1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کچھ قصہ کھانا پکانے کا۔۔

'کچن کارنر' میں موضوعات آغاز کردہ از اخت ولید, ‏مئی 09، 2017۔

  1. ‏مئی 09، 2017 #1
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,789
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    گھر میں تسلی سے صفائی ہوئی۔بچپنے کی کئی ڈائریاں نکل آئیں۔انہیں میں ایک ٹین ایج کے اختتام کی"جی کے" ڈائری(وہ ڈائری جو ہنٹس وغیرہ کے لیے استعمال ہوتی ہے اور آپ کے پاس ہر وقت ہونی چاہیے) نکل آئی۔اس میں ایک صفحے پر زندگی کا ایک سبق لکھا تھا"کسی کے گھر جا کر کھانا نہیں پکانا چاہیے"۔کچھ دیر سوچا تو یادداشت کام کرنے لگی۔
    ان دنوں میں اپنی ایک عزیزہ کے ہاں مقیم تھی۔اتنے لمبے عرصے کے لیے پہلی دفعہ کہیں رکی تھی تو کام کی ذمہ داری تو بنتی تھی۔لیکن اتنی سمجھ بوجھ تھی کہ یہ کسی کا پکایا بالکل پسند نہیں کرتیں۔گھر میں ہر کام کے لیے ماسی۔کیا برتن،صفائی،کپڑے دھلائی اور کپڑے استری۔۔ایک خانساماں عورت بھی تھی،لیکن عزیزہ بالکل پاس کھڑے ہو کر پکواتیں اور تقریبا سارا کام خود کرتیں،وہ بس چمچ چلاتی رہتی۔میں اکثر سوچتی کہ اتنی کیا دقت؟اپنی سہولت کے لیے رکھی ہے تو فائدہ بھی اٹھانا چاہیے۔اسی دوران وہ خاتون بوجوہ لمبی رخصت پر چلی گئیں۔مجھے خیال آیا کہ اب میں ان کی کھانا پکانے میں ہی مدد کر سکتی ہوں،لیکن ان کی سوچ سے بھی واقف تھی تو چپ کر جاتی۔ایک دن کہنے لگیں کہ میں نے تو سنا تھا کہ تم بہت اچھا کھانا بناتی ہو،ہمیں تو کچھ کھلایا نہیں۔میں نے معذرت کی کہ سستی کر گئی ہوں اور پتا نہیں اچھا کہ برا۔گھر والے خوش ہو کر کھا لیتے ہیں۔انہیں دنوں چھوٹی بہن نے مجھے کہا کہ سوپ بناتے ہیں۔میں نے سب گھر والوں کا سوچ کر پریشر بھر کے سوپ بنا لیا کہ عزیزہ بھی خوش ہو جائیں گی۔جب سرو کرنے کی باری آئی تو پوچھنے لگیں کہ کیسے بنایا ہے؟میں نے بتایا تو ساسز کے نام پر چونک کر"میں نہیں ایسا کچھ ڈالتی۔۔"میرے اصرار پر"چلو ایسا کرو اپنے انکل کے لیے رکھ دو،شاید وہ پی لیں"۔۔۔لیکن کسی نے پینا تھا نہ پیا بلکہ اسے سنبھالنے کی الگ دقت۔اب ہم چار لڑکیاں کس طرح ختم کرتیں؟
    کچھ عرصے کے بعد ان کی ایک ہمسائی نے مجھے بلایا کہ سلاد بنا دو اور کھانا سرو کر دینا۔میں اکیلی تھی،سو تسلی سے اپنی مرضی سے سب کام کیا۔اڑتی اڑتی ادھر بھی بات چلی گئی۔اگلے دنوں میں بلا بھیجا کہ مہمان آ رہے ہیں،کچھ میٹھا بنالو گی؟"پچھلی بات کا اثر تھا،میں نے کہا کہ میں تھوڑی سی کھیر بنا دیتی ہوں،پسند آئی تو مزید بن جائے گی۔جب انہیں چکھنے کو دی تو عجیب سے ہنس کر بولیں"لو۔۔اب تو گھر میں کوئی بچہ نہیں ہے۔۔ورنہ اسے ہی کھلا دیتے۔"میں لب بھینچ کر رہ گئی۔آپ کو نہیں پسند تو اچھے سے بول دیں،طعنے تو نہ ماریں۔

    اس کے کچھ عرصے بعد،پھر بلا بھیجا"تم اور کچھ بناؤ۔"میں نے معذرت کر لی کہ مصروفیت ہے۔۔پھر بناؤں گی۔اس کے بعد ہوا یہ کہ میں نے فرائیڈ رائس بنائے،بچیوں نے جھگڑ جھگڑ کر کھائے لیکن انہیں ساسز پسند نہیں تھے،سو اصرار کے باوجود نہیں کھائے۔براؤنیز بنائیں تو ذرا سا چکھ کر ایسے ہی رکھ دیں۔پھر کہنے لگیں کہ گول گپے تو بناؤ۔میں بس ان کا منہ دیکھ کر رہ گئی۔
    کچھ دنوں بعد"اچھا سنو سلاد بنا لینا"مجھے مینیو دیکھ کر سمجھ آ گئی کہ روایتی چلے گا۔سو گول گول سب کچھ کاٹتی گئی۔آ کر دیکھا تو"اخت ولید!!جب ہم ان کے ہاں گئے تھے ناں تو وہ بہت اچھا سلاد بناتی ہیں۔تمہارے انکل کو بہت پسند ہے۔"مجھے سمجھ آ گئی کہ کیسا سلاد تھا۔میں نے اس کے مطابق سامان تیار کیا۔آخر میں لیموں نچوڑنے لگی تو "نہ نہ۔۔لیموں نہ ڈالنا۔۔سارا ذائقہ خراب ہو جائے گا"میں پریشان ہو کر انہیں دیکھنے لگی کہ ڈریسنگ تو لیموں کی ہی ہو گی۔لیکن انہوں نے ایسے ہی پیالہ اٹھا لیا۔تھوڑی دیر بعد"سنو!میں سوچ رہی کہ کچھ اور بھی بنا لوں۔۔۔فروٹ چاٹ"میں چپ کر گئی"وہ کریم والی کیسے بنے گی؟"میں نے بتایا تو سامان منگوا دیا کہ بنا دو۔جب تک بناتی رہی،تب تک تبصرہ جات کی زد میں رہی۔خیر سے مہمانوں کی آمد ہوئی۔میں نے لیموں کے سلائس کیے اور گلاس کنارے ٹکانے لگی تو"یہ کیا؟؟بے ڈھنگا!!"میں بھی ڈھیٹ بنی ان کی بیٹی کی مدد سے سیٹ کرتی رہی۔آخر میں کباب تل دیے۔اللہ شکر،کچھ سنا نہیں۔۔برتنوں کے انتخاب میں مدد لی اور کھانا بھی میں نے ہی نکالا۔بچیاں خوش ہو گئیں"آپی!!آپ نے تو اتنا اچھا کیا ہے۔اس دن بھی سلاد بہت اچھا تھا۔"میں تلخی سے مسکرائی کہ اب تو گھر سے دور ہوں،بہت کچھ بھول گئی ہوں۔مہمان بھی خوش ہوئے۔اس کے بعد کچھ نہ کچھ اہمیت بڑھ گئی کہ ایک اور دفعہ پھر مہمان آئے تو انہوں نے بطور خاص کھانا سرو کرنے والی کے متعلق پوچھا۔اس دن کچھ تسلی ہوئی ورنہ میں سخت پریشان تھی کہ میں کیا کر رہی ہوں؟مجھے تو کبھی کچھ برا سننے کو نہیں ملا۔میں بہت اچھا نہیں پکاتی،لیکن اتنا برا بھی نہیں پکاتی۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لوگ روایتی کھانے پسند کرتے ہیں یا پھر دیس بدیس کے۔۔اچھی بات ہے لیکن بری بات یہ کہ وہ آپ کو اتنا زچ کردیں کہ آپ کو لگے کہ ساری غلطی آپ کی ہے اور آپ بالکل پھوہڑ ہیں۔ایسے لوگوں کی باتوں کی قطعا پرواہ نہ کیجیے بلکہ زیر لب کہہ دیا کریں کہ اپنا ٹیسٹ بڑھائیں اور آئندہ میرا سر نہ کھائیں۔اس کے بعد نصیحت ہوئی اور میں نے پھر کبھی خود سے کسی کو آفر نہیں کی۔کوئی کہے تو بسم اللہ ،نہ کہے تو الحمدللہ۔۔اسی ضمن میں ایک مزیدار بات یاد آئی کہ اس سے قبل میں اپنی انتہائی قریبی عزیزہ کے ہاں ملنے گئی۔سب کچھ نہ کچھ پکا رہے تھے۔میں نے بھی نان خطائی بنا لی۔اب ہوا یہ کہ پہلا دور تو سلامتی کے ساتھ دیگچی سے نکل آیا۔دوسری دفعہ جب شوگر فری بنانے لگی تو ساتھ برتن دھونے میں مصروف ہو گئی۔ٹائم زیادہ ہو گیا اور بھاگم بھاگ ڈھکن اٹھایا تو اندر کالی بھوری نان خطائیاں۔۔میرا تو سانس بند ہو گیا کہ ابھی اندر جو تعریف کے ڈونگرے برس رہے ہیں ابھی امی جان سمیت سب سے عزت افزائی ہو جائے گی۔بڑی آپی کو بلا لائی کہ شادی شدہ لوگ ایسے کاموں میں کچھ نہ کچھ ماہر ہوتے ہیں))۔دونوں نے مل کر جلدی جلدی ایک شاپر میں کالی کالی نان خطائیاں منتقل کیں اور بھوری بھوری علیحدہ نکال لیں۔اوپن کچن تھا،خوف کے مارے برا حشر۔۔بھاگ کر کوڑے کی ٹوکری میں انڈیل آئی۔اپنی طرف سے سارے نشان مٹا دیے،سب کو کہا کہ پتا نہیں کیا ہوا کہ بھوری ہو گئی ہیں اور ہاں ڈو اتنی ہی تھی،آپ کو غلطی لگی کہ زیادہ تھی۔گھر واپسی تک بھی خوف رہا کہ اگر کہیں کام والی نے کوڑے کو دیکھا بھالا تو شاندار قسم کی عزت افزائی ہو جائے گی۔اس کے بعد جب جب ان کی طرف سے نان خطائی کی تعریف یا ترکیب کا پیغام آتا،ایک لمحے کو ہم ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھتے اور تسلی کے بعد سر نیہوڑ لیتے))
     
    Last edited: ‏مئی 09، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں