1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کلام کی اقسام (اصول الفقہ)

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏نومبر 24، 2011۔

  1. ‏نومبر 24، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    کلام کی اقسام:


    یہ بات معلوم ہے کہ کتاب وسنت ہی دین کی اصل اور اس کی بنیاد ہے اور یہ بات بھی سب لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ دونوں (کتاب وسنت) فصیح عربی زبان میں ہیں تو ان دونوں کا علم حاصل کرنا خود عربی کلام اور اس کی متعدد اقسام کے پر موقوف ہے۔

    کلام کی اقسام جاننے سے پہلے خود کلام کی تعریف کا جاننا زیادہ مناسب ہے کیونکہ کسی چیز کی معرفت خود اس کی معرفت (پہچان) کی فرع (شاخ )ہے۔

    کلام کی تعریف:


    کلام اطلاق دوچیزوں کے مجموعے پر ہوتا ہے(یا دوچیزوں کے مجموعے پر کلام کا لفظ بولا جاتا ہے):

    ۱۔ لفظ ۲۔ معنی

    جیسا کہ قرآن مجید، تمام نازل شدہ آسمانی کتابیں اور احادیث قدسیہ، یہ سب اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، الفاظ اور معنی دونوں اعتبار سے۔

    یہی اہل حق کا قول ہے۔ اور بدعتیوں کے ایک گروہ نے اس (کلام)کا اطلاق دل میں موجود معنی پر کیا ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تصریحات کی بناء پر مردود ہے۔

    اگر بسا اوقات دل میں موجود معنی پر کلام کا اطلاق کیا جائے تو اس وقت اس کے ساتھ قید لگانا ضروری ہے جو اس بات پر دلالت کرے (کہ یہاں پر کلام سے مراد دل میں موجودمعنی ہے) جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿ وَيقُولُونَ فِي أَنفُسِهِمْ لَوْلا يعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ [المجادلة:8]

    ترجمہ: اور وہ لوگ دل ہی دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتوں کی وجہ سے ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟

    تو اگر یہاں ﴿ فِي أَنفُسِهِمْ ﴾ کی قید نہ ہوتی تو اس سے زبان سے کہنا مراد لیا جاتا۔ اور کبھی کبھی لفظ کلام کا اطلاق ہر اس چیز پر کیا جاتا ہے جو مرادی معنی پر دلالت کرے (یا جس سے قائل کی مراد سمجھ میں آجائے) بقول شاعر:

    إذا كلمتني بالعيون الفوات رددت عليها بالدموع البوادر


    ترجمہ: جب اس (محبوبہ)نے مجھ سے پھٹی پھٹی نگاہوں سے کلام کی تو میں اس کو مسلسل بہتے ہوئے آنسوؤں سے جواب دیا۔

    نحویوں کے ہاں کلام کا اطلاق اس مرکب لفط پر ہوتا ہے جس کی ترکیب مفید ہواور (سامع کا)اس پر خاموشی اختیار درست ہو، جیسا کہ ” مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ “ ہے۔
     
  2. ‏نومبر 24، 2011 #2
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    سب سے کم وہ چیز (یعنی کلام)جس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے:


    ہر اس کلام سے فائدہ حاصل ہوتا ہے جو نسبت اسنادی پر مشتمل ہو اور کم ازکم یہ چیز آنے والی تراکیب میں سے ہر ایک میں پائی جاتی ہے:

    دو اسموں پر مشتمل ترکیب، جیسا کہ مبتدا اور خبر سے مل کر بننے والی ترکیب، اس کی مثال ”الله أحد، الله الصمد“ ہے۔

    ایک فعل اور ایک اسم پر مشتمل ترکیب، جیسا کہ فعل اور فاعل سے مل کر بننے والی ترکیب، اس کی مثال ”جاء الحق وزهق الباطل“ ہے۔

    ایک اسم اور ایک حرف پر مشتمل ترکیب ، جیسے ”يا الله“ ہے۔

    صحیح بات یہ ہے کہ تیسری ترکیب اصل میں دوسری ترکیب ہی ہے کیونکہ اس میں موجود حرف فعل کا قائمقام ہے ۔اسی طرح وہ اکیلا لفظ جو اپنے ضمن میں مفید کلام کا معنی لیے ہوئے ہوتا ہے ، اس سے بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے جیسے حروف ایجاب ہیں، مثلاً نعم، بلی، اسی طرح حرف نفی ’لا‘ اور جیسا کہ فعل امر ہے، مثلاً: استقم۔
     
  3. ‏نومبر 24، 2011 #3
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    کلام کی خبر اور انشاء میں تقسیم:

    کلام کی دو قسمیں ہیں:


    ۱۔ خبر ۲۔ انشاء

    1 خبر کی تعریف:


    جس کلام میں ذاتی طور پر سچ اور جھوٹ کا احتمال ہو، اسے خبر کہتے ہیں۔

    ہمارا «ما احتمل الصدق والكذب»کہنا دراصل انشاء سے بچنا ہے کیونکہ اس میں سچ اور جھوٹ کا احتمال نہیں ہوتا۔ اور ہم نے «لذاته» اس لیے کہا ہے تاکہ اس تعریف میں کلام اللہ اور بدیہی امور بھی شامل رہیں۔

    کلام اللہ کی مثال:﴿ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ﴾ [التكاثر:1، 2]

    ترجمہ: تمہیں کثرت نے غافل کردیا یہاں تک کہ تم قبروں جا پہنچے۔

    بدیہی امور کی مثال: ایک ، دو کا آدھا ہوتا ہے اور کل ،جزءسے بڑا ہوتا ہے۔
     
  4. ‏نومبر 24، 2011 #4
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    خبر کی سچ اور جھوٹ میں تقسیم:

    خبر سچ اور جھوٹ میں منقسم ہوتی ہے۔لہٰذا اگر کلام کا مضمون واقع کے مطابق ہو تو وہ خبر سچ ہوگی خواہ نفی میں ہو یا اثبات میں ۔

    نفی کی مثال: جن لوگوں کا سردار نہ ہو ، ان کے جھگڑے طے نہیں پاتے۔

    مثبت کی مثال: لوگ کنگھی کے دندانوں کی طرح برابر ہیں۔

    اور اگر کلام کا مضمون واقع کے خلاف ہو تو جھوٹ ہوتا ہے خواہ نفی میں ہو ، جیسے : نفع بخش ایجادات کا علم سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، خواہ اثبات میں ہو، جیسے: گھوڑا ہوائی جہاز سے زیادہ تیز دوڑتا ہے۔
     
  5. ‏نومبر 24، 2011 #5
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    انشاء کی تعریف:


    وہ کلام جس میں ذاتی طورپر سچ اور جھوٹ کا احتمال نہ ہو ، جیسے ﴿ أَقِمِ الصَّلَاةَ [لقمان : 17] ”نماز قائم کر“ اور ﴿ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [لقمان : 13] ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا“

    اس کی دو قسمیں ہیں: ۱۔ طلبی ۲۔ غیر طلبی

    1 طلبی:
    یہ انشاء کی وہ قسم ہے جس میں مطلوب کو طلب کیا جاتا ہے اور بوقت طلب مطلوب حاصل نہیں ہوا ہوتا۔

    اس کی چند اقسام ہیں:

    امر: اس میں چیز کے پیدا کرنے کا مطالبہ ایسے صیغے کے ساتھ کیا جاتا ہے جو اس پر دلالت کرے ، جیسے : «أطع والديك»اپنے والدین کی اطاعت کر۔

    2۔ نہی:
    اس میں کسی فعل سے رکنے کا مطالبہ ایسے صیغے سے کیا جاتا ہے جو اس پر دلالت کرے، جیسے: «لا تقصر في واجبك»اپنے کام (ذمہ داری) میں کوتاہی نہ کر۔

    3۔ استفہام:
    اس میں کسی چیز کے بارے میں سمجھانا طلب کیا جاتا ہے، جیسے : «هل ذاكرت درسك؟» کیا آپ نے اپنے اسباق کو دہرا لیا ہے؟

    4۔ تمنی:
    یہ ایسے کام کے طلب کرنے پر دلالت کرتا ہے جس کا ہونا یا تو ناممکن ہوتا ہے یا بہت مشکل، اس صیغے کے ساتھ جو اس بات پر دلالت کرے۔

    ناممکن کی مثال: ”ليت شبابًا بيع فاشتريت“ کاش کہ جوانی بکتی تو میں اسے خرید لیتا۔

    مشکل کی مثال:
    ”ليت المسلمين يتحدون“ کاش کہ مسلمان متحد ہوجائیں۔

    5۔ ترجی:
    جس میں مطلوب ممکن بھی ہو اور پسندیدہ بھی، ایسے صیغے سے طلب کیا جائے جو اس پر دلالت کرے، جیسے: «لعل شباب المسلمين يتجهون إلى النهل من معين دينهم الحنيف» ہوسکتا ہے کہ مسلمان نوجوان اپنے یکسو دین کے جاری چشمے سے سیراب ہونے کی طرف متوجہ ہوجائیں۔

    6۔ عرض:
    جس میں مطلوب کو نرمی سے طلب کرنا ، جیسے آپ کا اپنے دوست سے کہنا: «ألا تزور صديقك؟!» کیا آپ اپنے دوست کی زیارت نہیں کریں گے؟

    7۔ تحضیض:
    جس میں مطلوب کو ابھارکر اور ترغیب دے کر طلب کیا جائے، جیسے: ﴿ أَلا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ [التوبة:31]

    ترجمہ:
    تم ایسی قوم سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنے وعدوں کو توڑ دیا اور رسولﷺ کو نکالنے کا ارادہ کیا، حالانکہ شرانگیزی کی ابتداء کرنے والے بھی وہی ہیں۔

    2 غیرطلبی:
    جیسے عقود (معاملات) کے صیغے، مثلاً :بعت واشتریت وزوجت وغیرہ ، جب ان سے معاملات کو جاری کرنا مراد ہو، اسی طرح قسم کے صیغے، مثلاً:«والله لأصدقن في الحديث» اللہ کی قسم! میں اپنی بات میں سچا ہوں۔

    اور مدح (تعریف بیان کرنے)کے صیغے، مثلاً:«نعم الطالب المجد»مجد کتنا ہی اچھا طالب علم ہے۔

    اور اسی طرح ذم (مذمت بیان کرنے )کے صیغے، مثلاً: «بئست الصفة الحسد»حسد کتنی ہی بری عادت ہے۔

    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں