1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کتاب وسنت میں افتاء کا لفظ کسی کی طرف منسوب ہوکر آیا ہے؟ (اصول الفقہ)

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏نومبر 27، 2011۔

  1. ‏نومبر 27، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    کتاب وسنت میں افتاء کا لفظ کسی کی طرف منسوب ہوکر آیا ہے؟:

    کتاب مقدس قرآن مجید فرقان حمید میں افتاء کا لفظ اللہ رب العالمین کی طرف منسوب ہوکر آیا ہے۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: ﴿ قُلِ اللَّهُ يفْتِيكُمْ ﴾ [النساء:127] اللہ تبارک وتعالیٰ تمہیں فتوی دیتے ہیں۔

    اسی طرح قرآن مجید میں قرآن کی طرف منسوب ہوکر بھی آیا ہے۔ جیسا کہ رب کائنات کے اس فرمان میں ہے: ﴿ وَمَا يُتْلَى عَلَيكُمْ فِي الْكِتَابِ ﴾ [النساء:127] اور جو کچھ تم پر کتاب میں سے پڑھا جاتا ہے۔یعنی وہ تمہیں فتوی دیتا ہے۔

    نبی پاک ﷺ کی سنت مطہرہ میں یہ لفظ لوگوں کی طرف منسوب ہوکر آیا ہے ۔ جیسا کہ آپﷺ کے اس فرمان گرامی میں ہے: «والإثم ما حاك في النفس وتردد في الصدر وإن أفتاك الناس وأفتوك» اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور سینے میں تردد پیدا کرے اگرچہ لوگ تجھے اس کے متعلق خود فتوی دے دیں یا کہیں سے لا کر دے دیں۔

    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں