1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کراچی کے اسکول میں 16 سالہ لڑکے نے لڑکی کو مار کر خود کشی کرلی

'نفسیاتی و اجتماعی مشکلات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏ستمبر 01، 2015۔

  1. ‏ستمبر 01، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کراچی کے اسکول میں 16 سالہ لڑکے نے لڑکی کو مار کر خود کشی کرلی
    ویب ڈیسک 24 منٹ پہلے
    تبصرےصفحہ پرنٹ کریںدوستوں کو بھیجئے

    مقتولین کی شناخت نفروز اور صباء کے نام سے ہوئی ہے فوٹو: فائل

    کراچی: پٹیل پاڑہ میں واقع نجی اسکول میں زیر تعلیم لڑکے نے لڑکی کو قتل کرنے کے بعد خود بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

    کراچی کے علاقے پٹیل پاڑہ کے ایک نجی اسکول میں زیر تعلیم 16 سالہ لڑکے نے اسمبلی کے دوران اپنے ساتھ زیر تعلیم لڑکی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا جس کے بعد اسی پستول سے خود کو بھی گولی مارلی۔ دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے، پولیس نے لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا جہاں قانونی کارروائی کے بعد ان کی لاشیں والدین کے سپرد کردی گئیں۔

    ایس پی جمشید ٹاؤن پولیس اسٹیشن اخترفاروق کا کہنا ہے کہ پولیس کو جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول اور اس کی گولیوں کے 2 خول بھی ملے ہیں، مقتولین کی شناخت نفروز اور صباء کے نام سے ہوئی ہے۔دونوں دسویں جماعت کے طالب علم تھے اور ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 01، 2015 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    واقعی اس وقت کا ایک اھم مسلہ مخلوط تعلیم :

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ :

    شیخ @اسحاق سلفی بھائی آپ کیا نصیحت کرے گے ھم سب کو
     
  3. ‏ستمبر 01، 2015 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    یہ ہے مخلوط تعلیمی نظام کا ”پھل“
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 01، 2015 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    (۱) مخلوط تعلیم
    (۲) ھیجان انگیز مواد کا عام ہونا
    (۳) میڈیا ۔۔کی سرگرمیاں
    (۴) مشرقی اور اسلامی تہذیب کو ’’ پسماندہ سمجھنا ۔
    وغیرہ ،وغیرہ ۔۔کئی اسباب وعوامل موجود ہیں ؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان مذکورہ عوامل و اسباب کے ساتھ ساتھ۔۔۔اس جوڑے کے نام ۔۔نفروز ۔۔ صباء ‘‘ بھی اسی نتیجہ کے غماز ہیں ؛

    لیکن ناموں کے ان اثرات پر ۔۔مناظرہ ۔۔نہیں ہوسکتا ۔۔(وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ )
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 2
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 01، 2015 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  6. ‏ستمبر 01، 2015 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  7. ‏ستمبر 01، 2015 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کراچی کے اسکول میں 16 سالہ لڑکے نے لڑکی کو مار کر خود کشی کرلی
    ویب ڈیسک منگل 1 ستمبر 2015

    مقتولین کی شناخت نفروز اور صباء کے نام سے ہوئی ہے فوٹو: آن لائن

    کراچی: پٹیل پاڑہ میں واقع نجی اسکول میں زیر تعلیم لڑکے نے لڑکی کو قتل کرنے کے بعد خود بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

    کراچی کے علاقے پٹیل پاڑہ کے ایک نجی اسکول میں زیر تعلیم 16 سالہ لڑکے نے اسمبلی کے دوران اپنے ساتھ زیر تعلیم لڑکی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا جس کے بعد اسی پستول سے خود کو بھی گولی مارلی۔ دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے، پولیس نے لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا جہاں قانونی کارروائی کے بعد ان کی لاشیں والدین کے سپرد کردی گئیں۔

    [​IMG]

    خودکشی سے قبل لڑکی کی جانب سے لکھا جانے والا مبینہ خط

    [​IMG]

    خودکشی سے قبل لڑکے کی جانب سے لکھا جانے والا مبینہ خط

    ایس پی جمشید ٹاؤن پولیس اسٹیشن اخترفاروق کا کہنا ہے کہ پولیس کو جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول اور اس کی گولیوں کے 2 خول بھی ملے ہیں، مقتولین کی شناخت نفروز اور فاطمہ کے نام سے ہوئی ہے۔دونوں دسویں جماعت کے طالب علم تھے اور ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔
     
  8. ‏ستمبر 01، 2015 #8
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    لڑکے اور لڑکی کے خطوط ایک ہی ہاتھ سے لکھے ہوئے ہیں۔

    [​IMG] [​IMG]

    والسلام
     
  9. ‏ستمبر 02، 2015 #9
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    السلام علیکم
    اس واقعہ کو آج اخبارات میں پڑھا تو دنگ رہ گیا کہ ہمارہ معاشرہ کہاں جا رہا ان کی عمر صرف 16 سال تھی اور اس عمر مین اتنا بڑہ قدم ، اس کے علاوہ تعجب کی بات یہ تھی کہ پستول لڑکی لے کر آئی تھی ۔۔۔
     
  10. ‏ستمبر 02، 2015 #10
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069


    قصور کس کا ہے؟

    ان دونوں بچوں کے والدین کا جنہوں نے اس "مہذب" معاشرے سے قدم سے قدم ملا کر چلنے کی خاطر ان معصوموں کو کو ایجوکیشن میں پڑھایا؟
    ان اسکولوں اور اساتذہ کا کہ جن کے نزدیک تعلیم اور کاروبار میں کوئی فرق نہیں. جو کبھی فن فئیر کے نام پر ہماری عزتیں سٹیج پر نچواتے ہیں اور کبھی فینسی ڈریس شو یا فئیر ویل پارٹی، کلر ڈے، ٹیبلوز کے ذریعے عاشقی معشوقی والے ڈرامے یا اسی قسم کی دوسری خرافات کے ذریعے بچوں کو وقت سے پہلے ان باتوں کی شناسائی کا موقع فراہم کرتے ہیں جو کہ جاننا ان کے لیے مضر ہیں.

    کیا کو ایجوکیشن کے بنا تعلیم کا حصول ممکن نہیں؟

    کیا بے فکر والدین نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کردیں جو ان پہ فرض ہیں؟

    اس طرح تو کوئی کتا یا بلی کا بچہ بھی لاوارث نہیں چھوڑتا جیسے ہمارے آج کل کے والدین نے اپنے بچوں کو چھوڑ دیا ہے

    گھر میں کیبل لگوا کر، مخلوط تعلیم دلوا کر، آزادی فراہم کرکے ہم نے بچوں کی طرف سے آ نکھیں بند کر لیں گویا وہ فرشتہ ہیں

    اساتذہ کے نام پر بھیڑیے ہمارے تعلیمی اداروں میں ہماری عزتوں کے درپے ہیں اور ہمیں پروا نہیں

    جس معاشرے میں مایا ہی مائ باپ بن جائے وہاں پھر ایسے ہی تماشے دیکھنے کو ملیں گے اور یہ تو ابھی آغاز ہے. کیونکہ جہالت کی یونیورسٹیوں میں داخل کروا کر ہم اپنی اولاد کو ہم" برباد" نہیں ہونے دیں گے چاہے ہمیں انکی جان کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے -
     

    منسلک کردہ فائلیں:

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں