1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کس کے لیے تقلید کرنا جائز ہے اور کس کےلیے نہیں؟: (اصول الفقہ)

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏نومبر 27، 2011۔

  1. ‏نومبر 27، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    کس کے لیے تقلید کرنا جائز ہے اور کس کےلیے نہیں؟:​


    ایسے مجتہد کےلیے تقلید کرنا جائز نہیں ہے جو اجتہاد کے ذریعے حکم پر ظن حاصل کرلے یا وہ عملی طور پر اجتہاد نہ کرے لیکن اجتہاد کرنے کی طاقت اور صلاحیت رکھتا ہو۔ عام آدمی کےلیے تقلیدکرنا جائز ہے اور ایسے طالب علم یا عالم کےلیے بھی تقلید کرنا جائز ہے جو ابھی تک مکمل علم میں یا علم کی کسی نوع میں اجتہاد کے درجے تک نہیں پہنچا کیونکہ جو شخص کسی فن میں کامل نہیں ہوتا / یا اس میں ہاتھ ہی نہیں ڈالتا تو وہ اس معاملے میں عام آدمی کی طرح ہوتا ہے۔


    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
  2. ‏فروری 17، 2012 #2
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    يعني تقليد جائز هے!!؟
     
  3. ‏فروری 18، 2012 #3
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    کیا مطلب تقلید جائز ہے۔؟
    عمومی حکم نہ نکالیں خصوص پر بھی توجہ دیں اور یہاں جو تقلید جائز کہی گئی ہے وہ آج کل مروجہ تقلید کے ہم سایہ نہیں بلکہ یہ بھی دلیل شرعیہ پر ہے۔
     
  4. ‏فروری 18، 2012 #4
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    بهائی شايد آپ بهی اشتباه کر رہے هيں که لوگ آج کل وه جائز تقليد نهيں کر رهے هيں۔۔۔۔ جبکه باتفاق علماء، اسکی تقليد جائز نهيں هے جو بغيردليل شرعی کے حکم اخذ کرتا ہو۔۔۔
    بهلا کيا آپ وه جائز تقليد(جو دليل شرعی پر ہو) کرتے هيں که نهيں؟ اگر نهيں تو آپ دليل شرعے سے روگردان هيں اور اگر کر رهے هيں تو کس کی؟ اگر کسی کی بهی نہیں کررہے ہيں تو شايد اسليے که آپ کو آج ايسا عالم نہيں مل رہا معاذالله۔۔۔۔

    يه فقط بطور مباحثه کہ رہا ہوں لازمی نہیں که ميں تقليد کو جائز سمجهوں۔۔۔۔ شکرا جزيلا۔۔۔۔
     
  5. ‏فروری 18، 2012 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    انتہائی معقول بات ہے۔ ایسا فرد اگر کسی کی بھی تقلید نہ کرے تو وہ دین پر عمل کر ہی نہیں سکتا۔
     
  6. ‏فروری 18، 2012 #6
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    ذرا وضاحت ہونی چاہئیے کہ کون سی تقلید جائز اور کون سی ممنوع ہے ؟
    اس تھریڈ اور اس فورم کے دوسرے تھریڈ میں کچھ اختلاف نظر آتا ہے ۔ کیوں کہ دوسرے تھریڈ میں تو مطلق تقلید کو ناجائز کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ تقلید نہیں بلکہ اتباع کرنی چاہئیے
     
  7. ‏فروری 18، 2012 #7
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    کیا یہ محض لفظوں کا اُلٹ پھیر نہیں؟ یا یہ کتاب و سنت کے مستند اصطلاحات ہیں ؟
     
  8. ‏فروری 18، 2012 #8
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    میرے خیال میں اس فورم پر تقلید اور اتباع میں بحث میں فرق صرف الفاظ کا ہے ۔ اگر کوئی عامی کسی مسئلہ میں ایک متقی و پرہیزگار عالم سے بغیر دلیل کے مسئلہ پوچھے تو میرے خیال میں کسی فریق کو اعتراض نہیں ہو گا ۔ نام اس کو اتباع کا دیں یا تقلید کا۔اصل میں ہر شخص کو یہ فکر ہونی چاھئیے کہ اس کا عمل قرآن و سنت کے مطابق ہے یا نہیں ۔ اگر کسی شخص میں اجتھاد کی اھلیت ہے تو خود اجتھاد کر کے معلوم کرے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا کیا حکم ہے ۔ اگر اس میں اجتھاد کی اہلیت نہیں بلکہ وہ ایک عام مسلمان ہے تو کسی مجتھہد کی بات پر عمل کرے ۔ مقصد اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی ہونی چاہئیے بھلے اس کو تقلید کا نام دیں یا اتباع کا ۔
     
  9. ‏فروری 18، 2012 #9
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    جی جی جزاک الله اصل بات يهی هے۔۔۔

    جو کوئی بهی شريعت کے مآخذ سے حکم شريعت کو نکالنے کے صلاحيت رکهتا ہے اور عادل(پرهيز گار) وغيره هے تو اسکی تقليد جائز هونی چاهيے پهر اگر اس عالم نے سهل انگاری کی ہو تو وه گناه اس کے ذمه هے اور هم اس سے بريئ هيں۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں