1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیااس ملک میں اﷲ تعالیٰ کی حکمرانی ہے؟-2۔- فحاشی کی سرپرستی… جمہوریت دین جدید۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏ستمبر 02، 2013۔

  1. ‏ستمبر 02، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    -2 فحاشی کی سرپرستی

    رسول اﷲﷺ نے فرمایا '' مرد، مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور عورت، عورت کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ مرد ،مرد کے ساتھ برہنہ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ عورت، عورت کے ساتھ برہنہ ایک کپڑے میں لیٹے ۔'' (صحیح مسلم)

    حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں :

    ''اس سے واضح ہے کہ اسلام کس طرح بے حیائی کے دروازے کو بند کرنا چاہتا ہے۔ جب ایک مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ بغیر کپڑے کے لیٹنا منع ہے تو مرد و عورت کے بے باکانہ اختلاط کو اسلام کس طرح گوارا کرسکتا ہے؟ جو مغرب میں عام ہے یہی اخلاق باختہ ثقافت (بلکہ کثافت) ٹیلی ویژن کے ذریعے سے اسلامی ملکوں میں پھیلائی جارہی ہے۔ مغرب زدہ حکمران اس گندگی ، بے حیائی اور اخلاقی باختگی کو ''ثقافت'' باور کروا رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ان مرتد حکمرانوں سے اسلامی ملکوں کو نجات عطا فرمائے ''۔ آمین (مترجم ریاض الصالحین)

    اس بات کو آپ یوں سمجھیں کہ آپ نے محلوں اور بازاروں میں فحاشی اور عریانی کی تعلیم دینے والی پاکستانی اور انڈین فلموں کے اڈے ''ویڈیو سنٹرز'' ضرور دیکھے ہونگے۔ ان میں سنسر قوانین سے جواز کی باقاعدہ سند یافتہ ''قانونی'' فلمیں بھی ہیں۔ اگر آپ غلاظت سے لتھڑی ہوئی فلموں کو بزور بند کرانے کی کوشش کریں تو قانون کی رُو سے آپ نے ویڈیو سنٹرز کے مالکان کو ان کے ''جائز'' کاروبار سے منع کرکے قانون کا ''تقدس'' پامال کیا اور قانون کی رو سے آپ نے ایسا کرکے جرم کیا۔ اگر کوئی بااختیار افسر ''مذہبی شوق'' میں فحاشی پھیلانے والے سینما گھروں کے ''جائز'' کاروبار میں رکاوٹ ڈالے تو قانون کی رُوسے اس نے ''معزز'' شہریوں کو ہراساں کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ''جرم'' کیا۔ اللہ کے دین میں یہ جرم ضرور ہوگا مگر قانونِ پاکستان کی نظر میں یہ ہرگز جرم نہیں کہ فلم انڈسٹری میں شوٹنگ کے بہانے ایک جوان مرد ایک خوبصورت نوجوان لڑکی کے ساتھ رقص کرتا اور لپٹتا ہے ، گندگی کے یہ سین (مناظر) ریکارڈ کرانے میں قانون اس کی راہ میں حائل نہیں ہے بلکہ فلم کو انڈسٹری کا درجہ حاصل ہے۔کتاب و سنت میں پردے کا حکم ہے جبکہ سینما گھروں میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ اﷲ کے احکامات کی واضح مخالفت بلکہ بغاوت ہے۔ اپنی فلموں اور گانوں کے ذریعے لوگوں کو فحاشی پر اُبھارنے والی فلم ایکٹرس نورجہاں اور فلم ایکٹر دلیپ کمار کو اس ملک کے صدر رفیق تارڑ نے تمغہ امتیاز دیا۔ کون نہیں جانتا کہ ان معاملات میں قرآن کی آیات نہیں قانون کی دفعات معتبر ہیں؟ پھر بتائیے اس نظام میں قرآن کا مسجد کے علاوہ کونسا مقام رہ جاتا ہے؟ یہ کہنا کیسے درست ہوگا کہ قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بنانے کے بعد اب اس نظام میں حاکمیت صرف اﷲ تعالیٰ کی ہے؟
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 3
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 03، 2013 #2
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,982
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ سوره النور ١٩
    بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمانداروں میں بدکاری اور فحاشی کا چرچا ہو- ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور الله یہ بات جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
    -
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 03، 2013 #3
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    664
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    ہمارے ہاں پاکستان کی عدالتوں میں اسلام کی بجاءے ملکی قانون کو ایک مقدس گاءے کی حیثیت حاصل ہے۔کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ قانون توڑنے والے کی سزا موت مقرر کی گءی ہے ،جو شریعت کے سراسر خلاف ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 03، 2013 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم


    "قانون توڑنے والے کی سزا موت" اس پر اس خبر کو کوئی حوالہ مل جائے گا۔ جزاک اللہ خیر!

    والسلام
     
  5. ‏ستمبر 03، 2013 #5
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    664
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    آپ پاکستان کا قانون پڑھیں ،جس کی شق نمبر ۶ میں اس کا ذکر موجود ہے۔اور ابھی مشرف پر یہ شق بھی لاگو کی جا رہی ہے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 03، 2013 #6
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    اگر آپ کوشش کر کے یہاں لگا دیں تو بڑی نوازش ہو گی۔ کیونکہ جس طرح آپ نے لکھا ھے کہ "قانون توڑنے والے کی سزا موت مقرر کی گئی ہے" تو ایسے تو ہزاروں لوگ قانون توڑتے ہیں اور ان کے مقدمات بھی چلتے ہیں مگر سزائے موت پاکستان میں نہیں دی جاتی، کچھ کیسیز میں سزائے موت تحریری طور پر دی جاتی ھے مگر اس میں بھی کچھ آپشن ہیں جس سے کافی وقت مل جاتا ھے جس پر اپیلیں کرنے سے سزائے موت سزائے قید میں بدل دی جاتی ھے۔

    شریعت کی رو سے سعودی عرب میں کچھ جرائم ہیں جن پر صرف پاکستانی یا ایسے دوسرے ممالک کا باشندہ اگر پکڑا گیا تو اس کا سر قلم کر دیتے ہیں جس کی شریعت میں اجازت نہیں یہ ان کی اپنی بنائی ہوئی سزا ھے۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 03، 2013 #7
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    مجھے آرٹیکل 6 کی یہ کاپی ملی ھے۔ آپکے قول اور اس میں بہت فرق ھے۔

    Article 6 of The Constitution of Pakistan - Urdu​
    [​IMG]
    والسلام​
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 04، 2013 #8
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    سنگین غداری
    یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ غداری کی سزا موت ہے اور اس شق میں تو سنگین کا اضافہ بھی ہے تو اس کی سزا موت ہونا بدرجہ اعلیٰ سزائے موت ہونا ثابت ہو رہا ہے۔
     
  9. ‏ستمبر 04، 2013 #9
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    قانون توڑنے پر سزائے موت نہیں ھے پاکستان کا آئین توڑنے پر سزائے موت ھے مگر عدالتی کاروائی میں ثابت ہونے پر۔

    سنگین غداری شائد کتاب کا حصہ نہیں اضافی لکھا گیا ھے۔

    والسلام
     
  10. ‏ستمبر 04، 2013 #10
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    کیا یہ بے حیائی جس کی دھائی دی جارہی ہے یہ پاکستان میں ذیادہ ہے یا دبئی وغیرہ عرب ممالک میں ؟؟؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں