1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کامیاب عورت

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏جولائی 20، 2013۔

  1. ‏جولائی 24، 2013 #11
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    ارسلان بھائی لمبے اقتباسات پر یاد دہانی۔ ابتسامہ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 25، 2013 #12
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اوہ۔ معذرت شاکر بھائی! ایک بار پھر بھول گیا۔ یاد دہانی کا شکریہ
     
  3. ‏جولائی 25، 2013 #13
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    کونسی باتَََ؟؟؟
     
  4. ‏جولائی 25، 2013 #14
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    شاکر بھائی نے ایک بار کہا تھا کہ کسی کی پوسٹ میں زیادہ مواد ہو تو اس کا اقتباس لیتے وقت ٹیکسٹ کو ختم کر دیا جائے، میں نے گڈمسلم صاحب کی پوسٹس کا انجانے میں پھر اقتباس لے لیا، بس اُسی بات کی یاد دہانی کروائی، اس بات کا آپ کے تھریڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے، پریشان نہ ہوں۔شکریہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 25، 2013 #15
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    ابتسامہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 25، 2013 #16
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    یورپ میں سائنس اور کلیساء کے درمیان طویل تاریخی تصادم کے بعد لوگوں کےاندر مذہب کے خلاف نفرت پیدا ہوچکی تھی صہونی یہودی نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور ایسے فلسفے پیش کرنے شروع کردیے جن میں مذہبی اقدار اور تعلیمات ختم کرکے لادین و لامذہبی روایات کو معاشرے کی بنیاد بنانے کی کوشش کی گئی۔
    دوسری طرف حالات ایسے بن چکے تھے کہ ان ملحدانہ نظریات کو اپنی ترویج میں کوئی خاص دقت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ ایک طرف تو کلیساء کی بے جا سختیوں کی وجہ سے مذہب بیزاری کا رجحان تقویت پاچکا تھا دوسری طرف صنعت و حرفت کا نظام بھی معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکا تھا۔
    یورپ کی اس تاریک ترین تاریخ کا تیسرا کردار جاگیردارانہ نظام تھا۔جس میں صورت حال یہ تھی کہ ایک ہی زمین میں ایک ہی مالک کے ماتحت لوگ نسل بعد نسل کام کرتے تھے۔اور یہ لوگ جاگیردار کی ملکیت ہوا کرتے تھے۔جب وہ زمین فروخت کرتا تو ان کی قیمت بھی ساتھ لگائی جاتی۔
    ایسے حالات میں جب کلیسائی اور جاگیرداری نظام ختم ہوا تو لوگوں کوجہاں بےدینی کی فضاء میں سانس لینے کا موقع ملا وہاں نقل مکانی کا حق بھی ملا۔چناچہ لوگ کام کی تلاش میں گروہ در گروہ شہروں کی طرف ہجرت کرکے آنے لگے۔ شہر میں کچھ دن آرام کی گزرے پھر مہنگائی، تنحواہوں کی کمی، ڈیوٹی ٹائم میں اضافے اور جاب نہ ملنے جیسے خوف ناک مسائل پیدا ہونے لگٰے۔ہڑتالوں کاسلسلہ شروع ہوا سرمایہ داروں اور فیکٹری مالکان نے مزدوروں کے سامنے سرنڈر کرنے کی بجائے نصف اجرت پر عورتوں کو کام پر لگا لیا۔وقت گزرنے کے ساتھ مزدور ہتھیار پھینک دیا کرتے۔اور پہلے سے بھی سخت شرائط پر کام پہ لگ جاتے۔اس کے بعد اگر عورت پھر کام کے لئے آتی تو اسے نصف اجرت پہ رکھا جاتا۔ یہ سلسلہ ایک وقت تک چلتا رہا۔پھر وقت آیا کہ عورتوں نے بھی ہڑتالیں شروع کردیں اور مطالبہ کیا کہ جب کام ایک جیسا ہے تو پھر اجرت میں کمی کیوں کی جاتی ہے چناچہ یہ ناقابل تر داشت ہے۔یہ تحریک ایک عرصہ تک چلتی رہی آخر کار مطالبات تسلیم کرلئے گئے۔ پھر اس تحریک نے ایک نیاموڑ لیا یا کسی خفیہ ہاتھ(یہود) نے اسے اس طرف موڑ دیا اور سیاست میں بھی برابری کا مطالبہ کیاجانے لگا۔ اس طرح کر کے زندگی کے ہر شعبہ میں قدم بقدم یہ تحریک موڑ لیتی رہی یا اسے موڑا گیا۔جب فیکٹریوں،سیاست کے ایوانوں، تعلیمی درسگاہوں، کھیل کے میدانوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں عورت مساوات کا مطالبہ کرتے ہوئے مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ آملی تو اختلاط کے مواقع بڑھ گئے اور اوپر سے مذہب بھی رخصت ہو چکا تھا جس کی وجہ سے بےحیائی نے فروغ پایا۔اور مذہبی و دینی اقدار کو ایک ایک کر کے نیست و نابود کیا گیا۔ایسےہی امور خانہ داری یا گھر کی ذمہ داری کا مسلہ تھا جس میں سوچ پروان چڑھائی گئی کہ مذہب جو عورت کو گھر بیٹھنے کی تلقین کرتا ہے اس میں عورت شعوری طور پر گھٹن کا شکار ہوجاتی ہے۔وہ مرد کے رحم کرم پر ہوتی ہے۔جس وجہ سے اسے کئی قسم کے ظلم وستم کانشانہ بننا پڑھتا ہے۔لہذا اپنا روز گار تلاش کرو۔چناچہ جب عورت کام کی غرض سے گھر سے نکلی تو بچوں کی پرورش کا مسلہ پیدا ہوا اس کے لئے پھر چائلڈ ہاؤس یا نرسری جیسے ادارے کھولے گئے۔المختصر یہ ایک لمبی تاریخ ہے اللہ نے وقت دیا تو اس پر ایک مسلسل کتاب لکھوں گا۔ ان شاءاللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 14، 2013 #17
    sadia

    sadia رکن
    جگہ:
    KHANEWAL
    شمولیت:
    ‏جون 18، 2013
    پیغامات:
    283
    موصول شکریہ جات:
    545
    تمغے کے پوائنٹ:
    98

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں