1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تجویز کاپی رائیٹس اور مصنفین سے اجازت مصنفین سے اجازت لے کر کتابین اپلوڈ کرین

'تجاویز، آراء اور شکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از Abdul Haseeb, ‏اگست 29، 2016۔

  1. ‏اگست 27، 2017 #11
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ’ حقوق محفوظ ہیں ‘ اور ’ پی ڈی ایف کتب کی تیاری ‘ پر ایک مختصر مباحثہ

    علما کے ایک گروپ میں اس مسئلہ پر مختصر تبادلہ خیال ہوا ، اہم اہم میسیجز یہاں نقل کرتا ہوں ، بحت کی ابتدا یہاں سے ہوئی :
    علمائے امت و فقیہان ملت ایک سوال هے !
    پبلشر یا اہل کتاب کی اجازت کے بغیر کتاب کی پی ڈی ایف تیار کرنا اور اس کو اپ لوڈ کرنا جائز هے؟
    عمر فاروق قدوسی صاحب
    اس سوال کے جواب میں کچھ اہل علم نے ’ ناجائز ‘ کا فتوی دیا بلکہ کہا کہ یہ ’ اخلاقی و قانونی جرم ‘ ہے ، جس پر ہشام الہی ظہیر صاحب نے لکھا :
    ’ یہ تو چلو زندہ مصنفین یا زندہ وارثین کی حد تک ہو گیا جو کتب اب امت کا سرمایہ ہیں ایک مکتبہ چھاپے تو کیا صرف وہی حق رکھتا؟ میری رائے میں کتاب کی پی ڈی ایف بنانا درست ہے زندہ والوں کے لیے بھی کیوں کہ اس سے کتاب کی اشاعت میں رتی برابر فرق نہیں آتا بلکہ شاید اضافہ ہوتا پی ڈی ایف اور کتب کے قارئین فرق ہیں۔ ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی صاحب کتاب کتاب خریدنے والے کو فوٹو کاپی کروانے یا مستعار دینے پر پابندی لگائے۔
    ہر کتاب کا پی ڈی ایف میں ہونا اب ضروری ہے ،
    جس پر عمر قدوسی صاحب نے کہا کہ پی ڈی ایف بن جانے سے اشاعت میں فرق آتا ہے ، جس پر ہشام صاحب دوبارہ گویا ہوئے :
    ’ اشاعت بڑھتی ہوگی ، کتاب کے قارئین پی ڈی ایف سے حظ نہیں اٹھاتے میرا تو مشاہدہ ہے ، بعض کتب میں نے خریدی ہی پی ڈی ایف پر سرسری مطالعہ کر کے ہیں ۔
    پی ڈی ایف تو بعض اوقات نیکی کا کام لگتا جب میں مدارس کے ان طلباء کو دیکھتا ہوں جن میں کتاب خریدنے کی استطاعت نہیں ہوتی ہے اب سینکڑوں کتابیں موبائل میں لیے پھرتے ہیں۔‘
    قدوسی صاحب کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایف دیکھ کر لوگ کتاب خریدتے ہوں ، ایسے بهی ہوتا هے لیکن ایسے کسٹمر نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
    ڈاکٹر حسن مدنی صاحب کا کہنا تھا :
    ’ شرع میں کتمان علم ناجائز ہے ،کاروبار کی بجائے اشاعت دین کی غرض سے دینی کتب کی اشاعت کے لئے پی ڈی ایف جائز ہے۔
    یہی فتوی ہے سعودی عالم ربانی شیخ ابن عثیمین رح اور شیخ ابن باز رحمہم اللہ کا۔
    دراصل دینی لٹریچر کے اصل حقوق الطبع اللہ ورسولہ کے نام ہیں جن پر کچھ کام کرکے اس دینی علم کو مادی مقاصد کے لئے محدود کرلینا جائز نہیں۔ ائمہ محدثین وعلما نے یہ کتب خالصتا فروغ علم دین کے لئے لکھیں اور ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ ہے۔
    تاہم ناشران کتب کی شائع کردہ کتب کی پی ڈی ایف مادی مقاصد کے لئے بنانا ناجائز ہے۔
    فتوی کا متن برادر مکرم حافظ حمزہ مدنی حفظہ اللہ ارسال فرما دیں۔ جزاك الله خيراً ۔‘
    ڈاکٹر حمزہ مدنی صاحب نے مزید فرمایا :
    ’ گزشتہ 14 صدیوں کے علماء وآئمہ کی رقم کردہ تمام دینی وتحریری کاوشوں کے حقوق کس کے پاس محفوظ ھیں؟
    یہ حقوق طبع کا نظریہ اصلا اھل مغرب کا عطا کردہ ھے جنہوں نے خود مسلمانوں کے سارے علمی ورثہ اور ایجادات کو مفت کا مال سمجھ کر پہلے ھتھیا لیا اور پھر ان کے حقوق کے مالک بن بیٹھے جبکہ مسلمان علم کے فروغ دینے کے علمبردار ھیں اور اسے الہی مقدس امانت سمجھتے ھیں جو کسی کی جاگیر وجائیداد قطعا نہیں ۔
    المختصر اشاعت دین کیلیے پی ڈی ایف ودیگر کام جائز، لیکن مادی منفعت کیلیے پی ڈی ایف بنانا اس کا مادی استعمال ناجائز ھے
    شیخ بن باز وابن العثیمین رحمہما اللہ کے یہی فتاوے ھیں جن کی عربی نص ارسال کرتا ھوں، ان شاء اللہ ‘
    اس کے بعد انہوں نے ’ حقوق محفوظ ہیں ؟ ‘ کے عنوان سے ایک تحریر بھیجی ، اور اسی طرح حقوق الاختراع و التالیف نامی ایک کتاب کے چند اوراق ارسال کیے ، جن میں شیخ ابن باز اور ابن عثیمین وغیرہم کے فتاوی موجود تھے ۔
    حمزہ مدنی صاحب کی رائے سے قدوسی صاحب نے عدم اتفاق کا اظہار کیا ، جبکہ گروپ کے ایک رکن سلمان صاحب حقوق تالیف ایک مغربی قانون کے تناظر میں کہا :
    ’ دو پہلو اور بھی زیر غور ہیں. ایک تو انتظامی یا ملکی قوانین کی خلاف ورزی جائز نہیں. دوسرا اگر جنیوا کنونشن یعنی غلاموں والے معاملہ کی پاسداری ہو سکتی ہے تو اس بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر بھی سوچنا چاہیے ‘
    شاید یہ کہنا چاہتے ہیں ، یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ اور اصول ہے ، جس طرح اور بہت سارے قوانین کی پابندی کرتے ہیں ، کتب کے حقوق کے متعلق بھی ان کا التزام کرنا چاہیے ۔
    لیکن ڈاکٹر حسن مدنی صاحب نے کہا کہ ’ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق ‘ یعنی دین کی نشر و اشاعت پر کسی وضعی قانون سے پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔
    لیکن سلمان صاحب کا کہنا تھا کہ ’ شرع نے کہیں بھی صریحا IPR اور اشاعتی حقوق کی نفی نہیں کی. یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے . اس کو شرع کی مخالفت کہنا زیادتی ہو گا. البتہ ملکی اور بین الاقوامی قانون کی مخالفت ضرور ہے اگر آپ اس کی پاسداری نہ کریں ‘
    انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ محدثین بعض دفعہ اپنے شاگردوں کو روایت کرنے سے منع کردیتے ہیں ، گویا اس بات کی دلیل ہے کہ دین کی نشر و اشاعت کے کسی ذریعہ پر پابندی لگائی جاسکتی ہے ، لیکن اس میں بھی دیگر اہل علم نے یہ وضاحت فرمائی کہ اس مسئلہ میں کچھ تفصیل ہے لیکن صحیح موقف یہی ہے کہ استاد کے منع کے باوجود روایت کرنا جائز ہے ۔
    شفقت الرحمن مغل صاحب نے دو اہم باتیں کہیں ، ایک تو ناشر کا حق کسی صورت تلف نہیں ہونا چاہیے ، دوسرا ناشر کو بھی صرف استحقاق تک محدود رہنا چاہیے ، اگر کتاب کی نشر و اشاعت سے خرچ کے بعد مناسب منافع حاصل ہوجائے تو خود ہی پی ڈی ایف نشر کردینی چاہیے ، اسی طرح انہوں نے پی ڈی ایف سے ناشر کے منافع کی ایک صورت یہ بھی بتائی کہ جس طرح آن لائن اخبارات والے اشتہارات کے ذریعے کماتے ہیں ، پی ڈی ایف کے آخر میں بھی اشتہارات دیے جاسکتے ہیں ، البتہ اس پر محترم اعجاز صاحب کا کہنا تھا کہ یہ عملی طور ممکن نہیں ۔
    علامہ ابتسام الہی ظہیر صاحب کا فرمان تھا کہ ’جسطرح مجلد کتابوں کی چوری منع ھے.اسی طرح زندہ مصنف اور ناشر,کی مرضی کے بغیر مواد کی آن لائن چوری بھی منع ھے ۔‘
    ڈاکٹر حمزہ مدنی صاحب نے مزید ایک تحریر ارسال کی :
    ’ کچھ اھم پہلو مزید، جوزیربحث مسئلہ سے ھی متعلق ھیں:
    1. یہاں تو سوال صرف پی ڈی ایف کا اٹھایا گیا ھے جبکہ جو لوگ مکتبہ شاملہ استعمال کرتے ھیں ،،، وہ جانتے ھیں کہ اس میں کتاب کی پوری ٹائپنگ تک موجود ھوتی ھے،تو سب لوگ اسے جائز سمجھ کر استعمال کرتے ھیں تو کیا بھی منع کے حکم میں شامل ھوگا
    2. اسی طرح بڑے بڑے انٹرنیشنل سوفٹ ویئرز پر مکتبے ھیں جیسے موسوعہ وقفیہ اور مشکوۃ وغیرہ ویب سائٹس (جو کئی ھزاروں کی تعداد پر مشتمل آن لائن کتب کی ویب سائٹس ھیں) سے بلا قیمت استفادہ کرنے کا شرعی حکم بھی انتہائی اھمیت کا حامل ھوگا کیونکہ یہ بھی پی ڈی ایف کتب کی ویب سائٹس ھیں ۔
    3. اسی طرح ونڈوز، اردو لکھنے کیلیے ان پیج وغیرہ یہ سب سافٹ ویئرز کے حقوق محفوظ ھیں اور مالکان ان کے بلا قیمت استعمال سے واضح طور پر منع کرتے ھیں لیکن برصغیر وعرب ممالک کے کروڑوں حضرات میں سے شائد ھی انہیں کوئی خرید کر استعمال میں لاتا ھو، سوال ان کے بارے میں پیدا ھوگا کہ ان کا استعمال جائز ھے یا ناجائز ؟
    4. اسی طرح وہ لوگ جو واٹس ایپ وغیرہ سوشل میڈیا پر کتب یا صفحات کی اسکیننگ عام مانگ لیتے ھیں، اس پر یہی بحث اٹھے گی کہ ان کا بلا قیمت استعمال جائز ھے یا نہیں؟؟
    5. بلکہ اس میں تو کتب کو بطور استفادہ ایک دوسرے کو عاریۃ دینے کا مسئلہ بھی زیر بحث آجاتاہے ھے ۔
    6. بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مدرسوں اور مسجدوں کی دینی لائبریریاں قائم کرنے کا مسئلہ بھی کھڑا ھوگا کہ ان کا قیام جائز ھوگا یا ناجائز؟؟ کیونکہ ناشران کتب وتاجران تو ھر چیز کو نا پسند کرتے ھیں جو ان کی تجارت میں کچھ بھی کمی کو واقع کریں
    یہاں یہ پہلو بھی انتہائی قابل توجہ رھنا چاھیے کہ ان سافٹ ویئرز کا تجارتی استعمال تو بہت عام ھوچکا ھے اور جو میرے خیال میں واقعی قابل بحث ھے کہ ان پروگرامز کا بلا قیمت کاپی استعمال جائز ھے کہ نہیں؟؟
    لیکن ھمارا زیر بحث مسئلہ جو ھے وہ ان پی ڈی ایف کے دعوتی استعمال کا ھے، جس کے متعلق عربی کبار مشائخ کے فتاوی اوپر ارسال کیے گئے ھیں
    باحثین بحث کے دوران ان تمام پہلوؤں کا فقہی جواب بھی زیر بحث لائیں۔ ‘
    عمر قدوسی صاحب نے مزید سوال اٹھایا : ناشر لاکھوں روپے لگا کر کتاب چھاپتا ہے ، یا مصنف خون جگر سے کتاب تحریر کرکے مارکیٹ میں لاتا ہے ، ان کا کوئی حق نہیں ؟ کتاب چھپنے کے بعد پبلک پراپرٹی بن جائے گی ؟
    حسن مدنی صاحب لکھتے ہیں : ’ دینی خدمات کے حقوق ،کاروبار کے لئے ناجائزاور اشاعت دین کے لئے جائز ہیں۔
    سعودی مفتیان کا فتوی بصیرت افروز ہے۔
    کیا بخاری کا ترجمہ صرف مادی منفعت کے لئے کرنا جائز ہے؟ کوئی مترجم اور دینی محقق صرف دنیا کے لئے یہ مغز ماری نہیں کرتا۔ یہ علم دین کی ثمنا قلیلا ہے۔ ‘
    حمزہ مدنی صاحب رقمطراز ہوئے ’ امام بخاری کی صحیح بخاری و امام مسلم کی صحیح مسلم اور تمام کتب تفسیر وحدیث وقراءات وغیرہ کی تالیفات سے استفادہ تو آپ سمیت پوری امت کیلیے مباح ھے، جبکہ ان کی کتابت میں ناشران و تاجران کا ایک روپیہ صرف نہیں ھوا تو اب اگر ان سے بلا قیمت ادائیگی کے بغیر کمائی کرسکتے ھیں تو دعوتی وعلمی ابلاغ کیلیے اس کو روکنے کا جواز آپ کس طرح روک سکتے ھیں ۔۔۔ فتفکر وتدبر ۔‘
    اسی سلسلے میں مزید یہ باتیں بھی زیر بحث آئیں کہ خود ناشرین کتب بھی کتابوں کی طباعت کے سلسلے میں کئی ایک حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں ، مثلا کتابیں کمپیوٹر کے ذریعے کمپوز ہوتی ہیں ، تو اس میں ونڈوز ، ان پیچ ، ورڈ ، فانٹس وغیرہ کی ملکیت کا مسئلہ زیربحث آجاتا ہے ۔ دوسری بات ، ناشرین طباعت میں خرچہ اٹھاتے ہیں ، یہ بات درست ، لیکن بہرصورت اس طرح کوئی کسی تفسیر قرآن ، یا شرح حدیث کا مالک نہیں بن جاتا کہ اس کی نشرو اشاعت پر پابندی کا اسے مکمل حق ہو ۔
    عمر فاروق قدوسی صاحب نے شگفتہ انداز میں ایک اور پتہ پھینکا ، ملاحظہ کیجیے :
    ’ میں آج ایک ویب سایٹ بناوں محدث سایٹ کا تمام ڈیٹا کاپی کر کےاس پر ڈال دوں آپ کبهی بهی پسند نه کریں بلکه شاید ........... ‘
    جس پر حسن مدنی صاحب کا جواب تھا :
    ’ ضرور کریں ،دعوت اہل حدیث ہی پھیلے گی ،محدث ویب سائٹ سے دسیوں ویب سائٹ پہلے ہی یہ کام کر رہی ہیں۔ اور ہمیں اس پر مسرت ہے۔ ‘
    اس پر قدوسی صاحب کا کہنا تھا کہ ’شیخ محترم ! محسوس نہ کیجیے گا ، لیکن عملی صورت شاید ایسی نہ ہو ‘ ۔
    ایک سوال ’ کیا بخاری و مسلم ، ابن کثیر و ابن حجر نے کتابیں مادی فائدہ کے لیے لکھی تھیں ‘ ، شفقت مغل صاحب کہتے ہیں :
    ’اس وقت بات کتاب لکھنے پر نہیں بلکہ کتاب کی نشر و اشاعت کا خرچہ برداشت کرنے والے کے بارے میں ہے۔
    نیز اس وقت بھی نساخ کو اجرت دے کر کتاب لکھوائی جاتی تھی تا کہ علم پھیلے۔ یہی بات اب ہو رہی ہے کہ ناسخ یعنی آج کل کا ناشر وہ اپنا حق رکھتا ہے یا نہیں؟
    لیکن میں اس بات کا بھی حامی نہیں کہ علم کی نشر و اشاعت کیلیے پی ڈی ایف کا دروازہ بالکل بند کر دیا جائے، کیونکہ اس کا بھی بہت فائدہ ہوتا ہے۔اسی لیے ناشرین کے لیے عرض ہے کہ کوئی ایسی راہ نکالیں کہ ان کی حق تلفی بھی نہ ہو اور علم کی برکھا بھی برستی رہے۔ ‘
    اس پر حمزہ مدنی صاحب نے یوں اتفاق رائے کا اظہار کیا : ’بارک اللہ فیکم ۔۔۔۔ اب آپ درست بحث کا تعین کر رھے ھیں ۔آپ کے سوال کا جواب وہی ھے جو اوپر شیخ بن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ نے دیا ھے، وھی معاملہ کا درمیانی حل ھے یعنی تجارتی مقاصد کیلیے پی ڈی ایف کا استعمال ناجائز اور چوری ھے اور محض دعوتی مقاصد کیلیے طبع شدہ کتاب کو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں چھاپنا جائز بلکہ ایک عظیم دعوتی کاوش ھے ۔۔۔۔ جس کے اجر میں مصنف، ناشر اور پی ڈی ایف بنانے والی تمام جہات شامل ھیں۔ ‘
    شفقت صاحب کی ’ نساخ کو اجرت دینے ‘ والی بات پر ڈاکٹر فیض الابرار صاحب کا تبصرہ یوں تھا : ’عباسی دور حکومت میں بغداد اور دیگر شہروں میں اردو بازاروں میں ایک بہت بڑا کاروبار یہی تھا کہ پروفیشنل نساخ بیٹھے ہوتے تھے جو معاوضہ لے کر کتب کی نقل تیار کرتے تھے اور ان تاریخی مرویات میں معاوضہ وغیرہ کی تفصیلات تو ملتی ہیں لیکن صاحب نسخہ یا کتاب کی اجازت کا کوئی ذکر نہیں ملتا البتہ یہ ضرورملتا ہے کہ بغیر اجازت بھی نسخہ تیارکیے جاتے تھے۔ ‘
    شفقت صاحب کی بات پر عمر قدوسی صاحب نے ایک اہم بیان دیا : ’ ہم نے تو اپنی کتب کی پی ڈی ایف کی کهلی اجازت دی ہوئی هے جناب۔ ‘
    جو مسئلہ قدوسی صاحب نے شروع کیا تھا ، وہ تقریبا قدوسی صاحب کے بیان پر بھی اختتام پذیر ہوا ، البتہ جاتے جاتے قدوسی صاحب ایک اور سوال کر گئے : ’ اچها پهر یہ سوال پیدا هوگا کہ مصنفین جو هزاروں لاکهوں روپے کتب کی تصنیف و تالیف کا معاوضہ وصول کرتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا هے؟ ‘
    اس سوال کے جواب کے لیے شاید ایک اور مباحثہ ہوگا ، کیونکہ اس کو ’ بلاجواب ‘ ہی چھوڑ کر بات دیگر مسائل کی طرف چلی گئی ، کتب کی نشر و اشاعت کے حوالے سے ، مکتبہ قدوسیہ ، دار السلام ، مکتبہ بیت السلام ، دار الاندلس ، مکتبۃ البشری اور بریلوی مکتب فکر کے کچھ مکاتب کا تذکرہ شروع ہوا ، لب لباب یہ تھا کہ دین حق کی نشر و اشاعت کے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے ، جس طرح کہ کچھ مکتبے مکمل تندہی سے یہ کام سر انجام دے رہے ہیں ۔
     
    Last edited: ‏اگست 27، 2017
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 14، 2018 #12
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    حكم تحميل الكتب الإلكترونية والاستفادة منها
    السؤال
    دور النشر تكتب في بدايات كثير من الكتب مثل هذه العبارة : " لا يجوز نسخ أو تصوير بأي آلة أو وسيلة أي صفحة من صفحات هذا الكتاب إلا بترخيص خطي من الناشر ". فلو وجدت هذه الكتب منشورة في الإنترنت بلا ثمن ، ومتاحة لكل من أراد تحميلها ، فهل يجوز تحميلها وقراءتها ؟
    الإجابة
    الحمد لله
    لا حرج في تحميل الكتب الإلكترونية المنشورة على الإنترنت ، أو القراءة منها ؛ لأنها لا تخلو أن تكون على أحد حالين :
    الأول :
    أن تكون قد نشرت بإذن مؤلفيها أو مالكي حقوق النشر فيها - وهي كتب كثيرة والحمد لله - رغبةً من أصحاب هذه المؤلفات والدراسات في نشر العلم والمعرفة عبر وسائل العلم الإلكترونية ، وابتغاء الأجر والثواب من الله عز وجل .
    الثاني :
    أن تكون قد نشرت بغير إذن أصحاب حقوق النشر فيها ؛ ولكن يكون الغرض من تحميلها وقراءتها هو الانتفاع الشخصي ، لا النشر التجاري ، ولا السطو على الجهد بتحويره وانتحاله.
    وحينئذ ليس من حق المؤلف ولا دار النشر منع المثقفين ولا طلبة العلم من قراءة وتحميل هذه الكتب المنشورة إلكترونياً.
    وما صدر من قرارات مجمعية في الاعتراف بحقوق التأليف والابتكار ينبغي فهمه في إطار ضبط المنافع التجارية أولاً ، ومنع مفسدة الانتحال والتزوير ثانياً ، وليس في إطار الحجب التام لجميع أشكال الاستفادة ، حتى إن بعضهم يَعدُّ مجرد النقل عن الكتاب أو المقال مع العزو إلى قائله عدواناً على حقوق التأليف ، ما لم يتحصل على إذن خاص بهذا النقل عينه !!
    وقد سئل الشيخ ابن عثيمين رحمه الله عن حكم تصوير الكتب فأجاب بقوله :
    " الذي نراه أنه إن كان للاستعمال الشخصي : فلا بأس ، أما إن كان للاتجار فلا يجوز لأنه يُضِرُّ بهم " .
    انتهى من " ثمرات التدوين " (ص: 142).
    وقال أيضا رحمه الله :
    " الذي أرى أن الإنسان إذا نسخها لنفسه فقط : فلا بأس ، وأما إذا نسخها للتجارة فهذا لا يجوز ؛ لأن فيه ضرراً على الآخرين ، يشبه البيع على بيع المُسْلم ؛ لأنهم إذا صاروا يبيعونه بمائة ، ونسخته أنت وبعته بخمسين ؛ هذا بيع على بيع أخيك " .
    انتهى باختصار من " لقاء الباب المفتوح " (178/ 19، بترقيم الشاملة آليا) .
    وليس السياق هنا سياق تفصيل هذه القضية الشائكة ، واستعراض أقوال العلماء فيها في جميع أحوالها وأقسامها ، وإنما المقصود بيان عدم الحرج على المتعلم والمثقف والباحث في تحميل الكتب التي يقف عليها في مواقع الإنترنت وتنزيلها ، مع العناية بأمانة النقل والعزو والبعد عن أي غرض تجاري جراء هذا التحميل أو النشر ، خاصة وأنه قد اختلط النوعان اللذان سبق ذكرهما في مقدمة الجواب ببعضهما في الفضاء الإلكتروني ، فلا يملك أحد سد باب الإباحة الأصلية بالشك المظنون أو العارض .
    وقد أثبت السوق العلمي والكتبي والحمد لله أن النشر الإلكتروني سوق آخر مغاير للنشر الورقي ، لا يلغي أحدهما الآخر ، بل لكل منهما مريدوه ورواده .
    وينظر جواب السؤال : (116782)، (116786) ، (81614) .
    والله أعلم .
     
  3. ‏نومبر 14، 2018 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس سوال جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ پی ڈی ایف وغیرہ کتابوں کو عام کرنا، یہ جائز کام ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں، چاہے مصنفین و ناشرین اجازت دیں یا نہ دیں۔ البتہ ان چیزوں سے مادی فوائد اور تجارت کرنا درست نہیں۔
     
    • مفید مفید x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 15، 2018 #14
    abu khuzaima

    abu khuzaima رکن
    شمولیت:
    ‏جون 28، 2016
    پیغامات:
    65
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    شیخ دعوتی ارادہ یا مفت تقسیم کرنے اسی کوئی علمی دورہ رکھنے کے لیے نشر کرسکتے ہیں کیا؟

    Sent from my SM-G920F using Tapatalk
     
  5. ‏نومبر 15، 2018 #15
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کل پھر یہ مباحثہ ہوا، اس میں مزید کچھ باتیں نئی تھی، جنہیں نکات کی شکل میں یہاں لکھ دیتا ہوں۔
    1)بعض ناشرین کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایف بنانا چوری ہے، بلکہ حرام خوری ہے۔
    لیکن اس دعوی کی کوئی دلیل اورمنطق پیش نہیں کی جاسکی۔
    میں نے عرض کیا ، ناشرین کسی پر چوری کا الزام لگا کر خود کہیں بھاگ نہیں سکتے، جوابا جو صاحب بحث کر رہے تھے، ان کے ادارے کےنام کے حوالے سے ہی میں نے کچھ حقوق کی بات کی، لیکن وہ اس کا جواب نہیں دے سکے، اور کچھ نہیں تو کم ازکم ہر ادارہ جو کتابیں چھاپتا ہے، اس میں دیگر کتابوں سے کثیر تعداد میں اقتباس ہوتے ہیں، اور ان میں ایسی کتابیں بھی ہوتی ہیں، جن پر انہیں طرح کے ناشرین یہ لکھ رکھا ہوتا ہے کہ ہماری کتاب کا کوئی شخص کوئی بھی حصہ بلا اجازت استعمال نہیں کرسکتا۔ ناشرین کے لیے سب سے زیادہ جو منافع بخش کام ہے، وہ مدارس کی کتابوں کی خرید و فروخت ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بے شمار مکتبات و ادارے بڑی بڑی درسی کتابیں کسی سے کاپی کرکے چھاپ لیتے ہیں۔
    2) بعض ناشرین کا کہنا تھا کہ جو لوگ دوسرے اداروں کی چھپی ہوئی کتابوں کی پی ڈی ایف بنا بنا کر نیٹ پر دینے میں مصروف ہیں، انہیں چاہیے کہ خود کتابیں لکھوائیں، تیار کروائیں، اور پھر شوق سے انٹرنیٹ پر دیں۔
    ایک محترم ناشر کا کہنا یہ بھی تھا کہ بعض ادارے جو پی ڈی ایف عام کرنے میں پیش پیش ہیں، خود ان کے اپنے تحقیقی سنٹرز میں ہونے والے کئی علمی کام التوا کا شکار ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ پی ڈی ایف مہم ذرا کم کرکے ان کتابوں کو عوام الناس تک لانے کی کوشش کریں۔
    آخری بات میں وزن ہے، البتہ پہلا اعتراض درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ ناشر ، مصنف، کمپوز، ڈیزائنر سب کی الگ الگ دلچسپیاں ہیں، کسی کو پابند نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ضرور بالضرور کوئی خاص کام ہی کرے، ورنہ تو ناشرین بھی کئی مصنفین سے گلے شکوے کرتے ہیں، کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا کہ آپ خود کتاب تصنیف کرکے چھاپ لیا کریں۔
    3) ایک مترجم کا کہنا یہ تھا کہ میں نے کئی کتابیں ترجمہ کرکے رکھی ہوئی ہیں، لیکن پی ڈی ایف کے ڈر سے کوئی بھی مکتبہ چھاپنے کو تیار نہیں۔ ایک اور صاحب کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایف کے رواج کی وجہ سے جدید کتب طبع کرنے میں جو رکاوٹ پیش آرہی ہے، پی ڈی ایف کی اس بے برکتی کا ہمیں ایک عرصہ بعد ہی اندازہ ہوگا۔ ایک ناشر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک مشہور مصنف کی کتابیں ہم چھاپتے تھے، اور ہر ماہ ان کی کتابوں کی فروخت پر انہیں تیسرا حصہ ادا کرتے ، جو بیس تیس ہزار بن جاتا تھا، جب سے یہ پی ڈی ایف کام شروع ہوا ہے، انہیں ہر مہینے شاید دو ہزار ریال بھی نہ جاتے ہوں، یہ صورت حال افسوس ناک ہے، بالخصوص اس صورت میں جب کسی کی دو وقت کی روٹی بھی قلم کی کمائی سے جڑی ہوئی ہو۔
    میں سمجھتا ہوں، اوپر جو مسائل ذکر کیے گئے ہیں، یہ درست ہیں، لیکن ان کی بنیادی وجہ پی ڈی ایف کا آنا نہیں ہے، کیونکہ ایسے مسائل تو پی ڈی ایف کے ظہور سے پہلے بھی تھے، پی ڈی ایف والے تو پھر کتاب فری میں لوگوں کو دیتے ہیں، اور اس میں ادارے اور ناشر کی معلومات ہو بہو موجود ہوتی ہیں، جبکہ بعض ناشرین اور مکتبات والے تو ہو بہو دوسرے کی کتاب کا ٹائٹل بدل کر اس میں اپنا نام لکھ لیتے ہیں۔ علما کو ان کی تصنیف و تحقیق کا مہنتانہ کما حقہ ادا نہیں کیا جاتا، یہ مسئلہ تو عرصے سے موجود ہے۔
    4) اصل میں پی ڈی ایف کتاب وقت کی ضرورت ہے۔ جب ہر چیز موبائل یا کمپیوٹر کی سکرین پر دستیاب ہے، کھانا پینا تک آرڈر کرکے آپ کے گھر پہنچ جاتا ہے، تو دینی کتابیں موبائل میں دستیاب نہ ہونے کی کوئی معقول توجیہ نہیں کی جاسکتی۔ ناشرین و مکتبات والوں کو چاہیے تھا بذات خود اس ضرورت کو سمجھ کر اپنی طرف سے کوئی حل پیش کرلیتے، تو شاید کسی اور کو کتابیں پی ڈی ایف کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔
    5) دینی کتابوں ، تقریروں اور مواد کے حقوق کے مسائل اس لیے پیش آتے ہیں، کیونکہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر علم وتحقیق کی سرپرستی کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، کروڑوں ، اربوں کھربوں کے چندے بھی حاصل کرکے ’علم وتحقیق‘ اور ’علماء و محققین‘ پر حسب ضرورت خرچ نہیں کیا جاسکا۔ یہی کتابیں جن کے حقوق کے آج رونے روئے جارے ہیں، اگر رفاہی اداروں سے چھپیں، پریس والے یا چھاپنے والے مکتبے کو ان کی مزدوری دے دی جائے، تو کتاب چاہے ہر بندہ پی ڈی ایف کرکے رکھ لے، کسی کو کیا تکلیف ہوگی؟ ہر ادارہ مولفین ومحققین کو ان کی مناسب خدمات ادا کرے، تو معاشی مجبوریوں کی وجہ سے کوئی بھی علم دین کی نشر واشاعت کی کسی بھی صورت کو حرام یا ناجائز نہیں کہے گا۔ اس ضمن میں جماعتوں، تنظیموں اور بڑے بڑے اداروں کو بھی اپنی ترجیحات و مصارف پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ایک صاحب نے یہ بھی بتایا کہ تحفۃ الاحوذی، مرعاۃ المفاتیح جیسی بڑی بڑی کتابوں کو چھاپنے کے لیے باقاعدہ چندہ کیا گیا تھا، عطاء اللہ حنیف بھوجیانی صاحب کی مثال پیش کی گئی، انہوں نے بھی کئی کتابوں کی نشر واشاعت اسی طرح کی تھی۔
    6) میں سمجھتا ہوں کہ حالات جس طرف رخ کر رہے ہیں، کتاب کی تصنیف وتحقیق ، کتاب وطباعت اور نشر واشاعت کے پورے پروسیجز پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ایک تو حقوق کے لڑائی جھگڑے ہوں گے، جن لوگ کا معاش اس نظام سے جڑا ہوا ہے، وہ بھی کاروباری میدان میں ناکام ثابت ہوں گے، اور دوسرا ’علم ومعلومات‘ کے ابلاغ و ترسیل کی دوڑ میں بھی دینی کتابوں والے پیچھے رہ جائیں گے۔ بطور مثال آپ کیسٹ سنٹر والوں کو لے لیں، آج سے کوئی بیس سال پہلے یہ ایک مناسب کاروبار ہوتا تھا، ایک تقریر کو ریکارڈ کرکے سیکڑوں کیسٹیں کاپی کرکے فروخت کی جاتی تھیں، لوگ خریدتے تھے، لیکن اب یہ سسٹم یکسر تبدیل ہوچکا، اب کیسٹ اور سی ڈی سنٹر والوں نے نئے کام ایجاد کرلیے ہیں۔ اب اگر کوئی یہ دھمکی دیتا رہے گا کہ اگر میری کیسٹوں کے حقوق ادا نہ ہوئے تو معاشرے میں معیاری تقریروں کا بحران پیدا ہوجائے گا، میں کسی کی ریکارڈنگ نہیں کروں گا، وغیرہ۔ تو ظاہر ہے لوگ اسے چھوڑ کر متبادل ذرائع اختیار کرلیں گے، بلکہ کرلیے گئے ہیں۔
    کتب کے ناشرین کو بھی اس صورت حال کو سمجھنا چاہیے، ورنہ کوئی مکتبہ بند کرکے دیکھ لے کہ ان کے بائیکاٹ سے علم کی نشر واشاعت میں کتنی رکاوٹ آتی ہے۔
    7) موبائل اور اسکرین کی ایجاد نے کتابوں، مکتبات اور لائبریریوں کو ویران کردیا ہے، تو کیا آپ لوگوں کے ہاتھ سے موبائل چھین کر، انہیں لائبریری میں لاسکتے ہیں؟ کتاب میلے میں لوگ نہیں آتے تواس کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ انہیں کتابیں پی ڈی ایف میں مل گئی ہیں، اصل وجہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں موبائل اور کمرے میں سکرین آگئی ہے، آپ اس موبائل سے کتابیں اور اسکرین سے دینی معلومات غائب کرکے آزما لیں، کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ صرف ایک سال یہ تجربہ ہوجائے( حالانکہ ناممکن ہے) تو دینی تعلیمات سے دوری جو پہلے پچاس کی رفتار پر ہے، دو سو کی رفتار پر چلی جائے گی۔
    کتنے ایسے نوجوان دیکھے گئے، اگر پی ڈی ایف کی شکل میں انہیں دینی کتاب میسر نہ ہو تو یہ انٹرنیٹ، اور سکرین انہیں شیطان کی شیطانیوں میں الجھا کر رکھ دے گی۔ کتنے علمی، تحقیقی اور دعوتی کام ہوئے، جن کی بنیاد انٹرنیٹ پر نشر ہونے والی کتابیں تھیں۔ کتنی ایسی کتابیں ہوں گی کہ جن کی ہارڈ کاپی نے بیرون ملک کا منہ نہ دیکھا ہوگا، جبکہ پی ڈی ایف کی وجہ سے دنیا کے دور دراز علاقے تک بھی کتاب دستیاب ہوتی ہے۔
    مباحثے میں شریک بعض احباب کا یہاں تک کہنا تھا کہ پی ڈی ایف کتاب اصل کتاب کی نشرواشاعت کا ذریعہ بنتی ہے، کئی لوگ پی ڈی ایف کتاب دیکھ کر اصل کتاب خریدتے ہیں۔
    ویسے اس مباحثے کا اختتام نسبتا حوصلہ افزا رہا، کیونکہ اس میں ایک ناشر صاحب جو پہلے مباحثہ میں پی ڈی ایف کے خلاف تھے، انہوں نے اس کی حمایت کی۔ دیگر بعض ناشرین نے بھی پی ڈی ایف فراہمی کو چوری حرام خوری کہنے کی بجائے نرم موقف اپنایا۔ یہ تو حقیقت ہے کہ جن بڑے بڑے تاجروں نے کتاب کی نشر واشاعت اور کتاب فروشی کو ہی ذریعہ تجارت بنایا، اور اس کاروبار سے کروڑوں اربوں کمائے، حالات و ظروف کی تبدیلی سے اب ان کے کاروبار پر زد پڑھ رہی ہے تو ان کی طرف سےکسی نرم موقف کی امید رکھنا ابھی ذرا جلد بازی ہوگا۔
    لیکن امید ہے مل بیٹھنے سے، ان موضوعات کوزیر بحث لانے سے، اس مسئلے کے کئی حل دریافت کیے جاسکتے ہیں، بادی النظر میں یہ مسئلہ کسی خاص طبقے کا محسوس ہوتا ہے، حقیقت میں یہ ایک اہم معاشرتی ضرورت ہے، جس پر مصنف ،محقق، ناشر، پی ڈی ایف میکر اور قاری ہر ایک کو سوچنا ہوگا۔ واللہ اعلم۔
     
    Last edited: ‏نومبر 15، 2018
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 15، 2018 #16
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میرے خیال میں آپ نے یہ کہنا چاہا کہ دعوتی و تعلیمی مقاصد کے لیے فری میں کتابیں تقسیم کی جاسکتی ہیں؟ مجھے تو اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا، شیخ نے بھی اوپر اس کے جواز کی ہی بات کی ہے۔ واللہ اعلم۔
     
  7. ‏نومبر 15، 2018 #17
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    69
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    ابتسامہ
     
  8. ‏نومبر 17، 2018 #18
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کیا کتاب کی پی ڈی ایف جائز ہے؟

    ابوبکر قدوسی
    ان صاحب کو آپ کیا کہیں گے کہ جو کتابوں کے رابن ہڈ بن کے "غریبوں " کہ بھلا کرتے ہیں ؟
    یا یوں پوچھتا ہوں کہ ایک بندہ محنت کر کے ایک کروڑ روپئے اکھٹے کرتا ہے کوئی آتا ہے اور تجوری کا قفل توڑ کے پیسہ محلے کے غریبوں میں بانٹ دیتا ہے - کیا ا کو نیکی کہا جائے گا ؟
    چلیے موضوع کی طرف آتے ہیں -
    آج کل "پی ڈی ایف " کتابوں کا معاملہ خاصا گھمبیر ہو چکا ہے - جو یہ کام کرتے ہیں ان کا موقف ہے ہم علم و ادب کی خدمت کر رہے ہیں ، اور جو دینی کتب کی پی ڈی ایف کاپی تیار کرتے ہیں ان کے ساتھ تو دینی خدمت کا "تڑکا " بھی لگ جاتا ہے -
    دوسری طرف پبلشر حضرات اس معاملے میں اس حد تک پریشان ہو چکے ہیں کہ بہت سے دوست تو دوسرے کاروبار کا سوچ رہے ہیں -
    ادبی کتب ہوں یا اسلامی آجکل ہر طرف پی ڈی ایف کا ہی غلغلہ ہے -
    اسلامی کتب بسا اوقات کئی کئی جلدوں پر مشتمل سیٹ ہوتا ہے جس کی قیمت خاصی ہو جاتی ہے - اس کی تیاری میں ناشر کے لاکھوں روپے صرف ہوتے ہیں - میں ایک مثال دیتا ہوں - معروف کتاب تفسیر ابن کثیر کے ساڑھے تین ہزار صفحات ہیں ، ایک صفحے کی کمپوزنگ قران کے متن کے سبب سو روپے تک چلی جاتی ہے ، پروف ریڈنگ دو بار ہو تو پچاس روپے تک لے جاتی ہے ، اگر اس حجم کی کتاب ترجمہ بھی کروانی پڑ جائے تو دو سو روپے فی صفحہ معمولی بات ہے - یوں ایک صفحہ تقریبا ساڑھے تین سو روپے میں پڑتا ہے ..اگر تفسیر ابن کثیر تصور کی جائے کہ پانچ جلدوں کا سیٹ ہے ، تو پینتیس سو صفحات کی صرف سافٹ کاپی کی تیاری میں قریبا ساڑھے بارہ لاکھ اٹھ جاتے ہیں ...یعنی صرف ایک کتاب پر سوا ملین روپیہ ... طباعت کے مراحل اس کے بعد آتے ہیں جو اس سے کم نہیں ہوتے بلکہ زیادہ ہی ہوتے ہیں -
    اب جب کتاب مارکیٹ میں اتی ہے تو ساتھ ہے " شیر جوان " لنگوٹے کس کے ، میدان میں اتر آتے ہیں اور نہایت محنت سے ،باوضو ہو کے ، یہ " نیکی " کا کام کرتے ہیں ..جی ہاں بسم اللہ پڑھ کے تجوری کا قفل کھول کے کروڑ روپیہ لوٹ کے غریبوں کی مدد -
    ایک یہ نکتہ ہے کہ پی ڈی ایف سے علم کی خدمت ہو رہی ہے - حقیقت میں ایسا نہیں - اسلامی کتابوں کو ہی لے لیجئے - اس وقت اہل حدیث اور دیوبندی حضرات کی جتنی بڑی بڑی کتب ہیں سب پر کام ناشرین نے کیا ہے - جو بڑے بڑے تحقیقی ادارے بنے ہوے ہیں وہ اس کام کا سواں حصہ بھی نہیں کر سکے جو ناشرین کر گزرے -
    حدیث ہو یا قران ، فقہ ہو یا کوئی اور میدان ..اس وقت بازار میں جو ہزاروں کتب موجود ہیں وہ سب انہی ناشرین کی مہربانیاں ہیں - موجودہ کساد بازاری سے گھبرا کے یہ ناشرین مزید کام کروانا بند کر رہے ہیں - پاکستان کے ایک معروف اشاعتی ادارے نے اپنا ریسرچ سنٹر نے تقریبا ختم کر دیا ہے ..آپ اندازہ کیجئے کہ ایک ادارے نے حدیث کی کتاب "مصنف عبد الرزاق " کہ جو دس سے زیادہ جلدوں میں تھی ، اس کا ترجمہ کروایا ، کمپوز کروائی ..ساتھ ساتھ جند جلدیں طبع بھی ہو گئیں .اس مرحلے پر انہوں نے یہ کام ختم کر دیا ..ان کا کہنا تھا کہ ابھی بیس لاکھ لگا ہے ، مزید تیس لگنا ہے کم از کم وہ تو بچ جائے - خود میں نے بہت سی ایسی کتب چھاپنا موخر کر دیا کہ جن کی تیاری پر بہت روپیہ اٹھ چکا تھا - اب ٹھنڈے دل سے بتائیے کہ یہ علم کا فائدہ ہوا یا نقصان ؟
    جو پہلے سے موجود تھا اس کو تو آپ نے سرعت سے پھیلا دیا لیکن مزید کام کے جو راستے بند کر دیے اس کا مجرم کون؟
    اصولی طور پر یہ فائدہ تب ہوتا کہ پی ڈی ایف بنانے والے شیر جوان کبھی خود بھی دو چار ملین لگا کے کتب کے تراجم کرواتے اور نیٹ پر اپ لوڈ کرتے ..یہ کیا کہ کسی کی تجوری توڑ کے غریبوں کو بھرنے چلے ..کبھی خود کی جیب سے بھی صدقہ اچھا ہوتا ہے -
    علمی نقصان کے علاوہ اس کا ایک پہلو چوری بھی ہے - بہت سے دوست اس نقل کو چوری تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے ...کہ علم کی بھی بھلا چوری ہوتی ہے ...میرے بھائی ہوتی ہے ضرور ہوتی ہے -
    ناشرین صرف ثواب کے لیے کتابیں شائع نہیں کرتے ، ان کا ایک مقصد بلکہ عموما پہلا مقصد حصول زر ہوتا ہے پھر ثواب اور خدمت ....ہاں کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ خدمت اور ثواب اولین مقصد ہو جاتا ہے کہ آخر یہ بھی مسلمان ہیں -
    اب ایمانداری سے فیصلہ کیجئے کہ ایک بندہ سوچتا ہے مسلسل سوچتا ہے ..اور ایک خیال اس کے ذہن میں آتا ہے - وہ اس کو نہایت محنت سے عملی جامہ پہناتا ہے - لاکھوں کروڑوں روپیہ اس پر لگاتا ہے - راتوں کا آرام تیاگ کے جان جوکھوں میں ڈال کے کتاب تیار کرتا ہے ..جب تیار ہو جاتی ہے تو شیر سپاہی آتا ہے اس کی نقل تیار کر کے کمپیوٹر پر چڑھا دیتا ہے ..یہ پڑا ہے اس کا کاروبار اور اس کے شوق کی لاش - آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہم ناشرین مٹی کے بت ہوتے ہیں کہ جن کے کوئی جذبات نہیں ہوتے ...جناب جب سالوں کی جان طور مشقت کے بعد کتاب تیار ہوتی ہے تو ایسے ہی عزیز ہوتی ہے جیسے اولاد ... لیکن جب یہ چوری ہوتی ہے تو سب ارمان بکھر جاتے ہیں -
    محنت کی بات بھی سن لیجئے - مجھے یاد ہے کہ کتاب الولووالمرجان کے ٹائیٹل کی صرف کتابت کروانے کے لیے میں نے خطاط عبد الرشید قمر صاحب کے گھر اٹھار چکر لگائے تھے - تب کمپیوٹر کا دور نہ تھا سب کام ہاتھ سے ہوتے - سو یہ محنت کرنا پڑتی - خطاط حضرات کے بہت وقت لیتے ہیں ، شوق بھی سوا تھا ، جوانی کا آغاز ...سو آتا چلا گیا حتی کہ انہوں نے لکھ دیا ...کتنی محنت ہوئی ..کیا جب اس محنت کو کوئی نقل کر کے عام کر دے تو چوری نہ کہلائے گی ؟
    پی ڈی ایف کی اہمیت کا مکمل انکار نہیں ، نہ ہی میں کوئی جدت کا دشمن ہوں .. بھائی لیکن یہ جدت نہیں - کرنے والا یہ کام تھا کہ ان کتب کی نقل تیار کی جاتی کہ جو مرور زمانہ سے نایاب ہو چلیں ، یا ایسی کتب کہ جن کی اشاعت کاروباری لحاظ سے ناشرین کی توجہ نہ کھینچ سکی اور ہیں بہت قیمتی - سو ایسی کتب کی نقل تیار کرنا مجبوری بھی ہے اور ضروری بھی - بلکہ اس طرح مردہ کتابیں زندہ ہوتی ہیں۔
     
  9. ‏نومبر 17، 2018 #19
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کاپی رائٹ، پیٹنٹ،ٹریڈ مارک اور اس کے بارے میں شرعی حکم


    فکری ملکیت ، جس میں کاپی رائیٹ، پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک شامل ہیں،کی حفاظت کا نظریہ مغرب کے سرمایہ داری نظام معیشت کے زیر سایہ پیدا ہوا۔ صنعتی سرمایہ دار ممالک نے 1883 ء میں پیرس اور 1886 میں برن(Burne) میں فکری ملکیت کی حفاظت کا معاہدہ کیا۔ اس کے بعد بیس سے زائد معاہدے ہو چکے ہیں۔ پھر ان معاہدوں کی نگرانی اور سرپرستی کے لئے فکری ملکیت کی عالمی تنظیم ویپو ( WIPO ) کی بنیاد رکھی گئی۔ اس طرح 1995 ء میں عالمی تجارتی تنظیم (WTO ) نے فکری ملکیت کی حفاظت کو اختیار کیا اور ویپو ( WIPO ) اس کا ایک حصہ بن گئی۔ تجارت کی اس عالمی تنظیم نے یہ شرط رکھ دی کہ جو ممالک تجارت کے لئے اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنا چاہیں ان کے لئے فکری ملکیت کی حفاظت کا التزام ضروری ہے۔ اس طرح ان ممالک کے لئے یہ بھی شرط رکھ دی گئی کہ وہ ایسے قوانین وضع کریں کہ جن کی رو سے وہ اپنے اپنے ممالک میں فکری ملکیت کی حفاظت کر سکیں۔
    فکری ملکیت کے یہ قوانین ، جن کو ان ممالک نے وضع کیا ہے ان کی رو سے ہر فرد کو اپنی ایجاد کردہ چیز کی حفاظت کا حق حاصل ہے ۔ وہ اس چیز میں ہر قسم کا تصرف کر سکتا ہے اوراپنے علاوہ دوسرے لوگوں کو اس چیز میں کسی قسم کے تصرف سے روک سکتا ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس چیز میں تصرف نہیں کر سکتا اور ریاست بھی اس حق کی حفاظت کرے گی۔ اس فرد کی زندگی میں یا اس کی موت کے دسیوں سال بعد بھی کوئی شخص اس حق میں دست درازی کرے تو ریاست اس کو سزا دے گی۔ ان قوانین کا اطلاق اُن کمپنیوں پر بھی ہوتا ہے جو کوئی نئی چیز بناتی ہیں۔
    نئی چیز ایجاد کرنے کا مطلب وہ فکر یا علم ہے جس تک کسی شخص کی عقل رسائی حاصل کرتی ہے جو اس سے قبل کسی کے علم میں نہیں تھا۔ اس میں اہم ترین وہ نئے علوم ہیں جو صنعت کاری، سامان بنانے اور خدمات میں استعمال ہوتے ہیں، جس کو آج کے دور میں ’’ٹیکنالوجی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ سرمایہ داروں نے ان انفرادی علوم و فنون کو ایسے مال کی حیثیت دے دی جو ملکیت کے قابل ہو۔ چونکہ کسی شخض کے لئے ایک خاص کسوٹی کے موافق مالک یا اس کے ورثاء کی اجازت کے بغیر اس کو سیکھنا یا سکھانا جائز نہیں ہے، چنانچہ کوئی شخص ایسی کتاب، ڈسک یا کیسٹ خریدے جو فکری لحاظ سے محفوظ ہو تو اس کو صرف ایک خاص حد میں رہتے ہوئے اسی اصل نسخے جس کو اس نے خریدا ہے سے فائدہ اُٹھانے کا حق حاصل ہے۔ یعنی اس کو پڑھ اور سن سکتا ہے۔ فکری ملکیت کے قوانین کی رو سے اس شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے طریقوں سے اس سے استفادہ کرے جیسے اس کی طباعت کرے یا بیچنے یا کرایہ پر دینے کے لئے اس کی نقول تیار کرے۔
    اس مسئلے پر حکم شرعی سے پہلے بعض پہلوؤں سے اس کی حقیقت کا جائزہ لینا زیادہ مناسب رہے گا۔ میری کوشش ہو گی کہ مثالوں کے ذریعے اس کو واضح کروں۔ چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں:
    ۱) آپ اس حقیقت کو تصور میں لائیں کہ ایک استاد لیکچر کے پیسے وصول کرنے کے باوجودکلاس میں طالب علموں سے کہے کہ جو کچھ آج میں نے آپ کو پڑھایا ہے ، اس علم کو آپ آگے کسی کو منتقل نہیں کر سکتے۔ اور اگر آپ اس علم کو جب بھی آگے منتقل کریں گے تو اس کیلئے آپ مجھے رائلٹی ادا کریں گے۔ یا
    ۲) گھر کی ایک خاتون بازار سے کوئی سبزی مثلاًآلو خریدے ، اور سبزی بھیجنے والا شرط لگائے کہ آپ ان آلوؤں کی بھجیا تو ضرور بنائیں مگر چپس بنانے کی اجازت نہیں۔
    پہلی مثال پر غور کریں ۔ اگر ایک استاد مندرجہ بالا مطالبہ کریں تو کوئی بھی اسے تسلیم نہیں کرے گا اور اسے منطق سے عاری اور فضول قرار دیا جائے گا۔ تو پھر آخر ایک شخص جوکتاب لکھے، اور پھریہ شرط لگائے کہ آپ اس کتاب کی فوٹو کاپی یا طباعت نہیں کر سکتے ، اس شرط کو کس بنیاد پر تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ اس کا مطالبہ کیوں مبنی بر عقل اور انصاف کے اصولوں کے مطابق گردانا جاتا ہے۔ استاد کی مثال اور مصنف کی مثال میں علم کی شکل(Finished Form) کے علاوہ کیا فرق ہے۔ آخر کیوں ایک مصنف کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ جملہ حقوق محفوظ رکھ سکے۔ جبکہ خریدار کتاب کی قیمت ادا کر کے شرعی طور پر ملکیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ جس طرح ہم ایک سبزی والے کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ ہمیں بتائیں کہ آلوؤں میں کیسے تصرف(استعمال) کریں ، اس طرح ہم کیسے ایک مصنف کو یہ حق دیں کہ وہ ہمیں بتائیں کہ اس کتاب کو آپ پڑھیں ضرور ، لیکن اس کی فوٹوکاپی یا طباعت نہیں کر سکتے۔ جبکہ اس کتاب کی قیمت ادا کرنے کے بعد ہم شرعی ملکیت کے حامل ہو جاتے ہے۔ تاہم اس کی شرعی دلائل پر تفصیلی بحث پیش ہے۔
    حکم شرعی:
    ہر انسان کے اندر تین جبلتیں موجود ہیں ؛ جبلت بقا، جبلت نوع اور جبلت تدین۔ اسلام چونکہ انسان کے ضروریات اور جبلتوں کے منظم کرتا ہے اسلئے اسلام ان جبلتوں کے مظاہر کو بھی منظم کرتا ہے۔ جبلت بقا کا ایک مظہر انفرادی ملکیت ہے۔ اس جبلت کو پورا کرنے کے لئے مسلمانوں کو ہر اس چیز کا مالک ہونے کی ضمانت دی گئی ہے جو اس کی بقا اور شریفانہ زندگی کے واسطے ناگزیر ہو۔ چنانچہ اس کے لئے اکثر اعیان جیسے مکانات، جانوروں اور زمین سے حاصل ہونے والی اشیاء کی ملکیت کو مباح قرار دیا گیا ہے، جبکہ بعض اعیان کی ملکیت کو حرام قرار دیا گیا ہے جیسے خمر، خنزیر، نشہ آور اشیاء۔ اس طرح اس کو غوروفکر کرنے اور علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور دوسروں کو پڑھا کر اجرت لینے کو بھی مباح ٹھہرایا گیا ہے۔ ملکیت کے ایسے اسباب بھی اس طرح مہیا کئے گئے ہیں، جو مباح ہیں جیسا کہ تجارت، کرایہ اور وراثت جبکہ کچھ اسباب کو اس کے لئے حرام قرار دیا گیا ہے جیسا کہ سود، جوا اور اندازہ لگا کر بیچنا۔
    اسلام میں انفرادی ملکیت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب حکم شرعی اس کو ثابت کرے۔ چونکہ اس کا فیصلہ ملکیت کے اسباب کی بنیاد پر ہوتا ہے جیسے تجارت یا ہبہ یا تحفہ وغیرہ کے ذریعے۔ اسلام نے ایک فرد کو اس کی ملکیت کے بارے میں اختیار دیا ہے کہ وہ احکام شرعیہ کے مطابق اس میں تصرف (استعمال)کرے اور اس سے فائدہ اُٹھائے۔ اسلام نے ریاست پر فرد کی ملکیت کی حفاظت کو فرض قرار دیا ہے اور جو شخص دوسروں کی ملکیت میں دست درازی کرے اس کے لئے سخت ترین سزائیں مقرر کی ہیں۔انفرادی ملکیت کی جدید اصطلاح کی دو قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک تو محسوس اور ملموس (جس کو چھوا جا سکتا ہے) ہے جیسے ٹریڈ مارک او رکتاب، جبکہ دوسری قسم محسوس لیکن غیر ملموس ہے جیسے علمی نظریہ یا سائنسدان کے دِماغ میں موجود کسی ایجاد کے بارے میں فکر۔

    ملموس اشیا:
    پس ملکیت اگر پہلی قسم سے ہو جیسا کہ مباح ٹریڈ مارک تو ایک فرد کے لئے اس کا مالک بننا، اس سے فائدہ اُٹھانا یا اس کو بیچنا جائز ہے۔ فرد کے اس حق کی حفاظت ریاست کے ذمہ ہے۔ ریاست اس فرد کو اس چیز میں تصرف کے قابل بنائے گی اور دوسروں کو اس پر دست اندازی سے روکے گی، کیونکہ ٹریڈ مارک شرعاً مباح تجارت کا ایک حصہ ہونے کی وجہ سے اسلام میں اس کی ایک مادی قیمت ہے۔ ٹریڈ مارک ایک ایجاد کردہ نشان ہوتا ہے جس کو تاجر یا کارخانہ اپنی مصنوعات پر لگاتا ہے تاکہ یہ مصنوعات دوسروں کی مصنوعات سے ممتاز ہوں، جس کی وجہ سے خریدار اور صارفین آسانی سے پہچان سکیں۔ ایک شخص کے لئے اپنی ٹریڈ مارک کو بیچنا جائز ہے، اگر وہ اس کو بیچ دے تو اس کی منفعت اور اس میں تصرف کا حق نئے مالک کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے منرل واٹر کا نام Nestleنہیں رکھ سکتا جب تک وہ یہ نام مذکورہ کمپنی سے خرید نہ لے۔
    محسوس اشیا:

    اگر فکری ملکیت دوسری قسم کی ہو جیساکہ سائنسی نظریہ اور ایجاد کے بارے میں کوئی فکر، تو جب تک وہ شخص اس کو کسی ورق پر نہ لکھے یا کسی ڈسک یا کیسٹ میں اس کو محفوظ نہ کرے تب تک یہ اس شخص کی انفرادی ملکیت ہے ۔ اگر اسلام میں اس چیز کی کوئی قیمت ہو تو اس شخص کے لئے اس کو بیچنا یا دوسروں کو سکھانا جائز ہے ۔ لیکن جب کوئی دوسرا شخص ، جو شرعی سبب سے اس کا مالک بن جائے، پہلے مالک کی اجازت کے بغیر احکام شرعیہ کے مطابق اس میں تصرف (استعمال)کر سکتا ہے۔ یہ حکم ہر اس شخص پر بھی لاگو ہوگا جو ایسی کتاب، ڈسک یا کیسٹ خریدے جس میں کوئی فکری، سائنسی، علمی یا ادبی مواد ہو۔ جس طرح اس شخص کے لئے اس کو پڑھنے یا اس میں موجود معلومات سے فائدہ اُٹھانے کا حق ہے بالکل اسی طرح اس کو نقل کرنے، اس کو بیچنے یا اسے کسی کو تحفے کے طور پر دینے کا حق بھی حاصل ہے۔ مگر اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس علمی مواد کی نسبت اصل مالک کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف کرے، کیونکہ اس کی نسبت کسی اور کی طرف کرنا جھوٹ اور دھوکہ ہے اور یہ اسلام میں حرام ہے۔ لہٰذا فکری ملکیت کے حق کا احترام ایک معنوی حق ہے۔ یہ صرف اس طرح ہے کہ اس کی نسبت صاحب حق کی طرف کی جائے۔ اس کا ہرگز یہ معنی نہیں کہ دوسروں کے لئے اس کی اجازت کے بغیر اس چیز سے استفادہ کرنا ممنوع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کتاب یا CDخریدنے کے بعد اس کو ہر طرح سے استعمال میں لا سکتا ہے خواہ اس کی کاپیاں بنانا ہو یا اس کہ پڑھنا یا سننا۔ تاہم وہ جھوٹ کے ساتھ اس کے اندرموجود مواد کو اپنے نام سے منسوب نہیں کر سکتا کہ یہ اس کی تخلیق ہے۔
    رہی بات ان شرائط کی جن کے لئے قوانین وضع کئے گئے ہیں، جن کی رو سے کتابوں کے مؤلفین، پروگرام پیش کرنے والے اور موجدین کو طباعت کے حقوق اور ایجاد کرنے کے لائسنس فکری ملکیت کی حفاظت کے نام سے مہیا کئے جاتے ہیں تو یہ شرائط غیرشرعی ہیں۔ ان کا التزام واجب نہیں چونکہ اسلام میں عقد بیع کا مقتضی ہے کہ جس طرح خریدنے والے کو ملکیت کا حق حاصل ہے بالکل اسی طرح اس کو اپنی اس ملکیت میں تصرف کا بھی حق حاصل ہے۔ چنانچہ عقد بیع کے مقتضی کے خلاف جو بھی شرط ہو خریدنے والا اس کا پابند نہیں، خواہ یہ شرائط ایک سو ہی کیوں نہ ہو، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ :
    ’’بریرہؓ عائشہؓ کے پاس اس وقت آئی جب وہ مکاتب تھی جس کے مالکوں نے اوقیہ کے بدلے اس کی مکاتبت کی تھی۔ عائشہؓ نے اس سے کہا کہ اگر تمہارے مالک چاہیں تو میں یہ یک مشت ان کو دوں گی لیکن تمہاری والی میں ہوں گی۔ بریرۃؓ اپنے مالکوں کے پاس آئی۔ ان کو بتایا تو اُنہوں نے انکار کیا اور یہ شرط لگائی کہ تمہارے والی ہم ہی ہونگے۔ عائشہؓ نے رسول اللہﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپﷺ نے فرمایا: تم ایسا ہی کرو۔ عائشہؓ نے ایسا ہی کیا: آپﷺ لوگوں سے خطاب کرنے کے لئے اُٹھے۔ اللہ کی حمد و ثناء کی اور فرمایا: مردوں کو کیا ہوگیا کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں۔ مزید فرمایا: ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہیں باطل ہے، کتاب اللہ ہی حق ہے اور اس کی شرائط ہی معتبر ہیں، ولایت اس کے لئے جس نے آزاد کی‘‘
    حدیث کے الفاظ ہی اس پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ شرط جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کے خلاف ہے اس کی پابندی جائز نہیں۔ جب تک فکری ملکیت کی حفاظت کی رو سے خریدی ہوئی چیز کے صرف عین سے فائدہ اُٹھانے اور اس کے علاوہ اس سے فائدہ نہ اُٹھانے کی شرائط ہیں تب تک یہ شرائط کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل ہیں کیونکہ یہ اس شرعی عقد بیع کے مقتضی کے بخلاف ہیں جس کی رو سے خریدار اس چیز میں ہر قسم کا تصرف کر سکتا ہے۔ اس چیز کے عین سے بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے یعنی کسی بھی شرعی طریقے سے اس چیز سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے جیسا کہ اس چیز کو بیچ دے۔ ہبہ کرے، تجارت کرے وغیرہ، وہ شرائط جو حلال کو حرام کرتی ہیں باطل ہیں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
    ’’مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں مگر وہ شرط جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دے‘‘
    یہی وجہ ہے کہ طباعت کے حقوق ، کاپی رائٹ یا انونشن لائسنس (Patents) کا محفوظ ہونا شرعاً جائز نہیں، بلکہ یہ مباح حقوق ہیں۔ چنانچہ ایک مفکر، سائنسدان یا کوئی پروگرامر اپنے علم کا اس وقت تک مالک ہے جب تک وہ علم ان کے پاس ہے اور انہوں نے کسی اور کو نہیں سکھایا، لیکن جب اس کا علم کسی دوسرے کو پڑھانے کے ذریعے، بیع یا کسی اور طریقے سے اس سے منتقل ہو جائے، تب یہ صرف اس کی ملکیت نہیں۔ اس نے جب بیچ دیا تو یہ اس کی ملکیت سے نکل گیا، جب وہ شرعی طریقے جیسے بیع وغیرہ سے دوسروں کی طرف منتقل ہوگیا تو وہ دوسروں کو اس میں تصرف سے نہیں روک سکتا۔
    بعض فتوؤں میں ان احادیث کی بنیاد پر مختلف حکم اخذ کیا گیا ہے؛
    ’’مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں‘‘، اس طرح یہ ارشاد کہ: ’’کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں‘‘ ، اس طرح آپﷺ کا یہ فرمان کہ:جو ایک مباح چیز تک پہلے رسائی حاصل کرے تو وہی اس کا حقدار ہے‘‘۔ اس فتویٰ میں جو غلطی ہوئی ہے وہ لفظ ’’شروط‘‘ کی عمومیت کی وجہ سے ہے۔ ا س میں تخصیص نہیں کی گئی ہے حالانکہ رسول ﷺ نے اس سے استثنیٰ کیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ’’ مگرو وہ شرط جو کسی حلال چیز کو حرام کردے‘‘ ۔ دوسری دو حدیثوں کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ یہ حدیث کہ: ’’کسی مسلمان کا مال حلال نہیں۔۔۔‘‘ دوسروں کے مال سے متعلق ہے، جبکہ مذکورہ ڈسک خریدار کی ملکیت بن چکا ہے۔ اس طرح یہ حدیث کہ: ’’جو پہلے چیز تک رسائی حاصل کرے‘‘، اس کا تعلق بھی عام مال سے ہے، جیسا کہ یہ حدیث ہے کہ: ’’جو پہل کرے ہماری طرف سے راہ ہموار ہے‘‘، جبکہ مذکورہ ’’کمپیوٹر ڈسک‘‘ انفرادی ملکیت ہے۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ فکری ملکیت کی حفاظت کے قوانین استعمار کے اقتصادی اور ثقافتی اسالیب میں سے ایک اسلوب ہیں جن کو بڑے سرمایہ دار ممالک نے عالمی تجارتی تنظیم (W.T.O) کے ذریعے دوسرے ممالک او ر اقوام پر مسلط کیا ہوا ہے۔ جب یہ بڑے ممالک ’’ٹیکنالوجی‘‘ یعنی صنعت، اشیاء کی پیداوار اور خدمات سے متعلقہ علوم پر قابض ہوگئے، تب اُنہوں نے ان علوم کی ذخیرہ اندوزی کے لئے اس قسم کے قوانین نافذ کئے جس سے یہ اقوام بدستور ان کے زیر اثر اور دست نگر رہیں اور یہ بڑے ممالک سرمایہ کاری اور گلوبلائرشن (Globalization) کے نام سے چھوٹے ممالک کے وسائل اور دولت کو لوٹتے رہیں۔
    ان قوانین کا مقصد ایک طرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو سائنسی علوم اور ان سے استفادہ کرنے سے دُور رکھا جائے اور دوسری طرف ان کی نشاۃ ثانیہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ چین نے ٹیکنالوجی میں ترقی اس بنا پر کی کہ اس نے ان استعماری قوانین کو جوتی کی نوکھ پر رکھا، اور سائنسی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کو برداشت نہیں کیا۔ آج بھارت جو ایڈز کی دوا 50ڈالر میں تیار کر رہا ہے وہی دوائی امریکہ 1200ڈالر میں فروخت کرتا ہے۔ اور اس نے انھیں قوانین کی مدد سے بھارت کو اس کی تیاری سے روک دیا ہوا ہے۔ کئی مسلمان ممالک آج بھی جدید ٹیکنالوجی کے حامل فائٹر جہاز ، آبدوزیں، اور کمیونیکیشن سسٹم بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن انھیں قوانین کے باعث بنانے سے قاصر ہیں۔
    یہاں اس امر کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ مغرب نے مسلمانوں کی جن ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر اپنی بلڈنگ کھڑی کی ہے، انھوں نے مسلمانوں کو اس کے لئے ایک دھیلا ادا نہیں کیا۔ کیا آج تمام سافٹ وئیر جن کمپیوٹر لینگویجز سے بنائیں جاتے ہیں ان سب کی بنیاد 0اور 1نہیں؟ آج تک مغرب نے الخوارزمی کی اولاد کو 0 (زیرو) اور algorithmکو استعمال کرنے کی کتنی رقم ادا کی ہے، جو کہ الخوارزمی کی ایجاد ہے؟ بوعلی سینا کی بائیولوجی آخر کتنی رائلٹی کی مستحق ٹھہری ہے؟ اجو حامد الغزالی، ابن رشد، البتانی، ثابت ابن قرّعہ،الخلیلی، البیرونی، الفرحانی، الجہاز، الکندی، جابر بن حیان، ابن الہیثم، الرازی، الزراوی وغیرہ جیسے سائنسدانوں کی اولاد میں سے کس کی اجازت سے ان کا علم استعمال کیا گیا؟ کیا مغرب اس سلسلے میں کوئی ثبوت پیش کرے گا؟
    جہاں تک ایک مصنف یا موجد کو اس کی تخلیق کا مناب معاوضہ ملنے کا تعلق ہے ، ریاست خلافت اس کیلئے مناسب اقدامات کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی خلافت مصنفین کو سونے میں تول کر ، تخلیقی کام کا بدلہ دیا کرتی۔ اسی طرح دوسرے اقدامات کئے جا سکتے ہیں جو ان قابل لوگوں کو علم اور ریسرچ کی ترغیب دے۔ تاہم ایک مسلمان کی پہلی ترجیح یقینااللہ کی رضا ہوتی ہے۔ آج یہ کاپی رائٹ کا ہی نتیجہ ہے کہ مشہور انگریزی گیت نگار Alvis Presleyجس کی موت کو 39سال ہو گئے ہیں اس کے ریکارڈز کی رائلٹی آج بھی سالانہ 36ملین ڈالرہے۔ اسی طرح بل گیٹ کی دولت 45%امریکیوں کی دولت سے زیادہ ہے۔ اور اس کی تین پارٹنروں کی دولت ملائی جائے تو وہ 41قوموں کی مجموعی GDPسے زیادہ ہے۔ کیا وہ لوگ جنہوں نے Linuxسسٹم بنایا اور اسے کاپی رائٹ نہیں کیا وہ ارب پتی نہیں؟ پس یہ دلیل کہ ان کا حق انھیں نہیں ملے گا ، قابل توجہ نہیں۔
    آخر میں یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ ہماری موجودہ حکومت نے استعمار کی چاکری میں Intellectual Property Organization(IPO) کا آرڈیننس جاری کر کے اس کے لئے ایک ادارہ بنا دیا ہے ۔ تاکہ عوام کو جو چند ایک اشیا مناسب قیمتوں پر مل رہیں ہیں وہ بھی مہنگے داموں ملے اور سائنسی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہو۔ مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ ان قوانین کی پابندی نہ کریں اور ان کو ختم کر دیں، کیونکہ یہ قوانین اسلامی نہیں، ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ مستقبل کی خلافت بہرحال ان قوانین کو ہر گز قبول نہیں کرے گی۔
    (محمد یاسر)
     
  10. ‏نومبر 18، 2018 #20
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کاپی رائٹ کی غیر موجودگی میں نظام کیسے چلے گا اس کے درجنوں سلوشن موجود ہیں۔
    مسئلہ یہ ہے کہ حکم اس بنیاد پر نہیں بدلتا کہ کچھ لوگوں کو نقصان ہوگا حکم دلیل سے ہی آنا چاہیے۔
    ہم حالات کو اسلام کے مطابق بدلتے ہیں اسلام کو حالات کے مطابق نہیں بدلتے۔
    یہ تمام برینڈڈ ڈیزائنر کپڑوں کے ریپلکا بازار میں پڑے ہیں تو کیا ڈیزائنر کلوتھ والے بھوکے مر رہے ہیں۔
    ہمارے جیسے ملکوں میں اگر دوائیاں پیٹنٹ اور کاپی رائٹ کے باعث کاپی نہ کر سکے تو یہاں لاکھوں لوگ مر جائیں۔
    چونکہ یہاں کتابوں کی لوگ فوٹو کاپی بنا لیتے ہیں اس لئے یہاں پر پبلشر منہ مانگے منافع نہیں کما پاتے بلکہ مناسب منافع کما سکتے ہیں۔ مغرب میں تو ایک کتاب ایک دوائی ایک ایجاد یا ایک سافٹ ویئر ایک بار بنا لیا تو آپ کی سات نسلیں عیاشی کرتی ہے جبکہ عوام رول رہی ہوتی ہے۔
    بل گیٹس ہمارے سامنے ہے۔
    اگر میں ہونڈا گاڑی یا کسی دوائی کی کاپی بنا لوں تو کیا اوریجنل والے کا مال نہیں بکے گا۔
    کیا سافٹ وئیر کے اندر ٹائم بم نہیں لگائی جاسکتی، کیا اور جنرل چیزوں کو اپڈیٹ یارپیئر کی ضرورت نہیں ہوتی، غرض یہ کہ اس کے درجنوں حل موجود ہیں لیکن میرا اصل اعتراض اس سوچ پر ہے کہ ہم کچھ لوگوں کے فائدے یا نقصان سے بچنے کے لئے اسلام کو بدلنا چاہتے ہیں۔
    محمد عمران​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں