1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کشمیر میں گائے کے گوشت پر پابندی

'امت مسلمہ کے فکری مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از salfisalfi123456, ‏ستمبر 11، 2015۔

  1. ‏ستمبر 11، 2015 #1
    salfisalfi123456

    salfisalfi123456 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2015
    پیغامات:
    84
    موصول شکریہ جات:
    39
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    بڑے گوشت پر عدالتی پابندی ،کشمیر سیخ پا

    اظہر رفیقی
    سرینگر//ریاستی عدالت عالیہ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ریاست میں بڑے گوشت کی پابندی سے متعلق پہلے سے موجود حکمنامہ پر سختی سے عملدر آمد یقینی بنائے۔عدلیہ نے بڑے گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ گائے ، بیل اور بھینس کو ذبح کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔عدالت عالیہ کے ڈویژن بنچ نے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو یہ ہداےت دی کہ وہ تمام پولیس حکام کو متحرک کر کے اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہو۔ایڈوکیٹ پریموکش سیٹھ کی طرف سے نے ایک مفادِ عامہ کی عرضی دائر کی تھی جس میں بڑے گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔عرضی گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ سنیل سیٹھی،جو بی جے پی کی ریاستی شاخ کے ترجمان بھی ہیں،عدالت میںپیش ہوئے جبکہ حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وشال شرما نے دلائل پیش کئے۔مفاد عامہ کی عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس دھیرج سنگھ کوتوال اور جسٹس جنک راج کوتوال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد محسوس کیا کہ ڈویژنل کمشنر کشمیر کی جانب سے وادی میں مو یشیوں کی سمگلنگ اور ذبح کرنے سے متعلق مناسب جواب دائر نہیں کیا گیا ہے اور اس حوالے سے مناسب جواب دائر کرنے کی ہدایت دی ۔ ڈویژن بنچ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ وہ گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی سے متعلق موجودہ قانون کو سختی سے نافذ کرے۔ عدالت عالیہ نے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو حکم دیا کہ وہ ریاست بھر میں گائے اور اس کے قبیل کے جانوروں کے گوشت کی فروخت کو روکنے کیلئے تمام اضلاع کے ایس ایس پیز، ایس پیز اور تمام پولیس اسٹیشنوں کے ایس ایچ اوزکو مناسب ہدایات دیں۔ مفادِ عامہ کی عرضی میںکہا گیا تھا کہ رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ 298الف کے تحت گائے یا اس کے قبیل( بشمول بیل و بھینس) کے جانور کو جان بوجھ کر مارنا قابل دست اندازی پولیس اور غیر ضمانتی جرم ہے جس کی سزا 10سال کی قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے ۔ دفعہ 298ب کے مطابق ایسے جانور کا گوشت اپنے پاس رکھنا قابل ِ دست اندازی اور غیر ضمانتی جرم جس کی سزا ایک سال قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجود ریاست کے کچھ حصوں میں گائے کے گوشت کی فروخت بلا روک ٹوک جاری ہے جس سے سماج کے ایک طبقہ کے جذبات مجروح ہو تے ہیں ۔عدالت عالیہ کے ڈوےژن بنچ نے رےاست جموں و کشمیر میں گائے ، بیل اور بھینس جےسے جانوروں کو ذبح کر کے ان کا گوشت فروخت کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو یہ واضح ہداےت دی کہ وہ رےاستی ہائی کورٹ کی طرف سے اس حوالے سے سنائے گئے فےصلے کی عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے تمام ایس ایس پیز ، ایس پیز اور ایس ایچ اوﺅز کے نام ہداےات جاری کر دیں ۔ڈوےژن بنچ نے غےر معمولی فےصلہ صادر کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ رےاست جموں و کشمیر میں جو کوئی بھی شخص گائے ، بیل اور بھینس جےسے جانوروں کو ذبح کر کے ان کا گوشت فروخت کرنے کا مرتکب پایا جائے ، اس کے خلاف متعلقہ قانون کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ عدلیہ نے کہا”قانون کے مطابق ان لوگوں کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہئے جو اس غیر قانونی کام میں ملوث پائے جائیں“۔یاد رہے کہ رنبیر پینل کوڈ کا اطلاق ریاست میں1862میں عمل میں لایا گیا اور اسی سال بھارت میں انڈین پینل کوڈ نافذ ہوا۔
     
  2. ‏ستمبر 11، 2015 #2
    salfisalfi123456

    salfisalfi123456 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2015
    پیغامات:
    84
    موصول شکریہ جات:
    39
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بالی ووڈ کے کئی اداکار اور حسینائیں مودی سرکاری کی جانب سے بھارت کی مختلف ریاستوں میں گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی کے خلاف میدان میں آگئے ہیں جس کے باعث انتہاءپسند ہندو شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
    تفصیلات کے مطابق بالی ووڈ کے اداکار رشی کپور اپنے بے باک خیالات کے باعث کافی شہرت رکھتے ہیں اور کئی معاملات پر کھل کر تنقید کرتے ہیں اور اب انہوں نے مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی کے خلاف بھی آواز بلند کر دی ہے جو بھارتیوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھا رہی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ٹوئٹر“ پر جاری ایک بیان میں رشی کپور نے کہا کہ بھارت میں مختلف معاملات میں مذہب کے استعمال کا سلسلہ بند کیا جائے، ”ملک میں کبھی رادھا ماں اور کبھی گوشت پر پابندی لگائی جاتی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے“۔
    اس سے قبل بالی ووڈ اداکارہ سونم کپور اور سوناکشی سنہا بھی گوشت پر پابندی کے خلاف آواز اٹھا چکی ہیں جس کے بعد انہیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں گائے کا گوشت رکھنے اور فروخت کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی جبکہ حال ہی میں ممبئی میں گوشت کی فروخت پر پابندی کے علاوہ گجرات کی ریاست میں اس پابندی کے حق میں ایک تشہیری مہم کا آغاز بھی کیا گیا ہے جس میں قرآن کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن میں بھی گائے کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی ہائیکورٹ نے بھی کشمیر میں گائے کے گوشت کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے انتظامیہ کو اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
     
  3. ‏ستمبر 11، 2015 #3
    salfisalfi123456

    salfisalfi123456 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2015
    پیغامات:
    84
    موصول شکریہ جات:
    39
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں گائے، بھینس یا بیل کے گوشت کو کشمیری زبان میں بڈماز کہتے ہیں۔ سرینگر کے صوفی شاعر غلام محمد خان کو 30 سال قبل ان کے مرشد نے بڈماز کھانے سے منع کیا تھا۔
    جمعرات کو بڈماز کی فروخت پر عدالتی پابندی کا فیصلہ سامنے آیا تو مسٹر خان جیسے کئی صوفیوں کو سخت ناگوار گزرا۔
    وہ کہتے ہیں: ’مجھے علم نہیں یہ سب کیوں ہوا۔ گائے اور بھینس تو حلال ہے، لیکن ہمارے یہاں بہت کم لوگ ان کا گوشت کھاتے تھے۔ عدالتی فیصلہ آیا، اب اس پر ردعمل ہوگا اور پھر یہ مذہب میں مداخلت کا مسئلہ بن جائے گا۔‘
    واضح رہے پابندی کا یہ فیصلہ یہاں کی عدالت عالیہ نے پری موکش سیٹھ نامی ایک وکیل کی درخواست پر سنایا ہے۔ فیصلے میں سنہ 1928 میں ڈوگرہ شاہی کے دوران بنے رنبیر پینل کوڈ کے سیکشن 298-A کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس محکمہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سختی سے نافذ کریں۔
    اس فیصلے کے ردعمل میں علیحدگی پسند جماعت مسلم لیگ نے عیدالاضحیٰ کے روز لال چوک میں گائے کی قربانی پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیگ کے رہنما وحید پارہ نے بتایا: ’ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ عیدالاضحیٰ کے روز گائے، بھینس اور بیل کی قربانی پیش کرکے دوہرا ثواب کمائیں۔ ایک قربانی کا اور دوسرا مذہب میں ریاستی مداخلت کی مزاحمت کا۔‘
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں