1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کتاب یا سنت کا کتاب یا سنت کے ذریعے نسخ: (اصول الفقہ)

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏نومبر 27، 2011۔

  1. ‏نومبر 27، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    کتاب یا سنت کا کتاب یا سنت کے ذریعے نسخ:

    اس اعتبار سے نسخ کی کچھ اقسام ہیں جو درج ذیل ہیں:

    قرآن مجید کا قرآن مجید کے ذریعے نسخ: اس قسم کے جائز ہونے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

    اس کی مثالیں پیچھے گزرجانے والی عدت اور کفار سے مقابلے والی آیات ہیں۔

    سنت کا کتاب کے ذریعے نسخ: اس کی مثال سنت سے ثابت بیت المقدس کی طرف متوجہ ہونے والے حکم کی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ذریعے منسوخی ہے: ﴿ فَوَلِّ وَجْهََكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ﴾ [البقرة:144] تو اب آپﷺ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجئے۔

    کتاب کا سنت کے ذریعے نسخ: یہ قسم دوچیزوں پر مشتمل ہے:

    ۱۔ خبر واحد کے ذریعے کتاب کا نسخ : جمہور کا قول یہ ہے کہ ایسا ہونا ناجائز ہے، کیونکہ قطعی حکم کو ظنی حکم منسوخ نہیں کرسکتا۔

    ۲۔ متواتر سنت کے ذریعے کتاب کا نسخ:
    بعض اصولیوں نے اللہ رب العزت کے درج ذیل فرمان سے استدلال کرتے ہوئے اس کو ناجائز قراردیا ہے: ﴿ مَا نَنْسَخْ مِنْ آيةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا [البقرة:106] ہم جو بھی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلوا دیتے ہیں تو اسی جیسی یا اس سے بہتر آیت لے آتے ہیں۔

    اس فرمان باری تعالیٰ سے ان کے استدلال کرنے کی صورت یہ ہے کہ سنت نہ تو قرآن جیسی ہے اور نہ ہی اس سے بہتر۔

    جمہور کا مذہب اس بارے میں یہ ہے کہ ایسا ہونا بالکل جائز ہے جیسا کہ ابن حاجب نے یہ بات نقل کی ہے۔ جمہور کے اس قول کی دلیل یہ ہےکہ : سنت ہو یا قرآن ، سب کا سب اللہ تعالیٰ کی وحی ہے ۔

    والدین کے لیے وصیت کاحکم نبی کریمﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے منسوخ ہے: «لا وصية لوارث» وارث کےلیے کوئی وصیت نہیں ہے۔

    اس حدیث کے اس معنی پر اجماع واقع ہوچکاہے۔

    سنت کا سنت کے ذریعے نسخ: آحاد کے آحاد کے ذریعے اور متواتر کے متواتر کے ذریعے منسوخ ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ لیکن آحاد کے ذریعے متواتر کے نسخ پر اختلاف ہے۔

    سنت کے سنت کے ذریعے نسخ کی مثال نبی کریمﷺ کا درج ذیل فرمان گرامی ہے: «كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها» میں تمہیں زیارت ِ قبور سے منع کیا کرتا تھا، تو اب تم ان کی زیارت کیا کرو ۔

    متواترا ور آحاد کا متواتر اور آحاد کے ذریعے نسخ:


    اس بارے میں نو (۹)ممکنہ صورتیں ہیں، جو کہ مذکورہ بالا بحث میں گزر چکی ہیں، اب ہم ان کا اجمالی تذکرہ کرتے ہیں:


    قرآن کے متواتر کا قرآن کے متواتر کے ذریعے نسخ۔

    متواتر سنت کا متواتر سنت کے ذریعے نسخ۔

    آحاد سنت کا آحاد سنت کے ذریعے نسخ۔

    مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں ناسخ ،منسوخ کے برابر ہوتا ہے۔


    سنت آحاد کا قرآن کے ذریعے نسخ۔

    سنت آحاد کا متواتر سنت کے ذریعے نسخ۔

    متواتر سنت کا قرآن کے ذریعے نسخ۔

    مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں ناسخ ،منسوخ سےزیادہ مرتبے والا ہوتا ہے۔


    قرآن کا متواتر سنت کے ذریعے نسخ۔

    قرآن کا اخبار آحاد کے ذریعے نسخ۔

    متواتر سنت کا اخبار آحاد کے ذریعے نسخ۔

    مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں ناسخ، منسوخ سے کم درجے کا ہوتا ہے۔



    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
  2. ‏نومبر 27، 2011 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ ناصر بھائی۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں