1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کفار کے ساتھ حسن سلوک

'غیر مسلموں کے حقوق' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏جنوری 21، 2015۔

  1. ‏جنوری 21، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    کفار کے ساتھ حسن سلوک
    ان تمام امور کے باوجود اسلام ہمیں اُن کفار کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی اجازت دیتا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہیں کرتے، البتہ ان سے دلی محبت حرام ہے۔ موالات(دلی محبت) کا تعلق دل سے ہے اور حسن سلوک ایک خارجی عمل ہے۔یعنی جس کے ساتھ حسن سلوک کیا جا رہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے موالات بھی کی جارہی ہے۔
    امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’البر والصلۃ والاحسان لا یستلزم التحابب والتواددالمنھي عنہ ‘‘
    ’’کفارکے ساتھ اچھا سلوک ، صلہ رحمی اور نیکی کرنا ان سے اُس محبت اور دوستی کو مستلزم نہیں کرتا ہے کہ جس سے منع کیا گیا ہے ۔‘‘ [فتح الباری ۵/۲۳۳]
    کفار کے ساتھ حسنِ سلوک نہ صرف جائزبلکہ بسا اوقات مستحب اور تاکیدی ہو جاتاہے ۔خصوصاً ایسے وقت میں جب یہ امید ہو کہ ایسا کرنے سے کافر دین اسلام کی طرف مائل ہوگا۔اور اگر کفار و مشرکین عزیز واقارب میں سے ہوں تو اس چیز کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے ۔
    ﴿ لَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْہِمْ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ اِنَّمَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَظٰہَرُوْا عَلٰٓي اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾[الممتحنۃ :۸،۹]
    ’’ جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور نہ ہی تمہیں جلا وطن کیا، ان کے ساتھ حسن سلوک و احسا ن کرنے اور منصفانہ برتائو کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا‘ بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی محبت سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائیاں لڑی ہیں اورتمہیں جلا وطن کیا اور جلا وطن کرنے والوں کی مدد کی ۔جو لوگ ایسے کفار سے محبت کریں وہ واقعی ظالم ہیں۔ ‘‘
    پہلی صورت :عیادت کرنا
    کسی کافر کی عیادت کے لئے جایا جا سکتا ہے ‘ خصوصاً جبکہ اس عیادت کے پیچھے کوئی مقصد پوشیدہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی لڑکے کی عیادت کے لئے گئے جب وہ بیمار پڑ گیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بھی کیا کرتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اسلام لے آئو ‘اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اور اسلام لے آیا۔[بخاری :۵۶۵۷]
    اللجنۃ الدائمہ نے کافر کی تعزیت کے بارے میں فتویٰ دیا ہے کہ :
    ’’ اگر کافر کی تعزیت سے مقصد، ان کو اسلام کی طرف راغب کرنا ہے تو یہ جائز ہے اور یہ شریعت کے مقاصد میں سے ہے اوراسی طرح اپنے آپ کو یا مسلمانوں کو ان کے شر سے بچانا مقصود ہوتو یہ جائز ہے کیونکہ عام مسلمانوں کی مصلحتیں جزئی نقصان پر حاوی ہوتی ہیں ۔‘‘
    (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیہ والافتاء ۹/۱۳۲)
    دوسری صورت :ہدیہ وصدقہ دینا
    ﴿ لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ وَجْہِ اللہِ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ﴾ (البقرۃ: ۲۷۲)
    ’’لوگوں کو راہ راست پر لانا آپ کی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جو تم خرچ کرتے ہو وہ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے کرتے ہو۔اور جو بھی مال و دولت تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی نہیں کی جائے گی۔‘‘
    عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا نا پسند کرتے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی گئی۔‘‘ ( تفسیر ابن کثیر )
    ’’رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے مال غنیمت میں سے صفوان بن امیہ کو سو بکریاں دیں پھر سو بکریاں دیں پھر سو بکریاں دیں، حالانکہ وہ مشرک تھا کہتا ہے کہ آپ مجھے دیتے رہے ۔حتیٰ کہ آپ میری نگاہ میں سب سے زیادہ محبوب ہو گئے ۔ جب کہ آپ سے مجھے سخت نفرت تھی۔‘ ‘ (مسلم:۲۳۱۳،ترمذی:۶۶۶)
    شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں’’کافروں کو ہدیہ و تحفہ دینا جائزہے اور اگر اس کا مقصد انہیں دین اسلام کے قریب کرنا ہے یا ان کا ہدیہ قبول کر کے انہیں اپنے سے مانوس کر کے مذہبی باتیں ان تک پہنچانا ہے تو یہ چیز مستحب ہو گی ، البتہ کسی مذہبی تہوار کے موقع پر ان کا ہدیہ قبول کرنے سے دل میں ان کی محبت پیدا ہوتی ہو یا ان کے مذہبی تہوار کی تعظیم ہو تو ایسا کرناقطعاً حرام ہے ۔‘‘[مجموع الفتاویٰ الشیخ ابن عثمین ۳/۳۳]
    تیسری صورت :زیارت کرنا
    شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازرحمہ اللہ فرماتے ہیں:اگر کسی مسلمان کا کوئی قریبی رشتہ دار کافر ہے اور اس کے ہاں آمد و رفت کا سلسلہ رکھنے میں دین کا کوئی نقصان نہیں ہے تو یہ جائز ہے ، ورنہ ناجائز ۔لیکن اگر کافر رشتہ دار نہیں تو اس کے یہاں بے مقصد آمد ورفت کا سلسلہ رکھنا،خصوصاً وقت گزارنے اور گپ شپ کے لئے جانا جائز نہ ہو گا۔
    [مجموع الفتاویٰ شیخ ابن باز ۳/۱۰۵۱]
    چوتھی صورت :دعوت قبول کرنا
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہودو نصاریٰ کی دعوت قبول فرمایا کرتے تھے ۔ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملا دیا ۔
    پانچویں صورت :خریدو فروخت کرنا
    نصوص ِ کتاب و سنت اور سلف کے معمول سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی کافر کی دکان سے خرید و فروخت کرنا اور ان کے پاس دعوت کی نیت سے بیٹھنا جائز ہے ۔خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود و مشرکین آکر بیٹھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خرید و فروخت کیا کرتے تھے ۔
    چھٹی صورت :اچھے اخلاق سے پیش آنا
    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک شخص نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بار یابی کی اجازت چاہی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((بئس اخو العشیرۃ او ابن العشیرۃ))’’ یہ اپنے قبیلہ کا بہت برا آدمی ہے۔‘‘ اتنا کہنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی اور اس سے بڑی نرمی سے بات کی ۔پھر جب وہ چلا گیا تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے اس کے بارے میں یہ کچھ فرمایا تھاپھر اس سے اس طرح نرمی سے کیوں پیش آئے ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: [اے عائشہ ! انَّ شرَّ النَّاس منزلۃً عند اللہ یوم القیامۃ من ودعہ النَّاس اتِّقاء فحشہ]
    ’’ سب سے برا آدمی وہ ہے کہ لوگ اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لیئے اس کو چھوڑ دیں۔‘‘[صحیح البخاری :۶۰۵۶]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں