1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا ابوبکررضی اللہ عنہ کی تدفین کے وقت قبرنبوی سے اجازت طلب کی گئی؟؟

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از طالب نور, ‏دسمبر 18، 2012۔

  1. ‏دسمبر 18، 2012 #1
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    السلام علیکم،
    ایک بریلوی دوست نے تفسیر کبیر (ج5ص465) کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی وصیت کے مطابق دفن کرتے وقت پہلے قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اجازت طلب کی گئی۔ اس واقعہ یا اس سے ملتے جلتے واقعہ کی تحقیق و تخریج مطلوب جلد از جلد ہے۔ شیخ رفیق طاہر اور شیخ کفایت اللہ سے خصوصی تعاون کی گزارش ہے کہ جلد از جلد اس سلسلے میں تعاون فرمائیں۔ والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 14
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 20، 2012 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,766
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    بھائی تفسیر کبیر امام رازی کی تفسیر کوکہاجاتا ہے ۔
    ہمارے پاس تفسیر کبیرکا جونسخہ ہے اس میں ہمیں مذکورہ صفحہ پرایسی کوئی بات نہیں ملی ، ہم نے شاملہ میں سرچ کیا تو درج ذیل نتائج ملے:

    تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (10/ 135)
    وَلَمَّا تُوُفِّيَ رِضْوَانُ اللَّه عَلَيْهِ دَفَنُوهُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا أَنَّ اللَّه تَعَالَى رَفَعَ الْوَاسِطَةَ بَيْنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ،

    تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (16/ 51)
    وَلَمَّا تُوُفِّيَ دُفِنَ بِجَنْبِهِ، فَكَانَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ هُنَاكَ أَيْضًا

    ان دونوں مقامات پرابوبکررضی اللہ عنہ کے فضائل میں تفصیلی بحث موجود ہے لیکن یہاں پر مذکورہ روایت نہیں ہے۔


    ممکن ہے آپ کے بریلوی دوست کی مراد یہ بات ہو :

    تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (21/ 433)
    «أَمَّا الْآثَارُ» فَلْنَبْدَأْ بِمَا نُقِلَ أَنَّهُ ظَهَرَ عَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ مِنَ الْكَرَامَاتِ ثُمَّ بِمَا ظَهَرَ عَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ كَرَامَاتِهِ أَنَّهُ لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَتُهُ إِلَى بَابِ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُودِيَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ بِالْبَابِ فَإِذَا الْبَابُ قَدِ انْفَتَحَ وَإِذَا بِهَاتِفٍ يَهْتِفُ مِنَ الْقَبْرِ أَدْخِلُوا الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ

    عرض ہے کہ یہ اثر یا کرامت بے سند ہے ، امام رازی نے اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا لہذا غیرمسموع ہے۔
    نیزاس میں وصیت ابوبکررضی اللہ عنہ کا تذکرہ بھی نہیں ہے ۔

    الغرض یہ کہ تفسیر رازی میں مذکورہ بات مکمل ہمین نہیں مل سکی بعض دوسری کتب میں یہ روایت ملتی ہے اس کی حقیقت آگے ملاحظہ ہو:
     
    • شکریہ شکریہ x 16
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 20، 2012 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,766
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
    أنبأنا أبو علي محمد بن محمد بن عبد العزيز بن المهدي وأخبرنا عنه أبو طاهر إبراهيم بن الحسن بن طاهر الحموي عنه أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن أحمد العتيقي سنة سبع وثلاثين وأربع مائة نا عمر بن محمد الزيات نا عبد الله بن الصقر نا الحسن بن موسى نا محمد بن عبد الله الطحان حدثني أبو طاهر المقدسي عن عبد الجليل المزني عن حبة العرني عن علي بن أبي طالب قال لما حضرت أبا بكر الوفاة أقعدني عند رأسه وقال لي يا علي إذا أنا مت فغسلني بالكف الذي غسلت به رسول الله صلى الله عليه وسلم وحنطوني واذهبوا بي إلى البيت الذي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنوا فإن رأيتم الباب قد يفتح فادخلوا بي وإلا فردوني إلى مقابر المسلمين حتى يحكم الله بين عباده قال فغسل وكفن وكنت أول من يأذن إلى الباب فقلت يا رسول الله هذا أبو بكر مستأذن فرأيت الباب قد تفتح وسمعت قائلا يقول ادخلوا الحبيب إلى حبيبه فإن الحبيب إلى الحبيب مشتاق[تاريخ دمشق لابن عساكر: 30/ 436 واخرجہ ایضا أبو الفرج عبد المنعم بن كليب الحراني من طریق ابی علی فی مشيخة ابن كليب رقم 18 ترقیم جوامع الکلم]۔

    اس روایت کو نقل کرنے کے بعد خود امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس پر جرح کرتے ہوئے کہا:
    هذا منكر وراويه أبو الطاهر موسى بن محمد بن عطاء المقدسي وعبد الجليل مجهول والمحفوظ أن الذي غسل أبا بكر امرأته أسماء بنت عميس [تاريخ دمشق لابن عساكر: 30/ 437]۔

    عرض ہے کہ ہماری نظر میں یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے ۔
    اس کی سند میں موجود ابو طاہر المقدسی یہ موسى بن محمد بن عطاء بن طاهر البَلْقاويّ المقدسيّ ہے جیساکہ خود امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے بھی صراحت کردی ہے ۔

    یہ شخص کذاب ہے ۔

    امام موسى بن سهل رحمه الله (المتوفى262)نے کہا:
    أشهد عليه أنه كان يكذب[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 161 واسنادہ صحیح]۔

    امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264)نے کہا:
    كان يكذب[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 161]۔

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    يكذب وياتى بالا باطل[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 161]۔

    امام عقيلي رحمه الله (المتوفى322)نے کہا:
    يُحَدِّثُ عَنِ الثِّقَاتِ، بِالْبَوَاطِيلِ فِي الْمَوْضُوعَاتِ[الضعفاء الكبير للعقيلي: 4/ 169]۔

    ان کے علاوہ اوربھی بہت سارے ائمہ نے اس پرجرح کی ہے۔

    نیز سند میں اوربھی علتیں ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 15
    • علمی علمی x 3
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 20، 2012 #4
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    با عرض سلام
    میرے ذھن میں اسی موضوع سے متعلق ایک سوال ہے کہ حضرت ابوبکر زمین کے جس ٹکڑے میں دفن ہوئے وہ کس کی ملکیت تھا؟
     
  5. ‏دسمبر 20، 2012 #5
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    انتظامیہ سے درخواست ہے کے اس سوال کو یہاں سے منتقل کرکے نیا موضوع بنادیں۔۔۔
    تاکہ جس کو جو بھی بات کرنی وہ اسی طرف ہو یہ معلومات اور خدمت اختلاف سے پاک رہے۔۔۔
    شکریہ۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 21، 2012 #6
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    شیخ محترم کفایت اللہ بھائی! اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آپ یا دیگر کوئی بھی بھائی جو عربی جانتا ہو، سے گزارش ہے کہ آپ نے جو عبارات عربی میں پیش کی ہیں ان کا صحیح سلیس ترجمہ بھی پیش کر دیا جائے۔ اللہ آپ کو مزید اپنی عنایات و مہربانیوں سے نوازے، آمین یا رب العالمین۔
     
  7. ‏دسمبر 21، 2012 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 03، 2014 #8
    علی معاویہ بھائی بھائی

    علی معاویہ بھائی بھائی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 05، 2014
    پیغامات:
    196
    موصول شکریہ جات:
    40
    تمغے کے پوائنٹ:
    67

    محترم شَیخ کفایت اللہ صاحب : اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
    ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ جناب جس روایت کے بارے جس دھاگہ میں بھی کوئی تحقیق لکھیں اسے ساتھ ہی اردو ترجمہ کے ساتھ نقل کریں تاکہ اس دھاگہ میں آنے والے عامی اس سے پورا پورا فائدہ حاصل کر سکیں ۔ اس روایت کے بارے میں جناب نے لکھا کہ "ان کے علاوہ اوربھی بہت سارے ائمہ نے اس پرجرح کی ہے۔نیز سند میں اوربھی علتیں ہیں۔
    برائے مہربانی انہیں بھی یہاں نقل کر دیں تاکہ ایک مرتبہ ہی اس روایت کے بارے تمام معلومات ایک جگہ ہی اکھٹی مل جائیں ۔
     
  9. ‏اگست 19، 2015 #9
    LAEEQ.KHAN

    LAEEQ.KHAN رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 22، 2012
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    56
    تمغے کے پوائنٹ:
    54


    جزاک الله خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. مون لائیٹ آفریدی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    560
  2. وہم
    جوابات:
    1
    مناظر:
    375
  3. اسحاق
    جوابات:
    3
    مناظر:
    439
  4. ابن بشیر الحسینوی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    536
  5. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    2
    مناظر:
    35

اس صفحے کو مشتہر کریں