1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کونسی حدیث واجب ہے اور کونسی نہیں؟

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو زہران شاہ, ‏دسمبر 13، 2018۔

  1. ‏دسمبر 13، 2018 #1
    ابو زہران شاہ

    ابو زہران شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2018
    پیغامات:
    67
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبراکۃ
    یوں تو رسول اللہ ﷺ کی ہر(ثابت) احادیث ہی انکھوں کی ٹھنڈک ہے لیکن ایک بھائی کا سوال ہے کہ
    کون سی حدیث واجب ہوتی ہے اور کونسی نہیں؟
     
  2. ‏دسمبر 13، 2018 #2
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,168
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    یہ حدیث میں بیان ہونے والے امر کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم دیکھا جائے گا، آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس امر کو لازمی قرار دیتے ہیں، یا اس کی ترغیب و تاکید فرماتے ہیں!
    اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی امر کو لازم قرار دیں، حکم دیں اس طرح کہ '' ایسا کرو'' اور تو وہ امر واجب و فرض قرار پائے گا، الا یہ کہ کوئی قرینہ ایسا ہو جو اس بات کو ثابت کرے یہ امر مندوب ہے، یعنی ترغیب ہے، لازم نہیں، ایسی صورت میں اس حدیث مذکور امر فرض و واجب نہیں بلکہ مندوب یعنی مسنون قرار پائے گا!
    اسی طرح اس کے برعکس یعنی کسی شئے یا عمل کے حرام ہونے مے معاملہ میں بھی!

    یعنی کہ یہ واجب و فرض یا سنت و مندوب ہونا احکام کی فقہی نوعیت کے اعتبار سے ہے!
    اور تمام صحیح احادیث واجب العمل ہیں، اسی فقہی نوعیت کے لحاظ سے کہ جس حدیث میں فرض و واجب عمل ذکر ہے، اسے فرض وواجب مانا جائے، اور جس میں مندوب و سنت عمل مذکور ہے اسے مندوب و سنت مانا جائے!
     
  3. ‏دسمبر 13، 2018 #3
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    ایک ہی عمل کی اگر کئی متعارض احادیث ہوں تو ان میں سے طریقہ انتخاب کیا ہوگا؟
     
  4. ‏دسمبر 13، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,226
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    سوال کا جواب تو محترم بھائی @ابن داود حفظہ اللہ نے دے دیا ہے ،
    اس جواب کی روشنی میں واضح ہے کہ یہ سوال دو پہلو رکھتا ہے ،
    (1) کیا ہر حدیث کو ماننا لازم ہے ؟
    (2)کیا حدیث سے ثابت عقیدہ و عمل ماننا واجب ہے ؟

    پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہر صحیح حدیث کو سچا اورجزو اسلام ماننا ضروری ہے اس پہلو کو حجیت حدیث کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے ، اس پہلو کا تعلق عقیدہ و عمل دونوں سے ہے ،جیسا کہ
    اللہ تعالی کا قرآن مجید میں حکم ہے :
    وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا " سورۃ الحشر آیت 7
    اور جو کچھ تمہیں (ہمارے مکرم )رسول ﷺ دیں وہ لے لو ، اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔

    تفصیل کیلئے دیکھئے "حجیت حدیث " کا تھریڈ دیکھئے ۔
    اور ادارہ محدث کی شائع کردہ کتاب " حجیت حدیث " کا مطالعہ کیجئے ۔
    کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں ۔
    ـــــــــــــــــــــــ

    حدیث کو ماننے ، تسلیم کرنے کا دوسرا پہلو فقہی ہے ،یعنی احادیث میں موجود احکام و اعمال کی مختلف حیثیت تسلیم کرنا
    یعنی یہ حکم یا عمل واجب ہے یا مستحب و مسنون ہے ؟
    مثلاً نماز مغرب کی فرض نماز سے پہلے دو رکعت سنت غیرمؤکدہ ہیں ، اور مغرب کی تین رکعت فرض کے بعد دو رکعت مؤکدہ سنتیں ہیں ،
    ــــــــــــــــــــ
     
    Last edited: ‏دسمبر 15، 2018
  5. ‏دسمبر 13، 2018 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,226
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

  6. ‏دسمبر 14، 2018 #6
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,168
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ایسا تعارض اکثر لوگوں کے دماغ میں ہوتا ہے، اسے ڈاکٹر کے انتخاب کی فکر کرنا چاہیئے!
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 15، 2018 #7
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    کس ڈاکٹر کا انتخاب کروں؟
    انسانی جسمانی یا روحانی یا ــــــــ ؟
    اس فورم پر کس جنس اور "فیلڈ" کے ڈاکٹر ہیں؟
     
  8. ‏جنوری 01، 2019 #8
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    درج ذیل شخص سے معذرت کہ جواب دینے کی کوشش نا کرے۔
    اصحاب فہم و دانش سے مثبت علمی جواب کی توقع کے ساتھ منتظر جواب۔
     
  9. ‏جنوری 01، 2019 #9
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    مثال کے طور پر یہ دو احادیث ہیں۔
    ایک میں امام کی اقتدا میں سورت فاتحہ پڑھنے کی تاکید ہے۔
    دوسری میں ممانعت وارد ہے۔
    پہلی حدیث
    سنن أبي داود:
    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ» قُلْنَا: نَعَمْ هَذًّا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا»

    دوسری حدیث
    سنن ابن ماجه:
    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَإِذَا قَالَ: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7] ، فَقُولُوا: آمِينَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ "
     
  10. ‏جنوری 02، 2019 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,723
    موصول شکریہ جات:
    8,321
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    پہلی حدیث میں:
    1۔سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم ہے۔
    2۔ سورہ فاتحہ کے علاوہ دیگر قراءت نہ کرنے کا حکم ہے۔
    دوسری حدیث میں:
    امام کی قراءت کے وقت خاموشی اختیار کرنے کا حکم ہے۔
    نتیجہ:
    سورۃ فاتحہ پڑھیں، لیکن امام کی طرح اونچی آواز میں نہیں، بلکہ خاموشی کے ساتھ۔ جیساکہ ایک اور حدیث میں اس کی صراحت ہے اقرأ بہا فی نفسک یا فارسی۔
    تضاد تب ہوتا:
    جب ایک حدیث میں کہا جائےکہ سورۃ فاتحہ پڑھو، دوسری میں کہا جائے کہ سورۃ فاتحہ نہ پڑھو۔ ’سورۃ فاتحہ نہ پڑھو‘ یہ تو کہیں بھی موجود نہیں۔ ’فأنصتوا‘ کا معنی’سورۃ فاتحہ نہ پڑھو‘ کرنا غلط فہمی ہے۔
    ان دو احادیث کی جمع و تطبیق کی اور بھی صورتیں ہیں۔
    میرے خیال میں یہ کہنا صحیح ہے، کہ تضاد احادیث میں نہیں، کہیں اور ہوتا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں