• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کفار سے سلام کا طریقہ

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
377
پوائنٹ
164
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بلوغ المرام کتاب الجامع کی آٹھویں حدیث یہ ہے
- وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: «لَا تَبْدَؤُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ, وَإِذَا لَقَيْتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ, فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ». أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ. (1)
ابو هریرۃ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
نہ یہودیوں کو پہلے سلام کہو نہ عیسائیوں کو اور جب انھیں کسی راستے میں ملو تو انھیں اس کی طرف (سے گذرنے پر) مجبور کرو جو زیادہ تنگ ہو (مسلم)
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
377
پوائنٹ
164
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

زیرِ نظر حدیث پر غور کرنے سے سلام کی اہمیت کا علم ہوتا ہے۔۔۔۔۔یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ سلام اسلام کے شعائر میں سے ہے اور یہ ایسا تحفہ ہے جو باہم مسلمانوں کے لیے ہی مخصوص ہے اسے غیر مسلموں پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔۔۔
اسلام نے بوقتِ ضرورت پاک دامن اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے ۔۔۔آیت دیکھیے

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ
اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ہیں ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں جب کہ تم ان کے مہر ادا کرو، اس طرح کہ تم ان سے باقاعده نکاح کرو یہ نہیں کہ علانیہ زنا کرو یا پوشیده بدکاری کرو،

ایک مسلمان ایک پاک دامن اہلِ کتاب عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔۔۔اور ظاہر ہے بیوی بننے کے بعد وہ اس کے حسنِ سلوک کی مستحق ٹھہرے گی اس کے بچوں کی ماں بنے گی ۔۔۔۔اس کے گھر کی مالک ہو گی لیکن اس حدیث کی رو سے وہ سلام کا یہ تحفہ اپنی اہلِ کتاب بیوی پر بھی پیش نہیں کر سکتا۔۔اس سے سلام کی اہمیت کا ااندازہ لگایا جا سکتا ہے

حدیث کا اگلا حصّہ یہ ہے کہ جب کسی اہلِ کتاب سے ملو تو اسے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔۔۔یہ حکم ان لادین سیکولر حضرات کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو بڑے معصوم بن کر یہ کہتے ہیں کہ سیکولر ازم کا مطلب مذہب سے بیزاری نہیں بلکہ یہ تو ایسی ریاسست کی تشکیل کرتا ہے جس میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں ۔۔۔خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔۔۔۔مزید یہ کہ پاکستان کے سارے مسائل کا حل یہ ہے کہ اس کے نظام کی بنیاد اسی نظریے پر رکھ دی جانی چاہیے کیونکہ یہ اسلام کے مزاج سے بھی بہت قریب ہے۔۔۔۔حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مسلم ریاست میں ایک غیر مسلم کسی بھی صورت مسلمان کی برابری نہیں کر سکتا اسے درجہ دوم کی حیثیت حاصل ہو گی ۔۔۔۔یہاں تک کہ اگر کسی مسلمان سے راستے میں آمنا سامنا ہو تو صیغہ امر سے حکم دیا گیا کہ اسے تنگ راستے کی طرف دھکیل دو۔۔۔۔۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں

حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ ﴿٢٩
یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں (29)

گویا جزیہ ادا کرنے کے بعد بھی وہ مسلم ریاست میں ذلیل وخوار ہو کر رہیں گے
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
377
پوائنٹ
164
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

یہود و نصاری کو پہلے سلام کہنے میں ان کی تعظیم وتکریم کا پہلو نکلتا ہے حالانکہ عزت کے حقدار صرف اہلِ ایمان ہیں
اللہ تعالی فرماتے ہیں

وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٨
سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں (8)

اسی ذلت کا احساس دلانے اور اسے مستقل قائم رکھنے کے لیے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اگر راستے میں تمہاری ان سے ملاقات ہو تو انکے لیے راستہ کھلا مت چھوڑو بلکہ انھیں مجبور کرو کہ یہ تنگ تر راستے سے گذریں
افسوس مسلمانوں نے جہاد چھوڑا تو عزت بھی قصہ پارینہ بن گئی۔۔۔بھلا محکوم قوم اپنی حاکم قوم کے لوگوں کو تنگ راستے پر مجبور کر سکتی ہے یا انھیں پہاے سلام کرنے یا سیلوٹ مارنے سے انکار کر سکتی ہے۔۔۔؟؟؟اگر تھوڑا ساا غور کریں تو یہ حدیث صرف سلام میں ابتداء نہ کرنے اور تنگ راستے پر مجبور کرنے کا حکم ہی نہیں دے رہی بلکہ قدم قدم پر مسلمانوں کو باعزت ثابت کرنے اور کفار کی تحقیر(شرک کی وجہ سے) کی طرف اشارہ کر رہی ہے
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
377
پوائنٹ
164
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سلام کی ایک حکمت آپﷺ نے یہ بیان فرمائی

أوَلا أدلُّكُم علَى شيءٍ إذا فعلتُموهُ تحابَبتُم ؟ أفشُوا السَّلامَ بينَكُم
الراوي: أبو هريرة المحدث: مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 54
خلاصة حكم المحدث: صحيح

کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤںجس کو کرنے سے تمہارے درمیان محبت پیدا ہو جائے۔۔۔آپس میں سلام کو عام کرو

اس سے معلوم ہوا کہ سلام کا نتیجہ باہمی محبت ہے۔۔۔جب کہ کفار کے متعلق یہ حکم ہے

لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ
میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
377
پوائنٹ
164
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اہلِ کتاب سے سلام میں پہل نہیں کرنی لیکن اگر وہ سلام کہہ دیں تو جواب اس طرح دینا ہے

أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: «قُولُوا وَعَلَيْكُمْ»
ترجمہ: صحابہ نے آپﷺ سے پوچھا کہ اگر اہلِ کتاب ہمیں خود سلام کر دیں تو ہم ان کو کیسے جواب دیں آپﷺ نے فرمایا: انھیں علیکم کہہ دیا کرو
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
377
پوائنٹ
164
السلام عليكم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اگر کسی مجلس میں مسلمان اور کافر ملے جلے بیٹھے ہوں تو انھیں سلام کہنا چاہیے۔۔۔آپﷺ ایک مجلس کے پاس سے گذرے جس میں مسلمان‘ بت پرست مشرک اور یہودی ملے جلے موجود تھے ۔۔۔آپﷺ نے انھیں سلام کہا

حتَّى مرَّ بمجلِسٍ فيه أخلاطٌ مِن المُسلِمينَ والمُشرِكينَ وعَبَدةِ الأوثانِ واليهودِ ومنهم عبدُ اللهِ بنُ أُبَيٍّ ابنُ سَلولٍ وفي المجلِسِ عبدُ اللهِ بنُ رَوَاحةَ فلمَّا غشِيَتِ المجلِسَ عَجاجةُ الدَّابَّةِ خمَّر عبدُ اللهِ أنفَه برِدائِه ثمَّ قال : لا تُغبِّروا علينا فسلَّمعليهم النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم
خلاصة حكم المحدث:أخرجه في صحيحه
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
377
پوائنٹ
164
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

یہود و نصاری سے سلام میں پہل کرنا منع ہےلیکن اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ اچھے طریقے سے رہ رہے ہوں تو مزاج پرسی یا عیادت کرنے میں کوئی حرج نہیں

بخاري کی روایت ہے کہ آپﷺ نے ایک یہودی بچے کی تیمارداری کی اور اسے اسلام کی دعوت دی
فقد روى البخاري أنه صلى الله عليه وسلم عاد غلاماً يهودياً يخدم النبي صلى الله عليه وسلم، ودعاه إلى الإسلام، فأسلم الغلام.
وفي الصحيحين أنه صلى الله عليه وسلم عاد عمه أبا طالب لما حضرته الوفاه، ودعاه إلى الإسلام.
 
Top