1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کشف المحجوب سے

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏نومبر 28، 2015۔

  1. ‏نومبر 28، 2015 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,376
    موصول شکریہ جات:
    6,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب!
    صحت و تخریج درکار یے۔۔

    Screenshot_2015-11-28-17-35-22.png
     
  2. ‏نومبر 28، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,226
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
    محترم بھائی
    یہ خود ساختہ حدیث ہے ،حدیث کی کسی کتاب میں اس کا وجود نہیں ۔
    علامہ احسان الہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی علمی کتاب ’’ التَّصَوُّفُ .. المنشَأ وَالمَصَادر ‘‘
    المؤلف: إحسان إلهي ظهير الباكستاني (المتوفى: 1407هـ)
    الناشر: إدارة ترجمان السنة، لاهور - باكستان
    میں لکھتے ہیں کہ :
    وأما الهجويري فلقد ذكر أن التصوف كان موجودا في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم , وباسمه , واستدل بحديث موضوع مكذوب على رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: (من سمع صوت أهل التصوف فلا يؤمن على دعائهم كتب عند الله من الغافلين)
    یعنی مشہور صوفی علی ہجویری نے ( اپنی کتاب کشف المحجوب میں )یہ بتانے کیلئے کہ ’’ تصوف ‘‘ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اسی نام سے موجود تھا ،اس بات کو ثابت کرنے کیلئے ایک بالکل جھوٹی ،اور پیارے نبی ﷺ کے نام پر گھڑی گئی حدیث پیش کی ہے کہ :: جو شخص اہل تصوف کو دعاء کرتے ہوئے سنے ،اور ان کی دعاء پر آمین نہ کہے وہ اللہ کے ہاں غافلوں میں لکھا جاتا ہے ‘‘
    اور ’’الصوفیاء ‘‘ کے عنوان سے ایک عربی سائیٹ پر ’’ کشف المحجوب ایک شرعی مطالعہ ‘‘ قراءة شرعية في "كشف المحجوب" نام کا آرٹیکل شائع ہوا ،پڑھنے کے لائق ہے
    اس میں لکھتے ہیں :
    الاستدلال بالأحاديث الموضوعة نصرة لمذهب الباطل:

    فمن ذلك قوله: (وقال الرسول ﷺ : من سمع صوت أهل التصوف فلا يؤمن على دعائهم كتب عند الله من الغافلين)(28).

    یعنی اس کتاب میں اپنے باطل مذہب تصوف کی تائید کیلئے جھوٹی ،بناوٹی احادیث سے استدلال کیا ہے ،پھر وہی حدیث مثال کے طور پر پیش کی ۔
    http://www.alsoufia.com/main/articles.aspx?article_no=3705
     
    Last edited: ‏نومبر 28، 2015
    • پسند پسند x 4
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 28، 2015 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,376
    موصول شکریہ جات:
    6,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تو گویا ابھی تک کسی صوفی کو اس کے خود ساختہ و جھوٹا ہونے پر کشف بھی نہیں ہوا۔۔۔ابتسامہ!
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 29، 2015 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,376
    موصول شکریہ جات:
    6,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ!
    اس کی صحت و تخریج بھی درکار ہے۔
    الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ
    اور ایک صوفی ویب سائیٹ پر
    العالم فی قومہ کالنبی فی امتہ
    لکھا پایا ہے۔۔
    Screenshot_2015-11-29-00-11-55.png
     
  5. ‏نومبر 29، 2015 #5
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    برادرم نعیم صاحب ۔ رسول اللہ صاحب نے فرمایا تھا کہ یہود و نصاری کی جانب سے کوئی روایت ملے تو نہ اسکی تصدیق کرو اور نہ تکذیب ۔جب تک اسکی تصدیق نہ کرلیا کرو کیونکہ یہ حق کو باطل کےساتھ ملادیتے ہیں ۔۔ صوفیاء تو ان سے بھی گئے گزرے ہیں انکا تو دین و مذہب ہی الگ ہے ان کا قرآن و حدیث سے کیا تعلق ؟انکے دین کا دارو مدار ہی خواب اور جھوٹ پر ہے ۔ایک بریلوی نے ایک کتاب لکھی ہے اسکا نام ہے ۔ خوابوں کی بارات ۔یہ کتاب زبردست ہے اور قابل مطالعہ ہے اس نے دلائل کی زبان میں پورے شواھد کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ انکے دین کا دارو مدار خوابوں پر ہے کسی بریلوی مکتبہ میں دیکھئے شائد مل جاے تو آپکا ذکر کردہ جھوٹی عبارت اسی قبیل سے ہے ۔
     
  6. ‏نومبر 29، 2015 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,226
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔۔۔
    یہ حدیث ’’ موضوع ‘‘ یعنی گھڑی ہوئی ہے ۔
    علامہ إسماعيل بن محمد العجلوني الجراحي (المتوفى: 1162هـ) اپنی کتاب (كشف الخفاء ومزيل الإلباس ۔۔) میں لکھتے ہیں :
    اس روایت کو امام ابن حبان نے ’’ الضعفاء ‘‘ شریف میں نقل فرمایا ہے ،اور کہا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے۔اور علامہ ابن تیمیہؒ اور حافظ ابنؒ حجر فرماتے ہیں :یہ پیغمبر اکرم ﷺ کا کلام نہیں ،بلکہ بعض علماء کا قول ہے ۔
    الشيخ في قومه كالنبي في أمته
    قال في "المقاصد": رواه ابن حبان في "الضعفاء"، وكذا الديلمي عن أبي رافع مرفوعًا، لكن بلفظ "الشيخ في أهله"، ورواه ابن حبان أيضًا في ترجمة عبد الله بن عمر الإفريقي عن ابن عمر، ثم قال: وهو موضوع. وقال الحافظ ابن حجر كابن تيمية: إنه ليس من كلام النبي صلى الله عليه وسلم؛ وإنما يقوله بعض أهل العلم، وربما أورده بعضهم بلفظ "الشيخ في جماعته كالنبي في قومه، يتعلمون من علمه، ويتأدبون من أدبه"،
     
  7. ‏فروری 15، 2016 #7
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,526
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    شیخ اسحاق سلفی یہ ویب سائٹ کس مکتبہ فکر کی ہے ؟؟

    http://www.alsoufia.com
     
  8. ‏فروری 15، 2016 #8
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,526
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

  9. ‏فروری 15، 2016 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,226
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی
    یہ سائیٹ سعودی یا یمنی صحیح العقیدہ مسلمانوں کی ہے ، شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عقیدہ ہیں ؛
    اور سعودی عرب کے جنوب میں واقع یمن کے بہت بڑے صوبے ’’ خضر موت ‘‘ سے اس سائیٹ والوں کا کوئی اہم تعلق ہے ،
    یہ صوفیاء کے رد کیلئے وقف ہے۔یعنی اس سائیٹ پر غالب طور صوفیاء کے اعمال و عقیدہ کا رد کیا گیا ہے ۔
     
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 15، 2016 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,226
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جی بھائی اس مضمون میں مالک الدار والی روایت کا اچھا رد کیا گیا ہے ،
    اس مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں :
    ((وبعد هذا البحث نخلص أن هذا الأثر لا يصح سندا ومتنا ، وأقل ما يقال في هذا الأثر أنه متكلم في إسناده ومتنه ، فكيف نأخذ ديننا من مثل هذه الحكايات ؟!
    یعنی اس ساری بحث کا خلاصہ ہم یون کرتے ہیں کہ :مالک الدار کا اثر (روایت ) سند اور متن دونوں کے لحاظ سے صحیح نہیں ، اور اس روایت کے متعلق سب سے ہلکی بات
    یہ کہی گئی ہے کہ :اس کی سند میں بھی کلام (یعنی جرح ) ہے ،اور اس کا متن بھی ( مجروح ) ہے ،تو ایسی روایت سے ہم اپنا دین کیسےاخذ کر سکتے ہیں ؟
     
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں