1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کفاء ت میں دیندار ی کا لحاظ ہونا اور سورۃ الفرقان میں۔

'ولایت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 19، 2012۔

  1. ‏مئی 19، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وقوله ‏ {‏ وهو الذي خلق من الماء بشرا فجعله نسبا وصهرا وكان ربك قديرا‏}‏
    1
    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ وہی ہے جس نے انسان کو پانی (نطفے) سے پیدا کیا، پھر اسے ددھیال اور سسرال کے رشتوں میں بانٹ دیا (اس کو کسی کا بیٹا بیٹی کسی کا داماد بہو بنا دیا (یعنی خاندانی اور سسرال دونوں رشتے رکھے) اور اے پیغمبر! تیرا مالک بڑی قدرت والا ہے۔


    حدیث نمبر: 5088
    حدثنا أبو اليمان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا شعيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال أخبرني عروة بن الزبير،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ أن أبا حذيفة بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ممن شهد بدرا مع النبي صلى الله عليه وسلم تبنى سالما،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأنكحه بنت أخيه هند بنت الوليد بن عتبة بن ربيعة وهو مولى لامرأة من الأنصار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ كما تبنى النبي صلى الله عليه وسلم زيدا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس إليه وورث من ميراثه حتى أنزل الله ‏ {‏ ادعوهم لآبائهم‏}‏ إلى قوله ‏ {‏ ومواليكم‏}‏ فردوا إلى آبائهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فمن لم يعلم له أب كان مولى وأخا في الدين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فجاءت سهلة بنت سهيل بن عمرو القرشي ثم العامري ـ وهى امرأة أبي حذيفة ـ النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إنا كنا نرى سالما ولدا وقد أنزل الله فيه ما قد علمت فذكر الحديث‏.‏

    ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہیں عروہ بن زبیرنے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس (مہشم) نے جو ان صحابہ میں سے تھے جنہوںنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔ سالم بن معقل رضی اللہ عنہ کو لے پالک بیٹا بنایا، اور پھر ان کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا۔ پہلے سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری خاتون (شبیعہ بنت یعار) کے آزاد کردہ غلام تھے لیکن حذیفہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو (جو آپ ہی کے آزاد کردہ غلام تھے) اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو لے پالک بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف نسبت کر کے پکارا کرتے تھے اور لے پالک بیٹا اس کی میراث میں سے بھی حصہ پاتا آخر جب سورۃ الحجرات میں یہ آیت اتری کہ ”انہیں ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو“ اللہ تعالیٰ کے فرمان ”وموالیکم“ تک تو لوگ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نہ ہوتا تو اسے ”مولی“ اور دینی بھائی کہا جاتا۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامدی رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہم تو سالم کو اپنا حقیقی جیسا بیٹا سمجھتے تھے اب اللہ نے جو حکم اتارا وہ آپ کو معلوم ہے پھر آخر تک حدیث بیان کی۔


    حدیث نمبر: 5089
    حدثنا عبيد بن إسماعيل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا أبو أسامة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قالت دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ضباعة بنت الزبير فقال لها ‏"‏ لعلك أردت الحج ‏"‏‏.‏ قالت والله لا أجدني إلا وجعة‏.‏ فقال لها ‏"‏ حجي واشترطي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قولي اللهم محلي حيث حبستني ‏"‏‏.‏ وكانت تحت المقداد بن الأسود‏.‏

    ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے (یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھربھی حج کا احرام باندھ لے۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ! میں اس وقت حلال ہو جاؤں گی جب تو مجھے (مرض کی وجہ سے) روک لے گا۔ اور (ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔


    حدیث نمبر: 5090
    حدثنا مسدد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا يحيى،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عبيد الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثني سعيد بن أبي سعيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ تنكح المرأة لأربع لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاظفر بذات الدين تربت يداك ‏"‏‏.

    ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحی بن سعید قطان نے، ان سے عبیداللہ عموی نے، کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کومٹی لگے گی (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی)۔


    حدیث نمبر: 5091
    حدثنا إبراهيم بن حمزة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا ابن أبي حازم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن سهل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال مر رجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ ما تقولون في هذا ‏"‏‏.‏ قالوا حري إن خطب أن ينكح،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن شفع أن يشفع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن قال أن يستمع‏.‏ قال ثم سكت فمر رجل من فقراء المسلمين فقال ‏"‏ ما تقولون في هذا ‏"‏‏.‏ قالوا حري إن خطب أن لا ينكح وإن شفع أن لا يشفع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن قال أن لا يستمع‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هذا خير من ملء الأرض مثل هذا ‏"‏‏.‏

    ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد العزیز بن ابی حازم نے، ان سے ان کے والد سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی نے بیان کیا کہ ایک صاحب (جو مالدار تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود صحابہ سے پوچھا کہ یہ کیسا شخص ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس لائق ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح کیا جائے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو غور سے سنی جائے۔ سہل نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چپ ہو رہے۔ پھر ایک دوسرے صاحب گزرے، جو مسلمانوں کے غریب اور محتاج لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس قابل ہے کہ اگر کسی کے یہاں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، یہ شخص اکیلا پہلے شخص کی طرح دنیا بھر سے بہتر ہے۔


    کتاب النکاح صحیح بخاری
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 09، 2013 #2
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں