1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کسی چیز کا حکم نہ صرف اسی چیز کا حکم ہے بلکہ جس پر وہ چیز موقوف ہو (اصول الفقہ)

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏نومبر 27، 2011۔

  1. ‏نومبر 27، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    کسی چیز کا حکم نہ صرف اسی چیز کا حکم ہے بلکہ جس پر وہ چیز موقوف ہو ،


    اس کا بھی ہے:


    جب مطلق واجب کا وجود کسی دوسری چیز پر موقوف ہو تو اس واجب کا حکم اس دوسری چیز کو بھی شامل ہوتا ہے جس پر اس واجب کا وجودموقوف ہو، جیسے: وضو، دراصل نماز کا حکم وضو کے حکم کو بھی اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے اور یہی اصولیوں کے اس قول کا مطلب ہے کہ : ”کسی چیز کا حکم نہ صرف اسی چیز کا حکم ہوتا ہے بلکہ اس چیز کا بھی حکم ہوتا ہے جس کے بغیر یہ چیز پوری نہیں ہوسکتی“ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسری چیز کا ذکر چونکہ ضمنی طورپر اس میں آچکا ہے لہٰذا بغیر کسی مستقل دلیل کے وہ چیز واجب ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ اس دوسری چیز کےلیے بھی الگ سے دلائل موجود ہوتے ہیں، باوجود اس کے کہ واجب کےلیے جو خاص حکم ہے وہ اس کے بھی وجوب کا تقاضا کرتا ہے، جس پر یہ واجب موقوف ہے۔

    یہ ساری بحث واجب مطلق (وہ امر جو ہر قسم کی قید سے خالی ہو) کے بارے میں ہے۔اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ نماز کا واجب ہونا ہر قسم کی قید سے ہٹ کر ہے لیکن اس کا حکم درحقیقت اس چیز کے بھی واجب ہونے کاتقاضا کرتا ہے جس کے بغیر یہ حکم پورا نہیں کیا جاسکتا، اور وہ دوسری چیز وضو ہے۔

    باقی رہا مقید واجب تو وہ اس طرح نہیں ہے۔ مثال کے طور پر زکاۃ کا واجب ہونا نصاب کا مالک بننے سے مقید ہے ، لیکن یہاں پر زکاۃ ادا کرنے کا حکم نصاب کے حصول کا تقاضا نہیں کرتا کہ بندہ مال حاصل کرکے اس میں سے زکاۃ نکالے، کیونکہ یہ تمام کام وجوب کو پورا کرنے کےلیے ہے نہ کہ واجب کو ۔ اسی لیے اصولی کہتےہیں کہ جس چیز کے بغیر واجب مکمل نہ ہو ، وہ چیز بھی واجب ہوتی ہے اور جس چیز کے بغیر وجوب مکمل نہ ہو ، وہ چیز واجب نہیں ہوتی۔ تو جو نماز ہے اس کا وجوب تو باقی رہتا ہے لیکن زکاۃ اس وقت تک واجب نہیں ہوتی جب تک نصاب حاصل نہ ہوجائے۔


    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. ابو زہران شاہ
    جوابات:
    1
    مناظر:
    400
  2. محمد نعمان خالد
    جوابات:
    0
    مناظر:
    649
  3. محمد نعمان خالد
    جوابات:
    1
    مناظر:
    1,249
  4. محمد عامر یونس
    جوابات:
    3
    مناظر:
    1,117
  5. محمد طالب حسین
    جوابات:
    0
    مناظر:
    429

اس صفحے کو مشتہر کریں