1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کسی خاص کام کے لیے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کرنا کیسا ہے؟

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از ام حسان, ‏اگست 19، 2017۔

  1. ‏اگست 19، 2017 #1
    ام حسان

    ام حسان رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 12، 2015
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    30
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    سوال : کوئی بیمار ہو تو کیا دو رکعت نماز پڑھ کر انکے لیے دعا کی جاسکتی ہے؟

    جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏اگست 19، 2017 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترمہ بہن!
    آپ کے استفسار کا جواب تو علماء کرام ہی دیں گے.. ان شاء اللہ.. البتہ ایک حدیث مبارکہ پیش خدمت ہے:

    سنن الترمذی
    2083- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قَال: سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ، فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ "أَسْأَلُ اللهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ " إِلاَّ عُوفِيَ".
    قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو.
    *تخريج: د/الجنائز ۱۲ (۳۱۰۶) (تحفۃ الأشراف: ۵۶۲۸)، وحم (۱/۲۳۹) (صحیح)


    عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ''جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا ابھی وقت نہ ہوا ہو اور سات بار یہ دعاء پڑھے
    ''أَسْأَلُ اللهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ''
    (میں عظمت والے اللہ اور عظیم عرش کے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اچھا کر دے)
    تو ضرور اس کی شفاء ہو جاتی ہے''۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 21، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,749
    موصول شکریہ جات:
    2,262
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ؛
    مریض کیلئے شفاء کی دعاء ہو یا کوئی اور حاجت دعاء اور سوال کیلئے کوئی مخصوص نماز صحیح احادیث سے ثابت نہیں ،
    اور نماز حاجت کے نام پر جو نماز منقول ہے وہ ثبوت و اسناد کے لحاظ سے اس قابل نہیں کہ اس پر عمل کیا جاسکے :
    وہ روایت یہ ہے :
    عن عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " من كانت له حاجة إلى الله، أو إلى أحد من خلقه، فليتوضأ وليصل ركعتين، ثم ليقل: لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين، اللهم إني أسألك موجبات رحمتك، وعزائم مغفرتك، والغنيمة من كل بر، والسلامة من كل إثم، أسألك ألا تدع لي ذنبا إلا غفرته، ولا هما إلا فرجته، ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها لي، ثم يسأل الله من أمر الدنيا والآخرة ما شاء، فإنه يقدر "
    ترجمہ :
    عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: ”جسے اللہ سے یا اس کی مخلوق میں سے کسی سے کوئی ضرورت ہو تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين اللهم إني أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم أسألك ألا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها»
    کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے جو حلیم ہے، کریم (کرم والا) ہے، پاکی ہے اس اللہ کی جو عظیم عرش کا مالک ہے، تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اے اللہ! میں تجھ سے ان چیزوں کا سوال کرتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہوں، اور تیری مغفرت کو لازم کریں، اور میں تجھ سے ہر نیکی کے پانے اور ہر گناہ سے بچنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے، اور تمام غموں کو دور کر دے، اور کوئی بھی حاجت جس میں تیری رضا ہو اس کو میرے لیے پوری کر دے“۔ پھر اس کے بعد دنیا و آخرت کا جو بھی مقصد ہو اس کا سوال کرے، تو وہ اس کے نصیب میں کر دیا جائے گا۔

    رواہ ابن ماجہ، وأخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ۲۳۱ (۴۷۹) (ضعیف جدا) (سوید بن سعید متکلم فیہ اور فائد بن عبد الرحمن منکر الحدیث ہیں)

    قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
    إسناده ضعيف جدًا / ت 479

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    شفاء کی اور دیگر بہت سے مواقع کیلئے مسنون دعاؤں کی ایک کتاب پیش خدمت ہے اس سے دیکھ کر حسب حال دعاء قبولیت کے اوقات میں کثرت سے کریں
    کتاب صحیح اذکار و وظائف
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
     
    Last edited: ‏اگست 21، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں