1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کڑوا سچ

'مغربی کلچر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏اگست 29، 2014۔

  1. ‏اگست 29، 2014 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 29، 2014 #2
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    ارسلان بھائی جو مصیبت اب گلے پڑ ہی گئی ہے وہ اس تصویر میں کمال خوبی سے آپ نے دکھائی ہے۔ اب اسی خوبی کی حامل ایک تصویر اور بنا دیجئے جس کی کشش لوگوں کو اس عذاب سے چھٹکارے کی صورت بتا دے۔
     
  3. ‏اگست 29، 2014 #3
    ابو جماز

    ابو جماز رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    95
    تمغے کے پوائنٹ:
    64

    اگر یہاں پاکستان کی جگہ کسی عربی ملک کا نام ہوتا تو میں اس سے ضرور اتفاق کرتا لیکن میں اس سے یہاں اختلاف کروں گا۔ اس بات میں کوئ شک نہیں کہ برِصغیر میں ہماری روایت پسندی نے عورت پر کئ ظلم ڈھائیں ہیں جسمیں سے ایک یہ بھی ہے کہ مطلقہ عورت کے لیے طلاق ایک داغ بنا دیا گیا ہے اور اسکے ساتھ یا تو ہمارا ہمدردانہ رویہ ہوتا ہے اور یہ تو الزام دینے والا جیسا کہ اصل غلطی عورت کی ہوتی ہے ہمیشہ۔ اور طلاق کے بعد عورت کے لیے زندگی تنگ کردی جاتی ہے۔
    جبکہ عرب معاشرے میں چونکہ عورت کو نوازا بہت جاتا ہے شادی وغیرہ کے موقعہ پر اسلیے وہاں عورت بنسبت پاکستانی عورت کے خودمختار ہوتی ہے اور اسکے لیے معاشرے میں اکیلے گزارا کرنا آسان ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک سخت جاہلانہ نظریہ پایا جاتا ہے: عورت کو یہ باور کرایا جائے کہ اب اسکے سسرال کے گھر سے اسکا صرف جنازہ ہی نکل سکے گا۔
    میں اس نظریے کے حاملین سے کہوں گا کہ کیا عورت کو اسکو گھر والے اسکو شوہر کو بیچ کے آتے ہیں شادی کے وقت یا بطور آمانت کے اسکے حوالے کرتے ہیں؟
    عورت کسی کی ملکیت نہیں ہے اور وہ ایک انسان ہے۔ اسی کو قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا:
    يأيها الذين آمنوا لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها۔۔۔ الآية
    ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورﺛے میں لے بیٹھو

    الله تعلى ہمیں صحیح معنوں میں دین پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
     
  4. ‏اگست 30، 2014 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    سعودی عرب میں طلاق کا بڑھتا رجعان
     
  5. ‏اگست 30، 2014 #5
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,096
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    ہاں ہم اپنی لڑکیوں کو ” مہر “ کے بدلے بیچ کر ہی آتے ہیں، یہی ” حقیقت “ ہے اور اس ” المیہ “ میں نام نہاد ” مصلحتی مذہبی طبقہ “ بھی کسی سے پیچھے نہیں، ایک نہیں بلکہ سینکڑوں تماشائیوں ( باراتی ) کے ہجوم میں اور ” مہر “بھی اکثر اوقات ” غیر ادا شدہ “ ہوتا ہے۔
     
  6. ‏اگست 30، 2014 #6
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    عرب معاشرہ میں عورت کو نوازے جانے پر سنی سنائی نہیں بلکہ اپنے ذاتی تجربہ سے تھوڑی روشنی ڈالیں، مجھے آپکی اس رائے سے اتفاق نہیں۔

    والدین کا لڑکی کو سمجھداری کی باتیں بتانا جاہلانہ نہیں بلکہ فائدہ مند ہوتا ھے۔

    جب آپ اس عمر کو پہنچیں گے تو اس کا جواب خود سے لے لیں۔

    والسلام
     
  7. ‏اگست 30، 2014 #7
    ابو جماز

    ابو جماز رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    95
    تمغے کے پوائنٹ:
    64

    میں
    میں ایک عربی ملک میں کئ سالوں سے رہ رہا ہوں اور یہاں کئ عربوں سے میرے تعلقات ہیں۔ عربوں کے ہاں مہر میں عورت کو بہت کچھ نوازا جاتا ہے۔ اور یہ اب سے نہیں بلکہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور سے ہی معاملہ چل رہا ہے جبکہ آپ نے مہر کی مقدار کو محدود کرنا چاہا اور ایک عورت نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے قرآن مجید کی یہ آیت سنائ:
    وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج وآتيتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا۔۔۔ الآية (النساء)
    اس واقعہ کا پسِ منظر یہی تھا کہ صحابہ عورتوں کو حق مہر کی ایک بڑی مقدار دیا کرتے تھے۔

    اسی طرح عرب ممالک اپنے وطنیوں کو چاہے وہ مرد ہو یا عورت اچھی ملازمت دیتے ہیں اور اسکے ساتھ بعض کے لیے مہانہ وظیفے مقرر ہوتے ہیں۔ اسی لیے عورت کی عام طور پر وہی مالی پوزیشن ہوتی ہے جوکہ مرد کی ہوتی ہے۔ اور یہاں کچھ عرصہ پہلے ایک سروے میں اس بات کو خوب نوٹ کیا گیا کہ یہاں مردوں کے لیے شادی کرنا کافی مشکل ہوگیا ہے چونکہ شادی کے لیے لڑکی کو کم از کم اپنے سٹیٹس کا لڑکا درکار ہوتا ہے جوکہ بعض اوقات ملنا مشکل ہوتا ہے۔

    رہی بات والدین کا لڑکی کو سمجھانا تو میں نے کب اسکی مخالفت کی ہے؟ اگر عورت کے جنازے والی بات کی طرف آپکا اشارہ ہے تو معذرت کے ساتھ یہ سمجھانا نہیں بلکہ پرلے درجے کی جہالت ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار کی ایک صورت ہے۔

    اسلام ایک بڑا ہی فطری دین ہے۔ یہاں مرد کی زیادتی پر اسکو سزا ہے اور اسی طرح عورت کی زیادتی پر اسکو سزا ہے۔ کبھی یہ بات ماں باپ نے اپنے بیٹے کو نہیں سمجھائ کہ بیٹا جو مرضی ہو جائے اپنی بیوی کو کبھی چھوڑنا مت، بلکہ عام طور پر ساس صاحبہ سب سے آگے ہوتی ہیں بیٹوں کی طلاقیں دلانے میں۔
    رہی بات عمر کی تو پیارے بھائ آپ کہاں مجھے جانتے ہیں! جو ان حالات سے گزرا ہوتا ہے اسکو ہی صرف اسکی کڑواہٹ کا علم ہے۔
     
  8. ‏اگست 31، 2014 #8
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    اگر نے اپنا تعارف عرب ملک میں رہنے پر کروا ہی دیا ھے تو اس عرب ملک کا کوئی نام بھی تو ہو گا جہاں میں نہیں گیا اور ان کے بارے میں کم جانتا ہوں۔

    وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلاَ تَأْخُذُواْ مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَاناً وَإِثْماً مُّبِيناً
    04:20

    اس آیت کو آپ حق مہر زیادہ دینے سے مراد لے رہے ہیں اور کچھ دنوں بعد آپ شائد بھول جائیں اور کسی دوسرے دھاگہ یا مراسلہ میں حق مہر کو کم ہونے پر حدیث مبارکہ پیش کر رہے ہونگے۔

    استاذ محترم 35 اور آپ بیٹا کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اس کی ضرورت نہیں تحریر پڑھ کے ہی بہت کچھ علم ہو جاتا ھے، آپ کا اپنا جواب طویل ہونے سے کچھ غیر متعلقہ ہو گیا آپ جاری رہیں۔

    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں