1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تجویز کاپی رائیٹس اور مصنفین سے اجازت مصنفین سے اجازت لے کر کتابین اپلوڈ کرین

'تجاویز، آراء اور شکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از Abdul Haseeb, ‏اگست 29، 2016۔

  1. ‏نومبر 28، 2018 #31
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,683
    موصول شکریہ جات:
    8,304
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کاپی رائٹس کی شرعی حیثیت :
    ابوبکر قدوسی
    پچھلے دنوں پی ڈی ایف کے حوالے سے میں نے ایک مضمون لکھا تو اس سے ایک بحث کا سلسلہ شروع ہوا ، جس میں مختلف احباب نے اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر کا اظہار کیا - جو دوست اس کے غلط ہونے کے قائل نہیں ہیں وہ اب کاپی رائٹس کی شرعی حیثیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں - ظاہر ہے احباب کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں بچتا - کیونکہ اگر کتاب کے کاپی رائٹس ہی ختم ہو جائیں تو پی ڈی ایف کی پھر بھلا کیا ممانعت -
    ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبردِ عشق میں زخمی
    نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے، نہ ٹھہرا جائے ہے
    ہمارے دوست کہتے ہیں کہ
    " متقدمین فقہاء کے زمانے میں کاپی رائٹس کا مسلہ ہی نہیں تھا "
    لیکن اس وقت پبلشنگ کا کوئی کاروبار بھی تو نہ تھا - تب کتاب چھپتی نہیں تھی مشقت جان گسل کے بعد نقل کی جاتی تھی - کسی سے ادھار کتاب لے کے مہینوں میں نقل کی جاتی اور استعمال کی جاتی -
    البتہ اس بات کا سراغ ملتا ہے کہ اس نقل کو لوگ کاروبار کے طور پر بھی کیا کرتے - قران کریم کی کتابت اور کتابت شدہ نسخوں کی خرید و فروخت تب بھی مروج تھی ، بلکہ اورنگ زیب کے بارے میں تو یہ لطیفہ مشہور ہے کہ وہ اسی کمائی سے گھر چلاتے تھے - یہ خرید و فروخت کا سلسلہ تب تک رہا جب تک چھاپہ خانہ ایجاد نہیں ہو گیا -
    البتہ اصول حدیث میں ایک ایسا اصول موجود ہے جو ضرور کاپی رائٹس کی طرف رہنمائی کرتا ہے - وہ یہ کہ اگر کوئی استاد یا امام اپنی کتاب کسی کو دیتا ہے بھلے وہ اس کا دوست ہو ، ہم عصر ہو یا شاگرد ہو ، وہ اس کو پڑھ تو سکتا ہے لیکن آگے کسی سے روایت نہیں کر سکتا - اس کو مثال سے یوں سمجھئے :
    اگر امام احمد بن حنبل اپنے لائق ترین شاگرد امام بخاری کو اپنی کتاب مسند کا ایک نسخہ بطور مطالعہ مرحمت کرتے ہیں لیکن آگے روایت کرنے کی اجازت نہیں دیتے تو امام بخاری اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اس میں سے آگے کوئی بات روایت نہیں کریں گے - اب اگر ایسا کرتے ہیں تو ، باوجود انتہائی ثقاہت کے ، امام بخاری کی اس بات کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا ، بلکہ باوجود اس ثقاہت تمام تر کے امام بخاری کی اس حدیث کو ضعیف کہا جائے گا -
    اور یاد رکھئے گا یہ روایت اپنی سند میں عالی ترین بھی ہو ، سلسلہ الذھب ہو ، لیکن اس سونے کی لڑی کو رد کر دیا جائے گا - صرف اس سبب سے کہ صاحب کتاب نے اس کو آگے پھیلانے کی اجازت نہیں دی - میرا نہیں خیال کہ اس کو کاپی رائٹس کے علاوہ کوئی نام دیا جا سکتا ہے - اور اگر اسے کاپی رائٹس شمار نہہ کیا جائے گا تو پھر اسے کتمان علم کہا جا سکتا ہے ؟
    ایک دلیل دوست یہ بھی دیتے ہیں کہ علم مال نہیں ہے اور چوری تو مال کی ہی ہوتی ہے -
    --------------
    فقہاء کا اصل اختلاف مال کی تعریف میں ہے کہ مال کسے کہتے ہیں اور کیا ذہنی اور علمی کدوکاوش مال کہلائی جا سکتی ہے؟ اگر ہم فنی اور ٹیکنیکل تعریفات سے بچتے ہوئے سادہ الفاظ میں وضاحت کریں تو حنفیہ کے نزدیک مال سے مراد وہ شیء ہے کہ جسے محفوظ (preserve) کیا جا سکے تو ظاہری بات ہے کہ یہ مادی شیء ہو گی لہذا علم، مال میں شامل نہیں ہے۔ مالکیہ کے ہاں مال سے مراد وہ شیء ہے کہ جس کی ملکیت (ownership) حاصل ہو سکے۔ اور حنابلہ اور شوافع کے نزدیک مال سے مراد وہ شیء ہے کہ جس میں کسی قسم کی منفعت (benefit) ہو۔
    --------------
    ہمارے دوست نے مال کی اس فقہی تعریف سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ علم مال نہیں ، اور چونکہ مال نہیں سو اس کے حقوق بھی محفوظ نہیں -گو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کی کا دلیل ہے کہ مال کے سوا دوسری شے کا بنا اجازت سرقہ جائز ہے لیکن اس سوال کو موخر کر کے آگے بڑھتے ہیں -
    حنفیہ کی تعریف کے مطابق مال محفوظ ہو جانے والی شے ہے تو اس کا ظاہری نتیجہ یہ ہے کہ محفوظ تو صرف مال ہوتا ہے ..لیکن یہ نتیجہ درست نہیں کیونکہ علم کا محفوظ ہونا ثابت ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ محفوظ ہونا صرف مادی اشیاء کی صفت نہیں - علم کے محفوظ ہونے کی کئی صورتیں ہیں - مادی شے تو اصل میں علم کے محفوظ ہونے کی تدبیر ہے - کاغذ ، سیاہی ، ہارڈ ڈسک ، حتی کہ دماغ سب مادی اشیا ہیں لیکن محفوظ علم کو ہی کر رہی ہیں ، سو فقہ حنفیہ کے تحت محفوظ ہونے کی شرط پر علم پورا اترتا ہے -
    مالکیہ کے نزدیک مال کی تعریف " اونر شپ " یعنی ملکیت مال ہے اس تعریف پر بھی علم پورا اترتا ہے اوپر امام بخاری اور ابن حنبل کی مثال اونر شپ کی گواہی ہی تو دے رہی ہے - بندہ اپنی ملکیت کسی شے کی نشر و اشاعت سے ہی تو روک سکتا ہے - جو شے بندے کی ملکیت میں ہی نہ ہو وہ اس پر کس طرح پابندی لگا سکتا ہے - سو یہ پابندی بھی ملکیت کے سبب ہی ہے -
    حنابلہ اور شوافع کے نزدیک مال وہ ہے جس سے منفعت حاصل ہو سکے ، اور دور حاضر ہی کیا ، دور ماضی میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں - قران کی تعلیم کیا علم کی تعلیم نہیں اور اس پر اجرت لینا اور اس اجرت کو بہترین کہنا کیا علم کی ظاہری اور مادی منفعت نہیں؟؟ -
    بعض احباب قران کی تعلیم پر لیے گئے معاوضے کو "حق خدمت " کہہ کے اس کے اجرت ہونے سے انکار کرتے ہیں - یہ وہی صورت ہے جو ہمارے دیہات میں گلی گلی چل پھر کے قران بیچنے والے اختیار کرتے ہیں - یہ لوگ اردو بازار سے قران خریدنے آتے ہیں جہاں ان کو پھیری والے کہا جاتا ہے - یہ پھیری والے جب دیہاتوں میں جاتے ہیں تو خواتین ان کا خاص ہدف ہوتی ہیں کہ سادہ لوح جو ہیں - اگر کوئی خاتون " بھولے سے " کہہ اٹھے کہ "بھائی اس کے کتنے پیسے ہیں " تو جھٹ سے بول اٹھتے ہیں :
    " توبہ توبہ ..بی بی قران کے پیسے نہیں ہوتے ، ہدیہ ہوتا ہے باجی ہدیہ"
    اور پھر چھے گنا زیادہ "ہدیہ " لے کر رخصت ہوتے ہیں - سو احباب پیسے پیسے ہوتے ہیں آپ ان کو "حق خدمت " کہہ لیجئے " ہدیہ " بول لیجئے یا ہماری طرح قیمت کہہ لیجئے -
    بہرحال ان فقہی تعریفات سے ثابت یہی ہوتا ہے کہ علم بھی مال کی ہی ایک قسم ہے - جن دلائل سے نتیجہ نکالا گیا کہ علم مال سے الگ کوئی شے ہے حالانکہ انہی دلائل سے علم کا مال ہونا ثابت کیا جا سکتا ہے -
    بس فرق اتنا ہے پہلے علم ایسی دولت ہوتا تھا جو چوری نہیں ہوتی تھی ، اب ہو جاتی ہے -(جاری ہے )
     
  2. ‏نومبر 28، 2018 #32
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,683
    موصول شکریہ جات:
    8,304
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کاپی رائٹس کی شرعی اور فقہی حیثیت

    [قسط سوم]
    حافظ زبیر
    پھر آپ ذراغور کریں کہ کاپی رائٹس کیا مالی حقوق ہیں؟ تو ان کی نوعیت سے واضح ہوتا ہے یہ مالی نہیں بلکہ ایسے ملکیتی حقوق ہیں کہ جن کا مقصد مال کمانے سے زیادہ علم کی نشر واشاعت کو روکنا ہے۔ آپ ذرا پیٹنٹس (patents) کے قوانین کو دیکھ لیں کہ کیا ہیں؟ پیٹنٹس (patents) کے قوانین کے مطابق اگر کسی شخص نے کچھ ایجاد کیا ہے تو اس ایجاد کا استعمال، اس کی تیاری، اس کی فروخت یہاں تک کہ اس میں بہتری لانے کے لیے اس میں تبدیلی بھی منع ہے، کم از کم بیس سال کے عرصے تک کے لیے۔ تو آپ اس کے مالی حقوق کے تحفظ کے نام پر علم کی نشر واشاعت پر قدغنیں لگا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کی ایک جماعت جو کاپی رائٹس کی قائل ہے، وہ بھی اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اگر کسی شخص کا مقصد علم کی نشر واشاعت ہو اور تجارت نہ ہو تو وہ کسی مصنف کی اجازت کے بغیر بھی اس کی کتاب کی کاپی کر سکتا ہے یا کسی کو دے سکتا ہے۔ شیخ محمد بن صالح العثیمین، شیخ صالح المنجد وغیرہ سے ایسے ہی فتاوی منقول ہیں۔
    پیٹنٹس (patents) کے قوانین کے مطابق اگر کسی فارماسوٹیکل کمپنی کے ریسرچر نے کسی بیماری کی کوئی دواء ایجاد کر لی ہے تو اب اس کمپنی ہی کے پاس اس دواء کے ملکیتی حقوق ہیں۔ پس فارماسوٹیکل کمپنی اس کو مہنگے داموں فروخت کریں اور اب وہی کمپنی وہ دواء تیار کر سکتی ہے اور اس کی من چاہی قیمت لے سکتی ہے۔ اب وہ دواء غرباء کی پہنچ سے دور رہے گی، لاکھوں کی اموات ہوں گی لیکن کاپی رائٹس کا قانون زندہ باد۔ بھئی دواء اگر آپ نے بنائی ہے تو بیماریاں بھی تو آپ نے ہی پیدا کی ہیں ناں تو کوئی احسان تو نہیں کیا آپ نے۔ پہلے آپ نے ترقی کے نام پر انڈسٹری لگائی، ہماری آب وہوا، فضاء، پانی اور کھانوں کو زہریلے کیمیکلز سے آلودہ کیا کہ جسے نت نئی بیماریاں پیدا ہوئیں۔ اب ان کا علاج دریافت کر لیا تو اس علاج پر آپ کی اجارہ داری قائم ہے، کمال ہے۔ اور تو اور کوئی ریسرچر اگر یہ چاہے کہ وہ اس دواء پر ہوئی ہوئی ریسرچ پر ریسرچ کر لے تو اس کی بھی اجازت لینی پڑے گی یعنی اب آپ کسی کے بنائے ہوئے فارمولاز پر مزید ریسرچ بھی نہیں کر سکتے کہ اس کی اصلاح کر لیں یا اس سے بہتر فارمولا لے آئیں۔
    یہی حال سافٹ ویئر کی انڈسٹری کا بھی ہے کہ آپ کسی سافٹ ویئر میں اس مقصد سے تبدیلی بھی نہیں کر سکتے کہ اس کا پہلے سے اپ ڈیٹڈ یا بہتر ورژن لے آئیں کہ یہ حق صرف اسی حاصل ہے کہ جس نے وہ سافٹ ویئر پہلی مرتبہ بنایا تھا کہ وہی اس میں تبدیلی اور بہتری لا سکتا ہے اوراگر اسے کوئی تبدیلی یا بہتری نہیں سوجھتی تو وہ سافٹ ویئر پڑا رہے، ہمیں اس سے کیا غرض کہ اب اس سرمایہ دارانہ نظام میں اصل مقصد حیات (purpose of life)، سرمایے اور مال میں اضافہ ہے نہ کہ علم وفکر کی نشر واشاعت۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں اسی بات کو بنیاد بنا کر کہ کاپی رائٹس کے قوانین سے علم کی نشر واشاعت رک جاتی ہے اور ایجادات کا پہیہ سست پڑ جاتا ہے، کاپی لیفٹ (copy left) کی تحریک چلائی گئی۔
    کاپی لیفٹ کی تحریک کا مقصد یہ نہیں تھا کہ آپ اپنا سافٹ ویئر ڈیزائن کرنے کے بدلے کوئی رقم یا اجرت وصول نہ کریں۔ آپ ضرور کریں کہ یہ آپ کا حق ہے کہ آپ نے محنت کی ہے لیکن اس تحریک اصل مقصد یہ تھا کہ آپ اپنی تصنیف، ایجاد اور اختراع پر اجرت لینے کے ساتھ ایسے حقوق کا دعوی نہ کریں کہ جس سے علم کی نشر واشاعت کو نقصان پہنچے۔ لہذا فری سافٹ ویئر فاؤنڈیشن نے جی این یو (GNU) کے نام سے ایک آپریٹنگ سسٹم بھی بنایا کہ جس کے کوئی کاپی رائٹس نہیں تھے اور بعد میں لینکس (LINUX) کے کاپی رائٹ فری ورژن میں اس کے کمپونینٹس کو استعمال بھی کیا گیا۔
    تو علم تو اصل میں وکی پیڈیا کی طرح انسانوں کی ایک مشترک میراث تھی اور ہے لیکن کچھ لوگوں نے اسے ذاتی میراث بنا لیا ہے۔ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ علم کسی کی ذاتی میراث نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے، یہ مقدمہ ہی غلط ہے۔ آپ اپنی محنت اور خدمت کی اجرت لے سکتے ہیں لیکن اپنی ایجاد اور تصنیف کے پیچھے موجود علم کی وراثت نہیں۔ مطلب آپ کہتے ہیں کہ سائنس اور سائنسی ایجادات میں نیوٹن اور اس جیسے سینکڑوں سائنسدانوں کا تو کوئی ملکیتی حصہ نہیں ہے جو سائنس کے ابا جی تھے لیکن آج کل کے چھوکروں کو تمام ملکیتی حقوق حاصل ہیں کہ جنہوں نے سائنس کی عمارت کی چھت کا صرف پلستر سیدھا کیا ہے۔ اور یہی حال علوم اسلامیہ کا بھی ہے کہ ان اسلامی علوم کی چودہ صدیوں میں کھڑی ہونے والی عمارت کی تعمیر میں آج کے محققین کا کتنا حصہ ہے کہ وہ اس عمارت کی چھت کے پلستر پر ملکیتی حقوق کا دعوی کر رہے ہیں۔
    تو بات یہ بھی ہے کہ میں نے بازار سے ایک کتاب خریدی ہے، اس کی قیمت ادا کی ہے۔ اب یہ کتاب میری ملکیت ہے، میں اس کا جو مرضی کروں۔ میں اسے کسی کو آگے بیچ دوں، میں اس کو پھاڑ دوں، میں اس کو کسی دوست کو تحفے میں دے دوں، میں اسے لائبریری میں رکھوا دوں۔ اب میں اس خریدی ہوئی کتاب کو اگر پبلک لائبریری میں رکھوا دیتا ہوں تو مصنف کو مالی نقصان ہو گا یا نہیں؟ تو نقصان ضرور ہو گا کہ لائبریری میں وہ کتاب ہزاروں لوگوں کی رسائی میں ہو گی تو وہ کتاب نہیں خریدیں گے۔ تو اب کتاب کو لائبریری میں رکھوانے پر بھی پابندی کا قانون بنوا لینا چاہیے کیا؟ تو اس قسم کی دلیلیں کاپی رائٹس کے حق میں دی جاتی ہیں۔
    اچھا یہ بتلائیں کہ جب آپ نے کتاب بیچی ہے تو کس چیز کی قیمت وصول کی ہے؟ گتے، کاغذ اور روشنائی اور کتابت کی یا کتاب میں موجود مواد کی۔ اگر پہلی چیز کی قیمت وصول کی ہے تو ذرا بغیر مواد کے خالی صفحات کی کتاب فروخت کر کے دیکھیں؟ اور اگر دوسری چیز کی قیمت وصول کی ہے تو بغیر گتے، کاغذ، روشنائی اور کتابت کے ذرا علم کا سودا کر کے دیکھیں۔ تو در اصل آپ نے دونوں چیزوں کی قیمت وصول کی ہے۔ بھئی آپ نے مجھے وہ کاغذ، گتا اور روشنائی بھی بیچی ہے اور اس کتاب میں موجود مواد بھی بیچ دیا۔ آپ اپنا علم بیچ چکے، اب یہ آپ کا نہیں رہا، اب یہ میرا علم ہے۔ اب آپ کی پچ (pitch) پر بات ہو رہی ہے۔ [جاری ہے]
     
  3. ‏نومبر 28، 2018 #33
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,683
    موصول شکریہ جات:
    8,304
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کاپی رائٹس کی شرعی اور فقہی حیثیت

    [قسط چہارم]
    حافظ زبیر
    تو کاپی رائٹس کے قائلین سے سوال یہ بھی ہے کہ آپ کی نظر میں کاپی رائٹ شرعی حق ہے یا قانونی حق؟ اگر تو یہ شرعی حق ہے تو قانون اس کے خلاف ہے کیونکہ پاکستانی قانون یہ کہتا ہے کہ مصنف کی زندگی اور اس کے بعد پچاس سال (author life + 50 years) شمار کر لیں تو اس دورانیے میں کاپی رائٹس کا دعوی قابل قبول ہے، اس کے بعد نہیں۔ تو قانون کی نظر میں کاپی رائٹس ایک ایسا حق ہے جو زندگی کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
    شریعت اسلامیہ میں تو ایسا نہیں ہے بلکہ ہماری شریعت میں حقوق کا اثبات، زندگی کے گرد گھومتا ہے۔ اصول فقہ کی کتابوں میں اہلیت وجوب کی بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ حق یعنی شرعی حق زندگی سے ثابت ہوتا ہے اور موت سے ختم ہو جاتا ہے لہذا وفات کے بعد کسی قسم کی اہلیت وجوب نہیں ہے یعنی وفات کے بعد مکلف کسی حق کے ثابت ہونے کا محل بننے کی اہلیت ہی کھو دیتا ہے۔
    دوسرا یہ کہ یہ حق سب کو برابر سطح پر حاصل نہیں ہے۔ مثال کے طور پاکستان میں اگر آپ نے آج کتاب پبلش کی ہے اور کل آپ کی وفات ہو گئی تو اس کتاب کے کاپی رائٹس اگلے 50 سال تک ہوں گے۔ اور اگر آپ نے آج کتاب پبلش کی اور آپ اس کے بعد 50 سال زندہ رہے تو آپ کی کتاب کے کاپی رائٹس 100 سال تک ہوں گے۔ تو یہ کیسا حق ہے کہ جس میں حق ہی متعین نہیں ہے بلکہ غیر متعین ہے۔ تو غیر متعین حق تو حق نہ ہوا بلکہ شریعت میں حق تو ہوتا ہی متعین ہے۔
    تیسری بات یہ کہ آپ کے کہنے کے مطابق اگر ہم کاپی رائٹس کے حق کو انٹیلکچوئل پراپرٹی مان لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پراپرٹی ہے یعنی آپ کا مال ہے لیکن آپ کی اس پراپرٹی پر آپ کا حق ملکیت وفات کے بعد بھی پچاس سال جاری رہتا ہے جبکہ شریعت اسلامیہ میں آپ کی وفات کے ساتھ ہی آپ کی پراپرٹی، کل جائیداد اور مال کی ملکیت آپ کے ورثاء کو منتقل ہو جاتی ہے لیکن قانون پچاس سال بعد ان ورثاء کا مال ان سے لے کر اسے پبلک پراپرٹی بنا دیتا ہے تو یہ شرعا کیسے جائز ہو گیا؟
    پھر امریکہ میں یہ قانون ہے کہ 1923ء سے پہلے کی جو تصنیف اور ایجاد ہے، وہ پبلک پراپرٹی ہے۔ تو یہ کیا بات ہوئی! یہ شرعا کیسے جائز ہو گیا کہ ایک حق کو ہم 1923ء میں تو تسلیم کر لیں لیکن اس پہلے نہیں۔ ہم جس نے 1440ء میں پرنٹنگ پریس ایجاد کیا ہے یعنی گوٹن برگ، اس کا حق ماننے تو تیار نہیں ہیں کہ جس کی ایجاد کو پچھلے ہزار سال کی ایجادات میں بہترین ایجاد کا مقام دیا گیا لیکن اس پرنٹنگ پریس سے شائع ہونے والی ایک کتاب کا حق مان رہے ہیں۔ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر تو آپ اسے شرعی حق سمجھتے ہیں تو کاپی رائٹس کے قوانین کو شریعت کے مطابق کرنے کے لیے آواز بلند کریں نہ کہ انہی رائج قوانین کو ہی اپنے موقف کی دلیل بنا لیں۔
    اور اگر یہ قانونی حق ہے تو قانونی حق ضروری نہیں کہ شریعت کے موافق ہی ہو۔ یہ شریعت کے موافق بھی ہو سکتا ہےاور متصادم بھی۔ اگر تو ریاست کی طرف سے مباحات کے دائرے میں قانون سازی کی جائے جیسا کہ ٹریفک کے قوانین وغیرہ تو ان معاملات میں ظاہری اور باطنی دونوں طور نظم کی پابندی ضروری ہے۔ لیکن اگر ریاست کا قانون ہی آپ کی نظر میں شرعی تعلیمات سے متصادم ہو تو پھر اس کے ظاہر کی پابندی ہو گی، وہ بھی اس وجہ سے کہ ریاست کروائے گی لیکن باطنی پابندی ضروری نہیں ہے۔ اس کی مثال ٹیکس کے قوانین ہیں جو کہ شرعا جائز نہیں ہیں لہذا علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی شرعی خلاف ورزی سے بچتے ہوئے کسی حیلے بہانے سے ان سے بچ سکتے ہیں تو بچ جائیں، ورنہ انہیں پورا کریں۔
    رہی یہ بات کہ کاپی رائٹس میں خرید وفروخت کچھ شرائط کے ساتھ ہوتی ہے لہذا ان شرائط کی پابندی ضروری ہے تو شرائط کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو صحیح ہیں اور عائد کی جا سکتی ہیں اور دوسری وہ جو فاسد ہیں یعنی ان کا لگانا درست نہیں ہے۔ صحیح شرائط وہ ہیں جو کتاب وسنت کے موافق ہوں اور فاسد شرائط وہ ہیں جو کتاب وسنت کے مخالف ہوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ۔ ترجمہ: ہر وہ شرط جو اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو تو وہ باطل (void) ہے، چاہے سو ہی کیوں نہ ہوں۔
    تو یہ کہنا کہ ہم نے کتاب اس شرط کے ساتھ بیچی ہے کہ اس کی کمپوزنگ نہیں بیچی بالکل بے کار بات ہے۔ کمپورنگ سے مراد یا تو مہارت (skil) ہے جو کہ بیچی نہیں جاتی بلکہ سکھائی جا سکتی ہے اور اس سکھانے کا عوض یا فیس لی جا سکتی ہے اور دوسرا اس سے مراد کتاب کا مواد (composed material) ہے۔ تو یہ کہنا کہ ہم نے کتاب بیچی ہے، اس کی کمپوزنگ نہیں، ایسے ہی ہے جیسا کہ کوئی بڑھئی کہے کہ میں نے میز بیچی ہے، اس کی لکڑ نہیں۔ تو بھئی تم نے میز کے نام پر بیچا کیا ہے؟ دس پندرہ کیل اور گِلو؟ تو ذرا کسی کو اپنی کتاب کا مواد نکال کر بیچیں تو سہی کہ وہ آپ سے خالی کاغذ اور گتا خرید لے۔ کچھ تو معقول بات کریں۔ ایک ہی جیسے کاغذ، گتے اور صفحات پر مشتمل کتابوں کی قیمت میں فرق اصلا ان کے مواد کی وجہ سے ہی ہوتا ہے تو خریدار مواد کی قیمت ادا کرتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ آپ نے مواد نہیں بیچا تو کیا آپ نے وہ مواد کسٹمر کو کرائے پر دیا ہے؟ [جاری ہے]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں