1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیااس ملک میں اﷲ تعالیٰ کی حکمرانی ہے؟-4۔ غیر اسلامی تعزیرات کا نفوذ۔ جمہوریت دین جدید۔

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏ستمبر 02، 2013۔

  1. ‏ستمبر 02، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    -4 غیر اسلامی تعزیرات کا نفوذ

    اسلامی تعزیرات اور اسلامی قوانین کے مقابلے میں اس ملک کے اپنے قوانین ہیں۔ قانون بنانے، سکھانے ، اس کی تشریح کرنے اور تمام معاملات میں اس کے ساتھ فیصلہ کرنے اور اسے فیصل منوانے کے لیے کئی ادارے قائم ہیں۔ علماء اسلام کے مقابلے میں ان کے قانون کے ماہرین کے لیے ترقی، اقتدار ، اور دولت و عزت کے دروازے کھلے ہیں۔ دین اسلام کو زندگی کے اجتماعی گوشوں سے دھکیل کر نجی زندگی کے چند معاشرتی معاملات تک محدود کر دیا گیا ہے، اس ملک کی وزیر اعظم نے اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ سزائیں کہا، قاتل، چور، زانی اور شرابی کے لیے اس ملک میں اسلامی سزائیں نافذ نہیں ہیں۔ عورت کے لئے سزائے موت منسوخ کر دی گئی ہے۔ پھر یہاں اگر کسی واضح مشرک (ایسا کھلا مشرک جس کے بارے میں عالم ربانی فتویٰ صادر کردے)شخص کی بے دین بیوی کسی توحیدی عالم دین کے درسِ توحید سے متاثر ہو کر توحید قبول کرلے اور اِستبراء بطن (یعنی پیٹ صاف ہونے) کے بعد شریعت کے مطابق بغیر طلاق لئے کسی موحِّد شخص سے نکاح کرلے تو قانونِ پاکستان کی رُو سے ایسی عورت یقیناً ''نکاح پر نکاح'' کی مجرمہ ٹھہرے گی اور واپس اُسی مشرک کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور کردی جائے گی۔ نیز اِس نیک عورت کے ساتھ عظیم نیکی یعنی نکاح کرکے اِسے تحفظ دینے والا اسکا موحِّد خاوند ''زنا کا مجرم'' قرار دے کر سزا بھگتنے پر مجبور کیاجائیگا۔الغرض عدالتوں کے لئے قانون وہ نہیں جو رب العلمین نے نازل فرمایا۔ یوں اﷲ کے دین حقہ کو دین نصاریٰ کی طرح ریاست سے جدا کرنے کے باوجود کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا؟ اگر ایک مسلمان بصیرت سے کام لے تو اُسے قدم قدم پر ایسے قوانین دیکھنے کو ملیں گے جو پکار پکار کر کہہ رہے ہونگے کہ ہم قرآن و سنت کے پابند نہیں ہیں۔
     
  2. ‏ستمبر 02، 2013 #2
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    بلکہ وقتاً فوقتاً ان کی اپنی عدالتیں قانونِ وقت کے غیر اسلامی ہونے کی شہادت دیتی رہتی ہیں:

    -1 مسٹر تنزیل الرحمن کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت نے 14 نومبر1991ء کو 157 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ دیا کہ ''بینک کا سود یعنی بینک کی جانب سے کھاتہ داروں کو دی جانے والی اصل زر سے زائد رقم اور قرضوں پر اصل زر سے زائد وصول کی جانے والی تمام رقوم سود ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق ہر طرح کا سود قطعاً حرام ہے۔
    سودی نظام کو غیر قانونی قراردینے کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے 24 کے لگ بھگ ان قوانین یا ان کی مختلف دفعات کو غیر اسلامی قراردے کر انہیں قوانین کی کتب سے حذف کرنے کا حکم دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ 3 جون 1992ء تک ان قوانین کی جگہ نئے قوانین وضع کرکے اسمبلی سے باضابطہ طور پر پاس کروانے کے بعد انہیں پاکستان بھر میں نافذ کرے تاکہ قرآن وسنت کے احکامات پورے طو ر پر نافذ ہوں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام اپنی تمام اشکال سمیت اپنے آخری انجام کو پہنچ سکے ورنہ یکم جولائی 1992ء کو یہ تمام قوانین خود بخود کالعدم ہو جائیں گے۔
    اسلامی جمہوری اتحاد کے وزیر اعظم (جوشریعت کے نفاذ کے وعدے پر برسر اقتدار آئے تھے) نے یکم جولائی1992ء سے چند روز قبل فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی اور فیصلہ پر عملدرآمد کو رُکوا دیا اور وہ آج تک پہلی غیر اسلامی شکل میں جوں کا توں قائم ہے۔
     
  3. ‏ستمبر 02، 2013 #3
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    -2 جب مسٹر بھگوان داس نے بطور قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ کا حلف اٹھایا تو شاہد اورکزئی اور مولوی اقبال نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کردی۔ جسے سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر خارج کردیا کہ شق(203) سی کے تحت وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کا مسلمان ہونا ضروری ہے باقی کسی اور عہدے کیلئے یہ پابندی نہیں۔
    (نوائے وقت 14 جولائی2007)

    گویا عدالت ہی نے یہ فیصلہ کردیاکہ وفاقی شرعی عدالت کے علاوہ تمام عدالتی نظام شریعت کا پابند نہیں ہے بلکہ آئین پاکستان کا پابند ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کا قیام بذات خود اس بات پر شاہد ہے کہ باقی تمام عدالتیں غیر شرعی ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 13، 2017 #4
    فرقان الدین احمد

    فرقان الدین احمد مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 12، 2017
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    اسلام و علیکم؛ آئین پاکستان کے اسلامی ہونے کی اصل حقیقت جاننے کے لیے اپ لوڈ کی ہوئی فائل کا ایک بار ضرور مطالعہ فرمائیں۔
     

    منسلک کردہ فائلیں:

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں