1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کسی بھائی نے یہ مسلہ پوسٹ کرنے کے بعد یہ سوال پوچھا ہے

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جون 06، 2016۔

  1. ‏جون 06، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    #حقیقت_اختلاف_مطالع_ومسئلہ_رؤیت_ہلال

    جیسے کہ اﷲکا فرمان ہے :

    ( فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی ﷲِ وَ الرَّسُوْل)(النساء:59)

    ''جب تمہارے مابین کسی چیز میں اختلاف ہو تو اس کو ﷲ اور رسول کی طرف لوٹاؤ''

    (یعنی قرآن و سنت کی طرف لوٹایا جائیگا مگر افسوس آج امت میں اختلاف کا حل قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے کے بجائے اقوال الر جال میں تلاش کیا جاتاہے جس کی وجہ سے اختلاف حل ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتا ہے اس لئے کے اصل کو چھوڑدیا گیا ہے۔البتہ علماء حق کے اقوال کو حق کی تا ئید میں پیش کرنایہ سلف کا طریقہ رہاہے۔

    زیر بحث مسئلہ کا حل :

    رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کاصحیح فرمان:

    ((صوموا لرؤیتہ وافطر وا لرؤیتہ))

    ''چاند دیکھ کر ر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔'' (صحیح بخاری)

    رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کاصحیح فرمان تمام امت کے لئے ہے نہ کہ کسی ایک علاقے کے لئے۔ جیسا کہ عبدﷲ بن عمر رضی اللہ فرماتے ہے:

    ((تری الناس الھلال فاَخبرت رسول ﷲe انی ریتہ فصال وامرالناس بصیا مہ))

    ''لوگوں نے چاند دیکھا میں نے رسول ﷲکو بتایا تو آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔''(سنن ابی داؤد)

    اور جیسا کہ رسول ﷲ کا فرمان ہے :

    ((صومکم یوم تصومون واضحاکم یو م تضحون ))

    '' تمہارا روزہ ہوگا جس دن سب روزہ رکھتے ہو اور تمہاری قربانی ہوگی جس دن سب قربانی کرتے ہو۔''(سنن ابی داؤد)

    رسول ﷲ کے ان فرامین کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ یہ حکم پوری امت کے لئے ہے نہ کہ کسی علاقائی امت کے لئے اور یہ بات علماء کے نزدیک متفق علیہ ہے۔کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی ایک شخص کو حکم دیناپوری امت کے لئے ہوتاہے۔

    اب سوال یہ ہے

    کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فرامین اگر عمومی امت کے لئے نہیں ہیں تو استثناء کے لئے اس طرح شرعی دلیل کی ضرورت ہے جو کہ آج تک کوئی نہ لاسکا کیونکہ جن دلائل سے ہر شہر کے چاند والوں کا استدلال ہے وہ خودان کابھی اُس پر عمل نہیں ہے اور خودہی اپنے بنائے ہوئے قاعدہ کو مسمار کردیتے ہیں جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا ۔(ان شاء اﷲ)

    افسوس اس بات پر ہے کہ کچھ لوگوں نے خود ہی شریعت بنانی شروع کردی ہے اور اسکا یہی نقصان ہے جو ہورہاہے ۔حالانکہ مومن مسلم کا تو کام صرف یہ ہے کہ جہاں شارع نے روکا ہے وہیں رک جائے ﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

    (یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لااَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ ﷲِ وَ رَسُوْلِہ وَاتَّقُوا ﷲَ اِنَّ ﷲَ سَمِیْع عَلِیْم(الحجرات:١))

    فریق ثانی کی مضبوط دلیل اور اس کا مختصر جواب

    میری صرف چند ہی مختصرگذارشات ہیں جوکہ کریب رحمتہ اللہ کی روایت ابن عباس رضی اللہ کے حوالے سے ہیں فریق مخالف حضرات کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ نے کریب رحمتہ اللہ کی شہادت کو اس لئے نہیں مانا کہ وہ رمضان المبارک کے درمیان میں آئے تھے نہ کہ شہادت کی خبر لیکر آئے تھے تو اس روایت سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ اگر اپنے اپنے علاقے میں لوگ اپنا چاند دیکھ کر روزہ شروع کریں اور ایک دوسرے سے باخبر نہ ہوں۔ تو اس طرح اپنے اپنے روزے پورے کریں گے جس حساب سے انہوں نے روزے شروع کیے تھے اور اس کی دلیل یہی ہے کہ جیسا کہ ابن عباس نے کہا تھا کہ ہمیں اس طرح رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اگر ابتدء میں شہادت لیکر کوئی آجائے تو اس کی شہادت قبول کی جا ئیگی جیسا کہ حدیث میں ہے:

    ((فان شھد شاھد ان مسلمان فصوموا وافطروا))'

    'اگردو مسلمان گواہی دیں تو روزہ رکھواور افطار کرو۔''(رواہ الغلیل)

    اور ایک اور روایت میں ہے :

    ((فان لم تروہ وشھد شاھداعدل سنکنا بشھادتھما))

    ''اگر تم چاند نہ دیکھ سکے اور دو یندار گواہی دیں تو ہم اس کی شہادت پر روزہ رکھیں گے ۔''(سنن ابی داؤد)

    اور ایک روایت سے معلوم ہوا کہ چاند دیکھنے کے لئے دوگواہ شرط نہیں ہے ایک گواہ بھی قابل قبول ہے جیسا کہ ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں نے چاند دیکھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔تو اس نے کہا کہ ہاں پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاکہ کیا تو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )ﷲ کا سچا رسول ہوں تو اس نے جواب دیا ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ سے کہا یا بلال

    ((اذّن فی النّاس فلیصو مواغدًا))

    ''اے بلال لوگوں میں اعلان کرو کہ کل روزہ رکھیں ۔''

    یہ روایت کمزورہے لیکن :

    (( فاَخبرت رسول ﷲ انی ریتہ فصال وامرالناس بصیا مہ))

    ''لوگوں نے چاند دیکھا میں نے رسول ﷲ کو بتا یا تو آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔''(سنن ابی داؤد)

    یہ روایت صحیح ہے۔

    اور اسطرح ان دو آدمیوں کا واقعہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر چاند دیکھنے کی شہادت دی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ تو ڑدیا مگر عید کی نماز کا وقت نکل گیا تھا تو پھر دوسرے دن عید کی نماز پڑھی۔(نیل الاوطار)

    چند سوالات :

    1) جس روایت سے استدلال کیا جاتا ہے کہ ہر بستی والے کے لئے اپنا چاند ہے تو پھر اس کو پورے ملکوں پر کیوں تقسیم کرتے ہیں کہ چاند اپنے اپنے ملک کا ہے حدیث میں ایسے الفاظ کہاں ہیں کہ چاند اپنے اپنے ملک کا ہے؟

    2) اگر حدیث کا یہ معنی لیا جائے کہ چاند اپنی اپنی بستی کا ہے تو پھر جب پاکستان میں ایک عید کے بجائے دو،تین ،عیدیں منائی جاتی ہیں تویہ لوگ کیوں شورمچاتے ہیں کہ یہ لوگ اتحاد کو نہیں مانتے کیا یہ آپ حضرات کے پیش کردہ تشریح حدیث کے ماننے والے نہیں ہیں؟

    3) جب بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا تو ان کا چاند ایک تھا تو آج ان کا چاند کس دلیل پر الگ الگ ہو گیا اگر آج یہ ملک ہندوستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان ایک ملک بن جائے تو کیا ان کا چاند الگ الگ ہو گا یا ایک ہوگا تو کس دلیل پر ہوگا؟

    4) افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر ایک پہاڑپر بیٹھے ہو ئے دو مسلمان چاند کو دیکھتے ہے لیکن چاند افغانستان کی جانب ہے تو صرف افغان روزہ رکھتے ہیں تو پاکستانی روزہ کیوں نہیں رکھتے اس کی کیا دلیل ہے ؟

    5) افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے والے اپنی قریب والی بستی کو اطلاع دیتے ہیں اور وہ اطلاع پاکستان میں پھیلا دیتا ہے تو اس کو کس دلیل پر مانو گے کیو نکہ ابن عباس کی روایت سے جو لوگ استدلال کرنا چاہتے ہیں کہ ہر بستی کا اپنا چاند ہونا چاہئے تو یہ تو اس کے اخلاف ہے؟

    6) رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لئے جاتے تھے تو مدینہ منورہ کی تاریخ کے حساب سے جاتے تھے یا مکہ والوں کی تاریخ کے حساب سے جاتے تھے؟

    7) عرفہ کے روزہ کی فضیلت آپ کو معلوم ہے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث ہے کہ اس سے دو سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور عرفہ وہ ہے کہ جس دن حجا ج کرام عرفہ کے میدان میں کھڑے ہوں عرفہ اپنے اپنے ملک کا نہیں صرف ایک ہی عرفہ ہے جس روزعرفہ ہوتا ہے تو ہم عرفے کا خطبہ بذریعہ ریڈیو یا ٹی وی سنتے اور دیکھے ہیں کیونکہ یہ حدیث عرفہ کے دن کی ہے اور عرفہ تمام امت کے لئے ہے ناکہ صرف مکہ والوں کے لئے ؟

    8) کیا ہم عرفے کا روزہ اس دن رکھیں گے یا جب عرفہ کا دن گزر جائے تو پھر اپنے ملک کے حساب سے رکھیں گے؟

    آخر میں رب العالمین کی بارگاہ میں دعا گوہو ںکہ اے ﷲ عزوجل ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی تو فیق عطافرما ۔اے ﷲ ہمیں وہ زندگی عطا فرما جو تیری اطاعت والی ہو نہ کہ تیری معصیت والی۔

    ﷲ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے اور ہمیں ہدایت نصیب فرمائے اور ہم کو حق دکھائے اور حق کی اتباع نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

    واللہ اعلم بالصواب۔۔۔

    کسی بھائی نے یہ مسلہ پوسٹ کرنے کے بعد یہ سوال پوچھا ہے

    sheikh ye post kahi mili kia rahe he apki ess bare main... agar peshawar waloo ki gawahi sharai he tu kia hum log 1 shawal ka raoza rakhte hen ju k shetan ka kam he or 2nd agar wo sai hen tu hum onpar Q etraz karte hen?

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی
     
  2. ‏جون 06، 2016 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    انگلینڈ میں عرب سلفی روزہ کا اعلان اور عید کا اعلان چاند سے نہیں بلکہ سعودی عرب کے اعلان پر کرتے ہیں، باقی دوسری انتظامیہ چاند کے مطابق دوسرے دن۔ پشاور میں بھی ایسا ہی کچھ ہے، سعودی اعلان کے مطابق روزہ اور عید کا اعلان کرتے ہیں، اس مرتبہ بھی سعودی اعلان کے مطابق آج پہلا روزہ ہے اور چاند کی تاریخ کے مطابق کل پہلا روزہ ہو گا۔

    والسلام
     
  3. ‏جون 06، 2016 #3
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اس سال 9 مارچ کو سورج گرہن تھا۔ مگر سعودیہ میں چاند دیکھنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ کیوں کر ممکن ہے؟ اس عقدہ کو کوئی حل کرسکتا ہے؟
     
  4. ‏جون 07، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    نہیں محترم :: جہاں تک میری معلومات ہیں پشاور والے سعودی عرب کے مطابق نہیں بلکہ اپنی علاقائی شہادتوں کی بنا پر روزہ ،عید کا اعلان کرتے ہیں ،
    شہادتوں کا یہ نظام کیسا ہے اس پر سرحد بالخصوص پشاور اور قبائلی علاقوں کا باسی سلفی ہی حقیقت حال سے آگاہ کر سکتا ہے ،
    یہاں فورم پر ہمارے آفریدی بھائی ہیں ،جو آج کل فورم پر نظر نہیں آرہے امید وہ اس بابت تفصیل بتا سکتے ہیں ،
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں