1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کسی بھی انسان کے ناحق قتل اور فساد انگیزی کی ممانعت کا بیان

'جنگ وجدال' میں موضوعات آغاز کردہ از علی ولی, ‏جولائی 26، 2013۔

?

پاکستان میں خودکش حملوں میں جو ارد موجود مسلمان ناحق قتل ہوتے ہیں ، انکا حساب ہوگا؟

  1. جی ہاں قاتل سے حساب لیا جائے گا

    2 ووٹ
    100.0%
  2. جی نہیں قاتل سے نہیں پوچھا جائے گا

    0 ووٹ
    0.0%
  1. ‏جولائی 26، 2013 #1
    علی ولی

    علی ولی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2013
    پیغامات:
    68
    موصول شکریہ جات:
    81
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    اسلام نہ صرف مسلمانوں بلکہ بلا تفریقِ رنگ و نسل تمام انسانوں کے قتل کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ اسلام میں کسی انسانی جان کی قدر و قیمت اور حرمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے بغیر کسی وجہ کے ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیاہے۔ اﷲ عزوجل نے تکریم انسانیت کے حوالے سے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا :​
    مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا.
    المائدة، 5 : 32
    ''جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔''​
    اس آیت مبارکہ میں انسانی جان کی حرمت کا مطلقاً ذکر کیا گیا ہے جس میں عورت یا مرد، چھوٹے بڑے، امیر و غریب حتی کہ مسلم اور غیر مسلم کسی کی تخصیص نہیں کی گئی۔ مدعا یہ ہے کہ قرآن نے کسی بھی انسان کو بلاوجہ قتل کرنے کی نہ صرف سخت ممانعت فرمائی ہے بلکہ اسے پوری انسانیت کا قتل ٹھہرایا ہے۔​
    جہاں تک قانون قصاص وغیرہ میں قتل کی سزا، سزائے موت ہے، تو وہ انسانی خون ہی کی حرمت و حفاظت کے لئے مقرر کی گئی ہے۔اور اس کا نافذ کرنا حکمران وقت کا کام ہے ، اگر وہ اس فرض سے کوتاہی برتتا ہے تو اس سے یہ قطعہ مراد نہیں کہ ہر کوئی خود ہی اپنا اپنا انتقام لینے کے لئے اٹھ کھڑا ہو۔ کیونکہ ایسا کرنے سے فتنہ و فساد کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا اور اللہ کو فتنہ و فساد سے شدید نفرت ہے۔​
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں