1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیاسعودیہ میں چاند کی رویت نہیں ہوتی؟،ھل من مجیب

'اہل حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از رحمانی, ‏جنوری 06، 2016۔

  1. ‏جنوری 06، 2016 #1
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    نوٹ:ایک بڑے اہل علم نے سعودی عرب کے چاند دیکھنے کے بارے میں طرزعمل پر کچھ اعتراض کیاہے، اگرکسی کے پاس کوئی معقول جواب اس کا ہوتو براہ کرم جواب دے اوراگرمحض طنزوتشنیع ہو توخاموش رہ کر نیکی کمائے۔۔۔۔۔۔والسلام


    سعودیہ کا معاملہآج سے تقریبا چا لیس سال پہلے جبکہ میں راندیر میں مدرس تھا ،مکہ کے حکو متی ادارے رابطہ عا لم اسلامی نے اجلاس بلا یا ،دنیا کے بڑے بڑے علماء اس کے رکن ہیں ، ہندوستان سے اس وقت رکن حضرت مو لانا محمدمنظور نعما نی صاحب رحمہ اللہ اور حضرت مو لا نا ابوالحسن علی میاں صاحب ندوی رحمہ اللہ تھے ،دونوں حضرات اجلا س میں شر کت کے لئے تشریف لے گئے ،اس کانفرنس کے ایجنڈے میں تو حید اہلہ کا مسئلہ بھی تھا،توحید کے معنی ہیں :ایک ہو نا ، اور ا ہلہ:ہلال کی جمع ہے،یعنی دنیا میں چاند کی الگ الگ تا ریخیں شرو ع ہو تی ہیں ،یہ نظام ختم کیا جا ئے اور پو ری دنیا میں چاند کی تا ریخیں ایک ساتھ شروع ہو ں ایسا نظام بنا یا جا ئے۔ توحیدا ہلہ کا مطلب یہی ہے،تمام ممبران نے حتی کہ سعودیہ کے ممبران نے بھی اس کو نا منظور کیا کہ یہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے ،قر آن کی تو یہی آیت ہے اورحدیث میں نبی پاک ﷺنے فرمایاہے :صوموا لرؤیتہ وأفطروا لرؤیتہ:جب چا ند نظر آئے رمضان کے روزے شروع کرو اور چاند نظر آئے تو رمضان کے روزے ختم کرو، غرض تمام ممبرا ن نے اس تجو یز کو رد کر دیا کہ پو ری دنیاکا چاند ایک نہیں ہو سکتا ۔

    پو ری دنیاکے لئے ایک چاند مقرر کر نے کی ایک ہی صورت ہے کہ چاندکو آنکھ سے دیکھنے کا مسئلہ ختم کر دیا جا ئے اور قمر جدید یعنی نیو مون کا اعتبار کر لیا جائے ،اس صورت میں ساری دنیا کا چاند ایک ہو جا ئے گا ۔

    قمر جدید (نیا چاند)کیا ہے ؟

    سورج مشرق سے نکل کر مغرب میں ڈوبتا ہے ،چاند بھی اسی طرح مشرق سے نکل کر مغرب میں ڈوبتا ہے ،یہ چاند کی روز مرہ کی چال ہے البتہ چاندکی ایک دوسری چال بھی ہے ، وہ مغرب سے مشرق کی طرف بھی چلتا ہے ،دو متضاد چالیں ایک ساتھ چلتا ہے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں،جیسے ہم فٹ بال کو لات مار تے ہیں تو گیند سامنے کی طرف بھی جا تی ہے اور گول بھی گھومتی ہے ،اسی طرح چاند چو بیس گھنٹے میں ایک راؤنڈ لیتا ہے ،اور دوسری چال مغرب سے مشرق کی طرف چو بیس گھنٹوں میں٢٣ ڈگری چلتا ہے ا ور انتیس دن میں ایک راؤنڈ پورا کرتا ہے۔اور جیسے آدھی زمین روشن رہتی ہے اور آدھی پر اند ھیراچھایا رہتا ہے ،یہاں رات ہے اور چین میں سورج نکلا ہوا ہے ،یہی حال چاند کا بھی ہے ،اس کا آدھا حصہ جو سورج کی طرف ہے وہ روشن ہوتاہے اور دوسرا آدھاجو سورج کے مقابل نہیں وہ تاریک ہوتاہے ،پس آدھا روشن اور آدھا غیر روشن ہو نے میں چاند اور زمین یکساں ہیں ،اور جب ہم چاند کو زمین سے دیکھیں اوراس کا روشن حصہ نظر نہ آئے تو اس کا نام مُحاق ہے ،پھر جب ہما رے دیکھنے کازاویہ بدلتا ہے تو چا ند کے روشن حصہ کا ایک کنا رہ ہمیں نظر آتا ہے ،یہ ہلال ہے ،پھر جوں جوں زاویہ بدلتا رہتا ہے ہر دن کا چا ند بڑا ہو تا رہتا ہے ،پھر ایک وقت ا یسا آتا ہے کہ چاند زمین اور سورج کے بیچ میں آجا تا ہے ،پس چاند کا آ دھا روشن حصہ دوسری طرف ہو جا تا ہے اور ہما ری طرف تاریک وا لا حصہ ہو جا تا ہے ،یہ زمانہ محاق کہلا تاہے ، پھر جب چاند مشرق کی طرف ہٹتا ہے اور سورج کے تقابل سے نکل جاتاہے تو قمر جدید کہلا تا ہے ، لیکن ابھی اس کا زاویہ اتنا باریک ہو تا ہے کہ زمین سے اس کے دیکھنے کا امکان نہیں ہو تا ،جب چاندسورج سے کم از کم سو لہ ڈگری پیچھے ہو جا ئے تب زمین سے دیکھنے کے قا بل ہو تا ہے اور کھجور کی ٹہنی کی طرح نظر آتا ہے ۔

    غرض قمر جدید کا اعتبارکرلیں تو پو ری دنیا کی تا ریخ ایک ہو جا ئے گی،تو حید ا ہلہ کی یہی صورت ہے،یہ تجویز رابطہ کے اجلاس میں پیش ہو ئی مگر دنیا کے تمام علماء نے اس کو نا منظو رکر دیا ،کا نفرنس سے جب وہ دونوں حضرات لو ٹے تو حضرت مولا نا محمد منظور نعما نی صا حب رحمہ اللہ تبلیغی دو رے پر سورت تشریف لائے ،میں چو نکہ ان کے رسا لہ الفرقان میں لکھتا تھا اس لئے میرا ان سے تعا رف تھا ،حضرت نے سا ری تفصیل مجھے سنا ئی اور فرما یا سعودیہ نے ایک خطر نا ک اسکیم شروع کی ہے اور اچا نک یہ مسئلہ کھڑا کیا ہے تا کہ بے خبری میں اس کو پا س کرالیا جا ئے ،علماء نے اگر چہ اس کو با لکل نا منظور کر دیا ہے لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ یہ فتنہ رکے گا نہیں ،اس سے پہلے کہ یہ بہت بڑا فتنہ بن جا ئے اس پر مضا مین لکھنے چا ہئیں ،چنا نچہ میں نے اسی زما نہ میں اس مسئلہ پر ایک مضمون لکھا جو الفرقان میں دو قسطوں میں شائع ہوا ( یہ مضمون علمی خطبات میں درج ہے۔ضرورت مند حضرات اس کو وہیں دیکھیں۔ بلاگر) اس کے بعد کیا ہوا؟سعودیہ خاموش ہو گیا،اس نے آگے مسئلہ نہیں چھیڑا مگر اب کچھ سا لوں سے اس کو سا ری دنیا سے پہلے چاند نظرآتا ہے اور با قاعدہ اخبا روں میں چھپتا ہے کہ فلاں قاضی کے پاس دو گوا ہوں نے گوا ہی دی،اس کو دو ہی گوا ہ ملتے ہیں ،جبکہ سعودیہ کا مطلع عام طور پر صاف رہتا ہے مگر کبھی رؤیت عا مہ نہیں ہو تی۔
    سعو دیہ کا انو کھا چاند

    اس سال (٢٠٠٩)میں تو عجیب تما شہ ہوا ،مد ینہ منورہ میں مو لا نا ۔۔۔۔ہیں جو حضرت مولا نا۔۔۔۔۔ صا حب رحمہ اللہ کے خلیفہ ہیں اور ایک مولا نا۔۔۔۔ ہیں ،ان کا لندن میں ایک صا حب کے پا س فون آیاکہ ہم نے فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھااور شام کو سعو دیہ نے رمضان کے چا ندکا اعلان کر دیا ،یہ اسی سال کا قصہ ہے اور یہ سلسلہ ١٩٧٤ء سے چل رہا ہے جس کا پس منظر میں نے آپ حضرات کو سنا یا،اُس وقت سعودیہ نے جو سوچا تھا اسی کے مطا بق کر تا ہے ،مگر چونکہ مسلمان اس کو ما نیں گے نہیں اس لئے رؤیت کا ڈھونگ رچا تا ہے۔


    کیا سعو دیہ وا لے مسلما ن نہیں ؟

    کچھ لو گ کہتے ہیں : کیا سعو دیہ وا لے مسلما ن نہیں؟کیا وہ جھو ٹ بو لتے ہیں ؟اس کا جواب یہ ہے کہ مشرق میں جب چاند نظر آئے گا تو مغر ب میں ضرور دکھا ئی د ے گا ،کیو نکہ مغرب میں چا ند کا سورج سے فا صلہ بڑ ھ جا ئے گا ،مگر آ پ دیکھتے ہیں کہ سعو دیہ چاند دیکھنے کا اعلان کر تا ہے ،پھر ڈھا ئی گھنٹے بعد بر اعظم افر یقہ میں سو رج غروب ہو تا ہے ،مگر پو رے براعظم افریقہ میں یہ چا ند کسی مسلمان کو نظر نہیں آتا ،سعو دیہ وا لے مسلمان ہیں تو کیا افریقہ والے مسلمان نہیں ؟اس کے بعد بر اعظم امریکہ میں سو رج غر وب ہو تا ہے ،پو رے بر اعظم امریکہ میں کسی مسلمان کو یہ چا ند نظر نہیں آتا مگر سعو یہ میں دو آدمیوں کو نظر آجا تاہے بلکہ بعض مرتبہ تو ایسا ہو تاہے کہ پو رے را ؤنڈمیں کہیں چاند نظر نہیں آ تا ،اس سال جس چاند کے دیکھنے کا سعو دیہ نے اعلان کیا ہے وہ چاند پو رے افریقہ میں کسی کو نظر نہیں آیا،پو رے امریکہ میں کسی کو نظر نہیں آ یا،چا ئنا میں نظر نہیں آ یا،ملیشیا میں نظر نہیں آیا ،انڈیا میں نظر نہیں آ یا ہاں مغربی انڈیا میں نظر آیا ،گجرات کی جو پٹی ہے وہاں چاند نظر آیا اور وہاں سے جو نظر آنا شروع ہوا تو پورے راؤنڈ میں سب جگہ نظر آ یا ،مگر سعودیہ کا دیکھا ہواچاند پو رے راؤنڈ میں گجرات تک کہیں نظر نہیں آیاپس سعودیہ وا لے مسلمان ہیں توکیا دنیا کے سا رے مسلمان آنکھ بند کر کے چاند دیکھتے ہیں؟اگر سعودیہ صاف کہہ دے کہ ہم قمر جدید پر اعلان کر تے ہیں تو کوئی جھگڑا نہیں ، جس کو ماننا ہو گا ما نے گااور جس کو نہیں ما ننا ہو گا نہیں ما نے گا۔

    مشکو ک بات چھو ڑو اور یقینی بات اختیار کرو

    اور امر مشکوک کے با رے میں شریعت کا حکم وہ ہے جس کو نبی پاکﷺنے ایک حدیث میں بیان فرما یا ہے :دَعْ مَا یُرِیْبُکَ الی ما لا یریبک فاِنَّ الصدق طُمَأْنِیْنَة، وَالْکَذِبَ رِیْبَة:کھٹک وا لی بات چھو ڑو اور بے کھٹک بات اختیار کرو ،سچ سے اطمینان ہوتا ہے اور جھوٹ سے دل بے چین ہو تاہے ،مثال کے طور پر آپ پو لیس کے ہا تھوں میں پھنسجائیں اور آپ جھوٹ بو ل کر اپنا الو سیدھا کر لیں تو کر لیں ،لیکن دل آپ کا بے چین رہے گا اور اگر آپ اس معا ملہ میں سچ بو لیں اور چار پیسے کا نقصان بر داشت کر لیں تو اگر چہ نقصان ہوگا مگر دل آپ کا مطمئن رہے گا ،پس سعودیہ کو ہم جھو ٹا نہیں کہتے لیکن وہ مشکوک تو ضرور ہے اور شریعت کا حکم مشکوک کے با رے میں میں نے حدیث کے حوا لہ سے بتا یا کہ مشکو ک کو یقینی بنا لو ،یقینی بات کیا ہے ؟حدیثوں میں حکم آیا ہے کہ ہر جگہ کی اور ہر ملک کی رویت پر رمضان شروع کیا جا ئے اور رو یت پر ہی ختم کیا جائے ،ہاں اگر کوئی ملک ایسا ہو کہ وہاں سال کا بیشتر حصہ مطلع ابر آلو د رہتا ہو ،چاند نظر نہ آتا ہوتو وہ پھر نز دیکی ملک کی رویت کا اعتبار کرے،اور اگر کبھی کبھی مطلع ابر آلود رہتاہو تو وہ نز دیکی ملک کا اعتبار نہیں کر ے گا ،بلکہ وہ اپنے چاند کا اعتبار کریں گے ،چاند نظر آیا تو ٹھیک ہے، نہیں نظر آ یا تو مہینہ تیس کا شما ر کریں گے ،اس سال گجرات میں چاند دیکھا گیا اور انتیس کے اعتبار سے عید ہوئی لیکن پورے ہندوستان نے وہ رویت نہیں لی کیو نکہ گجرات مغرب میں ہے اور مغرب کا چاند مشرق میں نظر نہ آئے ایسا ہو سکتا ہے لیکن مشرق کا چاند مغرب میں نظر نہ آئے یہ ممکن نہیں ،یہ عجوبہ تو چا لیس سال سے چل رہا ہے کہ سعودیہ میں چاند نظر آتاہے اور افریقہ اور امریکہ میں نظر نہیں آتا ،اگر سعودیہ کی رویت حقیقی ہو تی تو دنیا میں کو ئی مسئلہ پیدا نہ ہو تا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں