاس جانے والے افراد ان شعبدہ باز جادوگروں کی انگلیوں پرکٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے ہیں۔17جولائی 2002ء کو بی بی سی نے اس بارے میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ برائی کے دیوی دیوتاؤں کوخوش کرنے کے لئے اوران دیکھے موکلوں کو قابو کرنے کے لئے جادوگروں کے ساتھ مل کر الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں۔ بعض عمل ایسے ہوتے ہیں جنہیں سن کر ہنسی آتی ہے توبعض ایسے کہ کرنے والے کی عقل پرماتم کرنے کو دل کرتاہے۔ بسا اوقات انتہائی گھناؤنے کام کئے جاتے ہیں۔ چند جادو مقدس آسمانی کتابوںکے اوراق پر بیٹھ کر کئے جاتے ہیں۔بعض کے لئے چالیس روز تک نجس رہنے کی شرط عائد کی جاتی ہے ۔کسی جادو کروانے والے کو سور کاگوشت کھانے پرمجبور کیاجاتاہے توکسی کو بغیر بتائے اسی جانور کی ہڈیوں کا سفوف چٹایا جاتاہے ‘ کبھی کسی عورت کو قبرستان میں کسی تازہ مرے بچے کی نعش پر نہانے کا مشورہ دیا جاتاہے تو کبھی کوئی عورت اندھیری رات میں دریا کے ویران کنارے نہلائی جاتی ہے۔ ایسی خبریں بھی ملیں کہ اولاد کے لئے کسی معصوم بچے کو قتل کراکے اس کی نعش کے ذریعے جادو کیاگیا۔
    ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں چور اسی قسم کے نام نہاد جادوئی عملیات مشہور ہیں۔جبکہ انفرادی ذہنی اختراعات اس کے علاوہ ہیں۔یہ عمل کالی دیوی‘ سارس وتی‘ہنومان‘بھیرو اورکمچھیا دیوی کے نام پر کئے جاتے ہیں۔ کمچھیا اور کالی دیوی کا جادو صرف گندکھا کر ہوتاہے۔ ایک عمل کے لئے مردو عورت کا آپس میں گناہ کرناضروری ہے جبکہ بعض جادوئی تحریریں خون سے اور بعض انسانی غلاظت سے لکھی جاتی ہیں۔ جادوکرنے والوں کے مطابق ایک بکرے کی سری لے کر اس کی زبان کے نیچے تعویز رکھ کر پھر منہ کو سوئیوں سے بند کرکے کسی تندوریاچولہے کے نیچے دبادیا جاتاہے۔ جاودگرجھانسہ دیتاہے کہ جس شخص پر یہ عمل کیاگیا‘وہ آہستہ آہستہ موت کی طرف جاناشروع ہوگیاہے۔ اسی طرح ایک جادوئی ہنڈیا ہوا میں اڑکرمخالف کے گھر گرائے جانے کا دعویٰ کیاجاتاہے اور جھانسہ دیاجاتاہے کہ اب اس گھر میں موت نے ڈیرے ڈال لئے۔ ایک اور جادو کے تحت کپڑے کاگڈا بنانے کے بعد اس کے سینے میںسوئیاں گھونپ کر چولہے یاتندور کے نیچے یا گندے نالے کے کنارے دبا دیا جاتاہے تاہم اگرگڈے کوسوئیاں چبھوئے بغیرپنکھے سے لٹکا دیا جائے یا درخت سے باندھ دیاجائے تو پھر جادو کروانے والا‘ جادو گر کے دکھائے سبز باغ کے مطابق من پسند لڑکی کے اپنے قدموں میں گر جانے کا انتظار کرناشروع کردیتاہے۔
    بھیرو کے عمل کے مطابق بکرے کاایک عدد ایسا دل ڈھونڈا جا تاہے جس کو چرکانہ لگاہو۔ اس دل کی دو نسوں میں تعویز لکھ کر ڈال دئیے جاتے ہیں ‘جس کے بعد اس میں تین ‘پانچ یا سات سوئیاں گھونپی جاتی ہیں۔ہر ایک کاالگ الگ نتیجہ ہے جیسے کہ تین سوئیاں محبوب کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے‘پانچ دلوں میں دوریاں ڈالنے کے لئے اور سات شدید نفرت پیدا کرنے کے لئے گاڑی جاتی ہیں۔ہندوؤں کے دیوتا ہنومان(بندر) کاعمل صرف معلومات کے حصول کے لئے کئے جانے کا دعویٰ کیاجاتاہے۔ ایک اورعمل میں جادوگرروٹیوں پر تحریریں لکھ لکھ کر دریا میں ڈالتے ہیں اور ان کے بقول یا توکسی کارزق بند ہو جاتاہے یاکھل جاتاہے۔ اس کے علاوہ یہ جادوگر کسی ایسے ہندو مردے کی چتا کی چٹکی بھر راکھ بھی بھارت سے سمگل کراکے پیش کردیں گے جس ہندو نے زندگی بھر گوشت نہیں کھایاتھا‘ان کادعویٰ ہے کہ یہ راکھ جس کو بھی کھلائی جائے‘ وہ مرجاتاہے۔
    لاہورکے نام نہاد جادوگروں نے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے بے شمارشعبدے ڈھونڈ رکھے ہیں۔ لاہور کا ایک عامل انڈہ توڑ کر اس میں سے سوئیاں نکالتاہے تو دوسرا دہکتاکوئلہ ہتھیلی پررکھ لیتا ہے۔ ایک عامل شوہر کو قابوکرنے کاتعویز سنکھیا سے لکھ کر دیتاہے ۔ بیوی ناسمجھی میں تعویز پانی میں گھول کر پلاتی رہتی ہے۔ نتیجہ میں شوہر بیمار پڑجاتاہے اور بیوی کے قابومیں آجاتاہے۔ بیوی اسے عامل بابا کی کرامت سمجھتی رہتی ہے۔ یہ جادوگر دنیا کا ہرکام کراسکنے کا دعویٰ کرتے ہیں اورشرط بھاری فیس کی ادائیگی ہے۔
    لاہور کے جادوگر سیہہ کاکانٹا پانچ سوروپے‘الوتین ہزار روپے تک‘سور پانچ ہزار روپے تک‘ کستوری ڈیڑھ سے ڈھائی ہزار روپے تک‘مکمل کالا بکرا ایک سے تین ہزار روپے تک‘ اونٹ کا دل پانچ ہزار روپے ‘انسانی مردے کی ٹانگ دس ہزار روپے اور بازو پانچ ہزار روپے‘ الو‘چیل‘عقاب وغیرہ کاانڈہ پانچ روپے اورغیر مسلم کنواری لڑکی کا پندرہ ہزار روپے تک (فی رات)میں خود ہی انتظام کر لیتے ہیں۔
    لاہورکے ایک سابق پرائز بانڈ ڈیلر سعید کھوکھر نے انعامی نمبر لینے کے لئے کالا عمل کرنے والے ایک جادوگر بلے شاہ کو پچاس ہزار روپے کی ادائیگی کی۔ اس کی ہدایت پر چار بکرے‘ ایک کنواری غیر مسلم لڑکی اوردومن کوئلے لے کر امأدس کی رات جادوگر بلے شاہ کے ہمراہ دریائے راوی کے کنارے پہنچے۔ کشتی میں بیٹھ کر دریاکے درمیان گئے اور ایک قدرتی خشک حصہ میں پڑاؤ کیا۔ جادوگر نے کوئلے دھکائے‘ حصار بنایا‘لڑکی سے زیادتی کی۔ پھر تلوار سے زندہ بکروں کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کوئلوں پر ڈالنا شروع کردئیے۔ صبح اس نے ایک نمبر لکھ دیا جس کے مطابق سعید نے بازار سے دولاکھ روپے کی پرچیاں خریدی لیکن نمبر نہ نکلا جس کے بعد انہوں نے جادو سے توبہ کرلی۔
    ضعیف الاعتقاد بے اولاد خواتین کو اکثر اکیلے بلایا جاتا ہے۔بے شمار خواتین نے صرف اس چکرمیں اپنی عزتیں گنوائیں۔ بد کردارعامل‘جادوگروں کے ہتھے چڑھ جانے والی بے شمار لڑکیاں جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تو ہم پرستی میں اضافہ ہوتا چلا جارہاہے۔گذشتہ پانچ چھ سال سے تو ہم پرستی بے حد بڑھ گئی ہے۔
    نام نہاد جادوگروں کے ستم کا انسانوں کے بعد سب سے بڑا نشانہ الوہے۔ ویر انوں میں رہنے والے اس پرندے کے بارے میں جادوگروں نے یہ بات پھیلا دی ہے کہ الو کے خون میں لکھی گئی جادوئی تحریر کاکوئی توڑ نہیں ہے۔ جادوگرکے ہاتھوں الو کی ہلاکت بھی بڑی اذیت ناک ہے۔
    محکمہ انسداد بے رحمی ٔ حیوانات نے کبھی اس جانب توجہ نہیں دی۔ایک قسم کے جادو کے لئے الو کے بازو کے پر‘ پاؤں اور چونچ کالے دھاگے سے باندھ کر تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے چھوڑدیا جاتاہے جبکہ مختلف اوقات میں تعویز لکھنے کے لئے اس کی ٹانگ میں بار بار زخم لگایا جاتاہے۔ چھ سات بار خون نچڑ جانے کے بعد الو مرجاتا ہے۔ مرنے سے پہلے زندہ الوکی آنکھیں نکال کر کپڑے میں ڈال کر لٹکا دی جاتی ہیں اور خشک ہونے پر شراب میں پیس کرسرمہ بنا کر دیا جاتا ہے اور یہ جھانسہ دیاجاتاہے کہ اسے روزانہ آنکھوں میں لگانے والا سات روز کے بعد جنس مخالف کوزیر کرکے اپنے مقاصد پورے کر لے گا۔ الو کی ہڈیوں کو جلا کر راکھ کا سفوف بنایاجاتاہے جو مبینہ جادوئی تحریریں لکھنے کے کام آتاہے۔(تاہم اتنا کچھ کرنے کے بعد لوگوں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا اور وہ اپنامال و ایمان سب کچھ لٹا بیٹھتے ہیں)
     
  7. ‏دسمبر 03، 2016 #7
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,884
    موصول شکریہ جات:
    1,163
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    دوسری قسط
    شرک و بدعات۔قسط نمبر 2۔کالے پیلے عاملوں کی وارداتیں اور ان کا خوفناک انجام قاضی کاشف نیاز
    قارئین کرام!اب آپ کو ایسے عاملوں کے اعترافات‘ ذاتی مشاہدات اورتجربات سے آگاہ کرتے ہیں جن سے نہ صرف یہ معلوم ہوگا کہ ان کالے پیلے عملیات کی کیا حقیقت ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوگا کہ اس راہ پر چلنے کے کیا عبرتناک نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔ بھائی طارق عبیداللہ ڈارنے اپنی کتاب ’’جنات اورجادو کے سربستہ راز‘‘ میں چند عاملوں کی خود نوشت کی صورت میں ایسے تمام حقائق بڑی محنت سے جمع کئے ہیں۔ اس کے زیادہ مفید حصوں کی تلخیص ہم قارئین کے استفادہ کے لئے پیش کرتے ہیں۔
    عامل کامرتے وقت چہرہ سیاہ ہوگیا:
    اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے صوفی صاحب(عبدالحمید) مرحوم نے کہا کہ ہمارے قصبہ سولاوہ میں ایک نامی گرامی شاہ صاحب رہتے تھے۔لوگوں کی اکثریت ان کی مرید تھی۔ عملیات کے ذریعے علاج کرنے میں بھی انہیں خاصی شہرت حاصل تھی مگر میں اسے علی الاعلان جادوگرکہتاتھا۔ میری یہ بات سچ ثابت ہوئی کیونکہ جب شاہ صاحب فوت ہوئے توان کے چہرے کا رنگ بالکل سیاہ ہوگیا حالانکہ وہ بہت خوبصورت اور گورے چٹے تھے۔
    کالے پیلے عملیات سے توبہ کرنے والے استادبشیر احمد کی سبق آموز خودنوشت
    جب میں نے عملیات کی دنیا میں قدم رکھا:
    یہ1960ء کی بات ہے ۔ میری عمر14برس تھی ۔ ان دنوں میری چچی جان پر جنات کا سایہ تھا۔ آئے دن کوئی نہ کوئی عامل‘ جنات کو ماربھگانے کے لئے بلایاجاتا لیکن تمام تردعوؤں کے باوجود وہ جنات کسی کے قابو میں نہ آتے۔ بہرحال مجھے اس وقت یہ خیال آیا کہ ضرور کوئی ایسا عمل سیکھنا چاہئے کہ اگر کہیں ضرورت پڑجائے تو اس سے کام لیاجاسکے یا کسی کی پریشانی کو دورکرنے میں مدد لی جاسکے۔ لیکن آہستہ آہستہ جب میں نے اس شوق کی خاطر بھاگ دوڑ شروع کی تو کوئی عامل یااستاد صحیح رہنمائی نہ کرتا۔ میں نے ہمت نہ ہاری اور کوشش جاری رکھی۔ ہمارے شہر میں ایک سائیں صفاں والا ہوا کرتا تھا۔ میں نے اس کی بہت خدمت کی بلکہ میں نے انہی سے آغاز کیا۔ میرے علاوہ بھی بہت سے شائقین کی تعداد موجود تھی جو ہردم خدمت پر کمربستہ رہتی۔ ہرایک کو یہ فکر تھی کہ استاد کسی طرح خوش ہوجائے اور شاید کوئی عمل ہمیں سکھادے۔ لیکن اس نے کسی کو کچھ نہیں دیا۔ ابلیس کا تو بس نام ہی بدنام ہے۔ اصل کام تویہ ظالم لوگ کرتے ہیں جو دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ ان کی رہنمائی کرنے کی بجائے انہیں مزید گمراہ کرتے ہیں۔ اللہ اللہ کرکے سائیں نے مجھے ایک عمل بتایا جس کے وہ خود بھی عامل تھے۔ میں نے تین بار وہ عمل کیا لیکن مجھے کچھ حاصل نہ ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ عامل لوگ ’’عمل‘‘ سے متعلق ایک آدھ اہم بات شاگرد کو نہیں بتاتے۔ اس طرح وہ عمل میں ناکام رہتاہے۔ پھراسے کہاجاتا ہے کہ عمل تم سے بھاری ہے یا اس میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ شاگرد مزید خدمت جاری رکھتاہے اورعامل کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ یہ سائیں کیونکہ ہمارے گھر کے قریب ہی تھے‘ اس لئے جو بھی فالتو وقت ہوتا‘میں ان کے پاس گزارتا۔ اس شوق کے ہاتھوں گھر سے کئی مرتبہ ڈانٹ ڈپٹ کاسامنا کرناپڑا۔ جب مجھے یہاں سے کچھ نہ ملنے کا یقین ہوگیا تو میں نے کسی اور استادکی تلاش شروع کردی۔ مجھے کسی نے بتایا کہ منڈی ڈھاباں سنگھ کے قریب نواں پنڈ میں صوفی عبداللہ رہتے ہیں جو ’’باباجناںوالا‘‘کے نام سے مشہورہیں۔ شوق کے ہاتھوں مجبورہوکر میں ایک دن اکیلاان کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا توانہوں نے کمال مہربانی فرمائی اور مجھے ایک عمل بتایا جس کو ایک مرتبہ پڑھنے پر دس منٹ صرف ہوتے تھے اور اسے 101مرتبہ پڑھنا تھا۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہ کتنا وقت بنتا ہوگا۔(یہ تقریباً16‘17گھنٹے کا عمل بنتاہے۔اس دوران سوچیں انسان کوئی نمازاداکرنے کے قابل تو کیا‘ اپنے کوئی معاشی اورمعاشرتی ذمہ داریاں بھی نہیں اداکرسکتا)یہ عمل 71 دن میں مکمل ہوا تو مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ میں غصے میں ان کے پاس گیا۔ انہیں امید نہ تھی کہ یہ لڑکا اتناسخت عمل کرلے گا۔ انہوں نے جعل سازی کو چھپانے کے لئے صرف ایک بات کہہ کر ٹال دیا کہ آپ کا منہ دوسری طرف تھا۔فلاں طرف نہیں تھا جس طرح سے جنات نے آنا تھا۔ میں نے کہا یہ میری حالت دیکھیں مجھے کس بات کی سزا دی ہے اور آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں تھا کہ منہ کس طرف کرنا ہے ۔کہنے لگا بیوقوف تم ہو جس نے پوچھانہیں۔ جب انہوں نے یہ بات کہی تو میں غصے میں آپے سے باہر ہوگیا۔ جب میں واپس آنے لگا تو باباجی کہنے لگے ‘مجھے معلوم ہے تم بہت غصے میں ہو۔ اس لئے تمہیں کچھ ملنا چاہئے۔ تم نے بہت سخت محنت کی ہے۔ اس کا مجھے بھی دکھ ہے۔ اب ایک عمل ہے۔ وہ کرلو۔ ساڑھے چار گھنٹے کا عمل تھا جو 41دن مسلسل کرنا تھا۔ میں یہاں اس عمل کا طریقہ بتادیتا ہوں تاکہ لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں کہ کالے جادو کے لئے انسان کیا کچھ کر گزرنے پر آمادہ ہوتاہے۔ اس عمل میں صرف مردوں کو پکارنا تھا۔ میں رات بارہ بجے اٹھتا۔ گھر سے غسل کرکے قبرستان پہنچ جاتا ۔پہلے سے منتخب بوسیدہ اور پرانی قبر کے پاؤں کی طرف بیٹھ کر وہاں ساڑھے چار گھنٹے جو عمل انہوں نے بتایاتھا‘ اس کی پڑھائی کرتا۔ لیکن افسوس کہ 41دن مسلسل یہ سب کچھ کرنے کے باوجود مجھے کچھ حاصل نہ ہوا۔ بے مقصد وقت ضائع کیا۔آپ میرے دل کی کیفیت نہیں جان سکتے۔ میری تمام کوششیں بے کار ثابت ہورہی تھیں۔ جبکہ میرا شوق اتنا ہی بڑھتا جا رہا تھا۔ میںنے جعلی عاملوں کے پیچھے 15قیمتی سال ضائع کئے۔
    ایک دھوکہ باز عامل سے ملاقات:
    نارووال کے قریب ایک گاؤں تھا ۔وہاں ایک راجپوت قوم کا سائیں کالے خاں یاکالے شاہ رہتاتھا۔میں اس کے پاس پہنچا ۔ اس نے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے بہت زبردست انتظام کیا ہوا تھا۔ وہ جہاں رہتاتھا‘ اس راستے پر اس نے ایک فرلانگ کے فاصلے پر اپنا ایک آدمی بٹھایا ہوتاتھا۔ جب میں وہاں جانے کے لئے اس راستے پر چلا تو ایک آدمی نے مجھے آواز دے کر بلایا اورمیرے ساتھ بہت محبت کے ساتھ پیش آیا۔ مجھے شربت پلاکرکہنے لگا کہ کیاکام ہے؟ کہاں جارہے ہو؟ میں نے سب کچھ بتادیا۔ ادھر یہ مجھ سے باتیں کررہاتھا اورادھرتمام باتیں واکی ٹاکی پرمذکورہ عامل سن رہا تھا۔ انہوں نے نیچے لائن بچھائی ہوئی تھی۔ اب جب میں وہاں پہنچا تو کالے شاہ نے مجھے میرے نام سے مخاطب کیا اور سب کچھ بتادیا کہ اس کام سے آئے ہو۔ میں اس کے کمال پر بہت حیران ہوا اور دل میں سوچا کہ اس شخص سے ضرور کچھ ملے گا۔ وہ مجھے کہنے لگا‘ ہم کام ضرور کرتے ہیں مگرمفت میں نہیں۔ میں 525روپے لوں گا ۔میں نے کہا‘ میرے پاس تو صرف 50روپے ہیں۔ اس نے مجھے طنزیہ کہا شوق علم سیکھنے کا ہے اور پاس کچھ بھی نہیں۔ میں وہاں سے واپس آگیا لیکن کسی پل دل کو چین نہیں آتا تھا۔ دل کرتا تھا کہ اڑ کر وہاں پہنچ جاؤں۔ بہت مشکل سے مطلوبہ رقم اکٹھی کی۔ ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے بہت عزت کی۔اپنے قریب بٹھایا‘روٹی کھلائی اورچند الفاظ کا عمل بتایا جو بہت مختصر تھا۔ جب 41دن پورے ہو گئے توحسب سابق کچھ حاصل نہ ہوا۔ سائیں صاحب کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا ۔وہ کہنے لگے کہ ہم نے تمہارے نام کی چراغی (ختم) پڑھائی تھی۔لیکن اسے جنات کے بادشاہ نے قبول نہیں کیا۔ اب 2100روپے کا مزید انتظام کرو۔ دوبارہ حاضری کے لئے اتنا خرچہ آجائے گا۔ آج کے حساب سے یہ رقم بہت زیادہ بنتی ہے۔ اس کے بعد میں دوبارہ وہاں نہیں گیا۔ رقم بھی گنوائی‘سخت محنت کے نتیجے میں کچھ حاصل بھی نہ ہوا۔ لیکن میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ کچھ بھی ہو اس علم کو حاصل کرناہے۔ چودہ پندرہ سال کی انتھک محنت ‘راتوں کا جاگنا‘ گھرسے ڈانٹ ڈپٹ اور اس کے ساتھ ساتھ خراد کاکام بھی کرنا۔ جہاں کہیں عامل کاپتاچلتا‘ وہیں پہنچ جانا یہ میرامعمول تھا۔
    استاد عبدالقیوم کی شاگردی:
    اس دوران مایوس ہوکر میں نے اپنے استاد سے بات کی۔ میں نے لکڑی کے خراد کاکام ان سے سیکھا تھا۔ وہ ملنگ جوگی تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ بہت وقت ضائع کیاہے لیکن کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔مجھے ان کے الفاظ آج بھی یاد ہیں…کہنے لگے دورنگی چھوڑ‘یک رنگ ہوجا…کہنے لگے اپنے آپ کومسلمان کہلواتے ہو اور یہ علم بھی مانگتے ہو۔شوق کا یہ عالم تھاکہ میں نے کہا‘ استاد جی ٹھیک ہے‘ آپ جو کہتے ہیں‘ وہی کروں گا۔ پھر میں نے جائز و ناجائز نہیں دیکھا۔ استاد جی نے کہا کہ اب تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ۔ گھر میں ہی بیٹھو اور عمل کرو۔ بس عمل شروع کرنے سے پہلے ہم سے اجازت لے جاؤ۔ جادوگری اورشیطانی علوم سیکھنے کے لئے پہلے کام کا آغاز ہی شرک سے کرناتھا۔ غیر اللہ کو پکارناتھا۔ توحیدپرست ہونے کے باوجود میں نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ کیا کررہا ہوں۔چند وظائف جو استاد نے بتائے تھے ‘میں نے ان کی اجازت سے شروع کئے۔ ان وظائف میں اللہ کے نام کا شائبہ تک نہ تھا۔ تمام تروظائف شرکیہ کلمات پرمبنی تھے۔ جب میں نے پہلا عمل مکمل کیا تو مجھے وہ کچھ حاصل ہوگیا جو میں کرنا چاہتاتھا۔ جب میں استاد صاحب کے پاس گیا توانہوں نے کہا کہ بتاؤ کچھ ملا کہ نہیں۔ تومیں نے ان کا بہت شکریہ اداکیا۔ ان عملیات کو سیکھنے کے بعد میں نے ان کو ہرجائز و ناجائز کام کے لئے خوب استعمال کیا۔لیکن اس دوران میرے بہت نقصان بھی ہوئے۔ میرے ہاں جواولاد پیداہوتی‘ فوت ہوجاتی۔ علامت یہ تھی کہ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اس کے جسم کی رنگت نیلی ہوجاتی۔علاج معالجہ سے بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔ اس دوران میرے 4بچے فوت ہوگئے۔پراسرار علوم کا حصول اذیت ناک ہے۔ اس کے حصول کے لئے مصائب سے گزرنا پڑتاہے اور اس کے حصول کے بعدانسان نہ صرف ایمان کی دولت سے محروم ہوجاتاہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شیطان کا ہمنوا بن کر اس کی خوشنودی کے حصول میں مگن رہتا ہے۔ اس واقعہ سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا۔ میرے ایک دوست صوفی کشور رحمان نے بھی اس دشت زار میں بہت وقت گنوایا لیکن وہ کچھ حاصل نہ کرسکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی خوش قسمتی ہے۔
    میں اللہ کاشکراداکرتاہوں کہ اس نے مجھے توبہ کی توفیق عطا کی۔ورنہ بہت سے عامل توبہ کی نعمت سے محروم ہی رہے اور وقت رخصت ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ میں اللہ سے دعا کرتاہوں کہ وہ مجھے استقامت دے تاکہ میں ان خطرناک نتائج کو منظر عام پر لاسکوں جس کے باعث ایک مسلمان اپنی آخرت برباد کرسکتاہے۔
    ہمارے ہاں عاملوں کی کثیر تعداد دم‘جھاڑ ‘غیر اللہ کی مدد سے کرتی ہے۔ لیکن عوام کو یہ کہہ کر دھوکہ دیاجاتاہے کہ ہم نوری علم کے ذریعے فیض پہنچارہے ہیں۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جنہیں میں ذاتی طورپر جانتاہوں کہ وہ اپنے مریدوں کو متاثرکرنے کے لئے اندرون خانہ کالے علم کا سہارا لیتے ہیں۔بظاہر نیک نام اور شرافت کے پیکر یہ دھوکہ باز دنیاوی لالچ کے لئے اللہ کی کھلی نافرمانی کررہے ہیں۔
    عورتوں کوآسانی سے بیوقوف بنایاجاسکتاہے:
    ان دھوکہ بازوں کا چرچا عورتوں کی زبانی سنا جاسکتاہے۔ یہ عورتوں کے پیرمانے جاتے ہیں۔ عورتوں کا مسئلہ یہ ہے اگربیماری بھی آجائے تودواکی بجائے تعویذ کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس لئے انہیں آسانی سے بیوقوف بنایاجاسکتاہے۔ کیونکہ یہ کسی نہ کسی مشکل میں مبتلا رہتی ہیں۔ کسی کا شوہر ناراض ہے‘کسی نے رشتہ داروں سے بدلہ لینا ہے اور کسی کی بیٹی کی شادی نہیں ہوتی۔ یہ اس حد تک ضعیف الاعتقاد ہوتی ہیں کہ اگرکسی عورت کاکام نہ بھی ہو تو عامل یا پیر کو قصوروار نہیں ٹھہراتیں بلکہ اس کے الفاظ یہ ہوتے ہیں کہ پیرتو کامل تھا۔ بس قسمت نے میرا ساتھ نہ دیا ورنہ فلاں کابھی کام ہواہے‘فلاں کا بھی۔
    اللہ کی پناہ دنیا کا کوئی اخبار پبلسٹی کا وہ کام نہیں کرسکتا جو ایک تن تنہا عورت سرانجام دے سکتی ہے۔ جب میں نے تعویذوں کے علم میں کمال حاصل کرلیا اوراپنے کام کاآغاز کیا تومیرا خیال تھا کہ میرے پاس کس نے آناہے۔ ابھی میں نے دو تین کام ہی کئے تھے کہ ضرورت مندوں کی قطاریں لگ گئیں۔ تعویذات کاعمل باقاعدہ ایک علم ہے۔ تعویذات کے عمل میں مجھے کس طرح کامیابی ہوئی‘ یہاں اس کا ذکر مناسب نہیں۔ اس سے لوگوں میں اسے سیکھنے کا شوق پیدا ہوگا۔ کیونکہ ہمارے ہاں سیدھے راستے پر چلنے کی بجائے الٹ راستے کاانتخاب کیاجاتاہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جادو کے ذریعے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کیونکہ جادو نظروں پر کیاجاتاہے۔ جس طرح کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے مدمقابل جادوگروں نے رسیوں پر جو جادوکیا۔اس سے حقیقت توتبدیل نہیں ہوئی مگر موسیٰ علیہ السلام کو سانپ نظر آئے۔
    جہنم میں جانے کاآسان طریقہ:
    اس قسم کی باتوں میں ہرشخص دلچسپی محسوس کرتاہے اورکئی لوگوں کے دل میں وقتی طورپر یہ خیال ضرورآتاہوگا کہ کاش انہیں بھی کہیں سے ایک جن مل جائے یاکوئی کامل استاد ان کاوظیفہ عملیات مکمل کر دے۔لیکن یہ کام اتنے آسان نہیں۔ اس میں دنیا کے ساتھ ساتھ انسان کی آخرت بھی تباہ ہوجاتی ہے۔ یہ ایک ایسا شوق ہے جو انسان کو آسانی کے ساتھ جہنم میں لے جاسکتاہے۔ وہ لوگ جنہوں نے عملیات کی دنیا میں نام پیداکیا اوراخباروں میں ان کے بڑے بڑے اشتہار چھپتے ہیں ‘انہیں معلوم ہے کہ وہ کس عذاب سے گزر رہے ہیں۔بظاہر خوش وخرم نظرآنے والے اوربھاری نذرانوں کے عوض من کی مرادیں پوری کرنے والے اندرون خانہ کن حالات سے گزرتے ہیں‘ وہ ابھی آپ پڑھ لیں گے۔
    کیاجنات قابومیں آتے ہیں؟
    شب وروز کی محنت کے بعدعملیات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعدجولوگ جنات کوقابو کرنے کادعویٰ کرتے ہیں‘ میرے نزدیک وہ بے وقوف ہیں۔ کیونکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔جن کسی کے قابو میں نہیں آتے بلکہ عامل خود جنات کے قابو میں ہوتاہے۔ میرے ذاتی تجربات سے آپ دوباتوں کو آسانی سے سمجھ سکیں گے کہ عامل جنات کے قابو میں کس طرح آتاہے۔ یہاں اپنا ذاتی واقعہ بیان کررہاہوں۔ میں نے جو عمل کئے ہوئے تھے‘ ان میں بہت سے عمل جلالی اور جمالی تھے۔ کامیابی کے ساتھ عامل وظیفہ مکمل ہونے پر موکلات کو اپنا پابند کرنے کے لئے انہیں شرائط ماننے پر مجبور کرتاہے جس کے ذریعے اس نے ان سے کام لینے ہوتے ہیں۔ اس معاہدے میں بہت سی شرائط موکلات کی بھی ماننی پڑتی ہیں۔ ایک عمل میں جب مجھے کامیابی ہوئی تو موکلات نے مجھے تین باتوں کا پابند کردیا کہ لہسن نہیں کھانا‘ دہی نہیں کھانا‘اس نلکے کا پانی نہیں پینا جس میں چمڑے کی’’بوکی‘‘ استعمال کی گئی ہو۔ (دیکھیں کس طرح اس راہ میں حلال چیزیں حرام ہوجاتی ہیں)
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے رشتہ داروں نے ہماری دعوت کی۔ مجبوراً مجھے وہاں جاناپڑا۔انہوں نے بہت اچھا انتظام کیاہواتھا لیکن مجھے ڈر تھا کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہوجائے اور وہی ہوا۔ انہوں نے جو گوشت پکایا ہواتھا‘ اس میں انہوں نے لہسن ڈالاہواتھا۔ جب کھانا شروع ہوا تو سب کھانا کھارہے تھے اور میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا اور تذبذب میں مبتلا تھاکہ کیاکروں اورکیا نہ کروں؟ دعوت کرنے والے بھی ناراض ہورہے تھے اور ان کااصرار بڑھتا جارہا تھاکہ آپ کھانا کیوں نہیں کھارہے؟ میں نے انہیں کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں۔ آپ مجھے چینی لا دیں۔ میں اس کے ساتھ روٹی کھالوں گا۔ تووہ کہنے لگے کہ تھوڑا سا ہی کھالو۔ ہم نے اس میں زہر تو نہیں ڈالا ہوا مگرمیں جانتا تھا کہ میرے لئے وہ زہر ہی تھا۔ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں کھانا کھاتے ہی مجھ پر مصیبت ٹوٹ پڑنی تھی اور میں نہیں چاہتاتھا کہ ان پر میری اصلیت ظاہرہو۔ کیونکہ انہیں میری صلاحیتوں کے بارے میں علم نہ تھا۔ جب انہوں نے مجبور کیا تومیں نے ایک لقمہ لگایا۔ وہ لقمہ ابھی میرے حلق سے نیچے نہیں اترا تھا کہ ایک جن نے آکرمجھے گردن سے دبوچ لیا اور کہنے لگاکہ عامل صاحب آپ نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور شرط توڑدی ۔ اب ہم آپ پرغالب ہیں ۔اب بتائیں آپ کے ساتھ کیا سلوک کریں؟ تومیں نے دوسرے عملیات کے سہارے ان سے جان چھڑائی اور بعد میں ان سے معذرت کی۔اگرمجھے اس کے علاوہ عملیات پر عبور نہ ہوتا تووہ جن مجھے جان سے ماردینے سے بھی دریغ نہ کرتے۔ اس سے آپ خود ہی اندازہ لگالیں کہ عامل نے جنات کو قابوکیا ہوتاہے یا خود ان کے جال میں پھنس جاتاہے۔
    واقعات توبہت سے ہیں لیکن اس طرح کا ایک اور واقعہ بیان کردیتاہوں۔ میں نے ایک عمل کیا۔ اس کی شرط یہ تھی کہ پیشاب وغیرہ کرنے سے پہلے اپنے ساتھ پانی رکھ کر گول دائرے کا حصار کھینچنا ضروری تھا۔ ایک مرتبہ میں سفرکررہاتھا کہ مجھے پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی ۔کچھ دیر تومیں نے کنٹرول کیا لیکن جب نہ رہا گیا تومیں نے گاڑی سے نیچے اترکر پانی کی تلاش شروع کردی۔ لیکن نزدیک کہیں پانی نہیں مل رہاتھا۔ آخر دور ایک جگہ بہت بڑی کھال میں پانی نظرآیا۔ وہاں پہنچا‘ پیشاب کی شدت سے میرا براحال تھا۔ بڑی مشکل سے اپنے اردگرد بہت بڑادائرہ لگایا اور پھر پیشاب کرکے اس عذاب سے نجات حاصل کی۔ آپ اندازہ لگائیں مصیبت میں جن گرفتار ہیں یاعامل…؟
    ایک عامل کی حالت زار:
    ہمارے نزدیک ایک گاؤں کے زمیندار کو یہ شوق پیداہوا کہ کسی طرح عامل بن جاؤں ۔بڑی مشکل سے اس نے کسی سے عمل پوچھا ۔اس نے پانی کے کنارے بیٹھ کر وہ وظیفہ پڑھنا شروع کردیا۔ مگراس وظیفہ میں کامیابی ہونے کی بجائے عمل الٹ ہوگیا اور جن اس زمیندارپرغالب آگیا اور اسے اپنی جان چھڑانی مشکل ہوگئی ۔وہ زمیندار اس جن سے جان چھڑانے کے لئے بہت سے عاملوںکے پاس گیا مگر ہرایک نے یہ کہا کہ تم نے یہ مصیبت خود خریدی ہے۔ ہم آپ کی مدد نہیں کرسکتے۔
    کالے جادوکے ماہرکی زندگی تباہ اور اولاد ہلاک ہوجاتی ہے:
    جب کسی انسان پراللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آزمائش مسلط کی جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں اسے دنیاوی نقصانات اور ذہنی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑے تو ایسے حالات میں وہ گھبرا جا تاہے اور صدقہ و خیرات‘ ذکر واذکار اور اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کے ذریعے رجوع کرنے کے بجائے بے تابی کے ساتھ کسی ایسے پیر یا عملیات کے ماہر کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتاہے جس کے بتائے ہوئے وظیفوں یا دئیے گئے تعویذوں کی بدولت اپنی دکھ بھری زندگی کو راحت وسکون میں بدل سکے۔ شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مشکل کشااللہ کی ذات ہے۔ اللہ بزرگ و برتر بہت رحم کرنے والے اور مہربان ہیں۔ ہم ہی نادان ہیں کہ اس کے در پرحاضری کی بجائے دربدربھٹکتے رہتے ہیں۔
    ایسے لوگ تعداد میں زیادہ ہیں جو عاملوں کے کمالات او رفن کے مظاہرے دیکھ کر ان کے گرویدہ ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو عملیات سیکھنے کے شوق میں اپنی پرسکون زندگی کو نہ ختم ہونے والی بے سکونی کے زہر سے آلودہ کرلیتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جس علم کو حاصل کرنے کی خواہش کررہے ہیں‘ اس کے حصول کی خاطر کن جان لیوا اور خطرناک مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
    میرے استاد محترم کی آخری خواہش:
    میرے استاد عبدالقیوم مرحوم کہاکرتے تھے ۔مجھے ان عملیات کی بدولت بہت شہرت اورعزت نصیب ہوئی ۔ دوست احباب کا وسیع حلقہ قائم ہوا۔ دولت کی بھی کوئی کمی نہیں لیکن یہ سب کچھ میرے کس کام کا؟ نہ ہی میری بیوی میرے پاس رہی اور اللہ کی خاص نعمت اولاد سے محروم رہا۔اب میرے بعد میرا نام لینے والا کوئی نہ ہوگا۔ یہ سب دنیاوی آسائشیں میرے کسی کام نہیں آئیں گی۔ وہ کہا کرتے تھے‘ میں نے اپنی زندگی اپنے ہاتھوں تباہ کرلی۔ ان کی بہت خواہش تھی کہ کاش میری اولاد ہوتی۔ انہوں نے آخری عمر میں ان عملیات سے نجات حاصل کرنے کے لئے بہت جتن کئے کہ اللہ کا کوئی ایسا نیک بندہ مل جائے جو میری ان سے جان چھڑادے۔ لیکن انہوں نے اتنے بھاری اورسخت عمل کئے ہوئے تھے کہ مرتے دم تک تلاش بسیار کے باوجود انہیں کوئی ایسا عامل نہ مل سکا جو ان کی جان چھڑا دیتا اوروہ یہ حسرت دل میں لئے دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔
    تعویذات ‘عملیات کے ذریعے من پسند شادیوں کاانجام:
    یہاں میں ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے ایک بات بتادوں جوہزاروں روپے خرچ کرکے اس چکر میں رہتے ہیں کہ تعویذات کے ذریعے اپنی من پسند کی جگہ پرشادی کرالیں۔ اگروہ اس میں کامیاب ہوبھی جائیں توساری عمر ذلیل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسی شادیاں کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ انتہائی دردناک انجام سے دوچار ہوتی ہیں کیونکہ عامل نے لڑکی کے دل میں محبت پیداکرنے کے لئے جو موکل مسلّط کیاہوتاہے وہ آسانی کے ساتھ جان نہیں چھوڑتا ۔اس کاعلاج بہت مشکل ہوتاہے۔ پھروہی موکل پورے خاندان یعنی بچوں اورخاوند کوبھی تنگ کرتاہے۔ اس طریقہ سے من پسند جگہ پر شادی کرانے والا شخص مرتے دم تک عاملوں کے لئے کمائی کا ذریعہ بن جاتاہے۔
    میری توبہ کی کہانی:
    پراسرارعلوم پر دسترس حاصل کرنے والے عاملوں کو اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔کالے پیلے عملیات اور موکلات کو زیر کرنے کے دوران مجھے بھی ان تلخ نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تمام عرصہ میں مجھے بہت سے نقصانات اٹھانے پڑے۔ میرے چار بچے یکے بعد دیگرے فوت ہوئے جو بچہ بھی پیدا ہوتا‘پیدائش کے چند گھنٹوں کے بعد اس کے جسم کی رنگت نیلی ہوجاتی جو اس بات کی نشانی تھی کہ یہ عملیات کا نتیجہ ہے۔ جنات کو قابو کرنے کا شوق ہی ایسا ہے کہ انسان کی عقل پر پردہ پڑ جاتاہے اوروہ اتنا بے حس ہوجاتاہے کہ اسے یہ احساس تک نہیں ہوتاکہ وہ جس راستے پرگامزن ہے اس کاانجام کتنا دردناک ہوگا۔ میری توبہ کا قصہ بھی عجیب ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کوکسی کی بھلائی مقصود ہوتی ہے تواس شخص کو سیدھا راستہ دکھانے کے لئے خود اسباب پیدا کردیتاہے۔ فرمان رسول ﷺ کا مفہوم ہے کہ آدم کا ہربیٹا خطاکارہے۔ مگر بہترین خطاکار وہ ہے جواپنی غلطی تسلیم کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیتاہے اور آئندہ ایسے کاموں سے توبہ کرلیتاہے جسے اللہ پسند نہیں کرتے۔
    یہ جمعہ کا دن تھا اورمیں خراد کاپرزہ خریدنے کے لئے لاہور گیا۔ کافی تلاش کے باوجوود مجھے وہ پرزہ نہ ملاکیونکہ اکثر دکانیں جمعۃ المبارک کی وجہ سے بند تھیں۔نماز جمعہ پڑھنے کے لئے میں نے دالگراں چوک میں حافظ عبدالقادر روپڑی(g) کی مسجد کا انتخاب کیا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت میرا ارادہ کرنا اللہ کی طرف سے رحمت کا سبب بن گیا۔ میں خطبہ شروع ہونے سے دس منٹ پہلے مسجد میں پہنچ گیا۔حافظ صاحب نے اس جمعہ میں قرآن و حدیث کے دلائل کی روشنی میں جادوگری‘ عملیات اور جنات کے ذریعے ناجائز کام لینے والوں کو ابدی جہنمی قرار دیا مگر انہوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ جوشخص یہ سمجھ کر کہ مجھ سے گناہ ہوگیاہے اوراللہ سے توبہ کرکے اس کام کو چھوڑ دے تواللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ وہ اسے معاف کردیں گے۔ ان کی باتوں کا میرے دل پر زبردست اثرہوا۔
    نمازجمعہ سے فارغ ہونے کے بعد میں حافظ صاحب کی خدمت میں حاضرہوا اور پوچھا کہ اگرکوئی شخص عملیات کے کام کو چھوڑنا چاہے تواسے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے توانہوں نے کہا کہ ایک تومضبوط ارادے کے ساتھ چھوڑے اور دوسرا یہ کہ مسلسل توبہ استغفار کرتارہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے ۔وہ اس پررحم کرے گا اور اسے معاف فرمادے گا۔ میں نے اسی وقت مسجد میں بیٹھ کر اللہ سے عہد کرلیا کہ یہ سب کام چھوڑ دوں گا اورآئندہ کے لئے عملیات سے توبہ کرلی۔ جب میں مسجد سے باہر نکلا توایک راہ گیر مجھے ملا۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ پرزہ مجھے نہیں مل رہا۔ وہ شخص مجھے بازو سے پکڑ کر ایک قریبی دکان پرلے گیا اورکہا کہ اگریہ پرزہ یہاں سے نہ ملا تو پھرکسی اوردکان سے بھی نہیں ملے گا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ضرور مجھ پررحمت کادروازہ کھول دیا ہے۔ میں وہ پرزہ وہاں سے خرید کر گھرواپس آگیا۔
    اب میں نے یہ جدوجہد شروع کردی کہ جلد ازجلد عملیات سے جان چھڑائی جائے۔ میں بہت سارے عاملوں کو جانتاتھا۔ ان میں بہت سے روحانی علوم پر دسترس رکھنے والے بھی تھے۔ سب سے پہلے میں سنت پورہ گوجرانوالہ میںحافظ محمد یوسف کے پاس گیا اور ان کو اپنے پاس موجود عملیات کے ذخیرے کی تفصیل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اب میں انہیں چھوڑنا چاہتاہوں۔ میری گفتگو سن کر حافظ صاحب نے میری طرف بہت غصے سے دیکھا اور کہا کہ بیٹا جو کچھ تمہارے پاس ہے‘ اس کو لے کریہاں سے نکلنے کی بات کرو۔ یہ میرے بس سے باہر ہے۔ کچھ دن بعد میں نے حافظ صاحب کے ایک قریبی دوست کو جس کی بات وہ ٹال نہیں سکتے تھے‘ منت سماجت کرکے ساتھ لیا اور دوبارہ حافظ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوگیا تاکہ میرا مسئلہ حل ہوجائے۔ حافظ صاحب نے اپنے دوست کے ساتھ ناراضگی کااظہار کیا‘ تم کس کی سفارش کرنے آئے ہو۔ پہلی بات تویہ ہے کہ اس بچے نے جوعمل کئے‘ وہ سارے قرآن وسنت کے خلاف ہیں۔ دوسری بات یہ کہ میرے پاس اتنی طاقت نہیں کہ میں انہیں سنبھال سکوں کیونکہ مجھے نظر آرہاہے کہ اس کے موکلوں میں کوئی سکھ ہے ‘کوئی عیسائی اورکوئی ہندو ہیمگر حافظ صاحب کے دوست اور میرے سفارشی نے سمجھداری کامظاہرہ کیا اورکہا کہ اگریہ آپ کے بس کا روگ نہیں توکسی کا پتہ ہی بتادیں۔انہوں نے کہا کہ ڈسکہ کے قریب نندی پور کی جھال کے قریب اللہ کا ایک بندہ رہتاہے ۔آپ اس کے پاس پہنچ جائیں۔ شاید آپ کاکام ہوجائے۔
     
  8. ‏دسمبر 03، 2016 #8
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,884
    موصول شکریہ جات:
    1,163
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    کالے پیلے عالموںکی وارداتیں اور ان کا خوفناک انجام شرک و بدعات ۔ قسط نمبر ۳ ۔ قاضی کاشف نیاز
    آپ اندازہ کریں کہ جس علم کو حاصل کرنے کے لئے میں نے اپنی ساری زندگی کا سنہری دور ضائع کردیا اور دن رات سخت محنت ومشقت میں گزارے‘اب اس کوچھوڑنے کے لئے نئے سفر کا آغاز ہوا۔ چند دن بعدمیں حافظ صاحب کے بتائے ہوئے پرپتے پر پہنچ گیا۔ اس وقت اس اللہ کے بندے کی عمر 90,85سال کے قریب ہوگی۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے سختی سے کہا کہ نکل جاؤ یہاں سے۔ تم جو کچھ لے کر آئے ہو‘ یہ ہمارے والاکام نہیں۔ میں نے اس وقت اللہ سے فریاد کی کہ یااللہ! میں کس مصیبت میں پھنس گیاہوں۔ میں نے ان کی بہت منت سماجت کی کہ میری ان عملیات سے جان چھڑائیں لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں۔ ہاں البتہ آزادکشمیر میں ایک کالے علم کا ماہر عامل تمہاری مشکل حل کردے گا۔ مجھے سوفیصد یقین ہے کہ وہ تمہارے تمام عملیات کوخوش دلی سے قبول کرلے گا اورتمہاری جان چھوٹ جائے گی۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد میری بے قراری میں مزید اضافہ ہوگیا۔ چند دن کے بعد میں مظفرآباد آزادکشمیر میں اس عامل کے ڈیرے پرپہنچ گیا۔ اس نے آبادی سے کچھ فاصلے پر ایک پہاڑی کو اپنا مسکن بنایاہواتھا۔ شاید اسے پہاڑی پیر کہتے تھے۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تووہ مجھے دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اس نے میری بہت عزت کی۔ میں نے اسے اپنی پریشانی سے آگاہ کیا تووہ مجھے کہنے لگا!ہماری مثال ان دوقیدیوں جیسی ہے جو ایک جیل میں بند ہیں۔ ایک قیدی دوسرے سے کہتاہے کہ مجھے آزاد کراؤ لیکن جو خود قیدمیں ہے‘ وہ دوسرے کو کیسے آزاد کرائے۔ اس نے کہا کہ میں بھی تمہاری طرح ان سے جان چھڑانا چاہتا ہوں لیکن ابھی تک اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوا۔مختصر یہ کہ ہم دونوں ایک دوسرے کی کچھ مدد نہیں کرسکتے۔ میں نے اس کی بہت منت سماجت کی اور کہا کہ تمہاری جان چھوٹتی ہے یا نہیںلیکن جو کچھ میرے پاس ہے‘ اسے اللہ کے لئے اپنے پاس رکھ لو اوراپنے موکلات کی تعداد میں اضافہ کرلو۔وہ مجھے کہنے لگے کہ برخوردار! میں تم سے یہ سب کچھ لے لوں مگرمیرے موکلات اورنسل کے ہیں اورتمہارے موکل اورنسل کے۔ میں نئی مصیبت مول نہیں لے سکتا۔ میں جس مصیبت میں پہلے پھنسا ہوا ہوں‘ میرے لئے وہی کافی ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ پھرمجھے کوئی ایسا عامل بتادیں جومیرا مسئلہ حل کردے تو وہ کہنے لگا کہ میرے خیال میں اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ جس شخص سے تم نے یہ عمل سیکھے ہیں‘ اگروہ زندہ ہے تواس کی منت سماجت کرو۔ وہ تمہاری جان چھڑا سکتاہے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں یہ کام کرکے بھی دیکھ چکاہوںلیکن میرے استاد کہتے ہیں کہ جوتیرایک مرتبہ کمان سے نکل جائے‘ وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ آزادکشمیر والا عامل بندہ توٹھیک نہیں تھالیکن اس نے مجھے جومشورہ دیا‘ اس سے مجھے کچھ حوصلہ ہوا۔ اس نے کہا کہ جب انسان بے بس ہوجائے اور اس کا کہیں چارہ نہ چلے توپھر ایک ذات اللہ بزرگ وبرترکی ہے۔ اگراس سے رجوع کرلے تووہ خود ہی کوئی سبب پیدا کردیتی ہے۔
    میں اس کی یہ باتیں سن کر ناکام و نامراد آزاد کشمیر سے لوٹ آیا۔ اس کے بعد مجھے گجرات کے نزدیک کوٹلی تنوروالی میں ایک بزرگ کے بارے میں علم ہوا۔ میں ان کے پاس پہنچاتو انہوں نے بھی مجھے یہ کہہ کر جواب دے دیا کہ بیٹا جوکچھ تمہارے پاس ہے‘ مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ اس کوسنبھال سکوں۔ تم نے سب سے مختلف اور مشکل عمل کئے ہیںلہٰذا کسی اور سے رابطہ کرو۔
    ایک دن میں نے شہر سے باہر آبادی سے دور ایک ویران مقام پر اللہ کے حضور طویل دعامیں اپنے دل کا غبار نکالا اور رو رو کر التجا کی کہ یا اللہ مجھے معاف کردیں اور میرے لئے آسانیاں پیدافرمائیں ۔ اللہ کے حضوردعا کے دوران مجھ پر ایسی کیفیت طاری ہوئی جو زندگی میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی اور نہ شایدآئندہ کبھی ہوسکے۔ اس بناء پر میرے دل نے شہادت دی کہ اللہ نے تمہاری دعا سن بھی لی ہے اورقبول بھی کرلی ہے اور جلد تیرے علم کا سورج غروب ہوجائے گا اس کے بعد میں مطمئن گھرواپس آگیا۔
    (اورقارئین کرام! اللہ تعالیٰ نے واقعی ان کی دعاسن لی اور انہیں ان عملیات سے نجات دے دی۔)
    توہین قرآن کامرتکب عامل:
    میں جن حقائق سے پردہ اٹھانے کاجرم کررہاہوں‘ اس سے بہت سے لوگوں کو تکلیف توہو گی لیکن آخر کب تک ہم حقائق سے منہ چھپاتے رہیں گے۔ میری اس تحریر کی بنیاد عملیات کے میدان میں ذاتی تجربہ اور ان گنت عاملوں سے ملاقات کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ہے۔ مجھے بہت سے عاملوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ایک بدنصیب عامل جو اب اس دنیائے فانی سے کوچ کرچکا ہے‘ اللہ جانے اس کا انجام کیا ہوگا ۔جب وہ کسی کانقصان کرنے کے لئے تعویذ تیارکرتا تو سیاہی کی دوات میں حقے کا پانی استعمال کرتا۔اس کا کہنا تھا۔اس سے تعویذ کا اثر بہت جلد ہوتاہے۔ یہ تعویذ قرآنی آیات سے لکھا جاتاہے۔ جتنی بے حرمتی قرآن مجید کی پیشہ ورعامل کرتے ہیں‘ کوئی مسلمان اس کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح ایک روحانی عامل کا معمول تھا کہ وہ قرآنی آیات کے تعویذ حرام جانوروں بالخصوص الو کے خون سے لکھتا۔ آپ خود غورکریں قیامت کے ان کا کیاحشر ہوگا۔سورۃ فاتحہ جوہربیماری کے لئے شفا کا درجہ رکھتی ہے‘ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک عامل سورۃ فاتحہ کو ایک تعویذ پر الٹے حروف میں لکھ رہا تھا۔
    کیاپیشہ ورعامل‘ عورتوں کوآسانی کے ساتھ بے وقوف بنالیتے ہیں؟
    تمام والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد دنیاوی تعلیم حاصل کرکے اپنا اور والدین کا نام روشن کرے اور انہیں معقول روزگارمل جائے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے تمام قسم کے دنیاوی علوم پربرسوں محنت کرکے دسترس حاصل کرنے والے ان ماہرین کی اکثریت قرآن وسنت کی بنیادی تعلیم سے بھی لاعلم ہوتی ہے ‘یہی وجہ ہے جب کسی پرکوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تواسے یقین نہیں آتاکہ اللہ تعالیٰ سے خود رجوع کرکے ان پریشانیوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ اگرہم اپنی مصروفیات سے معمولی ساوقت نکال کر اللہ کی خوشنودی کے حصول کی خاطر قرآن حکیم کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنا شروع کردیں اور اس کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کو اپنا معمول بنالیں تو میں یقین کے ساتھ کہتاہوں نہ صرف ہماری دنیاوی زندگی امن وسکون اورخوشحالی کا گہوارہ بن جائے بلکہ ہماری آخرت بھی سنور جائے۔
    آج قرآن سے دوری اورجہالت کی وجہ سے عورتوں کی کثیر تعداد نوسرباز قسم کے پیروں کی جعلی کرامات سے متاثر ہوکر جب اپنے مسائل کے حل کی خاطر ان سے رجوع کرتی ہے تووہ آسانی کے ساتھ انہیں اپنے جال میں پھانس لیتے ہیں۔ اس قسم کی خواتین کے دماغ میں اگر تھوڑی سے بھی عقل موجود ہوتوانہیں ضرور سوچناچاہئے کہ جس پیر کااپنا گھران کے دئیے ہوئے دس‘بیس یا سوروپے کی فیس یا نذرانوں کے سہارے چل رہاہے اوراسے اپنی ضروریات زندگی کو پوراکرنے کے لئے مجبور‘پریشان اورمسائل میں گھرے ہوئے لوگوں کی جیبوں پرڈاکہ ڈالنا پڑتاہے ‘وہ اپنے لئے کیوں کوئی باعزت روزگار کاانتظام نہیں کرتا؟اس کی وجہ میں بتاتاہوں ۔پیروں اور عاملوں کی اکثریت کوئی کام کرہی نہیں سکتی۔ یہ بے چارے توخود بے روزگاری کے ہاتھوں مجبورہوکر اس مذموم دھندے کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایک مقولہ بہت مشہورہے کہ’’عورتوں کا پیرکبھی بھوکا نہیں مرتا۔‘‘اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ عورتوں کو آسانی کے ساتھ بے وقوف بنایاجاسکتاہے۔
    اسلامی ماحول میں اولاد کی تربیت کے فوائد:
    جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان تکلیفوں سے محفوظ رکھاہے ‘بجائے اس کے کہ وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہونے کا انتظار کریں‘ ان کو چاہئے کہ وہ مصائب کاسیلاب آنے سے پہلے بند باندھ لیں اورآپﷺ کی بتائی ہوئی مسنون دعاؤں اورذکر واذکار کے ذریعے قبل ازوقت آنے والے برے وقت سے اپنے دامن کو بچا لیں۔احکام الہٰی کو مسلسل نظرانداز کرنے‘اسلامی طرز زندگی سے بیزاری اورآپﷺ کے بتائے ہوئے طریقے سے روگردانی کی وجہ سے آج اشرف المخلوقات ان گنت مسائل میں مبتلاہے۔ اگر اب بھی کوئی مضبوط ارادہ کرلے اور روزہ مرہ زندگی میں آپﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھے توجادو‘ تعویذات‘نظربد اور جنات کے اثرات سے قبل ازوقت احتیاطی تدابیر کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے۔ جو والدین چاہتے ہیں کہ وہ اور ان کی اولاد حسد کرنے والوں اور شیطانی چالوں کے ذریعے پہنچنے والی پریشانیوں اور نقصانات سے محفوظ رہے‘ انہیں چاہئے کہ وہ خود اور اپنی اولاد کوتمام اسلامی احکامات کاپابند بنائیں۔ جنات کاسایہ‘ نظربد اورجادو کے اثرات سے بچنے کے لئے اسلامی ماحول میں کی گئی اولاد کی تربیت بہت اہم کردار اداکرتی ہے۔
    جہاں اولاد کے لئے والدین کی فرمانبرداری کاسختی کے ساتھ حکم ہے‘ وہاں والدین کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اسلامی احکامات کے مطابق کریں۔ جووالدین اس سلسلہ میں خلوص نیت کے ساتھ اپنا فرض اداکرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی اولاد کوشیطانی وسوسوں اوران سے پہنچنے والے نقصانات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ والدین کافرض ہے کہ جس وقت بچہ بولنا شروع کرے تو سب سے پہلے اسے کلمہ طیبہ سکھایاجائے اورساتھ ساتھ اسے اسلامی آداب اور دینی تعلیم سے روشناس کرایاجائے۔ جب بچہ سات سال کا ہوجائے توپیغمبر آخزالزماںﷺ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اسے نماز کی ترغیب دی جائے۔ جب دس سال کا ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے اور غفلت برتنے پر اس سے سختی کے ساتھ باز پرس کی جائے۔ اس کے علاوہ بچے کی تمام حرکات و سکنات پرنظر رکھنا ماں باپ کے فرائض میں شامل ہے۔ انہیں علم ہوناچاہئے کہ ان کی اولادکاحلقہ احباب کیساہے؟ بچے کو کھلی آزادی اوردین سے دوری اس کے لئے تباہی کا سبب بنتی ہے ۔ جب یہی بچے بڑے ہوجاتے ہیں توجنات اورشیاطین کو انہیں قابوکرنے میں آسانی رہتی ہے۔ ماں باپ کی غفلت‘لاپرواہی اوراسلامی اصولوں سے لاعلمی نہ صرف بچوں کو بے راہ روی کا راستہ اختیار کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جب انہیں زندگی کے کسی موڑ پر کسی حاسدسے پالا پڑتاہے جو ان کو نقصان پہنچانے کے لئے شیطانی ہتھکنڈے استعمال کرتاہے تویہ اس کے توڑ کے لئے عاملوں اور پیروں فقیروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو ان کو غیر شرعی اور شرکیہ عملیات کا راستہ بتاتے ہیں۔
    عملیات کرنے کے عرصے کے دوران میرے علم میں یہ بات آئی کہ جو والدین اپنے بچوں کو طہارت اور پاکیزگی کادرس نہیں دیتے اور آپﷺ نے صبح وشام اورمختلف اوقات کے لئے جو دعائیں بتائی ہیں‘بچوں کو وہ دعائیں یاد نہیں کراتے‘ ان بچوں میں خود اعتمادی کی بہت کمی ہوتی ہے۔ وہ بچے وہم کابہت جلد شکار ہوجاتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات پرڈر جاتے ہیں۔
    میری معلومات کے مطابق جس عامل نے بھی کسی طریقہ سے جنات کو قابو کیاہو ‘اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ حالانکہ عملیات کے میدان میں یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں۔اس قسم کے عاملوں کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لئے جانا جائز نہیں۔ آپﷺ نے سختی کے ساتھ منع فرمایاہے۔ ان لوگوں نے یہ عمل غیر شرعی طریقوں سے حاصل کئے ہوتے ہیں۔ بہت سارے ایسے عامل بھی ہیں کہ جن کے پاس توکچھ نہیں ہوتا لیکن صرف شعبدہ بازی کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے کر اپنے پیٹ کا دوزخ بھررہے ہیں اور لوگوں سے بھاری نذرانے وصول کرتے ہیں۔
    ایک جعلی پرہیزگارعامل کاقصہ:
    یہاں میں آپ کو ایک بہت نیک اور پرہیزگار قاری صاحب کاواقعہ سناتاہوں تاکہ اس قسم کے لوگوں سے آپ لٹنے سے بچ جائیں۔ ان کے چنگل سے نکلنے میں آسانی ہو۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ہمارے گھر کسی نے تعویذ دبائے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہم بہت سی مشکلوں میں گرفتار ہوگئے ہیں۔ ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے میں نے فلاں قاری صاحب کی خدمات حاصل کی ہیں جو بہت نیک اور پرہیزگار ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ جس دن قاری صاحب نے آنا ہو مجھے ضرور بلانا۔ کیونکہ میں شعبدہ بازی کے تمام طریقوں سے واقف تھا۔ اس لئے میں نے سوچا کہ اگرکوئی نوسرباز ہوگا تو اسے پکڑنے میں آسانی رہے گی اور میرا یہ دوست اس کی بھاری فیس سے بچ جائے گا۔
    جس دن قاری صاحب تشریف لائے‘ میں بھی موقع پر پہنچ گیا۔ قاری صاحب کیسے پکڑے گئے اور وہ کیاکمال کرتے تھے ‘اس کی تفصیلات آپ کی تفریح طبع اور علم میں اضافے کا باعث بنیں گی۔
    قاری صاحب کاطریقہ کاریہ تھاکہ جس گھر سے تعویذ نکالنے ہوتے‘ وہ سب سے پہلے اس گھر میں جاتے ہی وضو کرکے دورکعت نفل ادا کرتے اورجائے نماز پربیٹھ جاتے۔ قاری صاحب کے سرپر ایک بڑی دستار اور کندھوںپر چادرہوتی۔ اس چادر کو وہ اس طرح اوڑھتے کہ ان کی پگڑی اس میں چھپ جاتی۔ اس کے بعد وہ عمل کا آغاز کرتے۔ قرآنی آیات کثرت سے پڑھتے۔ تمام گھروالوں کی دوڑیں لگوادیتے کہ فلاں کمرے کے فلاں کونے میں دیکھو۔ کہیں تعویز تونہیں پڑے۔غرض پورے گھر میں بھونچال آجاتا۔ جب کہیں سے تعویذ برآمدنہ ہوتے توآخر میں گھروالوں سے کہتے کہ ان تعویذوں کو موکلات کے ذریعے حاضر کرنا پڑے گا۔ یہ اس طرح نہیں سمجھیں گے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ دورکعت نماز نفل کے لئے کھڑے ہوتے اور اپنی چادر کو اچھی طرح جھاڑتے کہ گھروالوں کو تسلی ہوجائے کہ اس میں کچھ چھپا ہوا نہیں ہے۔ پہلی رکعت میں وہ اپنے جسم اور چہرے کی حرکات وسکنات سے اس قسم کی اداکاری کرتے کہ دیکھنے والوں کو یقین ہوجاتاکہ جیسے سچ مچ کوئی جن حاضر ہورہاہے۔ دوسری رکعت میں وہ اپنے جسم پر شدید قسم کی کپکپی طاری کرلیتے۔ جب وہ آخری سجدے کے بعد سلام پھیرتے توتعویذ خودبخود ان کے اردگرد ہی کہیں زمین پرحاضرہوجاتے۔ یہ تعویز مٹی میں دبائی ہوئی گڑیا کی شکل کے ہوتے اوران میں لوہے کی سوئیاں پیوست ہوتیں۔قاری صاحب سلام پھیرنے کے بعد گھروالوں سے انجان بن کر پوچھتے کہ دیکھیں کہیں تعویذ تونہیں آکر گرے ۔گھروالے فوراً بتاتے کہ قاری صاحب تعویذ وہ سامنے پڑے ہوئے ہیں۔ قاری صاحب ان گڑیا نما تعویذات کو پکڑتے اورگھروالوں سے کہتے کہ میرے موکلات نے بڑی محنت سے انہیں زمین سے نکالاہے۔کسی حاسد نے آپ کو تباہ و برباد کرنے کے لئے چوری چھپے انہیں زمین میں دبادیاتھا۔ آپ جلدی سے کوئی تیزچھری یا بلیڈ لے کرآئیں تاکہ اس کے اندر بھی اگر کچھ رکھاگیاہو تواس کاتوڑ کیاجاسکے۔ جب تیز قسم کے بلیڈ کے ذریعے اس گڑیا نماتعویذ کی چیر پھاڑ کی جاتی تواندر سے قسم ہا قسم کے تعویذ کے تعویذ برآمد ہوتے توقاری صاحب بتاتے کہ یہ تو اب اوورڈیٹ ہو گئے ہیں۔ یعنی ان کی تاریخ ختم ہوگئی ہے۔اگرمیں انہیں بروقت نہ نکالتا توآپ کا بہت نقصان ہوتا۔ اگران کی مدت ختم نہ ہوتی تو ان کا علاج500روپے میں ہوجاناتھا۔مگراب ان کے زہریلے اثرات دور کرنے کے لئے مجھے بہت محنت کرنی پڑے گی۔ اگراپنی سلامتی چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو 2100روپے اداکرنے ہوں گے۔ گھروالے اپنی جان بچانے کے لئے 2100روپے دینے پر آسانی سے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ تمام باتیں اور اس کے علاوہ قاری صاحب کی کرامات کی کافی تفصیل سے مجھے میرے دوست نے آگاہ کیا ہواتھا۔ اس لئے جب قاری صاحب نے میرے دوست کے گھر میں یہی ڈرامہ شروع کیا تو مجھے شک گزرا کہ اصل کمال قاری صاحب کی بلند و بالادستار کرتی ہے جو انہوں نے رعب و دبدبے اور بزرگی کے لئے سرپرباندھی ہوئی ہے۔ ہو نہ ہو وہ گڑیا نماتعویذ اسی میں چھپا کرلاتے ہیں۔ قاری صاحب نے میرے دوست کے گھر میں بھی وہ تعویذنکالنے کے لئے تمام مراحل طے کئے جو اوپربیان ہوئے ہیں۔ جب قاری صاحب اس مقام پر پہنچے کہ تعویذکسی نے زمین میں گہرے دبائے ہوئے ہیں اور انہیں موکلات کے ذریعے حاضر کرنا پڑے گا اورقاری صاحب دورکعت نماز کے لئے کھڑے ہونے لگے تو میں نے آنکھ بچاکر پانی کے نل سے لوہے کا چھوٹا سا زنگ آلود ٹکڑا توڑ کر قاری صاحب کی دستار پر پھینک دیا۔ قاری صاحب چونکے کہ میری دستار پرکیاگراہے۔ میں نے کہا کہ قاری صاحب آپ کی پگڑی پر چھپکلی گری ہے۔ قاری صاحب نے بدحواس ہوکرتیزی سے ادھر ادھر ہاتھ مارا تو ان کی دستارمیں تین گڑیا نما تعویذ جومٹی میں اٹے ہوئے تھے ‘ نیچے گرگئے۔ قاری صاحب نے نہایت چالاکی کے ساتھ ان پر چادر ڈال لی اور قمیض کے نیچے ان کو چھپالیا۔ یہ عمل انہوں نے اتنی تیزی کے ساتھ کیا کہ گھروالوں کو اس کا علم نہ ہوسکا۔ اس کے بعد انہوں نے نفل اداکئے اور ساتھ ساتھ اداکاری کامظاہرہ کیا۔ سلام پھیر نے کے بعد انہوں نے گھروالوں سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ پرکسی نے کوئی تعویذ نہیں کیا۔ آپ کو وہم ہے اس لئے گھبرانے کی بجائے اللہ کاشکراداکریں۔ میں بڑے صبرکے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے گھروالوں کو کہا کہ قاری صاحب نے تعویذ نکال لئے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ آپ کو کیوں نہیں دے رہے۔ اگران کی قمیض کے نیچے سے تین گڑیا نما تعویذ نہ نکلیں تومیں 10ہزار روپے جرمانہ ادا کروں گا۔ گھروالوں کے مجبور کرنے پرقاری صاحب کو اصل حقیقت سے آگاہ کیا توقاری صاحب کہنے لگے کہ گھرآئے ہوئے مہمان کے ساتھ ایساسلوک نہیں کرتے۔ بجائے اس کہ وہ شرمسار ہوتے‘ انہوں نے گلے شکوے شروع کردئیے۔ بہرحال میرا دوست ان کے ہاتھوں لٹنے سے بچ گیا اور قاری صاحب کی بزرگی میں چھپاہوا اصل چہرہ اس کے سامنے آگیا۔ اگرکوئی شخص کسی مسئلہ سے دوچار ہوتو اسے ادھر ادھر بھاگنے کی بجائے خود ہمت سے کام لینا چاہئے اور مددکے لئے صرف اللہ کو پکارے ۔اللہ تعالیٰ بہت غفوررحیم ہے۔
    ٹیلی پیتھی سیکھنے سے انسان پاگل کیوں ہوجاتا ہے؟
    ’’دولت شہرت اور کامیابی کے موضوع پر ڈاکٹرصاحب کے لاجواب ‘حیرت انگیز لیکچرز جو آپ کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ سائنسی ‘ نفسیاتی اور روحانی طریقے سے دولت ‘شہرت اورکامیابی کے خواہشمند سنجیدہ لوگوں کے لئے انمول تحفہ تفصیلات کے لئے جوابی لفافہ ارسال کیجئے۔‘‘
    یہ اس اشتہار کے مضمون کا ایک نمونہ ہے جو اکثر اخبارات میں شائع ہوتاہے۔ جس پر نمایاں حروف میں لکھاہوتاہے کہ ’’جن قابوکیجئے‘‘اس اشتہار میں پرکشش اور دلفریب الفاظ کے ذریعے بے روزگار‘ پریشان حال‘ معصوم اور پوشیدہ صلاحیتیں حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس قسم کے انسٹی ٹیوٹ اوراداروں میں نوجوانوں کو نہایت آسان طریقوں کے ذریعے کامیابی و کامرانی کی منزل تک رسائی کے سنہرے خواب دکھلا کردونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتاہے۔قابل رشک شخصیت بننے اورلامحدود صلاحیتوں کے بے مقصد ‘پرحماقت اور فضول شوق میں مبتلا لوگوں کی کثیر تعداد نہ صرف اپنا قیمتی وقت اور سرمایہ برباد کرتی ہے بلکہ پرلطف زندگی کوخود اپنے ہاتھوں سے مصائب میں مبتلا کرکے سکون اورچین سے محروم ہوجاتے ہیں اور تمام ترکوششوں کے باوجود نتیجہ میں ان کے ہاتھ سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں آتا۔
     
  9. ‏دسمبر 03، 2016 #9
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,884
    موصول شکریہ جات:
    1,163
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    کالے پیلے عالموںکی وارداتیں اور ان کا خوفناک انجام شرک و بدعات ۔ قسط نمبر ۳ ۔ قاضی کاشف نیاز
    آپ اندازہ کریں کہ جس علم کو حاصل کرنے کے لئے میں نے اپنی ساری زندگی کا سنہری دور ضائع کردیا اور دن رات سخت محنت ومشقت میں گزارے‘اب اس کوچھوڑنے کے لئے نئے سفر کا آغاز ہوا۔ چند دن بعدمیں حافظ صاحب کے بتائے ہوئے پرپتے پر پہنچ گیا۔ اس وقت اس اللہ کے بندے کی عمر 90,85سال کے قریب ہوگی۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے سختی سے کہا کہ نکل جاؤ یہاں سے۔ تم جو کچھ لے کر آئے ہو‘ یہ ہمارے والاکام نہیں۔ میں نے اس وقت اللہ سے فریاد کی کہ یااللہ! میں کس مصیبت میں پھنس گیاہوں۔ میں نے ان کی بہت منت سماجت کی کہ میری ان عملیات سے جان چھڑائیں لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں۔ ہاں البتہ آزادکشمیر میں ایک کالے علم کا ماہر عامل تمہاری مشکل حل کردے گا۔ مجھے سوفیصد یقین ہے کہ وہ تمہارے تمام عملیات کوخوش دلی سے قبول کرلے گا اورتمہاری جان چھوٹ جائے گی۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد میری بے قراری میں مزید اضافہ ہوگیا۔ چند دن کے بعد میں مظفرآباد آزادکشمیر میں اس عامل کے ڈیرے پرپہنچ گیا۔ اس نے آبادی سے کچھ فاصلے پر ایک پہاڑی کو اپنا مسکن بنایاہواتھا۔ شاید اسے پہاڑی پیر کہتے تھے۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تووہ مجھے دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اس نے میری بہت عزت کی۔ میں نے اسے اپنی پریشانی سے آگاہ کیا تووہ مجھے کہنے لگا!ہماری مثال ان دوقیدیوں جیسی ہے جو ایک جیل میں بند ہیں۔ ایک قیدی دوسرے سے کہتاہے کہ مجھے آزاد کراؤ لیکن جو خود قیدمیں ہے‘ وہ دوسرے کو کیسے آزاد کرائے۔ اس نے کہا کہ میں بھی تمہاری طرح ان سے جان چھڑانا چاہتا ہوں لیکن ابھی تک اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوا۔مختصر یہ کہ ہم دونوں ایک دوسرے کی کچھ مدد نہیں کرسکتے۔ میں نے اس کی بہت منت سماجت کی اور کہا کہ تمہاری جان چھوٹتی ہے یا نہیںلیکن جو کچھ میرے پاس ہے‘ اسے اللہ کے لئے اپنے پاس رکھ لو اوراپنے موکلات کی تعداد میں اضافہ کرلو۔وہ مجھے کہنے لگے کہ برخوردار! میں تم سے یہ سب کچھ لے لوں مگرمیرے موکلات اورنسل کے ہیں اورتمہارے موکل اورنسل کے۔ میں نئی مصیبت مول نہیں لے سکتا۔ میں جس مصیبت میں پہلے پھنسا ہوا ہوں‘ میرے لئے وہی کافی ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ پھرمجھے کوئی ایسا عامل بتادیں جومیرا مسئلہ حل کردے تو وہ کہنے لگا کہ میرے خیال میں اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ جس شخص سے تم نے یہ عمل سیکھے ہیں‘ اگروہ زندہ ہے تواس کی منت سماجت کرو۔ وہ تمہاری جان چھڑا سکتاہے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں یہ کام کرکے بھی دیکھ چکاہوںلیکن میرے استاد کہتے ہیں کہ جوتیرایک مرتبہ کمان سے نکل جائے‘ وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ آزادکشمیر والا عامل بندہ توٹھیک نہیں تھالیکن اس نے مجھے جومشورہ دیا‘ اس سے مجھے کچھ حوصلہ ہوا۔ اس نے کہا کہ جب انسان بے بس ہوجائے اور اس کا کہیں چارہ نہ چلے توپھر ایک ذات اللہ بزرگ وبرترکی ہے۔ اگراس سے رجوع کرلے تووہ خود ہی کوئی سبب پیدا کردیتی ہے۔
    میں اس کی یہ باتیں سن کر ناکام و نامراد آزاد کشمیر سے لوٹ آیا۔ اس کے بعد مجھے گجرات کے نزدیک کوٹلی تنوروالی میں ایک بزرگ کے بارے میں علم ہوا۔ میں ان کے پاس پہنچاتو انہوں نے بھی مجھے یہ کہہ کر جواب دے دیا کہ بیٹا جوکچھ تمہارے پاس ہے‘ مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ اس کوسنبھال سکوں۔ تم نے سب سے مختلف اور مشکل عمل کئے ہیںلہٰذا کسی اور سے رابطہ کرو۔
    ایک دن میں نے شہر سے باہر آبادی سے دور ایک ویران مقام پر اللہ کے حضور طویل دعامیں اپنے دل کا غبار نکالا اور رو رو کر التجا کی کہ یا اللہ مجھے معاف کردیں اور میرے لئے آسانیاں پیدافرمائیں ۔ اللہ کے حضوردعا کے دوران مجھ پر ایسی کیفیت طاری ہوئی جو زندگی میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی اور نہ شایدآئندہ کبھی ہوسکے۔ اس بناء پر میرے دل نے شہادت دی کہ اللہ نے تمہاری دعا سن بھی لی ہے اورقبول بھی کرلی ہے اور جلد تیرے علم کا سورج غروب ہوجائے گا اس کے بعد میں مطمئن گھرواپس آگیا۔
    (اورقارئین کرام! اللہ تعالیٰ نے واقعی ان کی دعاسن لی اور انہیں ان عملیات سے نجات دے دی۔)
    توہین قرآن کامرتکب عامل:
    میں جن حقائق سے پردہ اٹھانے کاجرم کررہاہوں‘ اس سے بہت سے لوگوں کو تکلیف توہو گی لیکن آخر کب تک ہم حقائق سے منہ چھپاتے رہیں گے۔ میری اس تحریر کی بنیاد عملیات کے میدان میں ذاتی تجربہ اور ان گنت عاملوں سے ملاقات کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ہے۔ مجھے بہت سے عاملوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ایک بدنصیب عامل جو اب اس دنیائے فانی سے کوچ کرچکا ہے‘ اللہ جانے اس کا انجام کیا ہوگا ۔جب وہ کسی کانقصان کرنے کے لئے تعویذ تیارکرتا تو سیاہی کی دوات میں حقے کا پانی استعمال کرتا۔اس کا کہنا تھا۔اس سے تعویذ کا اثر بہت جلد ہوتاہے۔ یہ تعویذ قرآنی آیات سے لکھا جاتاہے۔ جتنی بے حرمتی قرآن مجید کی پیشہ ورعامل کرتے ہیں‘ کوئی مسلمان اس کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح ایک روحانی عامل کا معمول تھا کہ وہ قرآنی آیات کے تعویذ حرام جانوروں بالخصوص الو کے خون سے لکھتا۔ آپ خود غورکریں قیامت کے ان کا کیاحشر ہوگا۔سورۃ فاتحہ جوہربیماری کے لئے شفا کا درجہ رکھتی ہے‘ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک عامل سورۃ فاتحہ کو ایک تعویذ پر الٹے حروف میں لکھ رہا تھا۔
    کیاپیشہ ورعامل‘ عورتوں کوآسانی کے ساتھ بے وقوف بنالیتے ہیں؟
    تمام والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد دنیاوی تعلیم حاصل کرکے اپنا اور والدین کا نام روشن کرے اور انہیں معقول روزگارمل جائے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے تمام قسم کے دنیاوی علوم پربرسوں محنت کرکے دسترس حاصل کرنے والے ان ماہرین کی اکثریت قرآن وسنت کی بنیادی تعلیم سے بھی لاعلم ہوتی ہے ‘یہی وجہ ہے جب کسی پرکوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تواسے یقین نہیں آتاکہ اللہ تعالیٰ سے خود رجوع کرکے ان پریشانیوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ اگرہم اپنی مصروفیات سے معمولی ساوقت نکال کر اللہ کی خوشنودی کے حصول کی خاطر قرآن حکیم کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنا شروع کردیں اور اس کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کو اپنا معمول بنالیں تو میں یقین کے ساتھ کہتاہوں نہ صرف ہماری دنیاوی زندگی امن وسکون اورخوشحالی کا گہوارہ بن جائے بلکہ ہماری آخرت بھی سنور جائے۔
    آج قرآن سے دوری اورجہالت کی وجہ سے عورتوں کی کثیر تعداد نوسرباز قسم کے پیروں کی جعلی کرامات سے متاثر ہوکر جب اپنے مسائل کے حل کی خاطر ان سے رجوع کرتی ہے تووہ آسانی کے ساتھ انہیں اپنے جال میں پھانس لیتے ہیں۔ اس قسم کی خواتین کے دماغ میں اگر تھوڑی سے بھی عقل موجود ہوتوانہیں ضرور سوچناچاہئے کہ جس پیر کااپنا گھران کے دئیے ہوئے دس‘بیس یا سوروپے کی فیس یا نذرانوں کے سہارے چل رہاہے اوراسے اپنی ضروریات زندگی کو پوراکرنے کے لئے مجبور‘پریشان اورمسائل میں گھرے ہوئے لوگوں کی جیبوں پرڈاکہ ڈالنا پڑتاہے ‘وہ اپنے لئے کیوں کوئی باعزت روزگار کاانتظام نہیں کرتا؟اس کی وجہ میں بتاتاہوں ۔پیروں اور عاملوں کی اکثریت کوئی کام کرہی نہیں سکتی۔ یہ بے چارے توخود بے روزگاری کے ہاتھوں مجبورہوکر اس مذموم دھندے کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایک مقولہ بہت مشہورہے کہ’’عورتوں کا پیرکبھی بھوکا نہیں مرتا۔‘‘اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ عورتوں کو آسانی کے ساتھ بے وقوف بنایاجاسکتاہے۔
    اسلامی ماحول میں اولاد کی تربیت کے فوائد:
    جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان تکلیفوں سے محفوظ رکھاہے ‘بجائے اس کے کہ وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہونے کا انتظار کریں‘ ان کو چاہئے کہ وہ مصائب کاسیلاب آنے سے پہلے بند باندھ لیں اورآپﷺ کی بتائی ہوئی مسنون دعاؤں اورذکر واذکار کے ذریعے قبل ازوقت آنے والے برے وقت سے اپنے دامن کو بچا لیں۔احکام الہٰی کو مسلسل نظرانداز کرنے‘اسلامی طرز زندگی سے بیزاری اورآپﷺ کے بتائے ہوئے طریقے سے روگردانی کی وجہ سے آج اشرف المخلوقات ان گنت مسائل میں مبتلاہے۔ اگر اب بھی کوئی مضبوط ارادہ کرلے اور روزہ مرہ زندگی میں آپﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھے توجادو‘ تعویذات‘نظربد اور جنات کے اثرات سے قبل ازوقت احتیاطی تدابیر کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے۔ جو والدین چاہتے ہیں کہ وہ اور ان کی اولاد حسد کرنے والوں اور شیطانی چالوں کے ذریعے پہنچنے والی پریشانیوں اور نقصانات سے محفوظ رہے‘ انہیں چاہئے کہ وہ خود اور اپنی اولاد کوتمام اسلامی احکامات کاپابند بنائیں۔ جنات کاسایہ‘ نظربد اورجادو کے اثرات سے بچنے کے لئے اسلامی ماحول میں کی گئی اولاد کی تربیت بہت اہم کردار اداکرتی ہے۔
    جہاں اولاد کے لئے والدین کی فرمانبرداری کاسختی کے ساتھ حکم ہے‘ وہاں والدین کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اسلامی احکامات کے مطابق کریں۔ جووالدین اس سلسلہ میں خلوص نیت کے ساتھ اپنا فرض اداکرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی اولاد کوشیطانی وسوسوں اوران سے پہنچنے والے نقصانات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ والدین کافرض ہے کہ جس وقت بچہ بولنا شروع کرے تو سب سے پہلے اسے کلمہ طیبہ سکھایاجائے اورساتھ ساتھ اسے اسلامی آداب اور دینی تعلیم سے روشناس کرایاجائے۔ جب بچہ سات سال کا ہوجائے توپیغمبر آخزالزماںﷺ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اسے نماز کی ترغیب دی جائے۔ جب دس سال کا ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے اور غفلت برتنے پر اس سے سختی کے ساتھ باز پرس کی جائے۔ اس کے علاوہ بچے کی تمام حرکات و سکنات پرنظر رکھنا ماں باپ کے فرائض میں شامل ہے۔ انہیں علم ہوناچاہئے کہ ان کی اولادکاحلقہ احباب کیساہے؟ بچے کو کھلی آزادی اوردین سے دوری اس کے لئے تباہی کا سبب بنتی ہے ۔ جب یہی بچے بڑے ہوجاتے ہیں توجنات اورشیاطین کو انہیں قابوکرنے میں آسانی رہتی ہے۔ ماں باپ کی غفلت‘لاپرواہی اوراسلامی اصولوں سے لاعلمی نہ صرف بچوں کو بے راہ روی کا راستہ اختیار کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جب انہیں زندگی کے کسی موڑ پر کسی حاسدسے پالا پڑتاہے جو ان کو نقصان پہنچانے کے لئے شیطانی ہتھکنڈے استعمال کرتاہے تویہ اس کے توڑ کے لئے عاملوں اور پیروں فقیروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو ان کو غیر شرعی اور شرکیہ عملیات کا راستہ بتاتے ہیں۔
    عملیات کرنے کے عرصے کے دوران میرے علم میں یہ بات آئی کہ جو والدین اپنے بچوں کو طہارت اور پاکیزگی کادرس نہیں دیتے اور آپﷺ نے صبح وشام اورمختلف اوقات کے لئے جو دعائیں بتائی ہیں‘بچوں کو وہ دعائیں یاد نہیں کراتے‘ ان بچوں میں خود اعتمادی کی بہت کمی ہوتی ہے۔ وہ بچے وہم کابہت جلد شکار ہوجاتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات پرڈر جاتے ہیں۔
    میری معلومات کے مطابق جس عامل نے بھی کسی طریقہ سے جنات کو قابو کیاہو ‘اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ حالانکہ عملیات کے میدان میں یہ کوئی بہت بڑا کمال نہیں۔اس قسم کے عاملوں کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لئے جانا جائز نہیں۔ آپﷺ نے سختی کے ساتھ منع فرمایاہے۔ ان لوگوں نے یہ عمل غیر شرعی طریقوں سے حاصل کئے ہوتے ہیں۔ بہت سارے ایسے عامل بھی ہیں کہ جن کے پاس توکچھ نہیں ہوتا لیکن صرف شعبدہ بازی کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے کر اپنے پیٹ کا دوزخ بھررہے ہیں اور لوگوں سے بھاری نذرانے وصول کرتے ہیں۔
    ایک جعلی پرہیزگارعامل کاقصہ:
    یہاں میں آپ کو ایک بہت نیک اور پرہیزگار قاری صاحب کاواقعہ سناتاہوں تاکہ اس قسم کے لوگوں سے آپ لٹنے سے بچ جائیں۔ ان کے چنگل سے نکلنے میں آسانی ہو۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ہمارے گھر کسی نے تعویذ دبائے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہم بہت سی مشکلوں میں گرفتار ہوگئے ہیں۔ ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے میں نے فلاں قاری صاحب کی خدمات حاصل کی ہیں جو بہت نیک اور پرہیزگار ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ جس دن قاری صاحب نے آنا ہو مجھے ضرور بلانا۔ کیونکہ میں شعبدہ بازی کے تمام طریقوں سے واقف تھا۔ اس لئے میں نے سوچا کہ اگرکوئی نوسرباز ہوگا تو اسے پکڑنے میں آسانی رہے گی اور میرا یہ دوست اس کی بھاری فیس سے بچ جائے گا۔
    جس دن قاری صاحب تشریف لائے‘ میں بھی موقع پر پہنچ گیا۔ قاری صاحب کیسے پکڑے گئے اور وہ کیاکمال کرتے تھے ‘اس کی تفصیلات آپ کی تفریح طبع اور علم میں اضافے کا باعث بنیں گی۔
    قاری صاحب کاطریقہ کاریہ تھاکہ جس گھر سے تعویذ نکالنے ہوتے‘ وہ سب سے پہلے اس گھر میں جاتے ہی وضو کرکے دورکعت نفل ادا کرتے اورجائے نماز پربیٹھ جاتے۔ قاری صاحب کے سرپر ایک بڑی دستار اور کندھوںپر چادرہوتی۔ اس چادر کو وہ اس طرح اوڑھتے کہ ان کی پگڑی اس میں چھپ جاتی۔ اس کے بعد وہ عمل کا آغاز کرتے۔ قرآنی آیات کثرت سے پڑھتے۔ تمام گھروالوں کی دوڑیں لگوادیتے کہ فلاں کمرے کے فلاں کونے میں دیکھو۔ کہیں تعویز تونہیں پڑے۔غرض پورے گھر میں بھونچال آجاتا۔ جب کہیں سے تعویذ برآمدنہ ہوتے توآخر میں گھروالوں سے کہتے کہ ان تعویذوں کو موکلات کے ذریعے حاضر کرنا پڑے گا۔ یہ اس طرح نہیں سمجھیں گے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ دورکعت نماز نفل کے لئے کھڑے ہوتے اور اپنی چادر کو اچھی طرح جھاڑتے کہ گھروالوں کو تسلی ہوجائے کہ اس میں کچھ چھپا ہوا نہیں ہے۔ پہلی رکعت میں وہ اپنے جسم اور چہرے کی حرکات وسکنات سے اس قسم کی اداکاری کرتے کہ دیکھنے والوں کو یقین ہوجاتاکہ جیسے سچ مچ کوئی جن حاضر ہورہاہے۔ دوسری رکعت میں وہ اپنے جسم پر شدید قسم کی کپکپی طاری کرلیتے۔ جب وہ آخری سجدے کے بعد سلام پھیرتے توتعویذ خودبخود ان کے اردگرد ہی کہیں زمین پرحاضرہوجاتے۔ یہ تعویز مٹی میں دبائی ہوئی گڑیا کی شکل کے ہوتے اوران میں لوہے کی سوئیاں پیوست ہوتیں۔قاری صاحب سلام پھیرنے کے بعد گھروالوں سے انجان بن کر پوچھتے کہ دیکھیں کہیں تعویذ تونہیں آکر گرے ۔گھروالے فوراً بتاتے کہ قاری صاحب تعویذ وہ سامنے پڑے ہوئے ہیں۔ قاری صاحب ان گڑیا نما تعویذات کو پکڑتے اورگھروالوں سے کہتے کہ میرے موکلات نے بڑی محنت سے انہیں زمین سے نکالاہے۔کسی حاسد نے آپ کو تباہ و برباد کرنے کے لئے چوری چھپے انہیں زمین میں دبادیاتھا۔ آپ جلدی سے کوئی تیزچھری یا بلیڈ لے کرآئیں تاکہ اس کے اندر بھی اگر کچھ رکھاگیاہو تواس کاتوڑ کیاجاسکے۔ جب تیز قسم کے بلیڈ کے ذریعے اس گڑیا نماتعویذ کی چیر پھاڑ کی جاتی تواندر سے قسم ہا قسم کے تعویذ کے تعویذ برآمد ہوتے توقاری صاحب بتاتے کہ یہ تو اب اوورڈیٹ ہو گئے ہیں۔ یعنی ان کی تاریخ ختم ہوگئی ہے۔اگرمیں انہیں بروقت نہ نکالتا توآپ کا بہت نقصان ہوتا۔ اگران کی مدت ختم نہ ہوتی تو ان کا علاج500روپے میں ہوجاناتھا۔مگراب ان کے زہریلے اثرات دور کرنے کے لئے مجھے بہت محنت کرنی پڑے گی۔ اگراپنی سلامتی چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو 2100روپے اداکرنے ہوں گے۔ گھروالے اپنی جان بچانے کے لئے 2100روپے دینے پر آسانی سے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ تمام باتیں اور اس کے علاوہ قاری صاحب کی کرامات کی کافی تفصیل سے مجھے میرے دوست نے آگاہ کیا ہواتھا۔ اس لئے جب قاری صاحب نے میرے دوست کے گھر میں یہی ڈرامہ شروع کیا تو مجھے شک گزرا کہ اصل کمال قاری صاحب کی بلند و بالادستار کرتی ہے جو انہوں نے رعب و دبدبے اور بزرگی کے لئے سرپرباندھی ہوئی ہے۔ ہو نہ ہو وہ گڑیا نماتعویذ اسی میں چھپا کرلاتے ہیں۔ قاری صاحب نے میرے دوست کے گھر میں بھی وہ تعویذنکالنے کے لئے تمام مراحل طے کئے جو اوپربیان ہوئے ہیں۔ جب قاری صاحب اس مقام پر پہنچے کہ تعویذکسی نے زمین میں گہرے دبائے ہوئے ہیں اور انہیں موکلات کے ذریعے حاضر کرنا پڑے گا اورقاری صاحب دورکعت نماز کے لئے کھڑے ہونے لگے تو میں نے آنکھ بچاکر پانی کے نل سے لوہے کا چھوٹا سا زنگ آلود ٹکڑا توڑ کر قاری صاحب کی دستار پر پھینک دیا۔ قاری صاحب چونکے کہ میری دستار پرکیاگراہے۔ میں نے کہا کہ قاری صاحب آپ کی پگڑی پر چھپکلی گری ہے۔ قاری صاحب نے بدحواس ہوکرتیزی سے ادھر ادھر ہاتھ مارا تو ان کی دستارمیں تین گڑیا نما تعویذ جومٹی میں اٹے ہوئے تھے ‘ نیچے گرگئے۔ قاری صاحب نے نہایت چالاکی کے ساتھ ان پر چادر ڈال لی اور قمیض کے نیچے ان کو چھپالیا۔ یہ عمل انہوں نے اتنی تیزی کے ساتھ کیا کہ گھروالوں کو اس کا علم نہ ہوسکا۔ اس کے بعد انہوں نے نفل اداکئے اور ساتھ ساتھ اداکاری کامظاہرہ کیا۔ سلام پھیر نے کے بعد انہوں نے گھروالوں سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ پرکسی نے کوئی تعویذ نہیں کیا۔ آپ کو وہم ہے اس لئے گھبرانے کی بجائے اللہ کاشکراداکریں۔ میں بڑے صبرکے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے گھروالوں کو کہا کہ قاری صاحب نے تعویذ نکال لئے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ آپ کو کیوں نہیں دے رہے۔ اگران کی قمیض کے نیچے سے تین گڑیا نما تعویذ نہ نکلیں تومیں 10ہزار روپے جرمانہ ادا کروں گا۔ گھروالوں کے مجبور کرنے پرقاری صاحب کو اصل حقیقت سے آگاہ کیا توقاری صاحب کہنے لگے کہ گھرآئے ہوئے مہمان کے ساتھ ایساسلوک نہیں کرتے۔ بجائے اس کہ وہ شرمسار ہوتے‘ انہوں نے گلے شکوے شروع کردئیے۔ بہرحال میرا دوست ان کے ہاتھوں لٹنے سے بچ گیا اور قاری صاحب کی بزرگی میں چھپاہوا اصل چہرہ اس کے سامنے آگیا۔ اگرکوئی شخص کسی مسئلہ سے دوچار ہوتو اسے ادھر ادھر بھاگنے کی بجائے خود ہمت سے کام لینا چاہئے اور مددکے لئے صرف اللہ کو پکارے ۔اللہ تعالیٰ بہت غفوررحیم ہے۔
    ٹیلی پیتھی سیکھنے سے انسان پاگل کیوں ہوجاتا ہے؟
    ’’دولت شہرت اور کامیابی کے موضوع پر ڈاکٹرصاحب کے لاجواب ‘حیرت انگیز لیکچرز جو آپ کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ سائنسی ‘ نفسیاتی اور روحانی طریقے سے دولت ‘شہرت اورکامیابی کے خواہشمند سنجیدہ لوگوں کے لئے انمول تحفہ تفصیلات کے لئے جوابی لفافہ ارسال کیجئے۔‘‘
    یہ اس اشتہار کے مضمون کا ایک نمونہ ہے جو اکثر اخبارات میں شائع ہوتاہے۔ جس پر نمایاں حروف میں لکھاہوتاہے کہ ’’جن قابوکیجئے‘‘اس اشتہار میں پرکشش اور دلفریب الفاظ کے ذریعے بے روزگار‘ پریشان حال‘ معصوم اور پوشیدہ صلاحیتیں حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس قسم کے انسٹی ٹیوٹ اوراداروں میں نوجوانوں کو نہایت آسان طریقوں کے ذریعے کامیابی و کامرانی کی منزل تک رسائی کے سنہرے خواب دکھلا کردونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتاہے۔قابل رشک شخصیت بننے اورلامحدود صلاحیتوں کے بے مقصد ‘پرحماقت اور فضول شوق میں مبتلا لوگوں کی کثیر تعداد نہ صرف اپنا قیمتی وقت اور سرمایہ برباد کرتی ہے بلکہ پرلطف زندگی کوخود اپنے ہاتھوں سے مصائب میں مبتلا کرکے سکون اورچین سے محروم ہوجاتے ہیں اور تمام ترکوششوں کے باوجود نتیجہ میں ان کے ہاتھ سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں آتا۔
     
  10. ‏دسمبر 03، 2016 #10
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,884
    موصول شکریہ جات:
    1,163
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    کالے پیلے عامل شرک وبدعت قسط4
    حقیقت یہ ہے کہ ٹیلی پیتھی وغیرہ پراسرار علوم کی ایک قسم ہے۔ حالانکہ اس عمل کوکرنے کے دوران نہ توکوئی شرکیہ کلمات ادا کرنے پڑتے ہیں اور نہ ہی کوئی موکل حاضر ہوتاہے۔ اس کے باوجود اس عمل کوکرنے والے دس فیصد لوگ نا تجربہ کاری یااستاد کی لاپرواہی کے سبب اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں جبکہ 80فیصد کا ذہنی توازن خراب ہوجاتاہے۔ صرف دس فیصد ایسے بدنصیب ہیں جو اس عمل میں کامیابی حاصل کرکے ظاہری نمودو نمائش اورعارضی دنیا وی کامیابی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں لیکن اپنی عاقبت تباہ کردیتے ہیں۔ اکثر لوگوں میں یہ غلطی فہمی پائی جاتی ہے کہ ٹیلی پیتھی علم نفسیات کی ایک شاخ سے تعلق رکھتاہے لیکن میں اپنے تجربہ کی بنا پرکہتاہوں کہ اس عمل کا شمار شیطانی علوم میں توکیا جاسکتاہے لیکن اس کونفسیات کی ایک شاخ قرار دینا صریحاً دھوکا دینے کے مترادف ہے۔اسی طرح ڈاکٹر صاحب نے علوم کے جوفوائد گنوائے ہیں‘ ان کا حقیقت سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے مذموم دھندوں کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں‘ انہیں روز قیامت اللہ کے حضور جواب دہی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ بعض عامل حضرات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے سخت محنت کے ذریعے اس علم(ہپناٹزم وغیرہ) کو حاصل کیاہے۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ان پیشہ ورعاملوں نے اس کا باقاعدہ عمل کیاہوتاہے۔ لیکن عام لوگوں کو سچ بات بتانے کی بجائے حقیقت کے برعکس بے سروپااورجھوٹی معلومات کے ذریعے اصل حقیقت کو ظاہر نہیں کرتے۔ یہ اوروہ تمام عملیات جو عام بازاری کتب میں کثرت کے ساتھ ملتے ہیں‘ کبھی بھول کر ان کتب سے عملیات میں مدد نہیں لینی چاہئے۔
    میں ایک نوسرباز کوجانتاہوں جس کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ اس نے یہ عمل کیاہواتھا۔میرے ایک جاننے والے بھی اس کی کرامت سے متاثرہوکر اس کے گرویدہ ہوئے۔بعدمیں اس کا انجام کیا ہوا‘ اس کی تفصیل وہ خود بیان کرتے ہیں۔
    ’’میرانام شیخ امجدصدیق ہے۔ میرابڑا بھائی جس کی اس وقت عمر31سال ہے‘ اس کو وہم کی بیماری ہوگئی۔ہم تقریباً 8سال سے اس کا علاج کرارہے ہیں۔ اس عرصہ میں علاج کی غرض سے تقریباً30کے قریب دم درود کرنے والوں سے رابطہ کیا۔ ان میں عیسائی‘ پیر‘مولوی‘شیعہ‘سنی‘دیوبندی یعنی ہرجگہ گیاہوں۔ان کے ایک مرتبہ گھرآنے کی فیس200سے500روپے تک بھی ادا کرتا رہاہوں۔ ہرپیرکا علیحدہ طریقۂ علاج اور مختلف تشخیص تھی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود آج بھی میرے بھائی کی حالت ویسے ہی ہے۔ ان تمام لوگوں سے مل کر جو تجربہ مجھے حاصل ہوا ہے‘ اس کی بنا پر میں کہہ سکتاہوں کہ پیشہ ور عاملوں کی اکثریت دھوکہ بازی سے مجبور لوگوں کی جیبوں پرہاتھ صاف کرتی ہے۔مجھے سب سے زیادہ جس بات کا افسوس ہے‘ وہ یہ ہے کہ مہرنواز سے ہماراتعارف انہوں نے کرایاجوہمارے پیرتھے اور ہمارا ساراخاندان ان کا عقیدت مند تھا۔ یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب میرا بڑا بھائی زاہدصدیق گھر کے ماحول سے تنگ آکر ہمارے پیروں کے دربار پر رہنے کے لئے چلا گیاکہ شاید مجھے آرام آجائے۔جب 15دن بعد میں اس کی خبر گیری کے لئے وہاں گیا‘ بھائی کی وہی کیفیت تھی۔ جب میں نے بھائی سے حال احوال دریافت کیا تواس نے بھی کہا کہ مجھے کوئی فرق نہیں
    ـپڑا۔ ابھی ہم باتیں کررہے تھے کہ پیر صاحب کا بھتیجا وہاں آگیا ۔میں نے اس سے درخواست کی کہ کہیں سے اس کاعلاج کرادیں۔ ہم بہت پریشان ہیں۔ وہ مجھے کہنے لگا کہ ایک پیر صاحب میری نظر میں ہیں۔ ایک مرتبہ ہمارے دربار کے درختوں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ہم سب پانی ڈال ڈال کر بے بس ہوگئے لیکن آگ بجھنے کانام نہیں لیتی تھی۔ پھر ہمارے والد صاحب کا ایک مرید جو خو دبھی پیر ہے‘ اس نے اپنے علم کے زور پر اس آگ کو قابوکیا۔آپ کی ملاقات اس سے کراؤں گا۔ اگرآپ کے بھائی پر جنات کا سایہ ہوا تو وہ منٹوں میں تمام جنات نکال دے گا۔ اللہ کی قدرت کہ ہماری گفتگو کے دوران پیر صاحب تشریف لے آئے۔ شاہ صاحب فرمانے لگے کہ لوجی جن کی بات کررہا تھا‘ وہ آگئے۔ اس پیرکانام مہرنواز اور گوجرانوالہ سے اس کا تعلق تھا۔انہوں نے مجھ سے گھر کے حالات دریافت کئے اور بھائی کے متعلق تفصیل سے گفتگو کی۔
    مہرنوازکہنے لگا کہ آپ مجھے اپنے گھرلے جائیں۔ میں پیر صاحب کے بھتیجے ‘پیرمہرنواز اور اپنے بھائی کو ساتھ لے کر گھرآگیا۔ مہر نوازنے ہم سے ایک خالی بوتل منگوائی۔ اس میں سرسوں کا تیل ڈال کر اس کو ترپائی پررکھا اورایک کپڑا اس پر ڈال کر منہ میں کچھ پڑھا اور بوتل غائب کردی۔ ہم سب گھروالے یہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ہمارے دل میں خیال تھاکہ یہ شخص ضرورہمیں پریشانیوںسے نجات دلائے گا۔ ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ وہ بوتل تیزی کے ساتھ اوپر سے نیچے تر پائی پر گری لیکن ٹوٹی نہیں۔ ہم اس سے بہت متاثر ہوئے کہ یہ توعلم میں ہمارے پیروں سے بھی آگے ہے۔ اب ہماری تمام مشکلیں حل ہوجائیں گی۔ مہرنواز نے ہم سے چینی اور سبزالائچی منگوا کر اس پردم کیا اور تیل کی مالش سارے جسم پر کرنے کی تاکید کی اور کہا کہ آپ فکر نہ کریں۔ آپ کا مریض بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔ مگر ایک شرط ہے کہ آپ کو صدقہ دینا پڑے گا۔ اس نے کہا کہ گھر کے غیر شادی شدہ افراد کو نکال کرباقی اہل خانہ کا فی کس ساڑھے 22کلو بکرے کا گوشت صدقہ کرناہے۔ یہ تقریباً رات کا وقت تھا۔ میں نے کہا کہ مہرصاحب اس وقت فوراً اتنا گوشت نہیں ملے گا تووہ کہنے لگا کہ آپ مجھے اتنی رقم میں ادائیگی کریں۔ میں گوشت خرید کر جانوروں کو ڈال دوں گا۔ ہم اس سے اتنا متاثر ہوچکے تھے کہ ہمیں انکار کرنے کی جرأت ہی نہیں ہوئی۔ اس وقت ہمارے اہل خانہ کی تعداد کے حساب سے ساڑھے بائیس کلو گوشت کی قیمت مبلغ16750روپے بنی تومیں نے پیروں کے بھتیجے کو ایک طرف علیحدہ کرکے کہا کہ شاہ صاحب آپ کو ہمارے گھر کے حالات کا علم ہے۔ ہم فوراً اتنی رقم ادانہیں کرسکتے۔توانہوں نے فرمایا کہ دعوے سے کہتاہوں کہ آپ کے بھائی کو آرام آجائے گا۔ آپ میری ضمانت پررقم اداکریں۔ اس وقت گھر میں صرف پانچ ہزار روپے موجود تھے۔ میں نے وہ دے دئیے اور کہا کہ باقی رقم آرام آنے کے بعد اداکردوں گا۔ مہرنواز نے پانچ ہزار روپے اپنے پاس رکھے اورکہنے لگے کہ مجھے معلوم ہے آپ کے حالات ٹھیک نہیں لیکن میں صدقہ کی رقم اکٹھی وصول کرتاہوں۔ میرے والدین نے ہمسایوں سے دوہزار ادھار مانگ کر ان کی خدمت میں پیش کیا اورکہا کہ بس ہمارے پاس یہی کچھ تھا لیکن اس نے وہ رقم قبول کرنے کی بجائے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ آپ کو بھائی کی زندگی عزیز ہے یادولت تومیں نے جوابدیا کہ مہرصاحب جو کچھ ہمارے پاس تھا‘ہم نے آپ کی خدمت میںپیش کردیاتومہر نواز کہنے لگا کہ میرے پاس ایساعلم ہے جس کے ذریعے گھر کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرلیتاہوں۔ تمہارے پاس رقم موجودہے اور تم نے اسے تجوری میں رکھاہواہے۔ اگر تم وہ رقم نہ لے کرآئے تومیں وہاں سے رقم غائب کردوں گا۔ یہ بات سن کر میرارنگ اڑ گیا کیونکہ تجوری میں واقعی رقم موجودتھی۔ میں نے اس ڈر سے کہ کہیں یہ رقم وہاں سے غائب نہ کردے رقم لاکر اس کے حوالے کردی تو مہر نواز خوش ہوکر کہنے لگاکہ امجد تمہارے حالات ٹھیک نہیں۔ تمہیں ایک تحفہ دے کرجاتاہوں۔تم بھی کیایاد کروگے۔ ہمارے گھر میں ایک چھوٹا میزتھا۔ اس نے اس پرہاتھ رکھ کر اوپرکپڑا ڈال کر کچھ پڑھا۔ جب کپڑا ہٹایا تونیچے سوروپے والا انعامی بانڈ موجود تھا۔ اس نے وہ بانڈ مجھے دے دیا اور اس کا نمبرنوٹ کر کے کہنے لگا کہ اسے تم اپنے پاس رکھ لو میں اپنے موکلوں کے ذریعے یہ بانڈ نمبرقرعہ اندازی میں شامل کرادوں گا اورتمہاراکوئی نہ کوئی انعام ضرورنکل آئے گا۔ ہم نے جورقم جمع کی۔ وہ کل8200روپے ہوئے۔جانے سے پہلے مہرنواز نے وہ رقم رومال میں لپیٹ کر اوپر دھاگے کے ساتھ باندھ کر اس کو اسی میز پر رکھ کر اوپر ہاتھ رکھا اور اس پرکپڑا ڈال کر کچھ پڑھا ۔ جب اس نے کپڑا ہٹایا تورقم وہاں سے غائب تھی۔ جب میں نے حیرت سے پوچھا کہ رقم کہاں گئی؟ تووہ کہنے لگا کہ آپ کا صدقہ قبول ہوگیا۔ رقم اوپر پہنچ گئی ہے۔ اب آپ کا بھائی صحت یاب ہوجائے گا۔ مہرنواز نے باقی رقم 8550روپے کے لئے ہمیں سات دن کی مہلت دی۔ مہلت گزرنے کے بعد جناب گھر تشریف لائے اور بتایاکہ آپ کے بھائی کے خون میں کیڑے پڑگئے ہیں۔آپ کے تمام اہل خانہ پر جادو کیا گیاہے اورکاروبار پر بھی بندش لگی ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگے کہ جادو اورکاروبار کی بندش تومیںآج ہی ختم کردوں گالیکن خون کی صفائی دوتین دن بعد آکر کروں گا۔آپ دو تین بوتل خون کا انتظام کر کے رکھیں۔ اس کے بعد اس نے ہم سے ایک بڑی پرات منگوائی۔ ہاتھ کو اس پر ات کے اوپر فضا میں رکھ کر اوپرکپڑاڈالا اور کچھ پڑھا تو پرات میں بہت زور سے کسی کے گرنے کی آواز آئی۔ جب کپڑاہٹایا گیا تو اس میںایک پرانی قسم کازنگ آلود تالا‘ چار عدد کھلونانما کپڑے کی گڑیاں جن میں کامن پنیں لگی ہوئی تھیں اور بوسیدہ مٹی تھی۔ بہرحال اس نے ہمارے سامنے گڑیوں سے پنیں نکال لیں اور کہا کہ آج کے بعد تم جادو سے آزاد ہوگئے ہو۔ اس کے بعد اس نے زنگ آلود تالا کھولا اورکہا کہ کاروبار پربندش بھی ختم کردی ہے۔ ہم اس سے اتنے متاثر ہوچکے تھے کہ وہ جوبات بھی کرتا‘ ہم اسے من وعن تسلیم کرلیتے۔ ان کاموں سے فارغ ہوکر وہ کہنے لگا کہ آپ کا75فیصد کام ہوگیا ہے جبکہ 25فیصد کام دودن بعد آکر کردوں گا۔ ہم نے اسی وقت بقایارقم8550روپے بنتی تھی‘ اپنے پیروں کے بھتیجے کے حوالہ کی جو ان کے ساتھ ہی آیا تھا۔ حامد شاہ صاحب نے وہ رقم گن کر مہرنواز کو پکڑا دی لیکن مہرنواز نے رقم گنے بغیر اپنی جیب میں ڈال لی۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعداس پرکپکپی کی کیفیت طاری ہوگئی۔مہرنواز نے رقم نکال کرگننا شروع کردی اور اس میں سے150روپے مجھے واپس کردئیے کہ یہ رقم آپ نے غلطی سے زائد ادا کردی ہے کیونکہ میرے موکلوں نے مجھے بتایا ہے کہ حرام نہیں کھانا اور ان کی اضافی رقم واپس کردو۔ میں حیران تھا کہ ہم نے دومرتبہ گن کر رقم پوری اداکی ہے لیکن میں نے خاموشی سے150روپے اپنے پاس رکھ لیے۔ اس کے بعد اس نے ہم سے اجازت لی اور جاتے ہوئے وہ گڑیاں ‘تالا اور مٹی اپنی گاڑی میں رکھ لی۔ اس کے پاس پرانے رنگ کی پرانی 14نمبر آسمانی رنگ کی گاڑی تھی اور یہ کہہ کر رخصت ہوا کہ دو دن بعد دوبارہ آؤں گا اور میرے پیروں کو بھی تاکید کی کہ آپ نے اس دن ضرور آنا ہے تاکہ ان کا کام مکمل کرکے ان سے دعائیں لیں۔ میرے پیر صاحب توآگئے لیکن مہرنواز نہ آیا۔مہرنواز جاتے ہوئے مجھے اپنے گھر کا موبائل فون نمبر دے گیاتھا۔ میں نے فون پررابطہ کرنے کی کوشش کی ۔موبائل فون نمبر تو کسی نے اٹینڈ نہیں کیا لیکن گھرکا نمبرمل گیا۔ گھر سے اہلیہ نے جواب دیا کہ مہرصاحب اسلام آباد کسی میجر کاکام کرنے گئے ہیں۔ دودن بعد آپ کے پاس پہنچ جائیں گے۔ جب یہ دودن بھی گزرگئے اوروہ نہ آئے تومیرے دل میں وسوسے پیداہونے شروع ہوگئے کہ اتنی رقم بھی دے دی ہے لیکن بھائی کی صحت بھی ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئی۔ اب پیرصاحب کو ساتھ لے کر گوجرانوالہ اس کے گھر پہنچا۔ہمارے بار بار دستک دینے پر اس کی بیوی باہر آئی اور کہنے لگی کہ مہرصاحب ابھی تک اسلام آباد سے واپس نہیں آئے۔ ہم پیغام دے کر واپس آگئے۔
    اس کے پندرہ دن بعد اس نے فون کیا‘ اپنی مجبوریاں بیان کیں اورپانچ سات دن بعد آنے کا وعدہ کیا۔ جب اس نے مسلسل وعدہ خلافی کی توایک دن میں نے اس کے گھرفون کیا تواس کی بیوی نے فون اٹھایا۔میرے اور اس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ میں نے اسے دھمکی دی کہ اگر مہرنواز نے کام نہیں کرنا تو ہماری رقم واپس کردے ۔نہیں تومیں آپ کے محلے میں آکر معززین کو اکٹھا کروں گا۔ اس کے دوسرے ہی روز مہرنواز کا فون آگیا کہ تم نے میری بیوی کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ اب میں نے آپ کے بھائی کا علاج نہیں کرنا اور نہ ہی رقم واپس کرنی ہے تم جو کرسکتے ہو کرلو۔ یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا۔ وہ شاید اسی بہانے کی تلاش میں تھا۔اب مجھے احساس ہوا کہ ہمارے ساتھ فراڈ ہوگیاہے۔میں نے اپنے پیروں کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا تووہ کہنے لگے کہ چنددن انتظار کر لو۔ اگروہ نہ آئے تو ہمارے آستانے پرآجانا۔ہم تمہارے ساتھ اس کے پاس جائیں گے۔جب چند دن بعد میں دربار پہنچا توانہوں نے بھی ٹال مٹول سے کام لیا۔(بعد میں مجھے مہرنواز نے بتایا کہ تمہارے پیروں نے آدھی رقم کا حصہ وصول کرلیا تھا۔ اس لئے وہ میرے پاس نہیں آسکتے تھے)میں نے دربار کے چکروں سے تنگ آکرخود ہی مہرنواز سے رقم وصول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے اس کے گھر کے بہت چکر لگائے۔ بارہویں چکر میں میرااس کا آمناسامنا ہوگیا۔ اب پہلے والی عقیدت ختم ہوچکی تھی۔ اس نے مجھے صاف کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ میں توبس فراڈ کے ذریعے اپناکام نکالتاہوں۔ اگر میرے پاس جن ہوتے تومیں کشمیر نہ آزادکرالیتا۔ جب اس کی اصلیت کھل کر میرے سامنے آگئی تو میں نے اپنے دوستوں کو اکٹھا کرکے اس کے گھر کے بار بار چکر لگائے۔ جب کسی طرح نہ بنی تو ہم گوجرانوالہ کے ایک سابق ایم این اے کے بھتیجے ضیاء اللہ بٹ کے پاس کسی کی معرفت پہنچے۔ اس کا اپنے علاقے میں کافی اثرو رسوخ تھا۔ وہ ہمارے ساتھ اس کے گھر گئے تومجبوراً مہرنواز نے رقم ادا کرنے کی حامی بھری اور ساتھ کہا کہ میں نے تمہیں ایک پائی بھی واپس نہیں کرنی تھی لیکن اب تم انہیں ساتھ لے کرآئے ہو ۔ تمہاری قسمت اچھی ہے۔ اس کے بعد اس نے قسطوں میں مجھے آدھی رقم اداکی اور آدھی یہ کہہ کر دبالی کہ آدھی رقم کامطالبہ پیروں سے کروں کیونکہ انہوں نے حصہ وصول کیاہے۔ جب میں نے اپنے پیروں سے بقیہ رقم کاتقاضاکیا تو انہوں نے انکار کردیا کہ وہ جھوٹا ہے ۔ہم نے کوئی حصہ وصول نہیں کیا۔ مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے اگر ہمارے پیروں کو یہ علم تھا کہ یہ جھوٹا وار فراڈیاہے تومجھے اس سے آگاہ کرتے۔ میں تواپنے پیروںپراعتماد کرکے لٹ گیا۔
    عامل اور بازاری کتب میں درج ذیل وظائف:
    پراسرارعلوم پر تحقیق کے آغاز کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزراتھا کہ میرے ایک قریبی عزیز نے مجھے بتایا کہ ہم پرکسی نے بہت سخت جادو کررکھاہے جس کی وجہ سے ہم بہت پریشان ہیں۔ اگرہوسکے تواس سلسلہ میں ہمارے ساتھ تعاون کرو۔ ان دنوں نہ توعملیات کے اسرار ورموز سے کچھ آگاہی تھی اور نہ ہی کبھی عملیات کوپرکھنے کا موقع ملا تھا۔ اس لئے اپنے عزیز کے ہمراہ ایک ماہر عامل کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جو میرے جاننے والے تھے اور اپنے کمالات کی وجہ سے کافی شہرت رکھتے تھے۔
    میرے عزیز نے عامل صاحب کوتمام حالات بتائے‘ عامل صاحب نے بہت سوچ بچار کے بعدجادو کے توڑ کا جوعمل بتایا‘ اس کو کرنا میرے عزیز کے بس کی بات نہیں تھی۔مگرعامل صاحب نے یقین دھانی کرائی کہ اگر ان کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کیاجائے توجادو کااثر ختم ہونے کی مکمل ضمانت دیتاہوں۔ یہ ایک مشکل ترین عمل تھا جس میں اکیس دن بلاناغہ نمازفجر سے پہلے ایک تعویز کسی ایسے چوراہے میں جلانا تھا جہاں سے کم ازکم ایک گھنٹہ بعد بھی کسی شخص کاگزر نہ ہو۔ اس احتیاط کامقصد یہ تھا کہ اس تعویز کے اثرات بد میں کوئی دوسرا بلاوجہ مبتلا نہ ہوجائے۔
    اس عمل کی شرط میں یہ بھی شامل تھا کہ جب نمازفجر سے پہلے تعویذجلانے کے لئے گھر سے نکلیں تو نہ ہی راستے میں کسی سے بات کرنی ہے اور نہ ہی کسی کے پکارنے پر پیچھے مڑکردیکھناہے۔ جبکہ عامل نے ساتھ یہ بھی وضاحت کردی کہ اس عمل کوکرنے والا مختلف خطرات سے دوچار بھی ہوسکتاہے۔ مثلاً تعویذ جلانے والے کو جنات ہر طریقے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ اسے جان سے ماردینے کی دھمکیاں بھی برداشت کرناہوں گی اور اگرتعویذ جلانے والا ڈرگیا یا اس نے کسی کے پکارنے پرپیچھے مڑکر دیکھاتو نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے۔
    ہم یہ عمل سن کر چپ چاپ واپس آگئے کہ سوچ کر آپ کو جواب دیں گے۔ میں نے اپنے عزیز سے دریافت کیا کہ کیا ارادہ ہے تووہ کسی صورت اس عمل کو کرنے پر آمادہ نہ ہوئے‘ مجھے اس عمل کو کرنے میں تجسس پیداہوا اور امید کی کرن نظرآئی کہ شاید اس طرح ہی میرے عزیزوں کو پریشانی سے نجات مل جائے۔ میں نے اس کے لئے کوئی دوسرا متبادل راستہ تلاش کرنے کافیصلہ کیا ۔اس کے لئے عامل صاحب سے رابطہ کیا گیا اور ان سے درخواست کی کہ اگر کسی دوسرے شخص کے ذریعے اس عمل کو کرایا جائے تواس میں کوئی حرج تونہیں۔ اس پر عامل نے فرمایا کہ جادووالے گھر کے افراد کے علاوہ اگر کوئی دوسرا شخص ان کے لئے یہ عمل کرنا چاہے تواس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تعویذ کوان کے گھر سے لے کرجائے اور چوراہے میں جلانا تھا جہاں سے کم ازکم ایک گھنٹہ بعد بھی کسی شخص کاگزر نہ ہو۔ اس احتیاط کامقصد یہ تھا کہ اس تعویز کے اثرات بد میں کوئی دوسرا بلاوجہ مبتلا نہ ہوجائے۔
    اس عمل کی شرط میں یہ بھی شامل تھا کہ جب نمازفجر سے پہلے تعویذجلانے کے لئے گھر سے نکلیں تو نہ ہی راستے میں کسی سے بات کرنی ہے اور نہ ہی کسی کے پکارنے پر پیچھے مڑکردیکھناہے۔ جبکہ عامل نے ساتھ یہ بھی وضاحت کردی کہ اس عمل کوکرنے والا مختلف خطرات سے دوچار بھی ہوسکتاہے۔ مثلاً تعویذ جلانے والے کو جنات ہر طریقے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ اسے جان سے ماردینے کی دھمکیاں بھی برداشت کرناہوں گی اور اگرتعویذ جلانے والا ڈرگیا یا اس نے کسی کے پکارنے پرپیچھے مڑکر دیکھاتو نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے۔
    ہم یہ عمل سن کر چپ چاپ واپس آگئے کہ سوچ کر آپ کو جواب دیں گے۔ میں نے اپنے عزیز سے دریافت کیا کہ کیا ارادہ ہے تووہ کسی صورت اس عمل کو کرنے پر آمادہ نہ ہوئے‘ مجھے اس عمل کو کرنے میں تجسس پیداہوا اور امید کی کرن نظرآئی کہ شاید اس طرح ہی میرے عزیزوں کو پریشانی سے نجات مل جائے۔ میں نے اس کے لئے کوئی دوسرا متبادل راستہ تلاش کرنے کافیصلہ کیا ۔اس کے لئے عامل صاحب سے رابطہ کیا گیا اور ان سے درخواست کی کہ اگر کسی دوسرے شخص کے ذریعے اس عمل کو کرایا جائے تواس میں کوئی حرج تونہیں۔ اس پر عامل نے فرمایا کہ جادووالے گھر کے افراد کے علاوہ اگر کوئی دوسرا شخص ان کے لئے یہ عمل کرنا چاہے تواس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تعویذ کوان کے گھر سے لے کرجائے اور چوراہے میں جلانے کے بعد دوبارہ ان کے گھر کی دہلیزتک واپس آئے توعمل میں کامیابی ہوسکتی ہے۔
    اس اجازت کے بعد میں نے اپنے ایک قریبی دوست محمدخان صاحب سے اس پریشانی کا ذکر کیا تو انہوں نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ چاہے جو بھی ہو‘ میں ان شاء اللہ کام کو ضرور کروں گا۔ حالانکہ میں نے انہیں تمام خطرات سے آگاہ کردیا جو اس عمل کوکرنے کے دوران پیش آسکتے تھے۔ مگرانہوں نے کمال مہربانی کامظاہرہ کرتے ہوئے اس ذمہ داری کو اداکرنے کی حامی بھرلی۔ خان صاحب کی ہاں سے ہمارا یہ مسئلہ توحل ہوگیا کہ ہماری جگہ وہ قربانی دیں گے مگرجادو ٹونہ کے علاج کے لئے مذکورہ عمل ہمارے لئے کسی آزمائش سے کم نہ تھا کیونکہ فجر کی نماز سے پہلے منہ اندھیرے کسی اجنبی شخص کا بلاناغہ کسی کے گھرجاکرتعویذ وصول کرنا اور پھر دوبارہ واپس بھی آنا نہ صرف جگ ہنسائی کاباعث بن سکتا تھا بلکہ اہل محلہ کے ذہنوں میں کئی قسم کے خدشات کوجنم دے سکتاتھا۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا‘ کے مصداق اس ناگوار طریقہ علاج کو اس لئے اختیار کرنے پر آمادہ ہونا پڑا کہ شاید اسی طرح جادو کے اثرات سے جان چھوٹ جائے۔
    بالآخر عامل صاحب کو بتادیاگیا کہ فلاں شخص اس عمل کو کرنے پرتیار ہے۔لہٰذا مہربانی فرماکرتعویذ لکھ کرعنایت فرمادیں تاکہ عمل کاباقاعدہ آغاز کیاجاسکے۔عامل صاحب نے اس عمل کوشروع کرنے سے پہلے خان صاحب کوناصحانہ انداز میں ڈرایا کہ تم خواہ مخواہ کیوں
    اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہو‘ مگر شکرہے اللہ تعالیٰ نے انہیں استقامت عطافرمائی اور وہ اپنے وعدے پرمضبوطی سے قائم رہے۔ مجبوراً عامل صاحب کو تعویذ لکھ کردینے ہی پڑے۔
    جس سال یہ واقعہ پیش آیا‘ ان دنوں سخت سردی کا موسم تھا۔ خان صاحب کاگھرمیرے عزیز کے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور جوچوراہا شہر سے باہر تعویذ جلانے کے لئے منتخب کیا گیا تھا‘وہ مزید ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔
    اللہ اللہ کرکے عمل کاآغاز ہوا۔اب خان صاحب کامعمول یہ تھا کہ فجرکی نماز سے ایک گھنٹہ پہلے وہ اپنے گھر والوں سے چوری چھپے سائیکل پر سوار ہوکر میرے عزیز کے گھر پہنچے۔ وہاں سے تعویذ وصول کرکے شہر سے ایک کلومیٹر دور مخصوص چوراہے پر جاکر تعویذ جلاتے اور دوبارہ واپس عزیزوں کے گھر کی دہلیزپرپہنچ کر اپناعمل مکمل کرتے۔ پھراپنے گھرجاتے۔جب خان صاحب پہلے دن تعویذ جلانے کے لئے گئے تو ہم سب بہت پریشان تھے کہ نہ جانے کیاہو جائے۔ لہٰذا سب نے ان کی کامیابی کے لئے بہت دعائیں کیں مگر ان کے ساتھ کوئی ایساواقعہ پیش نہ آیا جس کی عامل صاحب نے قبل ازوقت پیش گوئی کی تھی۔ اسی طرح اکیس دن بخیروعافیت گزرگئے۔ میرے اس عظیم دوست نے اپنی جان پر کھیل کر اکیس دن بہت سخت ذمہ داری نبھائی کہ جس کی ہم کسی سے توقع نہیں کرسکتے تھے۔ بلکہ ہم خود بھی اس عمل کو بلا ناغہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ۔بہرحال اس عمل کومکمل کرنے کے دوران ہم نے عامل صاحب کی بتائی ہوئی تمام شرائط پرسختی کے ساتھ عمل کیا۔ یہاں تک کہ خان صاحب نے فجر سے پہلے کے جن راستوں سے گزرناتھا‘وہاں پرتعینات تمام چوکیداروں کو قبل ازوقت آگاہ کردیا تھا کہ انہیں کسی نے پیچھے سے آواز نہیں دینی۔ اس احتیاط کا مقصد بھی یہی تھاکہ عمل کرنے میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔
    جب اکیس دن مکمل ہوگئے تو اس کے بعد جو نتیجہ نکلا ‘وہ بالکل صفر تھا کیونکہ جادو کامعاملہ جوں کا توں رہا اوربجائے افاقہ ہونے کے مرض شدت اختیار کرگیا۔ ہم سب کو اس واقعہ سے شدیدصدمہ ہواکہ ہماری تمام محنت رائیگاں گئی۔ جب عامل صاحب سے کہاگیا کہ جناب آخر کیاوجہ ہے کہ آپ کے بتائے ہوئے طریقہ پرعمل کرنے کے باوجود کسی قسم کاکوئی فائدہ نہیں ہوا تو وہ کہنے لگے کہ جادو کا یہ وار میرے اندازے سے بھی سخت نکلا۔ اس کے لئے مزیدمحنت درکار ہے مگر ہم نے دوبارہ ان کی خدمات حاصل کرنے سے توبہ کرلی۔
    درحقیقت عامل صاحب نے جواتنا مشکل عمل بتایا تھا‘ ان کو معلوم تھا کہ میرے عزیز اس عمل کو کرنے کی ہمت نہیں رکھتے اور کوئی دوسرا شخص کسی کی خاطر اتنی بڑی قربانی دینے کے لئے کبھی بھی تیار نہ ہوگا۔اس طرح میری قابلیت کابھرم رہ جائے گا اور میں کہہ سکوں گا کہ میں نے توبہت مجرب عمل بتایا تھا لیکن آپ ہی سے کچھ نہ ہوسکا۔ غیر متوقع طورپر وہ خود آزمائش کے شکنجے میں آگئے ‘ورنہ ہوسکتاتھا کہ میں ان کے معتبر ہونے کا یقین کر بیٹھتا ۔کسی نے صحیح کہاہے کہ ضرورت منددیوانہ ہوتاہے ۔وگرنہ شاید میں کبھی بھی اس کربناک عمل کرنے میں دلچسپی کااظہار نہ کرتا۔
    جس طرح اس قسم کے عاملوں کی غلط رہنمائی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا‘ اسی طرح عملیات کے موضوع پر دستیاب کتب جو بازار میں باآسانی مل جاتی ہیں‘ ان میں درج ذیل عملیات کے عجیب وغریب خواص اور وظائف کے فوائد پرمشتمل دعوے محض جھوٹ کا پلندہ ہوتے ہیں ۔شائقین کے جذبات کی تسکین اوران کی آرزوؤں کی تکمیل کے لئے ہرکتاب کامصنف یہ دعویٰ کرتاہے کہ وہ انسانیت کی بھلائی کی خاطر اتنے نادرو نایاب عملیات کو منظر عام پر لارہاہے۔ وگرنہ وہ انہیں سنبھال کررکھتا اورکسی کو ان کی ہوانہ لگنے دیتا۔
    ان بازاری کتب میں درج وظائف پربلا تحقیق آنکھیں بند کرکے عمل شروع کردینا اسی طرح گھاٹے کا سودا ہے اور بے سود اور وقت کا ضیاع ہے۔ جس طرح اوپرعامل صاحب کے واقعہ کے نکلنے والے نتائج صفررہے۔بازاری کتب جن میں بہت سے نامور مصنفین کی کتب بھی شامل ہیں انہوں نے بعض وظائف کوپرانی کتابوں سے نقل کرکے پیش کردیاہے۔ ان میں اکثر وظائف قاتل ایمان اورشرک کے زہرسے آلودہ ہیںجو خلق الہٰی کی راہنمائی کی بجائے انہیں گمراہ کرنے کافریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ جادو اور ٹونے کے علاج پر مشتمل وظائف وعملیات پردسترس حاصل کرنے کے لئے ڈھیروں کتب کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچاہوں کہ عام قاری کو ان سے فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہی پہنچتاہے۔ سوائے ان چند ایک کتابوں کے جن میں مسنون وظائف بیان کئے گئے ہیں۔جو لوگ عملیات سیکھنے‘ کرنے کے خواہش مند ہیں‘ مسنون وظائف کے ذخیرے میں ان کی راہنمائی کابیش بہا خزانہ موجود ہے۔ اس سے استفادہ کرنا سب سے نفع بخش سوداہے جس کوکرنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لینا چاہئے۔
    حال ہی میں اردو عربی کتب کا ترجمہ نظر سے گزرا‘ ان کتب میں درج وظائف کو بہت دل کش انداز میں اس گارنٹی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ کرنے والے کو سوفیصد کامیابی حاصل ہوگی۔ میں نے ان کتابوں پرشرعی نقطہ نظر سے تبصرہ کی خاطر مولانا حنیف یزدانی صاحب سے رجوع کیاتوانہوں نے عملیات کی ان کتابوں کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا
    رمل‘جعفر‘ مسمریزم‘ کہانت اورنجوم‘دست شناسی وغیرہ یہ سحر ہی کی شاخیں ہیں۔قرآن وحدیث کی روسے سحر کفرہے اور ساحر کافر ہے اورساحر کی سزا شریعت اسلامیہ میں قتل ہے کیوں کہ اس کے جادو سے کسی کے ہلاک ہونے کاامکان ہوتاہے۔
    سورج‘چاند اورستارے کارخانہ کائنات کے کل پرزے ضرور ہیں۔ یہ سب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مخلوقات ہیں اور اس کے حکم کی پابند ہیں۔ انسان مخدوم ہے اور یہ چیزیں خادم ہیں۔ معبودو مختار یا متصرف فی الکائنات نہیں جیسا کہ اقبال نے بھی فرمایا
    ستارہ کیا تری تقدیر کی خبردے گا
    وہ خود فراخیٔ افلاک میں ہے خوار و زبوں
    اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کاخالق ‘مالک ‘رازق اور حقیقی بادشاہ ہے۔ وہ ہرچیز پرقادر ہے اور جوچاہتاہے کرتاہے۔
    کچھ عرصہ پہلے مشہور عرب مصنف عبدالفتاح السید الطوانی کی تالیفات السحر العجیب فی جلب الحبیب اورالسحر الاحمر کا اردو ترجمہ دیکھنے کا موقع ملا۔دشمنی کے لئے‘ پاگل بنانے کے لئے‘ قتل کرنے کے لئے‘ محبت کے لئے ‘تصریفات نظرسے گزریں۔ پھرزلزلہ کی دعوت‘ ابیس کی دعوت۔ یہ الفاظ قابل غور ہیں۔
    توکل یا ابلیس یا ابامرہ انت والموانک وخدامل ولا تکن من الساجدین لادم
    وہ ابلیس جس نے اللہ کاحکم نہ مانا اور آدم کو سجدہ نہ کیا اور ہمیشہ کے لئے مردود قرار دیاگیا‘ وہ ملعون ہے اورجہنمی ہے اور اولاد آدم کاازلی دشمن ہے۔ اس عربی عبارت میں اسے کہاجارہاہے کہ یہ کام کرو ورنہ آدم کوسجدہ کرناپڑے گا۔ہوا کی عزیمت‘مٹی کی عزیمت ‘ پانی کی عزیمت ‘ہوائی‘ ناری‘ خاکی اورمائی ملوک کی دعوت اورکتنے ظلم کی بات ہے کہ سحر جسے قرآن کفرکہتاہے‘ان سحر یہ کتب میں قرآنی آیات اوردرود شریف درج ہے اوراس طرح ان مقدس الفاظ کو سحر کے ناپاک الفاظ کے ساتھ خط ملط کیاگیاہے۔
    ہم متعدد بار یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ مافوق الاسباب امور میں امداد نہ فرشتوں سے نہ جنوں سے اور نہ انسانوں سے مانگی جاسکتی ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے امدادطلب کی جاسکتی ہے۔
    ایاک نعبدوایاک نستعین سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔
    بحق فلاں کے ساتھ بحق الشمس وشفابھاوالزھرۃ وضیانھا ایک وظیفہ ملاحظہ فرمائیے جوکھلی شرک کی دعوت پرمبنی ہے۔
    ہم یہ چاہتے ہیں کہ عوام و خواص سحرو نجوم پرمبنی شرکیہ اورادو وظائف سے اجتناب کریں جو ان بازاری کتابوں میں الفاظ کے ہیر پھیر سے ترتیب دئیے گئے ہیں۔ کسی مسلمان کو اپنے ایمان کو محفوظ رکھنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ مسنون وظائف اور اوپر اکتفا کیاجائے کیونکہ کسی بھی انسان کے پاس سب سے بڑی دولت توایمان ہے۔اگر ایمان نہ رہا تو اس کے پاس پھر کیا رہا۔جس نے شیطان کاراستہ اختیار کیا‘ وہ دنیا و آخرت دونوں میں نقصان اٹھائے گا۔ اس کی دنیا بھی برباداور آخرت بھی برباد۔میرے دیکھنے میں ایسے جادوگر آئے ہیں جنہیں پریشانیوں اور مصیبتوں کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔
    وہ لوگ جنہوں نے جنات کو نکالنے کے لئے روحانی وظائف کی آڑ میں شرکیہ وظائف کرنے کی ترغیب دی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک بحق انبیاء و اولیاء کے ساتھ ساتھ بحق ابلیس ‘فرعون ‘شداداور نمرود بھی کہنا اورلکھنا درست ہے۔
    786
    334
    329
    334
    331
    333
    335
    332
    337
    330
    ابلیس‘ فرعون‘شداد‘لعین‘نمرود‘مردود
    یا الہٰی بحرمت آں بادشاہ
    در وجود فلاں این فلاں را
    ہر قسم آسیب و شیطان کہ باشد
    حاضر شود نمودہ آیدہ سوختہ گردر
    المعجل المعجل الساعہ ولوحا
    میں تو ان عاملان کرام اور پیران عظام کے بارے میں علامہ اقبال کی اس رائے سے اتفاق کرتاہوں جس میں انہوں نے اپنے خیالات کااظہار فرماتے ہوئے کہا تھا کہ
    مسند میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
    زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں