• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کتاب: ڈاکٹر ذاکر نائک کی اہل حدیثوں پر تنقیدوں کے جواب - اہل علم کی رائے

ندوی

رکن
شمولیت
نومبر 20، 2011
پیغامات
152
ری ایکشن اسکور
328
پوائنٹ
57
ڈاکٹر ذاکر نائیک کا قائم کردہ اسلامک اسکول بھی ایک منفرد اسکول ہے۔ اس اسکول کے قیام سے قبل ڈاکٹر ذاکر نے دنیا بھر میں قائم ”اسلامی اسکولوں“ کا دورہ کیا اور ایک منفرد اسکول کی بنیاد رکھی۔ اس اسکول میں:
١۔ عربی زبان کی تعلیم اس طرح دی جارہی ہے کہ اس اسکول کے طلباء عربی لکھنے پڑھنے کے علاوہ بولنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔
٢۔ انگریزی زبان کی تعلیم اس طرح دی جارہی ہے کہ اس کے طلباء انگریزی لکھنے پڑھنے کے علاوہ بولنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔
٣۔ طلباء کو سینکڑوں ہزاروں کے مجمع مین عربی اور انگریزی میں یکساں مہارت سے تقریر کرنے کی صلاحیت پیدا کی جارہی ہے۔
٤۔ طلباء کو قرآن بھی حفظ کروایا جارہا ہے۔ اور میٹرک کرنے سے پہلے پہلے طلباء حفظ مکمل کرلیتے ہیں۔
٥۔ اسکول سے میٹرک، او لیول، انترنس اور اے لیول کی اسناد دینے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
٦۔ اس اسکول سے اے لیول کرنے والے طلباء اپنی پسند اور چوائس کے مطابق مدینہ یونیورسٹی میں بھی داکلہ کے اہل ہیں اور امریکہ، برطانیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کی کسی بھی عالمی سطح کی یونیورسٹی میں داخل ہوسکتے ہیں۔
٧۔ اس اسکول سے فارغ ہونے والے طلباء ، حافظ قرآن اور عربی زبان میں سمجھ بوجھ رکھنے کے سبب بنیادی اسلامی تعلیمات سے آگہی بھی رکھتے ہیں اورقرآن و حدیث کے براہ راست ”مطالعہ“ (صرف ناظرہ نہیں) کی اہلیت بھی۔ اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے میڈیکل، انجینئرنگ، لاء اور دیگر عصری علوم کی اعلیٰ تعلیم کے لئے بین الاقوامی جامعات کا رُخ بھی کر سکتے ہی اور اسلامی تعلیمات میں اختصاص کے لئے بین الاقوامی اسلامی جامعات میں بھی داخل ہوسکتے ہین۔
حقیقت یہ ہے کہ جولوگ تعلیم اوراس کے متعلقات سے واقفیت رکھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بچوں پر اس طرح کا بوجھ کتنے ذہنی دباؤ کا سبب بن جاتاہے۔ آپ بھلے ہی عربی زبان انگلش زبان اردو زبان اورمقامی زبان سب کو شامل درس کردیں اوراپنی پیٹھ بھی خود ہی ٹھونک لیں لیکن طالب علم اورخاص طورپر بچوں پر اس کے مضراثرات ہوتے ہیں۔
اسکول انگلش میڈیم ،عربی زبان کاایک پرچہ،مقامی زبان مراٹھی بھی شاید نصاب میں شامل ہو،اورکم ازکم ہندی کاایک پرچہ توضرور ہوگا کیونکہ وہ قومی زبان ہے۔
آپ سوچیں کہ ایک بچے پر غیرضروری طورپر کتنا زیادہ بوجھ پڑگیاہے۔اس کو ماہرین تعلیم بچوں کے ذہنی نشوونما کیلئے نقصاندہ قراردیتے ہیں اس سے بچوں پر غیرضروری طورپر بوجھ پڑتاہے ۔صحیح طریقہ تعلیم یہ ہے کہ بنیادی طورپر مادری زبان میں تعلیم دی جائے اوربعد میں رفتہ رفتہ دیگر زبانیں سکھائی جائیں۔
اس کیلئے تعلیم سے فراغت کے بعد بھی ایک دوسال مختص کئے جاسکتے ہیں لیکن دوران تعلیم دوتین چار زبانو ں کا ایک ساتھ اختلاط نہایت نقصاندہ ہے۔جہاں تک حفظ قرآن کریم کی بات ہے تو وہ تووہاں کا کوئی واقف کارہی بتاسکتاہے کہ کیسے حافظ ہوں گے؟عمومی تجربہ یہ ہے کہ اس طرح اسکولوں میں حفظ قرآن کا کوئی معتدبہ نفع نہیں ہوتا اورنہ ہی ان کاحفظ اس قدررواں ہوتاہے کہ وہ چارپانچ پارے ایک نشست مین سناسکیں۔ایک نشست میں پوراقرآن سنانے کی بات تو بہت دور کی ہے۔
 

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,807
پوائنٹ
376
باذوق بھائی! جب فرصت ملے تو ہمیں بھی آگاہ کیجئے گا کہ اس کتاب میں آپ کو کون سی بات دلچسپ لگی؟ ۔ چند صفحات پر مبنی ایک مضمون جتنی طوالت والے ” متن“ کو کھینچ تان کر ایک کتاب میں پھیلا کر پیش کرنے کا مؤلف کو اس کے سوا اور کیا فائدہ ہوا کہ ڈاکٹر ذاکر کی مخالفت کے نام پر ایک کتاب کی فروخت سے چند ٹکے حاصل ہوگئے۔ (
نیت پر حملہ۔۔۔۔۔۔۔؟
 

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,807
پوائنٹ
376
ڈاکٹر ذاکر نائیک کا قائم کردہ اسلامک اسکول بھی ایک منفرد اسکول ہے۔ اس اسکول کے قیام سے قبل ڈاکٹر ذاکر نے دنیا بھر میں قائم ”اسلامی اسکولوں“ کا دورہ کیا اور ایک منفرد اسکول کی بنیاد رکھی۔ اس اسکول میں:
١۔ عربی زبان کی تعلیم اس طرح دی جارہی ہے کہ اس اسکول کے طلباء عربی لکھنے پڑھنے کے علاوہ بولنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔
٢۔ انگریزی زبان کی تعلیم اس طرح دی جارہی ہے کہ اس کے طلباء انگریزی لکھنے پڑھنے کے علاوہ بولنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔
٣۔ طلباء کو سینکڑوں ہزاروں کے مجمع مین عربی اور انگریزی میں یکساں مہارت سے تقریر کرنے کی صلاحیت پیدا کی جارہی ہے۔
٤۔ طلباء کو قرآن بھی حفظ کروایا جارہا ہے۔ اور میٹرک کرنے سے پہلے پہلے طلباء حفظ مکمل کرلیتے ہیں۔
٥۔ اسکول سے میٹرک، او لیول، انترنس اور اے لیول کی اسناد دینے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
٦۔ اس اسکول سے اے لیول کرنے والے طلباء اپنی پسند اور چوائس کے مطابق مدینہ یونیورسٹی میں بھی داکلہ کے اہل ہیں اور امریکہ، برطانیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کی کسی بھی عالمی سطح کی یونیورسٹی میں داخل ہوسکتے ہیں۔
٧۔ اس اسکول سے فارغ ہونے والے طلباء ، حافظ قرآن اور عربی زبان میں سمجھ بوجھ رکھنے کے سبب بنیادی اسلامی تعلیمات سے آگہی بھی رکھتے ہیں اورقرآن و حدیث کے براہ راست ”مطالعہ“ (صرف ناظرہ نہیں) کی اہلیت بھی۔ اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے میڈیکل، انجینئرنگ، لاء اور دیگر عصری علوم کی اعلیٰ تعلیم کے لئے بین الاقوامی جامعات کا رُخ بھی کر سکتے ہی اور اسلامی تعلیمات میں اختصاص کے لئے بین الاقوامی اسلامی جامعات میں بھی داخل ہوسکتے ہین۔

برادرم کفایت اللہ کا تعلق غالباً ممبئی ہی سے ہے۔ وہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اداروں کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ ان سے گذارش ہے کہ وہ اپنی براہِ راست معلومات کی بنیاد پر ان ادارون کے مثبت اور منفی پہلوؤں کے بارے میں ہمیں مزید آگہی دیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائک کی اسکول فیس کا بوجھ صرف کروڑ پتی لوگ ہی اٹھاسکتے ہیں۔ یا پھر آپ اتنے غریب ہوں کہ زکوٰۃ کے پیسوں سے بچے کو تعلیم دلوائیے۔
آئی آر ایف کا حال ہے کہ اسٹاف سے لے کر علماء تک کوئی ڈاکٹر صاحب کی ڈکٹیٹر شپ کے آگے ٹک نہیں پاتا۔ اور یہ ڈکٹرشپ صرف انتظامی نہیں اعتقادی اور فقہی معاملات میں بھی ہوتی ہے ۔ پرانے علماء میں سے صرف تین علماء آئی آر ایف میں بچے ہیں ۔ باقی سب استعفیٰ دے کر علیحدہ ہوچکے ہیں۔
 

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,807
پوائنٹ
376
غیر مسلمین میں دعوت کا جو کام ڈاکٹر ذاکر نائک کررہے ہیں اس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔
لیکن وہ مجتہد بلکہ عالم دین بھی نہیں ہیں ۔ ان کو اپنی حدوں سے آگاہ رہنا چاہیے۔ جو وہ نہیں ہیں۔
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,383
ری ایکشن اسکور
6,754
پوائنٹ
332
میری گزارش ہے کہ یہ سب سوال اٹھانے کی بجائے آپ ان سوالات پر غور کریں جو اس کتاب میں مصنف نے اٹھائے ہیں۔ جیسے کہ کیا تابعین کی جماعت لفظ اھل سنت کے استعمال کرنے میں گمراہی پر تھی۔ اگر ذاکر نائک اس لفظ کو نہیں استعمال کرنا چاہتے خواہ کسی بھی وجہ سے تو وہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے لیکن ٢٠٠٣ سے آج تک انہوں اس لفظ کو استعمال کرنے والوں پر اپنی منطقی دلائل کی جو بمباری ہے اور عام سلفی عوام کو تذبذب میں ڈالا ہے گویا اھل حدیث بھی کوئی فرقہ ہے اس کا حق انہیں کس نے دیا۔ رہا سوال اس بات کا کہ وہ غیر مسلموں میں عالمی دعوت دے رہے ہیں تو میرا خیال ہے اس کتاب میں اس کا بھی ذکر ہے کہ کیا واقعی ایسا کہا جا سکتا ہے جبکہ ان کی تقاریر سننے والے ٩٩ فی صد افراد مسلمان ہوتے ہیں جو ان کے ہر جملے کو قرآن و سنت کی سیدھی تشریح اور عین دین کے طور پر لیتے ہیں۔ اگر غلطیوں کی گنجائش ہے تو کیا تصحیح کی کوئی گنجائش نہیں۔ کیا انہیں ارتداد کی سزا پر اپنے مؤقف پر رجوع نہیں کرنا چاہئے۔ کیا ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بارے میں جو بات انہوں نے سلفیوں میں کہی یا جو شیخ عثیمین رحمہ اللہ کے بارے میں کہی یا شیخ البانی کا مؤقف توڑ مروڑ کر پیش کیا کیا اس کی تصحیح کے لیے بھی ان کے پاس وقت نہیں جبکہ یہ باتیں ان کے علم لائی جا چکی ہیں۔ ان میں صرف غلطیاں نہیں بلکہ ڈاکٹر صاحب کا باقاعدہ مؤقف ہے جو احادیث کی تشریح کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب علماء حدیث پر آپسی اختلاف کا الزام دھرتے ہیں اور خود کو سلجھا ہوا جتاتے ہیں۔ اس طرح کے کئی اہم سوالات ہیں جو اس کتاب میں اٹھائے گئے ہیں اور دعوت غوروفکر دیتے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر صاحب کی تضحیک مقصود نہیں لیکن اگر ہم واقعی قران وسنت کے منہج سے محبت رکھتے ہیں اور اس دعوت کے لیے دل میں ہمدردی کا جذبہ بھی لیے پھرتے ہیں تو ضرور اس موضوع پر سوچیں۔ سوچیں کہ کیا ڈاکٹر صاحب کو اہلحدیث عوام کو اس طرح لتاڑنا چاہئے جیسا کہ اہل صحیح حدیث والے واقعہ میں بیان کیا گیا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ڈاکٹر صاحب لوگوں کو دعوت قران و حدیث سے جوڑ رہے ہیں تو مصنف نے اس پر بھی قلم اٹھایا ہے کہ سب سے پہلے تو ڈاکٹر صاحب کے ادارے کے طلبہ و مداحین آپ کے متعلق رائے قائم کرتے ہیں اس بنیاد پر کہ آپ غیر مسلمین کو دعوت دیتے ہیں یا نہیں وہ بھی آئی آر ایف کے طرز پر۔ مزید یہ کہ اپنی دعوت کو بڑھاچڑھاکر پیش کرنا اور دوسروں کے کام کو حقیر انداز میں بیان کرنا تو سبھی جانتے ہیں کہ یہ احمد دیدات رحمہ اللہ سے ہی مستعار لیا گیا ہے۔ جبکہ کبار اس بات پر ذور دیتے ہیں کہ پہلے اپنی اصل ذر کو بچانا اور پھر منافع کی فکر کرنا ہر ذی عقل تاجر کا کام ہوتا ہے۔ اب آپ سوچیں کہ ڈاکٹر صاحب کے ادارے سے مسلمان ہوئے افراد دین کی مزید معلومات کے لئے کس سمت رخ کرتے ہیں کیونکہ انھیں مسالک کے متعلق تو کچھ بتایا ہی نہیں جاتا۔ جبکہ کبار کہتے ہیں کہ جس طرح مذاہب میں اسلام ہے ویسے ہی مسالک میں اہل حدیث ہیں۔ اوراس سب کے بعد بھی جب ڈاکٹر صاحب خود تصحیح اور رجوع کو غیر ضروری جان کر آگے بڑھتے جا رہے ہیں یکہ بعد دیگرے مسائل کھڑے کرنے کے لیے تو اگر کوئی جواب یا عوام کی معلومات کے لیے ان مسائل کو تحریر کرے تو لوگ اسی کو کوس رہے ہیں۔ یہ طرزعمل اہل قرآن وسنہ کی طرف سے افسوسناک ہے۔ اس دعوت کی یہی تو پہچان ہے کہ یہاں شخصیت نہیں بلکہ دلیل دیکھی جاتی ہے۔
تعصب کی بھی حد ہوتی ہے

بھائی اتنے بڑے بڑے کبار علما موجود ہیں کسی نے کچھ نہیں کہا اور یہ صاحب بس ذیلی معاملات کو لے کے کھینچ تان کے پیش کر رہے ہیں جس میں دلیل نام کی کوئی چیز نہیں

سارے باطل پرستوں نے انکے خلاف آواز اٹھا دی ہے بس آپ لوگوں کی کمی تھی وہ بھی پوری ہو گی

الله ہمیں تعصب سے بچاۓ آمین
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,383
ری ایکشن اسکور
6,754
پوائنٹ
332
ڈاکٹر ذاکر نائک کی اسکول فیس کا بوجھ صرف کروڑ پتی لوگ ہی اٹھاسکتے ہیں۔ یا پھر آپ اتنے غریب ہوں کہ زکوٰۃ کے پیسوں سے بچے کو تعلیم دلوائیے۔
آئی آر ایف کا حال ہے کہ اسٹاف سے لے کر علماء تک کوئی ڈاکٹر صاحب کی ڈکٹیٹر شپ کے آگے ٹک نہیں پاتا۔ اور یہ ڈکٹرشپ صرف انتظامی نہیں اعتقادی اور فقہی معاملات میں بھی ہوتی ہے ۔ پرانے علماء میں سے صرف تین علماء آئی آر ایف میں بچے ہیں ۔ باقی سب استعفیٰ دے کر علیحدہ ہوچکے ہیں۔

بھائی اسکا کوئی ثبوت ہے آپ کے پاس یا بس سنی سنی باتوں پر افواہوں پر آپ یہ سب کہ رہے ہیں؟
کیا جو علما ذاکر نائک حفظه الله سے ہٹ گئے ہیں ان میں سے کسی نے آگے آکر یہ بات کہی ہے؟

اگر کوئی ثبوت نہیں تو پھر یہ حفظه الله پر ایک الزام ہوگا بہتان ہوگا

باقی رہی بات انکی اسکول کی تو بھائی وہاں کی تعلیم پر بھی تو بات کریں
کیسی تعلیم دی جا رہی ہے؟
کس طرح داعیوں کو مبلغین کو تیار کیا جا رہا ہے؟
اور کس طرح دینی اور عصری تعلیم بہترین انداز میں دی جا رہی ہے؟
کیا دنیا کے کسی بھی کونے میں اس طرح کا اسکول ہے؟ جس میں اس طرح سے دینی اور دنیاوی دونو اعلی درجے کی تعلیم دی جاتی ہو؟

آپ یہ ویڈیو ضرور دیکھیں اور بتایں کے کیا اس میں جو ڈاکٹر ذاکر نائک حفظه الله نے کہا ہے کیا وہ جھوٹ ہے؟ دکھاوا ہے؟ یا پھر کیا ہے؟
http://www.kitabosunnat.com/forum/خطبات-علماء-260/taleem-dono-jahan-ke-liye-تعلیم-دونو-جہاں-کے-لئے-4234/
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,383
ری ایکشن اسکور
6,754
پوائنٹ
332
غیر مسلمین میں دعوت کا جو کام ڈاکٹر ذاکر نائک کررہے ہیں اس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔
لیکن وہ مجتہد بلکہ عالم دین بھی نہیں ہیں ۔ ان کو اپنی حدوں سے آگاہ رہنا چاہیے۔ جو وہ نہیں ہیں۔

بھائی مجتہد کون ہوتا ہے مجتہد کے شروط کیا ہیں اور کسی کے حدود کون اور کیسے کس معیار پے تے کئے جاتے ہیں، دلائل کی روشنی میں سمجھایےگا
اورعالم اور مجتہد بن نے کے لئے جیسے حنفی کہتے ہیں مدارس کی سرٹیفکیٹ ضروری ہے ویسے ہی آپ بھی سمجھتے ہیں کیا؟
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,383
ری ایکشن اسکور
6,754
پوائنٹ
332
ڈاکٹر صاحب کی ڈکٹیٹر شپ
کسی بھی ادارے کا اپنا قانون ہوتا ہے اور ان پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے اور جو اس کو سختی سے اپناتا ہے وہ صرف اس ادارے کی بہتری اور جس کام کو لے کے اٹھا ہے اس کی صحیح ترتیب کے لئے ہوتا ہے

اب باہر سے دیکھنے والوں کو یہ کچھ اور لگے شاید ڈکٹیٹر شپ ہی لگے لیکن اصل میں یہ ویسے نہیں ہوتا

اتنا بڑا ادارہ چلانا اتنے بڑے پیمانے پر کام کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور اس کو چلانے کے لئے اور وہ بھی ایک ایسے شہر میں اور ایک ایسے ملک میں جہاں کافروں کا غلبہ ہے بہت بڑی بات ہے

تو ظاہر سی بات ہے سخت قانون ضروری ہے اور اس کو فولوو کرنا بھی

الله أعلم
 

ابوبکر

مبتدی
شمولیت
جولائی 02، 2012
پیغامات
181
ری ایکشن اسکور
432
پوائنٹ
0
بھائی اسکا کوئی ثبوت ہے آپ کے پاس یا بس سنی سنی باتوں پر افواہوں پر آپ یہ سب کہ رہے ہیں؟
کیا جو علما ذاکر نائک حفظه الله سے ہٹ گئے ہیں ان میں سے کسی نے آگے آکر یہ بات کہی ہے؟
اگر کوئی ثبوت نہیں تو پھر یہ حفظه الله پر ایک الزام ہوگا بہتان ہوگا
شیخ سرفراز فیضی خود انڈیا کے ہیں اس لیے ان شاء اللہ ان کی معلومات صحیح ہی ہوں گی نحسبہ کذلک و لا نزکی علی اللہ احدا
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,383
ری ایکشن اسکور
6,754
پوائنٹ
332
شیخ سرفراز فیضی خود انڈیا کے ہیں اس لیے ان شاء اللہ ان کی معلومات صحیح ہی ہوں گی نحسبہ کذلک و لا نزکی علی اللہ احدا
ہم بھی انڈیا سے ہی ہیں بھائی
 
Top