1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کشمیر میں عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی((ظفر اقبال ظفر))

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏اکتوبر 15، 2018۔

  1. ‏اکتوبر 15، 2018 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    238
    موصول شکریہ جات:
    18
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    ((ظفر اقبال ظفر))
    کشمیر میں عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی
    برطانوی سامراج جب برصغیر میں بری طرح شکست کھا چکا تھا تواس نے ہندو مسلم آزادی کی تحریکوں کے مطالبہ پر برصغیر کی تقسیم میں اپنی باعزت واپسی میں عافیت خیال کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریہ کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یہ فیصلہ سنا یا کہ جو مسلم اکثریتی علاقے ہیں وہ پاکستان کے ساتھ مل جائیں اور جو ہندو اکثریتی علاقے ہیں وہ ہندوستان کے ساتھ مل جائیں ۔اس فیصلے کے مطابق چند ریاستیں ایسی تھیں جنہوں نےاپنی خود مختاری کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان و ہندوستان کے ساتھ الحاق سے انکار کر دیا جن میں حیدرآباد‘جوناگڑھ‘گجرات‘جموں وکشمیر حیدرآباد‘سر فہرست ہیں ۔مگر ان علاقوں میں ہندوستانی حکومت نے جبراً فوج داخل کر کے قتل عام کا بازارگر م کردیا۔ 1934ءمیں پہلی مرتبہ ہندوستان میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی گئی تھی۔ قائد اعظم نے سرینگر کا دورہ کرتے ہوئےکشمیر کو پاکستان کی’’شہ رگ‘‘ قرار دیا تھا اور سردار ابراھیم خان کے گھر میں ’’الحاق پاکستان کی قرارداد ‘‘پاس کی ۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد جب بھارت نے فوج کشی کر کے کشمیریوں کا قتل کرنا شروع کیااور اقوام متحدہ کی قرار دادو ں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودرادیت اور استصواب رائے کو جبر ًا طاقت کےتیز دھار آلے سے جنرل اسمبلی کےحکم نامے کو پاؤں سے مسل دیا اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارہیت کا تکبرانہ انداز میں اظہار کرتے ہوئےقوانین کی دہجیاں اڑا دیں ۔کشمیری اور پاکستانی مجاہدین کی طرف سے جہاد کا نہ رکنے والا سلسلہ شرورع ہوا اور بھارت سے بہت سارا حصہ آزاد کروا لیا گیا۔جسے آزاد جموں وکشمیر کا نام دیا گیا ۔بھارت جو دنیا میں جمہوریت کا بڑا دعویدار ہے اس نے ناکامی اور کشمیری علاقہ جب اپنے ہاتھ سے مکمل طور پر جاتے دیکھا تو بھاگ کرمعاملہ عالمی عدالتِ انصاف میں لے گیا جس پر جنرل اسمبلی نے الکفر ملت واحد کا کردار ادا کرتے پاکستان کو کشمیر سے مکمل فوجیں نکالنے کا حکم دیتے ہوئے بھارت کو امن قائم ہونے تک اپنی فوجیں کشمیر میں رکھنے کا حکم صادر فرمایا۔جس پر انڈیا نے نہتے کشمیریوں پر ظلم و جبر کا پھر سے سلسلہ شروع کردیا اور کشمیری نوجوان ‘بچے ‘بوڑھے‘عورتیں سب نے بھارتی فوج کی اس بربریت پر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور کشمیری پاکستانی پرچم اٹھائے ہم کیا چاہتے آزادی ‘کشمیر بنے گا پاکستان ‘ پاکستان سے رشتہ کیا ‘ پاکستان کا مطلب کیا ‘حافظ سعید صاحب سے رشتہ کیا ‘جیسے نعرے لگاتےسڑکوں پہ نکل آئے۔ کشمیر کےپاکستان سے الحاق کی نئی تحریک نے اس وقت زور پکڑا جب حزب المجاہدین کے حریت کمانڈر مظفر برہان وانی کوقابض بھارتی فوج نے 8جولائی 2016 کو کوکرناگ (مقبوضہ جموں و کشمیر )کے علاقے میں ایک کارروائی کر کے شہید کردیا۔برہان وانی کی شہادت نے کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو نئی زندگی عطا کرتے ہوئے کشمیر کے ہر نوجوان کو اسکا حصہ بنا دیا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر بھر میں احتجاج اور بھارت مخالف مظاہروں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے اور بھارتی پولیس و افواج کیلئے ان جلسے جلوسوں اور مظاہروں پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔وادی بھر میں کرفیو کا نفاذ اور ذرائع ابلاغ پر مکمل طور پر پابندی لگا کر وادی کا رابطہ دنیا بھر سے کاٹ دیا گیاہے۔مظاہرین کومنتشر کرنے کےلیے مہلک و کیمیائی ہتھیاروں کا کھلے عام استعمال کیا جانے لگا۔ خوفناک کیمیائی ہتھیاروں کے شر سے دنیاکو محفوظ کرنے کےلیے اقوام متحدہ نے 1997ء میں ’’کیمیکل ویپنز کنونشن ‘‘منظور کیا۔اس معاہدے کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پہ پابندی لگانا تھا۔پونے دوسو کے قریب ممالک اس عالمی معاہدے کی منظوری دے چکے۔ 1997ء میں معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے لیے ایک بین الحکومتی ادارے،او پی سی ڈبلیو کا قیام عمل میں آیا۔ہر ملک میں اس ادارے کے ماہرین کیمیائی ہتھیار تلف کرواتے اور آئندہ اس کی سرگرمیوں پہ نظر رکھتے ہیں۔ مگر اس ادارے اور تنظیم کے بنیادی رکن ممالک کے اس مکروہ دہندے(کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام)کی خلاف ورزی وبد نیتی اس وقت واضح ہوئی جب اس تنظیم کے رکن ممالک نے ہیروشیما ‘ناگاساکی‘ عراق‘مصر‘شام‘برما‘ فلسطین‘ افغانستان اور کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا کھلے عام استعمال کر کے اپنی تنظیم اوراخلاص کا گلا گھونٹ دیا جس نے ان کے اس معاہدے کے پیچھے چھپے عزائم کو دنیا کے سامنے واضح کردیا۔ یاد رکھیں !کیمیائی ہتھیار ایک ایسا آلہ ہے جو کیمیائی ترکیب سے تشکیل دے کر انسانوں کو مارنے یا ہمیشہ کے لیے معذ ور بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔بھارتی فوج کشمیریوں کے خلاف آنسو گیس ‘شیلنگ ‘ڈنڈے‘مار پیٹ ‘گرفتاریوں سے جب کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی توپیلٹ گن کے استعمال کو آخری ہربہ اور نجات کے لیے آخری ہتھیار کےطور پر استعمال کیا۔پیلٹ گن کو غیر مہلک ہتھیار قرار دیا جاتاہے جبکہ پیلٹ گن سےسینکڑوں نہیں بلکہ ہزارو ں کشمیریوں کو بینائی سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا گیا ۔کشمیر پہ اقوام متحدہ کے وفدکی پیش کی جانے والی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات نے دنیا کو رولا کر ہی نہیں رکھ دیا بلکہ بھارت کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کبھی کشمیر کے مسئلہ کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیر کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی ۔پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنےغیرمبہم انداز میں پیش کیا ۔2018/9/28کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اور نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر شدید تشویش ہے اور ’’مسئلہ کشمیر ‘‘ کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہی جنوبی ایشیاء میں امن اور استحکام کا ماحول پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتاہے ۔انہوں نے مسئلہ کشمیر کی وضاحت کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ ’’جمّوں و کشمیر ‘‘ کا مسئلہ یہ ہے کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کے تحت آزادانہ، غیر جانبدارانہ، اور منصفانہ طریقے سے حق خود ارادیت دیا جائے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں